Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۲(کتاب الحظر والاباحۃ)
117 - 146
الجواب

جواب سوال اول: ریش ایک مشت یعنی چار انگلی تک رکھنا واجب ہے اس سے کمی ناجائز ۔ شرح مشکوٰۃ شریف میں ہے:
گذاشتن آں بقدر قبضہ واجب ست وآنکہ آنرا  سنت گویند بمعنی طریقہ مسلوک دین ست یا بجہت آنکہ ثبوت آن بسنت ست چنانچہ نماز عید راسنت گفتہ اند ۱؎۔
داڑھی بمقدار ایک مشت رکھنا واجب ہے اور جو اسے سنت قرار دیتے ہیں وہ اس معنی میں ہے کہ یہ دین میں آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا جاری کردہ طریقہ ہے یا اس وجہ سے کہ اس کا ثبوت سنت نبوی سے ہے جیسا کہ نماز عید کو سنت کہاجاتا ہے حالانکہ وہ واجب ہے۔ (ت)
(۱؎ اشعۃ اللمعات     شرح المشکوٰۃ     کتاب الطہارۃ     باب السواک         مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۱/ ۲۱۲)
فتح القدیر میں ہے:
الاخذ منھا وھی دون ذٰلک کما یفعلہ بعض المغاربۃ ومخنثۃ الرجال ۲؎۔
داڑھی تراشنا یا کترنا کہ وہ مشت کی مقدار سے کم ہوجائے ناجائز ہے جیسا کہ بعض مغربیت زدہ لوگ اور ہیجڑے کرتے ہیں۔ (ت)
(۲؎ فتح القدیر         باب الصیام باب مایوجب القضاۃ والکفارۃ         مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر     ۲/ ۲۷۰)
غرض لحیہ سے کچھ لینا بھی اسی حالت سے مشروط ہے جبکہ طول میں حد شرع تک پہنچ جائے۔
فی الھندیہ من الملتقط لاباس اذا طالت لحیتہ طولا وعرضا لکنہ مقید بما اذا زاد علی القبضۃ ۳؎۔
فتاوٰی ہندیہ میں بحوالہ ''الملتقط'' منقول ہے کہ جب داڑھی طول اور عرض میں بڑھ جائے تو ایک مشت مقدار سے زائد کاٹ دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔(ت)
(۳؎ فتاوٰی ہندیہ     کتاب الکراہیۃ الباب التاسع عشر         نورانی کتب خانہ پشاور    ۵/ ۳۵۸)
اور پر ظاہر کہ مقدار ٹھوڑی کے نیچے سے لی جائے گی یعنی چھوٹے ہوئے بال اس قدر ہوں وہ جو بعض بیباک جہال لب زیریں کے نیچے سے ہاتھ رکھ کر چار انگل ناپتے ہیں کہ ٹھوڑی سے نیچے ایک ہی انگل رہے یہ محض جہالت اور شرع مطہر میں بیباکی ہے غرض اس قدر میں تو علمائے سنت کا اتفاق ہے۔ اس سے زائد اگر طول فاحش حد اعتدال سے خارج بے موقع بدنما ہو تو بلا شبہہ خلاف سنت مکروہ کہ صورت بد نما بنانا اپنے منہ پر دروازہ طعن مسخر یہ کھولنا مسلمانوں کو استہزاء وغیبت کی آفت میں ڈالنا ہر گز مرضی شرع مطہر نہیں، نہ معاذا للہ زنہار کہ ریش اقدس حضور پر نور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم عیاذا باللہ کبھی حد بدنمائی تک پہنچی سنت ہونا اس کامعقول نہیں۔
وان ذھب بعض العلماء من غیر اصحابنا الی اعفاء اللحی جملۃ واحدۃ وکراھۃ اخذ شیئ منھا مطلقا وھو الذی اختارہ الامام الاجل النووی والعجب من ابن ملک حیث تابعہ علی ذٰلک مستدرکا بہ علی قول نفسہ ان الاخذ من اطراف اللحیۃ طولھا وعرضھا للتناسب حسن کما نقل عنہ المولی علی القاری فی کتاب الطھارۃ من المرقاۃ ۱؎ والعجب انہ ایضا سکت علیہ ھھنا مع انہ خلاف ماعلیہ ائمتنا الکرام کما ترٰی۔
اگر چہ ہمارے اصحاب علم کے سوا کچھ دوسرے علماء کا خیال ہے کہ داڑھی کو یک لخت مجموعی طو ر پر بڑھنے دیا جائے اور محدود نہ کیا جائے وہ داڑھی کو تراشنے کے حق میں مطلقا نہیں اور وہ تراشنے کو مکروہ خیال کرتے ہیں جلیل القدر امام نووی نے اسی چیز کو پسند کیا ہے لیکن ابن ملک پر تعجب ہے کہ اس نے اس مسئلہ میں امام نووی کی متابعت کرتے ہوئے اپنے قول پر استدراک کیا کہ داڑھی کی اطراف طول وعرض سے تناسب قائم رکھنے کے لئے کچھ تراش خراش کرنامستحسن یعنی اچھا ہے جیسا کہ اس سے محدث ملا علی قاری نے مرقاۃ شرح مشکوٰۃ کی بحث طہارت میں نقل کیا ہے اور ان پر بھی تعجب ہے کہ وہ یہاں خاموش رہے حالانکہ یہ اس کے خلاف ہے جس پر ہمارے ائمہ کرام قائم ہیں جیسا کہ تم دیکھتے ہو۔ (ت)
(۱؎ مرقاۃ المفاتیح     کتاب الطہارۃ باب السواک     الفصل الاول         المکتبۃ الحبیبہ کوئٹہ    ۲/ ۹۱)
ولہذا حدیث میں آیا حضور والا صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
من سعادۃ المرء خفۃ لحیتہ ۲؎۔ اخرجہ الطبرانی فی الکبیر وابن عدی فی الکامل عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔
آدمی کی سعادت سے ہے داڑھی کا ہلکا ہونا یعنی یہ کہ بیحد دراز نہ ہو۔ (امام طبرانی نے المعجم الکبیر میں اور ابن عدی نے الکامل میں حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما کے حوالے سے تخریج فرمائی۔ ت)
 (۲؎ المعجم الکبیر         حدیث ۱۲۸۲۰     المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت    ۱۲/ ۲۱۱)

(الکامل لابن عدی     ترجمہ یوسف بن فرق بن لمازۃ قاضی الاھواز     دارالفکر بیروت    ۷/ ۲۶۲۴، ۲۶۲۵)
علامہ خفاجی نسیم الریاض میں فرماتے ہیں:
المراد من ذٰلک عدم طولھا جدا لما ورد فی ذمہ ۱؎۔
یقینا اس سے مراد غیر طویل ہے کیونکہ اس کی مذمت میں حدیث واردہوئی ہے۔ (ت)
(۱؎ نسیم الریاض         الباب لثانی فصل الثالث         ادارۃ تالیف اشرفیہ ملتان    ۱/ ۳۳۱)
امام حجۃ الاسلام غزالی احیاء العلوم پھر مولانا علی قاری مرقاۃ میں فرماتے ہیں:
قد اختلفوا فیما طال من اللحیۃ فقیل ان قبض الرجل علی لحیتہ واخذ ماتحت القبضۃ فلا باس بہ وقد فعلہ ابن عمر و جماعۃ من التابعین واستحسنہ الشعبی و ابن سیرین وکرھہ الحسن وقتادۃ ومن تبعھما وقالواترکھا عافیۃ احب لقولہ علیہ الصلوٰۃ والسلام اعفوا اللحی لکن الظاھر ھوالقول الاول فان الطول المفرط یشوہ الخلقۃ ویطلق السنۃ المغتابین بالنسبۃ الیہ فلا باس للاحتراز عنہ علی ہذہ النیۃ، قال النخعی عجبت لرجل عاقل طویل اللحیۃ کیف لایاخذ من لحیتہ فیجعلھا بین لحیتین ای طویل وقصیر فان التوسط من کل شیئ احسن ومنہ قیل خیر الامور اوسطھا ومن ثم قیل کلما طالت اللحیۃ نقص العقل ۲؎۔
بے شک داڑھی کے دراز حصہ میں (یعنی اس کی درازی کے بارے میں) اہل علم نے اختلاف کیا ہے پس یہ کہا گیا ہے کہ اگر کوئی مرد اپنی مشت بھر داڑھی کو پکڑ کر مشت سے زائدبالوں کو کاٹ ڈالے تو اس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما اور حضرات تابعین کے ایک گروہ نے اس طرح کیا تھا اور امام شعبی اور محمد بن سیرین نے اس کو اچھا سمجھا البتہ حضرت حسن بصری اور امام قتادہ اور ان کے ہمنوا لوگوں نے اس کو مکروہ کہا اور انھوں نے فرمایا کہ اسے بڑھتے ہوئے چھوڑ دینا زیادہ مناسب اور پسندیدہ بات ہے ، حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے اس ارشاد کی وجہ سے کہ داڑھیاں بڑھاؤ، لیکن ظاہر وہی پہلی بات ہے کیونکہ فحش درازی صورت کوبد نمابنادے گی اور اس کی نسبت (لوگوں کی) زبانیں درازہوجائیں گی پھر اس نیت سے اس سے بچنے میں کوئی حرج نہیں پھر یہ بات پوشیدہ نہیں کہ اگر کوئی عقلمند آدمی لمبی داڑھی والا ہو یعنی اس کی داڑھی زیادہ لمبی ہونے لگے تو وہ کیونکر داڑھی نہ تراشے گا، پھروہ لمبی اور چھوٹی دوقسم کی داڑھیوں کے درمیان کردے گا اس لئے کہ ہر چیزمیں میانہ روی اچھی ہوتی ہے اسی لئے فرمایا گیا کہ بہترین کام درمیانہ ہوتا ہے اور اسی وجہ سے یہ بھی کہا گیا کہ جب بھی داڑھی لمبی ہو تو عقل کم ہوگی۔ (ت)
 (۲؎ مرقاۃ المفاتیح     کتاب اللباس باب الترجل الفصل الثانی     المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ    ۸/ ۲۲۳)
ردالمحتار میں ہے:
اشتھر ان طول اللحیۃ دلیل علی خفۃ العقل ۱؎۔
مشہور ہے کہ لمبی داڑھی بے وقوف ہونے کی علامت ہے۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار     کتاب الحظروالاباحۃ     فصل فی البیع         داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۲۶۱)
اور اگر حد سے زائد نہ ہو تو بعض ائمہ سلف رضی اللہ تعالٰی عنہم سے منقول امیر المومنین عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کی ریش مبارک
کما نص علیہ الامام ابن حجر فی الاصابۃ وکذالک نقل الفاضل ابن عبداﷲ الشافعی نزیل المدینۃ الطیبۃ فی کتابہ الاکتفاء فی فضل الاربعۃ الخلفاء عن الامام البغوی
 (جیسا کہ امام ابن حجر نے ''اصابہ'' میں تصریح فرمائی ہے اور اسی طرح امام بغوی کے حوالے سے فاضل بن عبداللہ شافعی جو مدینہ طیبہ کے باسی ہیں،  نے اپنی کتاب
''الاکتفاء'' فی فضل الاربعۃ الخلفاء''
میں نقل کیا ہے۔ ت)
Flag Counter