جواب سوال سوم: یہ نئی نئی تراشیں سب خلاف سنت ہیں ۔
فی الہندیۃ عن التتارخانیہ عن الروضۃ ان السنۃ فی شعر الراس اما الفرق واما الحلق ۲؎۔
فتاوٰی ہندیہ میں تتارخانیہ سے اور تتارخانیہ نے الروضہ کے حوالے سے ذکر کیا ہے سر کے بالوں کو مونڈڈالنا یا بال رکھ کر ان میں مانگ نکالنا دونوں سنت عمل ہیں۔ (ت)
(۲؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراہیۃ الباب التاسع عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۵۷)
گردن کی صفائی سے اگر قفا یعنی گدی کے بال منڈانا مراد ہے جس طرح آج کل بعض جہال کا معمول، تو یہ صرف پچھنوں کی ضرورت سے جائز ہے۔ بلاضرورت مکروہ ۔
فی الہندیہ عن الینابیع عن الامام الاعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ یکرہ ان یحلق کفاہ الا عند الحجامۃ ۲؎۔
فتاوٰی ہندیہ میں ینابیع کے حوالے سے حضرت امام اعظم رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے حوالے سے روایت ہے کہ گدی کے بال مونڈنا مکروہ ہیں سوائے پچھنے لگوانے کی ضرورت کے۔(ت)
(۳؎فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراہیۃ الباب التاسع عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۵۷)
اوراگر ان رونگٹوں کا صاف کرنا مقصود جو گدی کے نیچے صفحہ گردن پر تھوڑے تھوڑے متفرق نکلتے ہیں تو ظاہرا موئے سینہ وپشت کے حکم میں ہونا چاہئے کہ جائز ہے اور ترک بہتر۔
فی الہندیۃ عن القنیۃ فی حلق شعرالصدر والظھر ترک الادب ۱؎ اھ واﷲ تعالٰی اعلم۔
فتاوٰی عالمگیری میں بحوالہ قنیہ مذکور ہے سینہ اور پشت کے بال مونڈنے میں ترک ادب ہے یعنی بہتر نہیں۔ اھ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراہیۃ الباب التاسع عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۵۸)
مسئلہ ۲۱۳: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مرد اگر اپنے زیر ناف کے بال مقراض سے تراشے یا عورت استرہ لے تو جائز ہے یانہیں؟ بینواتوجروا (بیان فرماؤ تاکہ اجر وثواب پاؤ۔ ت)
الجواب
حلق وقصر ونتف وتنور یعنی مونڈنا، کترنا، اکھیڑنا، نورہ لگانا سب صورتیں جائز ہیں کہ مقصود اس موضع کا پاک کرنا ہے اور وہ سب طریقوں میں حاصل ۔
فی صحیح مسلم ابن الحجاج رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن ابی ھریرۃ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال قال الفطرۃ خمس اوخمس من الفطرۃ الختان والا ستحداد وتقلیم الاظفار ونتف الابط وقص الشارب ۲؎ قال الشارح النووی واما الاستحداد فہو حلق العانۃ وھو سنۃ والمراد بہ نظافۃ ذٰلک الموضع ۳؎ انتھی ملخصا وبمثلہ قال الغزالی فی احیائہ وغیرہ فی غیرہ۔
صحیح مسلم بن الحجاج میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے حوالے سے حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا امور فطرت پانچ ہیں۔ یا یوں فرمایا پانچ کام فطرت میں سے ہیں: (۱) ختنہ کرنا (۲) زیر ناف کے بال مونڈنا (۳) ناخن کاٹنا (۴) بغلوں کے بال اکھیڑنا اور (۵) مونچھیں کترنا، شارح صحیح مسلم امام نووی نے فرمایا رہا استحداد تو وہ مقام ستر کے بال مونڈنے ہیں اور وہ عمل سنت ہے اور اس عمل سے اس جگہ کی طہارت مقصود ہے (تلخیص پوری ہوگئی) امام غزالی رحمۃ اللہ تعالٰی نے احیاء علوم الدین میں اور دوسروں نے دوسری کتابوں میں اس طرح صراحت فرمائی ہے۔ (ت)
(۲؎ صحیح مسلم کتاب الطہارۃ باب خصال الفطرۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۲۸)
(۳؎ شرح صحیح مسلم للنووی کتاب الطہارۃ باب خصال الفطرۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۲۸)
مگر حلق مر دمیں بہ نسبت قصر ونتف وتنور کے افضل ہے کہ احادیث خصال وعامہ کتب فقہ میں اس خصلت کا ذکر بلفظ حلق واستحداد وغیرہ۔
اما م نووی نے فرمایا کہ زیر ناف بال ہٹانے کے لئے زیادہ بہتر عمل مونڈنا ہے البتہ کترنا، اکھیڑنا اورچونا وغیرہ لگانا بھی جائز ہے۔ فتاوٰی عالمگیری میں ہے کہ بہتر یہ ہے کہ ناخن کاٹے جائیں اور زیر ناف بال مونڈے جائیں اھ مختصرا (ت)
(۱؎ شرح صحیح مسلم للنووی مع صحیح مسلم کتاب الطہارۃ باب خصال الفطرۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۲۸)
(۲؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراہیۃ الباب التاسع عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۵۷)
اور عورت کے لئے بعض علماء نے نتف (اکھاڑنا) حلق (مونڈنا) سے افضل قراردیا اور بعض علماء نے بالعکس ملاعلی قاری مرقاۃ میں پہلا مذہب اختیار کرتے ہیں۔ اور حدیث صحیحین میں وارد:
حتی تستحد المغیبۃ ۴؎
(یہاں تک کہ زیر ناف بال صاف کرے۔ ت) اشعۃ اللمعات میں علامہ تورپشتی سے نقل کیا یہاں استحداد سے بال دور کرنا مراد ہے نہ کہ خاص استعمال قدسی ابن عربی محاکمہ کرتے ہیں کہ نوجوان عورت کو احتراز مناسب اور عمر رسیدہ کو مضرت نہیں۔ اور نتف ایام ضعف میں باعث استر خائے فرج تو میانہ کو اس سے بچنا زیبا اور نوجوان میں بوجہ شباب قوت پر احتمال نہیں۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
(۳؎ مرقاۃ المفاتیح کتاب اللباس باب الترجل الفصل الاول مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۲۰۸)
(۴؎ صحیح بخاری کتاب النکاح باب طلب الولد قدیمی کتب خانہ ۲/)
(صحیح مسلم کتاب الرضاع باب استحباب النکاح قدیمی کتب خانہ ۱/ ۴۷۴)
مسئلہ۲۱۴: از مارہرہ مطہرہ ضلع ایٹہ مرسلہ مولوی حافظ امیر اللہ صاحب مدرس اول مدرسہ عربیہ درگاہ شریف ۲۴ رجب ۱۳۱۸ھ
محلقین رؤسکم ومقصرین ۵؎
(تم لوگ اپنے سروں کے بال منڈواتے اور کتراتے ہوئے مسجد حرام میں داخل ہوگے۔ ت) سے سرمنڈانا اور کترانا مفہوم ہوتا ہے بابولوگ یا نیاچہرہ منڈاتے نہیں بہت چھوٹے چھوٹے بال رکھتے ہیں ذرا بڑھے کترا ڈالے۔ کیا یہ شکل مقصرین سے مفہوم ہے فقہ میں کیا ثابت ہے؟
(۵؎ القرآن الکریم ۴۸/ ۲۷)
الجواب
آیہ کریمہ میں حلق وتقصیر حج کا ذکر ہے۔ تقصیر حج یہ کہ ہر بال سے بقدر ایک پورے کے کم کریں چہارم ، سر کے بالوں کی تقصیر واجب ہے کل کی مندوب ومسنون اسے عادی امور سے تعلق نہیں یہ طریقہ کہ ان کفرہ یا بعض فسقہ میں معمول ہے کہ چھوٹی چھوٹی کھونٹیاں رکھتے ہیں جہاں ذرا بڑھیں کتروادیں خلاف سنت ومکروہ ہے سنت یا سارے سر پر بال رکھ کر مانگ نکالنا یا سارا منڈانا۔
فی ردالمحتار عن الروضۃ السنۃ فی شعرا لراس اما الفرق واما الحلق ۱؎۔
فتاوٰی شامی میں ''روضہ'' سے نقل کیا گیا کہ سروں کے بالوں میں مانگ نکالنا سنت ہے یا تمام بال منڈوادینا سنت ہے۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۶۱)
اور کراہت اس لئے کہ وضع کفرہ وفسقہ ہے۔
فی الھندیہ عن الذخیرۃ والشامیۃ عن التتارخانیہ عن الذخیرۃ ان یحلق وسط راسہ ویرسل شعرہ من غیر ان یفتلہ فان فتلہ فذلک مکروہ لانہ یصیر مشابھا ببعض الکفرۃ ۲؎۔ واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
فتاوٰی ہندیہ میں بحوالہ ذخیرہ اور فتاوٰی شامی میں تتارخانیہ سے بحوالہ ذخیرہ منقول ہے اور وہ یہ کہ سر کے چوٹی کے بال منڈوادے اور باقی بال گوندھے بغیر چھوڑدے۔ پھر اگر انھیں گوندھ ڈالے تو یہ عمل مکروہ ہے کیونکہ ایسا کرنا بعض کفار سے مشابہ ہوجائے گا (اورکفار سے مشابہت جائز نہیں) اور اللہ تعالٰی پاک وبلند وبالا اور سب سے زیادہ جاننے والا ہے۔ (ت)
(۲؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الحظروالاباحۃ الباب التاسع عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۵۷)