Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۲(کتاب الحظر والاباحۃ)
116 - 146
مسئلہ ۲۰۴: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ سرکے بال جو تالو پر سے کھلوادئے جاتے ہیں آیا درست ہے ان کا منڈوانا یانہیں؟

دو سرے یہ کہ سر کے بال کتروانا اور ایک انگشت کے قریب رکھنا یا کہ اگلی جانب کے کچھ بڑے اور پیچھے کی جانب سے چھوٹے کرتے ہوں، جو حکم شرع مطہر کا اس بارے میں ہو بیان فرمائیں۔ اللہ تعالٰی اجر دے گا فقط۔
الجواب

تالو کے بال منڈانا جس طرح یہاں کے لوگوں عادت ہے بشرطیکہ پیشانی کے بال باقی رکھے جائیں جسے پان بنوانا کہتے ہیں جائز ہے مگر اولٰی نہیں۔ ہاں متفرق مواضع سے قطعے قطعے منڈوانا جیسا کہ بعض لوگ کرتے ہیں بیچ سرمنڈوادیا آس پاس کے بال چھوڑدئے اور کنپٹیوں پر ببریاں رکھیں آس پاس منڈوادئے اور گدی پر ایک قطعہ بالوں کا چھوڑا دہنے بائیں حلق کئے اسے عربی میں قزع کہتے ہیں اور وہ ممنوع ہے بالوں کی نسبت شرع مطہر میں صرف دو طریقے آئے ہیں:
ایک یہ کہ سارے سر پررکھیں اور مانگ نکالیں۔ یہ خاص سنت حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی ہے۔ حج وحجامت یعنی پچھنوں کی ضرورت کے سوا حضور والا صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے حلق شعر ثابت نہیں۔ حضو ر صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے دس سال مدینہ میں قیام فرمایا اس مدت میں صرف تین بار یعنی سال حدیبیہ وعمرۃ القضاء وحجۃ الوداع میں حلق فرمایا
علی مانقلہ علی القاری فی جمع ۱؎الوسائل عن بعض شراح المصابیح
 (جیسا کہ ملاعلی قاری نے مصابیح کے بعض شارحین سے جمع الوسائل میں نقص کیا ہے۔ ت)
 (۱؎ جمع الوسائل         فی شرح الشمائل     باب ماجاء فی شعر رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم     دارالمعرفۃ بیروت    ۱/ ۸۲)
دوسرے یہ کہ سارا سرمنڈائیں یہ حضرت سیدنا مولٰی علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی عادت تھی وہ جناب بخوف جنابت کہ مبادا نہانے میں کوئی بال پانی بہنے سے باقی نہ رہ جائے حلق فرمایا کرتے ان کے سوا جتنے طریقے ہیں سب خلاف سنت اور یہ نئی نئی تراشیں ایک ایک انگل کے بال رکھنا جب اس سے بڑھیں کتروادینا یا آگے سے بڑے پیچھے سے کترے ہوئے یا وسط تالو سے پیشانی تک کھلوادینا یا گدی کے بال منڈانا یا پیشانی سے گدی تک سڑک نکالنا یامنڈے سرخواہ بالوں کی حالت میں یعنی چوڑی قلمیں بڑھا کر رخساروں پر جھکانا یا داڑھی میں ملادینا، یہ باتیں مخالف سنت وخلاف وضع صلحائے مسلمین ہونے کے علاوہ ان میں اکثر اقوام کفار کی ایجاد ہیں جن کی مشابہت سے مسلمانوں کو بچناچا ہئے۔
ردالمحتارمیں ہے:
فی الروضۃ للزندویسی ان السنۃ فی شعر الراس اماالفرق اوالحلق وذکر الطحاوی ان الحلق سنۃ و نسب ذٰلک الی العلماء الثلثۃ و فی الذخیرۃ ولا باس ان یحلق وسط راسہ ویرسل شعرہ من غیر ان یفتلہ وان فتلہ فذٰلک مکروہ لانہ یصیر مشبھا ببعض الکفرۃ و المجوس فی دیار نا یرسلون الشعر من غیر فتل ولکن لایحلقون وسط الراس بل یجزون التاصیۃ تاتر خانیہ ۱؎۔
امام زندویسی کی روضہ میں ہے کہ سنت یہ ہے کہ سر کے بال رکھے جائیں اوران میں مانگ نکالی جائے یا بال منڈوادئے جائیں اور سر بالکل صاف کرادیا جائے، امام طحطاوی نے بیان فرمایا ہے کہ سر منڈوانا سنت ہے اور یہ بات ائمہ ثلثہ کی طرف منسوب کی گئی ہے۔ اور ذخیرہ میں یوں مذکور ہے اس میں کوئی حرج نہیں کہ سر کے درمیانی حصہ کو مونڈ ڈالا جائے اور بالوں کو بغیر بٹنے کے کھلا چھوڑدیا جائے اور اگر انھیں کھلا نہ چھوڑے اور بٹنے والا عمل کرے تو یہ مکروہ ہے کیونکہ اس طرح کرنے سے بعض کافروں اور آتش پرستوں سے مشابہت ہوجاتی ہے البتہ وہ سر کے درمیانی حصے کو مونڈتے نہیں بلکہ پیشانی والے بالوں کو کاٹ ڈالتے ہیں تاترخانیہ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار     کتاب الحظروالاباحۃ     فصل فی البیع         داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۲۶۱)
عالمگیری میں ہے:
یکرہ القزع وھو ان یحلق البعض فیترک البعض قطعا مقدار ثلثۃ اصابع کذا فی الغرائب ۲؎۔
''قزع'' مکروہ ہے اور اس کی صورت یہ ہے کہ سرکے بعض بال مونڈ ڈالے جائیں اور بعض بال بمقدار تین انگشت چھوڑ دئے جائیں اسی طرح الغرائب میں مذکور ہے۔ (ت)
(۲؎ فتاوٰی ہندیہ     کتا ب الکراہیۃ الباب التاسع عشر     نورانی کتب خانہ پشاور        ۵/ ۳۵۷)
مجمع البحار میں ہے:
منہ ح نھی عن القزع ھو ان یحلق راس الصبی ویترک منہ مواضع متفرقۃ تشبیھا بقزع السحاب ط اجمعوا علی کراھتہ اذ اکان فی مواضع متفرقۃ الا ان یکون لمداوۃ لانہ من عادۃ الکفرۃ لقباحتہ صورۃ ۲؎۔
منہ ح، قزع سے منع کیا گیا ہے اور اس کی صورت یہ ہے بچوں کے سروں کے کچھ بال مونڈ ڈالے جائیں اور کچھ بال بادلوں کی ٹکڑیوں کی مانند چھوڑ دیے جائیں، ائمہ کرام اس کی کراہت پر متفق ہیں جبکہ مختلف جگہوں سے اس طرح کیا جائے البتہ برائے علاج ایسا کرنا مستثنٰی ہے۔ ممانعت اس وجہ سے ہے کہ یہ کافروں کا معمول ہے اور صورۃ اس کی قباحت کی وجہ سے۔ (ت)
 (۳؎ مجمع بحار الانوار     باب القاف مع الرای     مکتبہ دارالایمان مدینہ منورہ        ۴/ ۲۷۱)
اشعۃ اللمعات میں زیر حدیث صحیحین:
عن نافع عن ابن عمر قال سمعت النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نھی عن القزع قیل لنافع ما القزع قال یحلق بعض رأس الصبی ویترک البعض۔
بحوالہ حضرت نافع حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہم سے روایت ہے کہ انھوں نے فرمایا کہ میں نے حضور علیہ السلام نے سنا کہ آپ نے قزع سے منع فرمایا حضرت نافع سے پوچھا گیا کہ قزع کیا ہوتا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا قزع یہ ہے کہ بچہ کے سر کے کچھ بال مونڈدیئے جائیں اور کچھ رہنے دیئے جائیں۔ (ت)
تحریر فرمایا:
گفتہ اند قزع حلق راس است از مواضع متفرقہ آں واگر چہ ظاہر عبارت کہ در تفسیر وے واقع شدہ مطلق است ولیکن شراح ہمہ تصریح کردہ اند بایں قید ودر روایت فقہیہ نیز ہمچنیں آمدہ است ۱؎۔
کہتے ہیں کہ ''قزع'' سر کے بالوں کو مختلف مقامات سے مونڈ ڈالنا ہوتاہے اگر چہ بظاہر وہ عبارت جو تفسیر ''قزع'' میں واقع ہوئی ہے وہ مطلق ہے لیکن تمام شارحین نے اس قید کا صراحتا ذکر کیا ہے (قید یہ ہے کہ سر کے مختلف حصے مونڈ دیئے جائیں) اور فقہی روایات میں بھی یونہی آیا ہے۔ (ت)
 (۱؎ اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ کتاب اللباس باب الترجل     مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۳/ ۵۷۱)
شرح شمائل شریف میں ہے:
لم  یروتقصیر الشعر منہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الامرۃ واحدۃ ۲؎ الخ۔
حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے با ل کترنے صرف ایک ہی مرتبہ مروی ہیں ۔ (ت)
 (۲؎ جمع الوسائل فی شرح الشمائل     باب ماجاء فی شعررسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم     دارالمعرفۃ بیروت    ۱/ ۸۱)
عالمگیری میں ہے:
عن ابی حنیفہ رحمہ اﷲ تعالٰی یکرہ ان یحلق قفاہ الا عند الحجامۃکذا فی الینابیع ۱؎۔
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے مروی ہے کہ گدی کے بال مونڈنا مکروہ ہے مگر پچھنے لگوانے کی صور ت میں جائز ہیں۔ یونہی الینابیع میں مذکو رہے۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ         کتاب الکراہیۃ الباب التاسع عشر     نورانی کتب خانہ پشاور    ۵/ ۳۵۷)
عین العلم میں ہے:
یکرہ الزیادۃ فی العارضین بارسال الصدع المتجاوزۃ عن عظمھا ۲؎ اھ ملخصا واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم۔
رخساروں پر بالو ں کو بڑھانا کنپٹیوں کے بال چھوڑتے ہوئے جوان کی ہڈیوں سے متجاوز ہوں مکروہ ہے اھ ملخصا۔ اللہ تعالٰی خوب جانتا ہے اور اس بڑی شان والے کا علم سب سے زیادہ ہے۔ (ت)
(۲؎ عین العلم        الباب السابع             مطبع اسلامیہ لاہور    ص۱۳۵)
مسئلہ ۲۰۵ تا ۲۰۸: الحمدﷲ الذی انبت الشعر علی رؤسنا یزید فی الخلق مایشاء والصلوٰۃ والسلام علی بھجۃ نفوسنا واٰلہ وصحبہ الی یوم الخیراء ۔
سب تعریف اس خدا ئے بزرگ وبرتر کے لئے ہے جس نے ہمارے سروں پر بال اگائے اور وہ جو چاہے خلق میں اضافہ کرتاہے اور درود وسلام ہو اس محبوب ذات پر جو ہماری جانوں کی رونق ہے اور ان کی اولاد اور ساتھوں پر حسرتوں والے دن یعنی قیامت تک درود وسلام ہو۔ (ت)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ:

(۱) ریش ایک مشت سے زیادہ رکھنا سنت ہے یامکروہ؟

(۲) اور فخر عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ریش مبارک اپنی کو کبھی زیادہ ایک مشت سے ترشوایا ہے یانہیں؟

(۳) اور دیگر سوال یہ ہے کہ زید کہتاہے کہ سید الموجودات صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی ریش مبارک ایک مشت سے زیادہ کبھی نہ ہوئی یعنی پیدائشی آپ کی ایک ہی مشت تھی۔

(۴) اور حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی زیادہ ایک مشت سے تھی یا ایک ہی مشت؟ بینوا توجروا(بیان کروا اور اجر پاؤ۔ ت)
Flag Counter