Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۲(کتاب الحظر والاباحۃ)
123 - 146
مسئلہ ۲۱۵: از شہر کہنہ     ۲۱ ربیع الاول شریف    ۱۳۲۰ھ

جناب عالی! قصص الانبیاء میں ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قصہ میں لکھا ہے کہ بی بی سارا نے بی بی ہاجرہ کے کان چھیدے اور ختنہ کرادی یہ سنت زن ومرد پر قیامت تک قائم رکھیں گے تو عورت کی ختنہ کیسی؟
الجواب

اندام زن کے دونوں لبوں کے بیچ جو گوشت پارہ تندوبلند سرخ رنگ مثل تاج خروس کے ہے اس میں سے ایک ٹکڑا کھال کا جدا کرتے ہیں یہ ختنہ زنان ہے جہاں اس کا رواج ہے مستحب ہے ان بلاد میں اس کا نشان نہیں۔ اگر واقع ہو تو جہال ہنسیں ،اوریہ مسئلہ شرعیہ پر ہنسنا اپنا دین برباد کرنا ہے تو یہاں اس پراقدام کی حاجت نہیں۔ خود ایک مستحب بات کرنی اور مسلمانوں کو ایسی سخت بلا میں ڈالنا پسندیدہ نہیں۔
کما نصوا علیہ فی ترک عذبۃ العمامۃ حیث یستھزأ فی الجملۃ بھا ویشبھونھا بالذنب ومن لم یعرف اھل زمانہ فھو جاھل وقد کلمنا علی عدۃ نظائر لھذا فی رسالتنا اطائب التھانی فی حکم النکاح الثانی۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
جیسا کہ فقہاء نے پگڑی کا شملہ نہ چھوڑنے کی تصریح فرمائی ہے کہ جہاں کہیں اس سے مذاق اور استہزاء کیا جاتاہو اور عوام اسے ''دم'' سے تشبیہ دیتے ہوں وہاں شملہ نہ چھوڑا جائے، اور جو کوئی اہل زمانہ کے حالات سے بے خبر ہو وہ بڑا جاہل اور نادان ہے اور ہم نے اس کے چند نظائر (امثال) پر اپنے رسالہ اطائب التہانی فی حکم النکاح الثانی (عہ) (پاکیزہ مبارکبادیں دوسرا نکاح کرنے کے حکم میں) میں کلام کیا ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
عہ:  رسالہ اطائب التہانی۔ فتاوٰی رضویہ مطبوعہ رضافاؤنڈیشن لاہور جلد ۱۲ میں موجود ہے۔
مسئلہ ۲۱۶: مرسلہ مولوی کازم الدین صاحب بنگالہ شہر کمرلہ     تاریخ ۲۰ ذیقعدہ ۱۳۲۴ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ کسی کے لڑکا یا لڑکی پیدا ہوئی ولی وارث کو اس مولود کی ناف بریدہ کرناجائز ہے یانہیں اگر جائز ہے تو کیا دلیل ، بالتفصیل تحریر فرمائے وگر ولی اور وارث نہ کرے کوئی دائی سے کروایا جائز ہے یانہیں۔ اور اگر دائی سے اس کام کو کراتا ہے لیکن دائی کم یابی کے سبب سے فی لڑکا اتنا روپیہ مانگتا ہے اس کا ولی ووارث اتنا مزدوری دے کر یہ کام نہیں کرواسکتا اس صورت میں خود کرنا جائز ہے یانہیں اور اگر دائی اس کام کو نہیں کرتی بلکہ اس کی خواند کو بھیجتی ہے یا ملک کا رواج پڑ گیا ہے مردانہ دائی سے یہ کام کروانا ہے اب مسلمانوں کو اتفاق یہ ہوا چونکہ بیگانہ مرد عورت کے نفاس کی حالت میں جانا حرام ہے۔ اگر شریعت میں خود بخود کرنا جائز نکلے اور مفتی بھی فتوٰی دے ہم لوگ خود کرنے کا تو اس حرام کو کیوں اختیار کریں؟ بینوا توجروا واللہ اعلم( بیان فرماؤ تاکہ اجر وثواب پاؤ۔ اور اللہ تعالٰی خوب جانتاہے۔ ت)
الجواب

لڑکا یا لڑکی اس کی ناف کاٹنا اس کے ولی غیر ولی سب کو جائز ہے۔ 

درمختارمیں ہے:
لاعورۃ لصغیر جدا ۱؎۔
بلا شبہہ چھوٹے بچے کی کوئی جگہ چھپانے کی نہیں۔ (ت)
 (۱؎ درمختار     کتاب الصلوٰۃ باب شروط الصلوٰۃ     مطبع مجتبائی دہلی    ۱/ ۶۶)
فتاوٰی عالمگیری میں سراج وہاج سے ہے:
للاب ان یختن ولدہ الصغیر ۲؎۔
یعنی باپ کو جائز ہے کہ اپنے چھوٹے بچے کی ختنے کی کھال کاٹے۔
 (۲؎ فتاوٰی ہندیہ    کتاب الکراہیۃ الباب التاسع عشر     نورانی کتب خانہ پشاور    ۵/ ۳۵۷)
جب ختنے کی کھال کاٹنا باپ کو جائز ہے تو ناف کانال کاٹنا بدرجہ اولٰی جائز ہے اور ہر گز ضرور نہیں کہ خواہی  نخواہی دایہ ہی سے نال کٹوائے اگر چہ وہ کتنی ہی مزدوری مانگے، یہ محض ظلم ہے۔
اللہ تعالٰی فرماتاہے:
لایکلف اﷲ نفسا الا وسعھا ۳؎۔
اللہ تعالٰی کسی جان کو تکلیف میں نہیں ڈالتا مگر اس قدر جتنی اس میں ہمت اور گنجائش ہو۔ (ت)
 (۳؎ القرآن الکریم             ۲/ ۲۸۶)
یہ جو سائل نے لکھا کہ بیگانہ مرد عورت کی نفاس کی حالت میں جانا حرام ہے یہ بھی محض بے معنی ہے بیگانہ مرد کا بے پردہ عورت کے پاس جانا ہر حالت میں حرام ہے۔ اور پردہ کی حالت میں نفاس و غیر نفاس یکساں ہے اور نال کاٹنے کے لئے عورت کے پاس جانے کی کوئی حاجت بھی نہیں ۔ بچہ کاٹنے والے کے سامنے لاسکتے ہیں۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۷ تا ۲۱۹: از شیر گڑھ ڈاکخانہ خاص ضلع بریلی     مکان سید احمد علی شاہ مرسلہ بندہ علی طالب عالم    

(۱) زید کا طریقہ صوفیانہ ہے اور اس کے بال دراز ہیں یعنی کندھوں تک چھوٹے ہیں آیا وہ شعر طویل نماز کی صحت کے مانع ہے یانہیں؟

(۲) اور زید کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہوگی یانہیں؟ غرضکہ وہ بال نماز کی صحت میں خلل پیدا کرینگے یانہیں؟

(۳) فقراء کے واسطے بال بڑھانے کاحکم ہے یانہیں؟ اگر حکم ہے تو کہاں تک؟ کیونکہ بد مذہب اس طریقہ کے منکر ہیں بینوا توجروا (بیان فرماؤ اجر پاؤ۔ ت)
الجواب

ہاں نصف کان سے کندھوں تک بڑھانا شرعاًجائز ہے اور اس سے زیادہ بڑھانا مرد کو حرام ہے۔ خواہ فقرا ہو ں خواہ دنیادار احکام شرع سب پریکساں ہیں زیادہ میں عورتوں سے تشبہ ہے اور صحیح حدیث میں لعنت فرمائی ہے اس مرد پر جو عورت کی وضع بنائے اور اس عورت پر جو مرد کی وضع بنائے اگر چہ وہ وضع بنانا ایک ہی بات میں ہو۔ جو لوگ چوٹی گندھواتے یا جوڑا باندھتے یا کمر یا سینہ کے قریب تک بال بڑھاتے ہیں وہ شرعا فاسق معلن ہیں اور فاسق معلن کے پیچھے نما زمکروہ تحریمی ہے یعنی پھیرنا واجب اگر چہ پڑھے ہوئے دس برس گزر گئے ہوں، اور یہ خیال کہ باطن صاف ہونا چاہئے ظاہر کیسا ہی ہو محض باطل ہے۔ حدیث میں فرمایا کہ اس کا دل ٹھیک ہوتا تو ظاہر آپ ٹھیک ہوجاتا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۰: از شیر گڑھ تحصیل بہیڑی ضلع بریلی مرسلہ عظیم اللہ نائب مدرس ۱۳ ذی الحجہ    ۱۳۳۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسلمان کوداڑھی کتروانا اور ٹھوڑی کھلوانا جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا (بیان فرماؤ اجر پاؤ۔ ت)
الجواب

داڑھی اتنی کتروانہ کہ ایک مشت سے کم ہوجائے گناہ وناجائزہے۔ یونہی ٹھوڑی پر سے کھلوانا حرام۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۱و ۲۲۶: مسئولہ اکبر یار خاں از شہر کہنہ محصل چندہ مدرسہ اہلسنت وجماعت بروز دوشنبہ بتاریخ ۹ ذوالقعدہ ۱۳۲۳ھ

(۱) یہ کہ داڑھی کا طول ایک مشت و دو انگشت ہے یا کم یا کس قدر کہ جس سے کم رکھنے میں گنہگار ہوگا؟

(۲) یہ کہ منڈوانا استرے سے اور قینچی سے کتروانا، چھوٹا چھوٹا کرانا ایک ہی بات ہے یاقینیچی سے چاہے جس قدر کترواکر چھوٹا کردے اس میں حرج نہیں ہے؟(۳) یہ کہنا کہ عرب شریف اسلام کا گھر ہے وہاں کے لوگ داڑھی کٹواکر چھوٹا کرلیتے ہیں اگر اور کوئی شخص داڑھی کتروائے تو کیا مضائقہ ہے۔ ایسے کہنے والے شخص کی نسبت کیا حکم ہے؟

(۴) یہ کہ لبوں کے بال بڑھے ہوئے شخص کا جھونٹا پانی وغیرہ پینا کیساہے؟

(۵) یہ کہ ایسے لوگوں کی نسبت یعنی داڑھی منڈوانے والے، کترنے والے۔ لبوں کے بال بڑھانے والے کس خطا کے مرتکب ہیں ان کی نسبت کیا حکم ہے؟

(۶) یہ کہ مثل داڑھی کے مقدار کے لبوں کے بال کی بابت کہ کس قد ر ہوں کیا حکم ہے؟ اگر کوئی شخص لبوں کے بال منڈوائے یا بہت باریک کرے تو کیا قباحت ہے؟
الجواب

(۱) داڑھی کا طول ایک مشت یعنی ٹھوڑی سے نیچے چار انگل چاہئے اس سے کم کرانا حرام ہے۔

(۲) قینیچی سے کترے خواہ استرے سےلے سب یکساں ہے، ہاں تھوڑی کترنے سے سب منڈا دینا  سخت وخبیث تر ہے کہ حرام حرام میں فرق ہوتا ہے۔ بھنگ، چرس، شراب سب حرام ہیں مگر شراب سب میں بدتر ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔

(۳) شریعت پر کسی کا قول وفعل حجت نہیں۔ اللہ ورسول سب پر حاکم ہیں اللہ ورسول پرکوئی حاکم نہیں، یہ فعل وہاں کے جاہلوں کا ہے اور جاہلوں کا فعل سند نہیں ہوسکتا کہیں کے ہوں، ایسا کہنے والا اگر جاہل ہے اسے سمجھا دیا جائے او ر اگر ذی علم ہو کر ایسا کہتا ہے یاسمجھانے کے بعد بھی نہ مانے اصرار کئے جائے وہ سخت فاسق وگمراہ ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔

(۴) اگر اسے وضو نہ تھا اس حالت میں اس نے پانی پیا اور لبوں کے بال پانی کو لگے تو پانی مستعمل ہوگیا۔ مستعمل پانی کا پینا ہمارے امام رضی اللہ تعالٰی عنہ کے اصل مذہب میں حرام ہے۔ ان کے نزدیک وہ پانی ناپاک ہوگیا خود اس نے جو پیا ناپاک پیا اور اب جو پئے گا ناپاک پئے گا۔ اور مذہب مفتٰی بہ پر مستعمل پانی کا پینا مکروہ ہے۔ اس نے جو پیا مکروہ پیااور اب جو بچا ہوا پئے گا مکروہ پئے گا۔ ہاں اگر اسے وضو تھا یا منہ دھلا تھا تو شرعاً حرج نہیں۔ اگر چہ اس کی مونچھوں کا دھوون پینے سے قلب کراہت کرے گا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔

(۵) حد شرع سے کم داڑھی رکھنا حد شرع سے زیادہ مونچھیں رکھنا سب خلاف شرع اور مجوسیوں کی سنت اور نصرانیوں کی عادت ہے آدمی اس سے گنہگار ہوتاہے اور اس کی عادت رکھنے سے فاسق ہوجاتا ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔

(۶) لبوں کی نسبت یہ حکم ہے کہ لبیں پست کرو کہ نہ ہونے کے قریب ہوں البتہ منڈاونا نہ چاہئے اس میں علماء کو اختلاف ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter