قولہ یحب بمعنٰی ینبغی اوالمراد بہ انہ سنۃ مؤکدۃ قریبۃ الی الوجوب والا فلا یصح علی اطلاقہ ۲؎۔
صاحب نہایہ کا یحب کہنا ینبغی کے معنی میں ہے یعنی مناسب ہے یا اس سے ایسی سنت مؤکدہ مر اد ہے جو وجوب کے قریب ہے ورنہ یہ علی الاطلاق صحیح نہیں۔ (ت)
(۲؎ مرقاۃ المفاتیح کتاب اللباس باب الترجیل المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۲۲۳)
ردالمحتار میں ہے:
ھو ان یقبض الرجل لحیتہ فمازاد منہا علی قبضۃ قطعہ کذا ذکر محمد فی کتاب الآثار عن الامام قال وبہ ناخذ محیط اھ ط ۱؎۔
مرد اپنی داڑھی کو اپنی مٹھی میں لے کر زائد حصہ کو کاٹ دے، امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی نے کتا ب الآثار میں امام صاحب کے حوالہ سے یہی ذکر فرمایا ہے اور مزید فرمایا ہم اسی مؤقف کے قائل ہیں محیط اھ ط (ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۶۱)
ہندیہ میں محیط امام سرخسی سے ہے:
القص سنۃ فیہا وھو ان یقبض الی آخر مامر ۲؎۔
داڑھی کے زائد حصہ کو کتردینا سنت ہے اور وہ یہ ہے کہ بقدر ایک مشت داڑھی چھوڑ کر باقی زائد کو کتر ڈالے (ت)
(۲؎ فتاوی ہندیہ کتاب الحظروالاباحۃ الباب التاسع عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۵۸)
اختیار شرح مختار سے منقول ہے۔
التقصیر فیھا سنۃ وھو ان یقبض ۳؎ الخ۔
ایک مٹھی بھر داڑھی سے زائد بالوں کا کتردینا سنت ہے اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ داڑھی کو مٹھی بھر میں پکڑ کر زائد حصہ کتر ڈالا جائے الخ (ت)
(۳؎ الاختیار لتعلیل المختار کتاب الکراہیۃ فصل فی آداب ینبغی للمؤمن دارالمعرفۃ بیروت ۴/ ۱۶۷)
اسی طرح اور کتب مذہب میں ہے تو ہمارے علما کے نزدیک ایک مشت سے زائد کی سنت ہر گز ثابت نہیں بلکہ وہ زائد کے تراشنے کو سنت فرماتے ہیں۔ تو اس کا زیادہ بڑھانا خلاف سنت مکروہ تنزیہی ہوگا۔ لاجرم مولانا علی قاری نے جمع الوسائل شرح شمائل ترمذی شریف میں فرمایا:
ان کان الطول الزائد بان تکون زیادۃ علی القبضۃ فغیر ممدوح شرعا ۴؎۔
اگر داڑھی زیادہ لمبی ہو یعنی ایک مشت سے زائد ہو تو ایسا ہو ناشریعت میں قابل تعریف اور مستحسن نہیں۔ (ت)
(۴؎ جمع الوسائل فی شرح الشمائل باب ماجاء فی خلق رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۳۷)
رہاشیخ محقق کا اسے جائز فرمانا وہ کچھ اس کے منافی نہیں کہ خلاف اولٰی بھی ناجائزنہیں، بالجملہ ہمارے علماء رحمہم اللہ تعالٰی کا حاصل مسلک یہ ہے کہ ایک مشت تک بڑھانا واجب اور اس سے زائد رکھنا خلاف افضل ہے اور اس کا ترشوانا سنت ہاں تھوڑی زیادت جو خط سے خط تک ہو جاتی ہے اس خلاف اولٰی سے بالضرورۃ مستثنٰی ہونا چاہئے ورنہ کس چیز کا تراشنا سنت ہوگا۔
ھذا ماظھرلی واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم
(یہ تحقیق مجھ پر ظاہر ہوئی۔اور اللہ تعالٰی پاک بلند وبالا اور بڑاہے۔)
جواب سوال دوم: جامع الترمذی شریف میں حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی:
ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان یاخذ من لحیتہ من عرضھا وطولھا ۱؎۔
یعنی حضور پر نور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اپنی ریش مبارک کے بال عرض وطول سے لیتے تھے۔
(۱؎ جامع الترمذی ابواب الآداب باب ماجاء فی الاخذ من اللحیۃ امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۰۰)
علماء فرماتے ہیں یہ اس وقت ہوتا تھا جب ریش اقدس ایک مشت سے تجاوز فرماتی۔ بلکہ بعض نے یہ قید نفس حدیث میں ذکر کی
کما نقل عن التنویر والمفاتیح والغرائب
(جیسا کہ تنویر ، مفاتیح اور غرائب سے نقل کیا گیا ہے۔ ت) مرقاۃ شریف میں ہے:
قید الحدیث فی شرح الشرعۃ بقولہ اذا زاد علی قدرا القبضۃ وجعلہ فی التنویر من نفس الحدیث وزاد فی الشرعۃ وکان یفعل ذٰلک فی الخمیس والجمعۃ ولایترکہ مدۃ طویلۃ ۲؎۔
حدیث میں قید ''الشرعۃ'' کی شرح میں اس قول سے مذکور ہے جب آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی داڑھی مبارک کے بال قدر مشت سے زائد ہوجاتے تو آپ زائد بالوں کو کتروادیتے تھے، اور ''تنویر'' میں قید مذکور کو نفس حدیث قرار دیا گیاہے۔ اور ''الشرعۃ'' میں اتنا اضافہ ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بروز جمعہ یا جمعرات کوایسا کرتے تھے اور زیادہ عرصہ نہیں چھوڑتے تھے۔ (ت)
(۲؎ مرقاۃ المفاتیح کتاب اللباس باب الترجل الفصل الثانی المکتبہ الحبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۲۲۳)
ہمارے علماء کے اقوال گزرے کہ قبضہ سے زیادہ کا تراشنا سنت ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم (ا ور اللہ تعالٰی سب سے زیادہ علم رکھتاہے ۔ ت)
جواب سوال سوم: یہ امر محض بے اصل ہے ۔ حدیث مذکور ترمذی اس کا صریح رد ہے کہ اگرقبضہ سے کبھی زائد نہ ہوتی تو عرض وطول سے لینا کیونکر متصورتھا۔
مدارج النبوۃ میں ہے:
درلحیۃ شریف در طول قدرے معین در کتب بنظر نمی آید ودر وظائف النبی گفتہ کہ لحیہ آن حضرت صلی تعالٰی علیہ وسلم چہار انگشت بود طبعا یعنی ہمیں مقدار بود از روئے خلقت ودراز وکم نمی شد بریں یافتہ نمی شود ۱؎۔
حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی داڑھی مبارک کی کسی معین مقدار پر درازی کا ذکر مشہور کتابوں میں سے کسی ایک میں بھی نظر سے نہیں گزرا البتہ وظائف النبی میں کہا گیا کہ آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی ریش مبارک چار انگشت کے بقدر تھی یعنی قدرتی طور پر ہی مٹھی بھر تھی۔ اور گھٹتی بڑھتی نہ تھی پس اس کا حوالہ نہیں پایا گیا۔ (ت)
(۱؎ مدارج النبوۃ باب اول بیان لحیہ شریف مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۱۴)
ہاں ظاہر کلمات مذکورہ علمایہ ہے کہ ریش انور مقدار قبضہ پر رہتی تھی جب زیادہ ہوتی کم فرمادیتے صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم، اور شفا شریف میں امام قاضی عیاض رحمہ اللہ تعالٰی علیہ کا ارشاد
کث اللحیۃ تملؤ صدرہ ۲؎
(حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی داڑھی مبارک گنجان تھی جو سینہ مبارک پر چھائی ہوتی تھی۔ ت) اس کے منافی نہیں جبکہ صدر سے نحر یعنی اعلائے صدر مراد ہو۔
اس کی دلیل ان کا یہ قول ہے ملأت نحرہ یعنی اس سے ان کا نحر بھر جاتا تھا اور سینے کا نحر اس کا بالائی حصہ ہوتا ہے یا سینے کی جگہ ہے لہذا مصنف رحمۃ اللہ علیہ کی مراد سینے کا اوپر والاحصہ ہے ورنہ آپ کی مقدس داڑھی کہ طویل ماننا پڑے گا جو خلاف واقعہ ہے اور اس کا کترنا بھی ثابت ہے الخ، لہذا یہ نکتہ ذہن نشین رہنا چاہئے اس لئے کہ یہ ضروری ہے، اور اللہ تعالٰی سب سے بڑا عالم ہے۔ (ت)
(۲؎ الشفاء بتعریف المصطفٰی الباب الثانی فصل الثالث المطبعۃ الشرکۃ الصحافۃ ۱/ ۵۰)
(۳؎ نسیم الریاض الباب الثانی مبحث شمائلۃ الشریفۃ ادارۃ تالیفات اشرفیہ ملتان ۱/ ۳۳۱)