مسئلہ ۲۱۰ تا ۲۱۲: از گوالیار محکمہ ڈاک مرسلہ مولوی نور الدین احمد صاحب ۳ ذی القعدہ ۱۳۱۲ھ
مخدوم متاع ونیاز مندانہ، آداب نیاز کے بعدعرض پرداز مسائل ذیل کے جواب عنایت فرمائے جائیں:
(۱) داڑھی کا ارسال تابہ یکمشت تو معلوم ہے مگر اس کے حدو د کہاں تک ہیں یعنی چہرہ پر کل بال خواہ آنکھوں تک کیوں نہ ہوں داخل ریش ہیں یا کہاں تک اور خط بنوانے میں کہاں تک احتیاط مناسب ہے؟
(۲) نیچے کے ہونٹ کے نیچے جو وسط میں ذرا سے بال چھوڑ کر ادھر ادھر منڈاتے ہیں جیسے اس شکل میں اس کا منڈانا درست ہے یاکچھ نہ منڈائے خواہ لب زیریں کے نیچے سب بال ہی بال ہوں اور سوا منہ کے کوئی جگہ نہ بچی ہو۔
(۳) بال سر کے چھوڑنا تابگوش خواہ دوش تک یا سارے سر کے حجامت کرانا تو معلوم ہے لیکن چھوٹے چھوٹے بال بقدر تین چار حجامتوں کے رکھنا جیسا کہ آج کل شائع ہے اور پھر گردن پر سے ان کی درستی گردن کی صفائی یہ کہاں تک جائز ہے؟ زیادہ نیاز۔
الجواب
جواب سوال اول: داڑھی قلموں کے نیچے سے کنپٹیوں، جبڑوں، ٹھوڑی پر جمتی ہے اور عرضا اس کا بالائی حصہ کانوں اور گالوں کے بیچ میں ہوتا ہے جس طرح بعض لوگوں کے کانوں پر رونگٹے ہوتے ہیں وہ داڑھی سے خارج ہیں، یوں ہی گالوں پر جو خفیف بال کسی کے کم کسی کے آنکھوں تک نکلتے ہیں وہ بھی داڑھی میں داخل نہیں یہ بال قدرتی طور پر موئے ریش سے جدا ممتاز ہوتے ہیں اس کا مسلسل راستہ جو قلموں کے نیچے سے ایک مخروطی شکل پر جانب ذقن جاتا ہے یہ بال اس راہ سے جداہوتے ہیں نہ ان میں موئے محاسن کے مثل قوت نامیہ ان کے صاف کرنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ بسا اوقات ان کی پرورش باعث تشویہ خلق وتقبیح صورت ہوتی ہے جو شرعا ہر گز پسندیدہ نہیں،
غرائب میں ہے:
کان ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما یقول للحلاق بلغ العظٰمین فانھما منتھی اللحیۃ یعنی حدھا ولذٰلک سمیت لحیۃ لان حدھا اللحی ۱؎۔
حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما حجام سے فرمایا کرتے تھے کہ دو ہڈیوں تک پہنچ جا، کیونکہ وہ دونوں داڑھی کی حدود یعنی آخری حصہ ہیں اسی لئے داڑھی کو ''لحیہ'' کہاگیا ہے کیونکہ اس کی حدود جبڑے (اللحی) تک ہیں ۔ ت)
(۱؎ غرائب )
عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری باب تقلیم الاظفار میں تعریف علامہ ابن حجر ھی اسم لما نبت علی الخدین والذقن (داڑھی دراصل ان بالوں کا نام ہے جو دو رخساروں اور ٹھوڑی پر اگتے ہیں۔ ت) کو موہوم پاکر اس پر اعتراض فرمایا:
قلت علی الخدین لیس بشیئ ولو قال علی العارضین لکان صوابا اھ ۲؎۔
یعنی میں ابن حجر کہتاہوں، کہ علی الخدین (دونوں رخساروں پر) کہنا ٹھیک نہیں البتہ علی العارضین (دونوں گالوں پر) کہتے تو ٹھیک ہوتا اھ (ت)
(۲؎ عمدۃ القاری شرح بخاری کتاب اللباس باب تقلیم الاظفار محمد امین دمج بیروت ۲۲/۴۶)
لدوابروؤں اور چہرے کے بالوں کو کاٹنے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ ہجڑوں سے مشابہت پیدا نہ ہو، اسی طرح ینابیع میں ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراہیۃ الباب التاسع عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۵۸)
جواب سوال دوم: یہ بال بداہۃ سلسلہ ریش میں واقع ہیں کہ اس سے کسی طرح امتیاز نہیں رکھتے تو انھیں داڑھی سے جدا ٹھہرانے کی کوئی وجہ وجیہ نہیں۔ وسط میں جو بال ذرا سے چھوڑے جاتے ہیں جنھیں عربی میں عنفقۃ اور ہندی میں بچی کہتے ہیں۔ داخل ریش ہیں
کما نص علیہ الامام العینی وعنہ نقل فی السیرۃ الشامیۃ
(جیسا کہ امام بدرالدین عینی نے اس کی تصریح فرمائی اور ان سے سیرت شامیہ میں نقل کیا گیا۔ ت) ولہذا امیر المومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہوا کہ جو کوئی انھیں منڈاتا اس کی گواہی رد فرماتے
کما ذکرہ الشیخ المحدث فی مدارج النبوۃ
(جیسا کہ شیخ عبدالحق محدث دہلوی نے مدارج النبوۃ میں ذکر فرمایا ۔ت) تو بیچ میں یہ دونوں طرف کے بال جنھیں عربی میں فنیکین ہندی میں کوٹھے کہتے ہیں کیونکر داڑھی سے خارج ہوسکتے ہیں داڑھی کے باب میں حکم احکم حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم
اعفواللحی واوفرواللحی ۲؎
(داڑھیاں بڑھاؤاور زیادہ کرو۔ ت) ہے تو اس کے کسی جز کا مونڈنا جائز نہیں۔
(۲؎ صحیح البخاری کتاب اللباس باب اعفاء اللحی قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۷۵)
لاجرم علماء نے تصریح فرمائی کہ کوٹھوں کا نتف یعنی اکھیڑنا بدعت ہے امیر المومنین عمر ابن عبدالعزیز رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ایسے شخص کی گواہی رد فرمائی۔
غرائب میں ہے:
نتف الفنیکین بدعۃ وھو جنبا العنفقۃ وھی شعر الشفۃ السفلی ۳؎ وشھد رجل عند عمر بن عبدالعزیز وکان ینتف فنیکیہ فرد شہادتہ ۴؎ اھ وعنھا نقل فی الھندیۃ الی قولہ السفلی وظاھر ان الاثر فی ذٰلک لخصوص النتف ففی معناہ الحلق وانما وقع التعبیر بہ نظرا الی ماکانوا تعودوہ کما فی قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لا تنتفوا الشیب ۱؎ وقول الفقہاء یکرہ نتف الشیئ مع کراہۃ قصہ ایضا لشمول العلۃ وبہ تبین ان ماوقع فی المدارج الشریفۃ من ان فی حلق العنفقۃ وترکھا خلافا والا فضل ترکھا اماحلق طرفیھا فلا باس بہ ۲؎ اھ معربا محل تأمل حیث افادہ بظاھرہ کراہۃ التنزیہ وبمقابلتہ بافضلیۃ الترک الاباحۃ الخالصۃ مع ان العنفقۃ وطرفیھا جمیعا من اجزاء اللحیۃ وھی واجبۃ الاعفاء فلا ینبغی الاقدام علی ذٰلک مالم یثبت من حدیث صحیح اونص من امام المذہب صریح فلیتأمل۔
دونوں کوٹھوں کو اکھاڑنا بدعت ہے اور وہ عنفقہ (بچی) کے دونوں جانب کے بال ہیں اور عنفقۃ لب زیریں کے بال ہیں، ایک شخص نے حضرت عمر بن عبدالعزیز کی عدالت میں (کسی معاملے میں) گواہی دی اور وہ شخص دونوں کوٹھوں کے بال اکھاڑنے والا تھا آپ نے اس کی گواہی رد کردی۔ فتاوٰی غرائب سے فتاوٰی عالمگیری میں اس کا قول '' السفلی'' تک نقل کیا گیا۔ اور ظاہر یہ ہے کہ اس میں اکھاڑنے کی خصوصیت کا کوئی اثر نہیں پس اسی کے معنی میں ''حلق'' ہے یعنی بال مونڈنا ہے۔ اور بال اکھاڑنے سے تعبیر ان کی عادت کے مطابق واقع ہوئی ہے جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے: سفید بال نہ اکھاڑا کرو۔ اور فقہائے کرام کا ارشادسفید بال اکھاڑنے مکروہ ہیں ۔ باوجود یہ کہ ان کے کترنے میں بھی کراہت ہے کیونکہ علت دونوں کو شامل ہے۔ اس سے واضح ہوگیا کہ جو کچھ مدارج شر یف میں وار دہے وہ محل تامل یعنی غور وفکر کے لائق ہے کہ عنفقہ کے بال مونڈنے اور نہ مونڈنے میں اختلاف ہے اور بہتر یہ ہے کہ نہ مونڈے جائیں۔ لیکن دونوں کناروں کے بال مونڈ دینے میں کوئی حرج نہیں (معرب عبارت پوری ہوگئی) کیونکہ شیخ کی عبارت کا بظاہر مفاد کراہت تنزیہی ہے اور اس کا تقابل ''ترک افضل'' خالص اباحت بتا رہا ہے حالانکہ عنفقہ اور داڑھی کی دونوں اطراف اجزائے داڑھی میں شامل ہیں اور ان کا چھوڑنا واجب ہے ۔لہذا اس پر جرأت اقدام کسی طرح مناسب نہیں جب تک کسی حدیث صحیح سے یاامام مذہب کی طرف سے کسی صریح نص کے ساتھ ثابت نہ ہو، پس اس میں گہری سوچ سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ ت)
(۳؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراہیۃ الباب التاسع عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۵۸)
(۴؎ غرائب )
(۱؎ سنن ابی داؤد کتاب الترجل باب فی نتف الشیب آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۲۲)
(۲؎ مدارج النبوۃ باب اول مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۱۵)
ہاں اگر یہاں بال اس قدر طویل وانبوہ ہو کہ کھانا کھانے ، پانی پینے، کلی کرنے میں مزاحمت کریں تو ان کا قینچی سے بقدر حاجت کم کردینا روا ہے۔
خزانۃ الروایات میں تتارخانیہ سے ہے:
یجوز قص الاشعار التی کانت من الفنیکین اذا زحمت فی المضمضۃ او الاکل اوالشرب ۱؎۔
زیریں لب کے دونوں کناروں کے بال کترنے جائز ہیں جبکہ کلی کرنے اور کھانے پینے میں رکاوٹ ہوں۔ (ت)
(۱؎ خزانۃ الروایات باب فی شعور الانسان قلمی نسخہ ص۵۶۱)
یہ روایت بھی دلیل واضح ہے کہ بغیر اس مزاحمت کے ان بالوں کا کترنا بھی ممنوع ہے نہ کہ مونڈنا
فان المفاھیم معتبرۃ فی الکتب وکلام العلماء وبالاجماع ھذا ماعندی
(کیونکہ مفہوم مخالف، کتابوں، کلام علماء میں ساتھ اجماع کے معتبر ہے میرے نزدیک تو یہی ہے۔ ت)