Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۲(کتاب الحظر والاباحۃ)
124 - 146
رسالہ

لمعۃ الضحی فی اعفاء اللحی(۱۳۱۵ھ)

(چاشت کی روشنی میں داڑھیاں  بڑھانے میں)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مسئلہ ۲۲۷: از حیدرآباد ۲۰ جمادی الآخر ۱۳۱۵ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ولید کہتا ہے داڑھی منڈانا حرام نہیں
الحرام ماثبت ترکہ بدلیل قطعی لاشبھۃ فیہ
( حرام وہ ہے جس کا چھوڑدینا ایسی قطعی دلیل سے ثابت ہوکہ جس میں کوئی شک وشبہ نہ پایاجائے۔ ت) حرام وہ جس کی حرمت دلیل قطعی سے ثابت ہو قرآن شریف میں تو اس کا کہیں حکم نہیں
یاابن ام لاتاخذ بلحیتی ۱؎
 (اے میرے ماں جائے! میری داڑھی نہ پکڑ۔ ت) سے کوئی حکم نہیں نکلتا بلکہ ایک بات ہمارے لئے مفید البتہ پیدا ہوتی ہے کہ داڑھی بڑھانا بعض وقت مضر ہوتاہے دشمن نے بڑی داڑھی پکڑ کر مارنا شروع کیا تو پٹنا ہی پڑا۔
 (۱؎ القرآن الکریم        ۲۰/ ۹۴)
سنن ابی داؤد میں یوں مروی ہے۔
  عشر من الفطرۃقص الشارب واعفاء اللحیۃ الخ حدثنا موسی بن اسمعیل وداؤد بن شعیب قالا حدثنا حماد عن علی بن زید عن سلمۃ الخ ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال ان من الفطرۃ المضمضۃ والاستنشاق بالماء ولم یذکر وا عفاء اللحیۃ وروی نحوہ عن ابن عباس قال خمس کلھا فی الرؤس ذکر فیہ الفرق ولم یذکر اعفاء اللحیۃ قال ابوداؤد روی نحوہ حدیث حماد عن طلق بن حبیب ومجاھد وعن بکر المزنی قولھم ولم یذکر اعفاء اللحیۃ ۱؎۔
دس١٠ کام فطرت میں سے ہیں: مونچھیں کترنا، داڑھی بڑھانا الخ۔ ہم سے موسٰی بن اسمعیل اور داؤد بن شعیب نے بیان کیا دونوں نے کہا ہم سے حماد نے بیان کیااس  نے علی بن زید اس نے سلمہ سے روایت کیا۔ الخ کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا امور فطرت یہ ہیں: کلی کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، اس میں داڑھی بڑھانے کا ذکر نہیں۔ یونہی عبداللہ ابن عباس سے بھی روایت کی گئی (چنانچہ) آپ نے فرمایا: پانچ کام ہیں اور وہ سب سر کے متعلق ہیں ان میں سر میں مانگ نکالنے کا ذکر فرمایا مگر داڑھی بڑھانے کا ذکر نہیں فرمایا۔ امام ابوداؤد نے فرمایا: اسی جیسی حدیث حماد بواسطہ طلق بن حبیب او رمجاہد سے روایت کی گئی ہے اور بکر مزنی سے بھی۔ ان سب کا قول مروی ہے مگر اس میں
اِعْفَاءُ اللِّحْیَۃ
یعنی داڑھی بڑھانے کاذ کر نہیں۔ ت)
 (۱؎ سنن ابی داؤد     کتاب الطہارۃ باب السواک من الفطرۃ     آفتاب عالم پریس لاہور    ۱/ ۸)
حاصل اس کا یہ کہ ان نودس رواۃ نے یہ روایت کی کہ آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اس حدیث میں داڑھی بڑھانے کا ذکر نہیں کیا بلکہ اس کی جگہ مانگ کو فرمایا اس سے بھی معلوم ہوا کہ داڑھی بڑھانا بھی ویسی ہی سنت ہے جیسے مانگ کا رکھنا، معہذا یہ حدیث مختلف فیہ تو ضرور ہے پس لائق اعتبار نہ رہی۔ 

پھر صحیح بخاری میں یوں ہے:
خالفواالمشرکین قصوا الشوارب واعفوا اللحی ۲؎۔
مخالفت کرو مشرکین کی، ترشواؤ مونچھ، اور بڑھاؤ داڑھی۔
 (۲؎ صحیح البخاری         کتاب اللباس         قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲/ ۸۷۵)
خالفوا المشرکین
یہ جملہ "ففیہ نظر" اس واسطے کہ بعض مشرکین داڑھی بڑھاتے رہتے ہیں پس ان کی مخالفت یہ ہے کہ داڑھی منڈاؤ، اور بعض منڈاتے ہیں تو ان کی مخالفت یہ ہے کہ بڑھاؤ بہر حال بڑھانے اور منڈانے والے دونوں
خالفواالمشرکین
میں داخل ہیں کیونکہ مخالفت کا حکم عام ہے۔جس مشرک کی چاہیں مخالفت کریں باقی رہا اس کا جواب
''وقصواالشوارب واعفوا للحی''
(مونچھیں کتراؤ اور داڑھیاں بڑھاؤ۔ ت) مخفی نہ رہے کہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام ہمیشہ درستگی اخلاق کے واسطے مبعوث ہوئے، اسی لئے ہمارے پیغمبر آخر زمان بھی مبعوث ہوئے، ان پر دین کا مل اور نبوت ختم ہوگئی۔ الیوم  اکملت لکم دینکم ۱؎ آج کے دن ہم نے تمھارا دین تم پر کامل کردیا۔ داڑھی بڑھانا اخلاق میں داخل ہے تو باوجود اس کے قرآن کامل کتاب اللہ کی ہے۔ اخلاقی احکام سے خالی ہے تو دین کامل نہ ٹھہرا۔ لامحالہ کہنا پڑے گا کہ یہ اخلاق میں داخل نہیں اوراس سے ہمارا مطلب حاصل ہوجاتاہے۔
(۱؎ القرآن الکریم                ۵/ ۳)
داڑھی بڑھانا مستحب البتہ ہے یا بہت ہوگا تو سنت۔ لیکن یہ بھی حداعتدال تک ؎
ریش بایدت دوسہ موئے وزنخداں پوشی    نہ کہ درسایہ اوبچہ دہد خر گوشی
 (تجھے ایسی داڑھی چاہئے کہ جس کے چند بال ہوں جو ٹھوڑی چھپادیں۔ نہ کہ ایسی کہ جس کے سائے میں خرگوش بچہ دے۔ ت)
قول عرب ہے:
من طال لحیتہ فقد نقص عقلہ۔
جس کی داڑھی طویل (لمبی ) ہو اس کی عقل کم ہوتی ہے۔ (ت)

بغرض محال تسلیم بھی کرلیں کہ داڑھی بڑھانا فرض یا منڈوانا حرام ہے تو اس کا یہ جواب ہے کہ اللہ تعالٰی فرماتاہے :
واذا حللتم فاصطادوا ۲؎
 (یعنی احرام سے فارغ ہونے کے بعد شکار کرو۔ شکار کرنا صیغہ امر میں فرمایا گیا جو علامت فرضیت ہے لیکن آج تک اس پر عمل درآمد نہ ہوا، سبب اس کا یہ ہے کہ یہ حکم طبائع پر موقوف رکھا گیا کہ جی چاہے تو شکارکرو  ۔
 (۲؎ القرآن الکریم                    ۵/۲)
حاصل یہ کہ شریعت کے بعض احکام ایسے بھی ہوتے ہیں جن کا نہ کرنا موجب عتاب شرعی نہیں۔ فرضیت یا حرمت قرآن ہی سے ثابت ہوسکتی ہے یا حدیث متواتر یا مشہور ہو، حرام فرض کے مقابلہ میں آتاہے۔ تو جب داڑھی منڈانا حرام ہوا تو رکھنا فرض ہوا مگر فرض کسی نے نہ لکھا ؎
زقرآن سخن گفتہ ام وزحدیث     سر از من نہ پیچد جزابلہ خبیث

سخن راست گر تو بگوئی ہمے     بدست حقائق بپوئی ہمے

پس اعفائے لحیہ چراگوئی فرض     تنت راخباثت مگر گشت مرض

گرایدوں کہ قرآں ہمی کامل ست     پس اعفائے لحیہ چرا مضمر ست
 (قرآن وحدیث کے حوالے سے بات کررہاہوں لہذا میری بات سے بیوقوف خبیث کے علاوہ کوئی برانہ منائیگا اگر تو سچی بات کہتا رہے گا تو حقائق کے ہاتھوں میں دوڑتارہے گا ____ پھر تو داڑھی بڑھانے کو کیوں فرض کہتاہے؟ شاید تیرے جسم میں خباثت کا مرض پیدا ہوگیا ہے۔ اے بے ہمت اگر قرآن مجید کامل ہے تو پھر اس میں داڑھی کا ذکر کیوں پوشیدہ ہے۔ ت)

انتہی۔ یہ قول ولید کا کیسا اور داڑھی منڈوانے کاحکم کیا؟
الجواب

بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم  الحمدﷲ الذی ھدٰنا للاسلام ووفقنا لاقتفاء اٰثار انبیائہ الکرام واجتناب اقذار الکفرۃ الانجاس الارجاس اللیام وافضل الصلوٰۃ والسلام علی سیدالھادین الی سبیل السلام ÷ الذی اوتی القراٰن ومثلہ معہ فی احکام الاحکام وان رغم انف الملحدین فی الدین الماردین الطغام وعلی اٰلہ واصحابہ المتأدبین بادابہ الذین اداروابالقتل والاسرر الھدم الرحی علی الجمع المقبوح المنبوح المحلوق اللحی من علوج الاردام ومجوس  الاعجام فصلی اﷲ تعالٰی علی الحبیب والہ مظاھر جمالہ وعلینا معھم الی یوم القیمۃ o
اللہ تعالٰی کے نام سے ابتداء کررہاہوں جو بڑا رحم کرنے والا ۔ مہربان ہے۔ تمام تعریفیں اس اللہ تعالٰی کے لئے ہیں جس نے ہمیں اسلام کی ہدایت بخشی اور ہمیں انبیاء کرام کے آثار پر چلنے کی توفیق دی اور کمینے کافروں کی ظاہری باطنی گندگیوں (آلودگیوں) سے بچایا۔ اعلی وافضل درود وسلام اس آقا کے لئے جو لوگوں کوسلامتی کی راہوں سے روشناس کرانے والے ہیں وہ جنھیں قرآن مجید اور اس کے ساتھ اس جیسا اور کلام احکام کی مضبوطی کے لئے عطا کیا گیا ہے اگرچہ امور دین میں کمینے (بے وقوف ) بے دین سرکشوں کی ناک خاک آلود ہو، اوردرود وسلام ہو آپ کی آل اورآپ کے اصحاب پر۔ جو ان کے آداب سے ادب پانے والے ہیں۔ وہ جنھوں نے قتل، قید اور شکست کی ایسی چکی چلائی جو قوی کافروں اور عجم کے رہنے والے مجوسیوں کے ایسے گروہ پر جو بگڑے ہوئے بھونکے ہوئے، اور داڑھیاں منڈوائے ہوئے تھے ۔ پس قیامت تک حبیب خدا ان کی آل اور ان کی معیت ہم سب پر اللہ تعالٰی کی (بے مثال) رحمت ہو۔ (ت)
رب انی اعوذبک من ھمزات الشیطین واعوذبک رب ان یحضرون قال ربنا تبارک وتعالٰی واعرض عن الجٰھلین ۱؎۔
اے میرے پروردگار! میں شیاطین کے وسوسوں سے تیری پناہ چاہتاہوں، اے میرے پروردگار! میں تجھ سے پناہ مانگتاہوں اس بات سے کہ وہ میرے پاس حاضر ہوں، ہمارے پروردگار نے ارشاد فرمایا جو پاک اور برترہے جاہلوں سے منہ پھیرلے۔
 (۱؎ القرآن الکریم                        ۷/ ۱۹۹)
Flag Counter