امام موفق الدین ابن قدامہ حنبلی قدس سرہ الشریف فرماتے ہیں:
کان شیخنا شیخ الاسلام محی الدین ابو محمد عبدالقادر الجیلی نحیف البدن ربع القامۃ عریض الصدر عریض اللحیۃ طویلھا الخ۔ اخرجہ الامام الثقۃ الفقیہ امام القراء سیدی ابوالحسن نور الدین علی الشطنوفی فی قدس سرہ فی بھجۃ الاسرار ۲؎۔
ہمارے مرشد حضور شیخ الاسلام محی الدین ابو محمد عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالٰی عنہ کا بدن مبارک دبلا تھا اور قامت شریف میانہ، سینہ مقدس چوڑا، ریش منور پہن ودراز الخ ۔(مستند امام ، علم فقہ کے ماہر، قاریوں کے پیشوا سیدی ابوالحسن نورالدین علی شطنوفی قدس سرہ نے بہجۃ الاسرار میں اس کی تخریج فرمائی ہے۔ (ت)
شیخ محقق رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ مدارج النبوۃ میں فرماتے ہیں:
عادت سلف دریں باب مختلف بود آوردہ اند کہ لحیہ امیر المومنین علی پرمی کرد سینہ اُورا وہمچنیں عمر وعثمان رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین و نوشتہ اند کان الشیخ محی الدین رضی اﷲ تعالٰی عنہ طویل اللحیۃ وعریضھا ۱؎۔
اسلاف کی عادت اس بارے میں مختلف تھی چنانچہ منقول ہے کہ امیر المومنین حضر ت علی رضی اللہ عنہ کی داڑھی ان کے سینے کو بھردیتی تھی اس طرح حضرت فاروق اعظم اور حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہماکی مبارک داڑھیاں تھیں، اور لکھتے ہیں کہ شیخ محی الدین سیدنا عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالٰی عنہ لمبی داڑھی اور چوڑی داڑھی والے تھے۔ (ت)
(۱؎ مدارج النبوت باب اول بیان لحیۃ شریف مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۱۵)
شاید انھیں آثار کی بنا پر شیخ محقق نے شرح مشکوٰۃ میں فرمایا:
مشہور قدر یک مشت ست چنانکہ کمتر ازیں نباید و اگر زیادہ براں بگزارد نیز جائز ست بشرطیکہ از حد اعتدال نگزرد ۲؎۔
مشہورمقدار ایک مشت ہے پس اس مقدار سے کم نہیں ہونی چاہئے اور اگر اس سے زیادہ چھوڑدے تو بھی جائز ہے بشرطیکہ اعتدال برتا جائے۔ (ت)
(۲؎ اشعۃ اللمعات کتاب الطہارۃ باب السواک فصل اول مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۲۱۲)
اور مدارج میں ایک قول یہ نقل فرمایا کہ علماء ومشائخ کو ایک مشت سے زیادہ رکھنا بھی درست ہے،
حیث قال مشہور در مذہب حنفی چہار انگشت و ظاہر آنست کہ مراد آں باشد کہ کم ازیں نمی باید و لیکن در روایت آمدہ است کہ واجب ست قطع زیادہ برآں وگفتہ اند کہ اگر علماء ومشائخ زیادہ براں بگزارند نیز درست ست ۳؎۔
جیسا کہ فرمایا مذہب حنفی میں مشہور یہ ہے کہ مقدار داڑھی چار انگشت ہو اور ظاہر یہ ہے کہ اس سے کم نہیں ہونی چاہئے لیکن حدیث شریف میں آیا ہے کہ اس سے زائد کو قطع کرنا واجب ہے اور فرماتے ہیں اگر علماء اور مشائخ اس سے زائد رکھیں تو بھی جائز ہے۔ (ت)
(۳؎ مدارج النبوۃ باب اول مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۱۵)
مگر سیدنا عبداللہ بن عمر و ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہم اپنی ریش مبارک مٹھی میں لے کر جس قدر زیادہ ہوتی کم فرمادیتے ۔ بلکہ یہ کم فرمانا خود حضور پر نور صلوات اللہ تعالٰی وسلامہ علیہ سے ماثور امام محمد کتاب الآثار میں فرماتے ہیں:
اخبرنا ابوحنیفہ عن الھیثم عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنھما انہ کان یقبض علی لحیتہ ثم یقص ماتحت القبضہ ۱؎۔
ہم سے امام ابوحنیفہ نے ارشاد فرمایا ان سے ابوالہیثم نے ان سے حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے کہ حضرت عبداللہ اپنی داڑھی مٹھی میں پکڑ کر زائد حصہ کو کترڈالتے تھے۔ (ت)
(۱؎ کتاب الآثار باب خف الشعر من الوجہ روایۃ ۹۰۰ ادارۃ القرآن کراچی ص۱۹۸)
ابوداؤد ونسائی مروان بن سالم سے راوی :
رأیت ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما یقبض علی لحیتہ فیقطع مازاد علی الکف ۲؎۔
میں نے عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما کو دیکھا کہ اپنی داڑھی مٹھی میں لے کر زائد بالوں کو کاٹ ڈالا کرتے تھے۔ (ت)
(۲؎ سنن ابی داؤد کتاب الصوم باب القول عند الافطار آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۳۲۱)
مصنف ابوبکر بن ابی شیبہ میں ہے:
کان ابوھریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ یقبض علی لحیتہ ثم یأخذ مافضل عن القبضہ ۳؎۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ اپنی داڑھی کو اپنی مٹھی میں پکڑ کر مٹھی سے زائد حصہ کو کتر ڈالتے تھے۔ (ت)
(۳؎ المصنف ابن ابی شیبہ کتاب الحظروالاباحۃ باب ماقالوا من الاخذمن اللحیۃ ادارۃ القرآن کراچی ۸/ ۳۷۴)
فتح القدیر میں ان آثار کو نقل کرکے فرمایا:
انہ روی عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ۴؎۔
باوجود اس کے کہ یہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے راویت کی گئی ۔ (ت)
(۴؎ فتح القدیر کتاب الصوم باب مایوجب القضاء والکفارۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲/ ۲۷۰)
ہمارے ائمہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم نے اسی کو اختیار فرمایا اور عامہ کتب مذہب میں تصریح فرمائی کہ داڑھی میں سنت یہی ہے کہ جب ایک مشت سے زائد ہو کم کردی جائے بلکہ بعض اکابر نے اسے واجب فرمایا اگر چہ ظاہر یہی ہے کہ یہاں وجوب سے مراد ثبوت ہے نہ کہ وجوب مصطلح، امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی بعد روایت حدیث مذکور فرماتے ہیں:
بہ ناخذ وھو قول ابی حنیفۃ ۵؎۔
ہم اسی کو لیتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ کا یہی قول ہے۔ (ت)
(۵؎کتاب الآثار باب خف الشعر من الوجہ روایۃ ۹۰۰ ادارۃ القرآن کراچی ص۱۹۸)
اسی کو حضرت امام ابوحنیفہ، قاضی ابویوسف، اورامام محمد نے اختیار کیا ہے۔ اسی طرح ابوالیسر نے اس کو جامع صغیر میں ذکر کیا ہے۔ (ت)
(۱؎ العنایۃ علی ہامش فتح القدیر کتا ب الصوم باب مایوجب القضاء الخ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲/ ۲۶۹)
مرقاۃ باب الترجل میں ہے:
مقدار قبضہ علی ماھوا لسنۃ والاعتدال المتعارف ۲؎۔
مقدار مشت ہی سنت ہے اور مشہور مبنی برمیانہ روی ہے اور یہی راہ اعتدال ہے۔ (ت)
(۲؎ مرقات المفاتیح کتاب اللباس باب الترجل الفصل الاول المکتبہ الحبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۲۱۱)
درمختار میں ہے:
صرح فی النہایۃ بوجوب قطع مازاد علی القبضۃ بالضم ومقتضاہ الاثم بترکہ الاان یحمل الوجوب علی الثبوت ۳؎۔
نہایہ میں تصریح کی گئی ہے کہ داڑھی کے جو بال مقدار مشت سے زیادہ ہوں انھیں کترڈالنا واجب ہے (القبضہ میں ''ق'' حرکت پیش کے ساتھ ہے) اس کا مقتضٰی یہ ہے کہ اس کا ترک یعنی ایسا نہ کرنا گناہ ہے مگر یہ کہ یہاں وجوب سے ثبوت مرادلیا جائے۔ (ت)
(۳؎ درمختار کتاب الصوم باب مایفسد الصوم مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۵۲)
ردالمحتار میں ہے:
قولہ صرح فی النھایۃ ومثلہ فی المعراج وقد نقلہ عنہا فی الفتح و اقرہ قال فی النھر وسمعت من بعض اعزاء الموالی ان قول النھایۃ یحب بالحاء المھملۃ ولا باس بہ اھ قال الشیخ اسمٰعیل ولکنہ خلاف الظاھر واستعمالھم فی مثلہ یستحب قولہ الا ان یحمل یؤیدہ ان مااستدل صاحب النھایۃ لایدل علی الوجوب لما صرح بہ فی البحر وغیرہ ان کان یفعل لایقتضی التکرار والدوام ولذا حذف الزیلعی لفظ یجب وقال ومازاد یقص۔ وفی شرح الشیخ اسمعیل لا باس بان یقبض علی لحیتہ فاذا زاد علی قبضہ شیئ جنرہ کما فی المنیۃ وھی سنۃ کما فی المبتغی ۱؎۔
مصنف کا قول ''صرح فی النھایۃ'' اور یونہی معراج الدرایہ میں بھی ہے، اور محقق ابن الہمام نے اسی نہایہ سے نقل کرکے اس کو برقرار رکھا ہے، النہر میں فرمایا میں نے ( بعض موالی کی نسبت کرنے سے) سنا ہے کہ النہایۃ کا یحب کہنا صرف حابے نقطہ کے ساتھ ہے اور اس میں کچھ حرج نہیں اھ شیخ اسمعیل نے فرمایا لیکن یہ ظاہر کے خلاف ہے کیونکہ لوگ اس قسم پر لفظ یستحب استعمال کرتے ہیں مصنف کے قول ''الاان یحمل'' سے اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ صاحب نہایہ نے جو استدلال کیا ہے وہ وجوب پر دلالت نہیں کرتا، چنانچہ البحرالرائق وغیرہ میں اس کی تصریح کی گئی ہے کہ اگر وہ ایسا کرتے تھے تو یہ تکرار اور دوام نہیں چاہتا اس لئے علامہ زیلعی نے اس کلمہ یجب کو حذف کردیا اور فرمایا جو کوئی مشت سے زیادہ ہو اسے کتروائے اور شیخ اسمعیل کی شرح میں ہے کہ اس میں کچھ مضائقہ نہیں کہ آدمی اپنی داڑھی مٹھی میں پکڑے اور جو بال مٹھی سے زائد ہوں انھیں کتر دے۔ جیسا کہ المنیہ میں ہے اور یہ سنت ہے جیسا کہ المبتغٰی میں ہے۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الصوم باب مایفسد الصوم داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۱۱۳)