Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۲(کتاب الحظر والاباحۃ)
120 - 146
جواب سوال چہارم: ریش مبارک امیر المومنین مولی علی کرم اللہ تعالٰی وجہہ الکریم کی نسبت مدارج سے گزرا:
پر می کرد سینہ اُورا ۴؎
 (ان کے سینے کو بھردیتی تھی۔ ت) مگر اس میں وہی احتمال قائم کہ سینہ سے مراد سینہ کا بالائی حصہ متصل گلو ہوتو ایک مشت سے زیادت پر دلیل نہ ہوگی۔
 (۴؎ مدارج النبوۃ     باب اول بیان لحیہ شریف         مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۱/ ۱۵)
ہاں تہذیب الاسماء امام نووی سے اتنا منقول کانت کثۃ طویلۃ حضرت مولٰی کی ریش مبارک گھنی دراز تھی اس سے ظاہر قبضہ پر دلالت ہے کہ قبضہ تو اصل مقدار لحیہ شرعیہ ہے جس سے کمی جائز نہیں تو اتنی مقدار سے جب تک زائد نہ ہو طویل نہ کہیں گے ۔ ولہذا علامہ خفاجی نے ریش اطہر انور حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم کے تابسینہ ہونے کے انکار کی یہی وجہ لکھی کہ ایسا ہوتا تو ریش اقدس طویل ہوتی حالانکہ اس کا قصیر ہونا ثابت ہوا ہے اس تقدیر پر ریش مبارک امیر المومنین علی رضی اللہ تعالٰی عنہ میں وہ لفظ کہ
پرمی کرد سینہ
اورا (ان کے یسنے کو بھردیتی تھی۔ ت) اپنے معنی ظاہر پر محمول رہنا چاہئے
اقول: وباللہ التوفیق
 (میں اللہ کی توفیق سے کے ساتھ کہتاہوں۔ ت) حضرات حسنین رضی اللہ تعالٰی عنہما کا یہ قول شاید بخیال جہاد ہو کہ بسیاری مو چشم عدو میں مورث زیادت ہیبت ہے ولہذا مجاہدین کو لبیں بڑھانے کی اجازت ہوئی حالانکہ اوروں کو بالاتفاق مکروہ۔
کما علی ذٰلک حمل ما عن بعض الصحابۃ الکرام کامیرا لمومنین عثمن الغنی و سیدنا الامام الحسن المجتبٰی رضی اﷲ تعالٰی عنہما من الاختضاب بالسواد مع صحۃ الحدیث بتحریم لغیر اھل الجھاد ۔
جیسا کہ اسی پر محمول کیا گیا جو بعض صحابہ کرام سے ثابت ہوا ہے جیسے امیر المومنین سیدنا حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ اور سیدنا حسن مجتبٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ بالوں کو سیاہ خضاب لگایا کرتے تھے حالانکہ غیر مجاہدین کے لئے حدیث صحیح سے اس کی حرمت ثابت ہے۔ (ت)
بنظر اطلاق ارشاد اقدس
اعفوا اللحٰی ۱؎
 (داڑھیاں بڑھاؤ۔ ت) ان کا اجتہاد اس طرف مودی ہوا
کما ذھب الیہ الحسن البصری وغیرہ
 (جیسا کہ حسن بصری وغیرہ اس طرف گئے ہیں۔ ت) تویہ آثار ہمیں اس امر سے عدول پرباعث نہیں ہوسکتے جو ہمارے ائمہ کرام کے نزدیک سنت ثابت ہو اور حقیقت امریہ کہ ہم پر اتباع مذہب لازم۔ دلائل میں نظر ائمہ مجتہدین فرماچکے
واﷲ سبحنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم
 (اور اللہ تعالٰی پاک وبرتر ہے اور خوب جانتاہے اور اس عظمت وشان والے کا علم کامل اور پختہ ہے۔ ت)
 (۱؎ تہذیب الاسماء واللغات         ترجمہ امیر المومنین علی کرم اللہ وجہہ ۴۲۹     دارالکتب العلمیۃ بیروت    ۱/ ۳۴۸)

(۲؎ صحیح البخاری             کتاب اللباس باب اعفاء اللحی     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲/ ۸۷۵)
مسئلہ ۲۰۹: از گلگٹ چھاؤنی جوئنال     مرسلہ سید محمد علی صاحب     شعبان    ۱۳۱۲ھ

جناب مولوی صاحب مخدوم مکرم وسلامت۔ بعد آداب تسلیمات کے گزارش یہ ہے کہ براہ مہربانی اس کا جواب بہت جلد مرحمت فرمائے گا کیونکہ اس جگہ پر خط عرصہ سے پہنچتا ہے بوجہ برف کے جواب کے واسطے عرصہ دو ماہ کا ہونا چاہئے۔ بندہ کو اس وقت سوا آپ کے اور کوئی یاد نہیں آیا امیدوار ہوں کہ اکثر یہاں کے لوگ ناواقف ہیں اس سوال کا جواب دیجئے گا۔ فقط۔

جو شخص کہ قریب تیس برس کی عمر میں اسلام قبول کرے اس کی سنت کرانا جائز ہے یانا جائز  ؟ فقط زیادہ تسلیم۔ بینوا توجروا۔
الجواب

اگر ختنہ کی طاقت رکھتا ہو تو ضرور کیا جائے۔ حدیث میں ہے کہ ایک صاحب خدمت اقدس حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں حاضر ہوکر مشرف باسلام ہوئے حضور پر نورصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
الق عنک شعر الکفر ثم اختتن۔ رواہ الامام احمد ۱؎ وابوداؤد عن عثیم بن کلیب الحضر می الجھنی عن ابیہ عن جدہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
زمانہ کفر کے بال اتار پھر اپنا ختنہ کر( اس کو امام احمد اور امام ابوداؤد نے عثیم بن کلیب حضرمی جہنی سے اس نے اپنے باپ سے اور اس نے اپنے دادا سے روایت کی ہے۔ ت)
 (ا؎ سنن ابی داؤد     کتاب الطہارۃ باب الرجل یسلم فیؤبالغسل     آفتاب عالم پریس لاہور    ۱/ ۵۲)

(مسند احمد بن حنبل    حدیث ابی کلیب رضی اللہ تعالٰی عنہ        المکتب الاسلامی بیروت    ۳/ ۴۱۵)
ہاں ا گر خود کر سکتا ہو توآپ اپنے ہاتھ سے کرلے یا کوئی عورت جو اس کام کو کرسکتی ہو ممکن ہو تو اس سے نکاح کرادیا جا ئے وہ ختنہ کردے، اس کے بعد چاہے تو اسے چھوڑ دے یاکوئی کنیز شرعی واقف ہو تو وہ خریدی جائے۔ اور اگر یہ تینوں  صورتیں نہ ہوسکیں تو حجام ختنہ کردے (عہ)کہ ایسی ضرورت کے لئے ستر دیکھنا دکھانا منع نہیں۔
عہ:  فتاوٰی افریقہ بھی یہ مسئلہ دیکھیں۔
درمختار میں ہے:
ینظر الطبیب الی موضع مرضھا بقدر الضرورۃ اذ الضرورات تتقدر بقدر ھاوکذا نظر قابلۃ وختان ۱؎۔
بوقت ضرورت بقدر ضرورت طبیب جائے مرض (خواہ وہ جائے پردہ ہو) کو دیکھ سکتا ہے۔ اور قدر ضرورت محض اندازے سے ہوگی۔ اسی طرح دایہ اور ختنہ کرنے والے کا معاملہ ہے۔ (ت)
(۱؎ درمختار     کتاب الحظروالاباحۃ     باب النظروالمس     مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۲۴۲)
ردالمحتارمیں ہے:
قولہ و ختان کذا جزم بہ فی الھدایۃ والخانیۃ وغیرھما لان الختان سنۃ للرجال من جملۃ الفطرۃ لایمکن ترکھا ۲؎ اھ ملخصا۔
مصنف کا ارشاد ہے وختان اسی طرح ہدایہ اور خانیہ اور دیگر کتب میں اس پر یقین ظاہر کیا گیا ہے کیونکہ مردوں کےلئے ختنہ سنت ہے اور ان فطری کاموں میں سے ہے کہ جس کا چھوڑنا مناسب نہیں اھ ملخصا (ت)
 (۲؎ ردالمحتار   کتاب الحظروالاباحۃ     باب النظروالمس     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۲۳۷)
درمختار میں ہے:
وقیل فی ختان الکبیر اذا امکنہ ان یختن نفسہ فعل والا لم یفعل الا ان یمکنہ النکاح او شراء الجاریۃ و الظاھر فی الکبیرانہ یختن ۳؎۔
بڑی عمرکے آدمی کے ختنے کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اگر وہ خود اپنا ختنہ کرسکے تو خود کرے ورنہ کیا ہی نہ جائے، ہاں اگر اس کے لئے نکاح کرنا یا لونڈی خریدنا ممکن ہو تو ان سے ختنہ کرائے اور ظاہر یہ ہے کہ بالغ آدمی کا بھی ختنہ کیا جائے۔ (ت)
 (۳؎ درمختار     کتاب الحظروالاباحۃ    باب الاستبراء         مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۲۴۴)
ردالمحتارمیں ہے:
الختان مطلق یشمل ختان الکبیر و الصغیر ھکذا اطلقہ فی النھایۃ کما قدمناہ واقرہ الشراح والظاھر ترجیحہ ولذا عبرھنا عن التفصیل بقیل ۴؎۔
ختنہ کرنا مطلق بلاقید ذکر کیا ہے لہذا یہ بڑے اور چھوٹے دونوں کو شامل جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کیا ہے اور شارحین نے اس کو برقرار رکھا ہے لہذا بظاہر یہی راجح ہے اس لئے یہاں لفظ قیل سے تفصیل کی تعبیر فرمائی گئی۔ (ت)
 (۴؎ ردالمحتار     کتاب الحظروالاباحۃ    باب الاستبراء      دارحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۲۴۵)
ہندیہ میں ہے:
ذکر الکرخی فی الجامع الصغیر ویختنہ الحمامی کذا فی الفتاوٰی العتابیۃ ۱؎۔
امام کرخی نے جامع صغیر میں فرمایا کہ بالغ آدمی کا ختنہ حمام والا کرے۔ یونہی فتاوٰی عتابیہ میں مذکور ہے۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ     کتاب الکراہیۃ     البا ب التاسع         نورانی کتب خانہ پشاور    ۵/ ۳۵۷)
خلاصہ میں ہے:
الشیخ الضعیف اذا اسلم ولایطیق الختن ان قال اھل البصر لا یطیق یترک ۱؎ الخ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
بہت بوڑھاشخص اگر اسلام قبول کرے اور بوجہ ضعف وکمزوری ختنہ نہ کرسکے یانہ کراسکے تو چند اہل بصیرت حضرات سے رائے لی جائے اگر وہ کہیں کہ واقعی یہ شخص ختنہ کی طاقت نہیں رکھتا تو اسے بلاختنہ ہی رہنے دیا جائے اور اس کا ختنہ نہ کیا جائے الخ۔ اور اللہ تعالٰی سب کچھ جانتاہے۔ (ت)
 (۲؎ خلاصۃ الفتاوٰی         الفصل الثانی         مکتبہ حبیبہ کوئٹہ    ۴/ ۳۴۰)
Flag Counter