داڑھی وحلق وقصر وختنہ وحجامت، داڑھی ، مونچھ، سروغیرہ کے بالوں ، ختنہ اور ناخن وغیرہ سے متعلق مسائل
مسئلہ۲۰۲: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ داڑھی کترانا اور منڈانا اور چڑھانا جائز ہے یانہیں؟ درصورت ثانی مرتکب کا یہ عذر کہ اگر داڑھی مطابق شرع اور باطن خراب اور برا ہو اس سے بہتر ہے کہ داڑھی خلاف شریعت اور باطن آراستہ ہو صحیح اوردافع الزام ہے یانہیں؟ اورا گر اس کے ساتھ داڑھی چھوڑنے اورنیچی رکھنے کی تحقیر کرے اور جو ایسا کرتے ہوں ان سے باستہزا پیش آئے اور انھیں تشبیہات وتمثیلات شنیعہ سے یاد کرے تو اس صورت میں کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا (بیان فرماؤ اور اجر پاؤ۔ ت)
الجواب
داڑھی حد مقرر شرع سے کم نہ کرانا واجب اور حضور سرور عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اور انبیاء علہیم الصلوٰۃ والسلام کی سنت دائمی اور اہل اسلام کے شعائر سے ہے اور اس کا خلاف ممنوع وحرام اور کفار کا شعار۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
عشر من الفطرۃ قص الشارب واعفاء اللحیۃ الحدیث ، رواہ مسلم ۱؎۔
یعنی دس چیزیں سنت قدیم انبیاء عظام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی ہیں ان سے مونچھیں کم کرانا اور داڑھی حد شرع تک چھوڑدینا(اس کو مسلم نے روایت کیا۔ ت)
(۱؎ صحیح مسلم کتاب الطہارۃ باب خصال الفطرۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۲۹)
شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اللہ تعالٰی شرح میں فرماتے ہیں:
حلق کردن لحیہ حرام ست وروش افرنج وہنود وجوالقیان کہ ایشاں راقلندریہ نیز گویند وگزاشتن آں بقدر قبضہ واجب ست وآں کہ آنرا سنت گویند بمعنی طریقہ مسلوک دردین ست یا بجہت آنکہ ثبوت آں بہ سنت ست چنانکہ نماز عیدرا سنت گفتہ اند ۲؎۔
داڑھی منڈانا حرام ہے، یہ افرنگیوں، ہندؤوں اور جوالقیوں کا طریقہ ہے جو قلندریہ بھی کہلاتے ہیں ۔ اور داڑھی بمقدار ایک مٹھی چھوڑنا واجب ہے اور داڑھی کے متعلق جو کہا جاتاہے کہ یہ سنت ہے تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ دین میں ایک جاری طریقہ ہے یا یہ وجہ ہے کہ اس کا ثبوت سنت کے ساتھ ہے جیسا کہ نماز عید کو سنت کہتے ہیں۔ (ت)
(۲؎ اشعۃ اللمعات کتاب الطہارۃ باب السواک الفصل الاول مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۲۱۲)
اور حضور (صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم) ارشاد فرماتے ہیں:
مشرکین سے مخالفت کرو داڑھیاں پوری اور مونچھیں کم کردو (اس کو بخاری اور مسلم نے اپنی اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔ ت)
(۳؎ صحیح البخاری کتاب اللباس قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۷۵)
(صحیح مسلم کتاب الطہارۃ باب خصال الفطرۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۲۹)
اور بعض احادیث میں وارد مونچھیں کم کراؤ اور داڑھیاں چھوڑدو اور مجوسی کی سی شکل نہ بناؤ، سنت سنیہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو ترک اور مشرکین ومجوس کی رسم اختیار کرنا مسلمان کامل کاکام نہیں، علاوہ بریں اس میں تغییر خلقت خدا بطریق ممنوع ہے اور وہ بنص قرآن اثرا ضلال شیطان اور بحکم حدیث رسالت پناہی موجب لعنت الٰہی ہے:
قال اﷲ عزاسمہ حاکیا عن ابلیس ولاضلنھم ولامنینھم ولاٰمرنھم فلیبتکن اذان الانعام ولامرنھم فلیغیرن خلق اﷲ ۱؎
وقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لعن اﷲ الواشمات والمتوشمات والمتنمصات والمتفلجات للحسن المغیرات خلق اﷲ متفق علیہ۔۲؎۔
اللہ تعالٰی معزز نام والے نے شیطان کی حکایت بیان کرتے ہوئے ارشا د فرمایا ہے : میں (یعنی شیطان) لوگوں کو ضرور گمراہ کروں گا اور انھیں امیدوں اور آرزوؤں کے سبزباغ دکھاؤں گا اور (بذریعہ وسوسہ اندازی) حکم دوں گا کہ جانوروں کے کان کاٹ ڈالیں اور انھیں کہوں گا کہ اللہ تعالٰی کی خلقت (یعنی بناوٹ) میں تبدیلی کریں۔ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالٰی خال گودنے والی اور گدوانے والی عورتوں پرلعنت کرے، بال اکھاڑنے والی عورتوں پر خوبصورتی کے لئے دانتوں میں (مصنوعی) فاصلہ بنانے والیوں پر اور بناوٹ خداوندی میں ردوبدل کرنے والی عورتوں پر لعنت ہو۔ اس کو بخاری ومسلم نے روایت کیا ہے۔ (ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۴/ ۱۱۹)
(۲؎ صحیح البخاری کتا ب اللباس قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۷۹)
(صحیح مسلم کتا ب اللباس قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۰۵)
اسی طرح داڑھی غیر جہاد میں چڑھانا ناجائز وممنوع۔ ایسے شخصوں کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: لوگوں کو خبر دے دو کہ محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ان سے بیزارہیں رواہ الترمذی اورپر ظاہر کہ داڑھی کتروانا یامنڈانا چڑھانے سے سخت تر ہے کہ اس میں فقط تغییر صفت سنت ہے اور ان میں تغییر یا اعدام اصل معہذا اگر تو بہ نصیب ہو تو یہ سریع الزوال اور ان کا ازالہ نہ ہوگا مگر بعد ایک زمانہ کے جب چڑھانے کی نسبت ایسی وعید شدید وارد اور حضور اس کے مرتکب سے اپنی بیزاری ظاہر فرمائیں تو کترنے اور منڈانے سے کس قدر ناراض وبیزار ہوں گے اور العیاذ باللہ اس حبیب مرتجٰی ورسول مجتبٰی صلی اللہ تعالٰی وسلم کی ناراضی پر دنیا وآخرت میں جو ثمرات بد مرتب ہیں دل مومن ان سے خوب واقف ہے باقی عذر مذکور فی السوال وہ ہر گز قابل اعتبار نہیں بلکہ قائل کی سفاہت وضلالت پر دال ہے اس میں شک نہیں کہ اصلاح باطن آرائش ظاہر سے اہم ترمگر اس کے ساتھ افساد ظاہر وارتکاب محرمات و ممنوعات کی کس نے اجازت دی کیا تعمیل حکم شرع واتباع سنت شارع کہ داڑھی بڑھانے اور نیچی رکھنے میں پائی جاتی ہے آراستگی باطن میں کچھ خلل انداز ہے بلکہ وہ اپنے اس دعوے ہی میں جھوٹا ہے کہ باطن میرا آراستہ ہے اگر چہ داڑھی خلاف شرع ہو کہ اگر فی الواقع باطن اس کا زیور اصلاح سے مزین اور بحکم خدا ورسول منقاد ہوتا تو اتباع سنت چھوڑ کر شعار کفر وشرک وبدعت کی پیروی پسند نہ کرتا اور حکم شرع سن کر سر جھکاتا اپنے فعل شنیع پر مصر نہ ہوتا اور ایسے بیہودہ عذروں کو سپرنہ بناتا استغفراللہ ایسے اعذار باردہ موجب تحلیل
محرمات نہیں ہوسکتے نہ ان سے وبال میں کچھ کمی ہو بلکہ موجب زیادت نکال ہیں کہ جب ارتکاب ممنوع کے ساتھ ندامت واعتراف بجرم لاحق ہو تو وہ باعث تخفیف عذاب اور عزم مع الترک موجب محو گناہ ہوجاتی ہے اور جب حکم شرع کے سامنے گردن نہ جھکائیں بلکہ باصرار پیش آئیں اور ایسے جھوٹے بہانوں کا دامن پکڑیں تو شامت اس کی ایک سے ہزار ہوجاتی ہے اور اگر داڑھی چھوڑنے یانیچی رکھنے کی تحقیر اور ان لوگوں سے کہ ایسا کرتے ہیں استہزاء اور انھیں تشبہیات وتمثیلا ت قبیحہ سے یاد کرے گا تو قطعا کا فرہے کہ یہ سنن سے ہے اور اس کی سنیت قطعی الثبوت، ایسی سنت کی توہین وتحقیر اور اس کے اتباع پر استہزاء بالاجماع کفر
کما ھومصرح فی الکتب الفقہیۃ والکلامیۃ
(جیسا کہ فقہ اور علم کلام کی کتابوں میں صراحۃً یہ مذکور ہے۔ ت) عورت اس کی نکاح سے نکل جائے گی اور بعد اس کے جو بچے ہوں گے اولاد حرام ہوں گے اہل اسلام کو اس سے معاملہ کفار برتنا لازم۔ بعد مرگ اس کے جنازہ کی نماز نہ پڑھیں اور مقابرمسلمین میں دفن نہ کریں بلکہ جہاں تک ممکن اس جنازہ ناپاک کی تذلیل کریں کہ اس نے ایسے عزت والے پیغمبر افضل المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی سنت کو ذلیل سمجھا
العیاذ باللہ، واﷲ نسئل حسن الخواتیم والعلم بالحق عند ربی ان ربی خبیر علیم
(اللہ تعالٰی کی پناہ۔ ہم اللہ تعالٰی سے خاتمہ بالخیر کا سوال کرتے ہیں اور حق کا علم میرے پروردگار ہی کے پاس ہے۔ بلاشبہہ میرا پروردگار (ہر چیز سے) پوری طرح خبردار اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ ت)
مسئلہ ۲۰۳: مسئولہ محمد حسین شاگرد رشید احمد گنگوہی ۲۵ شوال ۱۳۰۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بدھ کے دن ناخن کتروانا چاہئے یا نہیں؟ اگر نہ چاہئے تو اس کی وجہ کیا ہے؟ بینوا توجروا (بیان فرماؤ اور اجر پاؤ۔ ت)
الجواب
نہ چاہئے، حدیث میں اس سے نہی آئی کہ معاذاللہ مورث برص ہوتاہے۔ بعض علماء رحمہم اللہ تعالٰی نے بدھ کو ناخن کتروائے، کسی نے بربنائے حدیث منع کیا، فرمایا صحیح نہ ہوئی، فورا برص ہوگئی، شب کو زیارت جمال بے مثال حضور پر نور محبوب ذی الجلال صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے مشرف ہوئے شافی کافی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے حضور اپنے حال کی شکایت عرض کی، حضور والا صلی اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم نے نہ سنا تھا کہ ہم نے اس سے نہی فرمائی ہے۔ عرض کی حدیث میرے نزدیک صحت کو نہ پہنچی، ارشادہوا تمھیں اتنا کافی تھا کہ یہ حدیث ہمارے نام پاک سے تمھارے کان تک پہنچی، یہ فرماکر حضور مبری
''الاکمہ والابرص ومحی الموتی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم
( حضور اندھوں کوڑھیوں اور مردوں کو صحت وحیات بخشے والی ہستی پر اللہ تعالٰی کی رحمت اور سلام ہو۔ت) نے اپنا دست اقدس کہ پناہ دوجہاں ودستگیر بیکساں ہے ان کے بدن پر لگایا فورا اچھے ہوگئے اور اسی وقت سے تو بہ کی کہ اب کبھی حدیث سن کر ایسی مخالفت نہ کروں گا،
علامہ شہاب الدین خفاجی مصری حنفی رحمہ اللہ تعالٰی علیہ نسیم الریاض شرح شفائے قاضی عیاض میں فرماتے ہیں:
قص الاظفار وتقلیمھا سنۃ ورد النھی عنہ فی یوم الاربعاء وانہ یورث البرص و حکی عن بعض العلماء انہ فعلہ فنھی عنہ فقال لم یثبت ھذا فلحقہ البرص من ساعتہ فرای النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی منامہ فشکی الیہ مااصابہ فقال لہ الم تسمع نھی عنہ فقال لم یصح عندی فقال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یکفیک انہ سمع ثم مسح بیدہ الشریفۃ فذھب مابہ فتاب عن مخالفۃ ماسمع ۱؎ اھ۔
ناخن کاٹنے سنت ہیں لیکن بدھ کے دن ایساکرنے سے حدیث میں ممانعت وارد ہوئی کیونکہ اس سے مرض برص (جسم پر سفید داغ پیداہوتا ہے۔ بعض اہل علم کی حکایت ہے کہ انھوں نے بدھ کے روز ناخن کٹوائے انھیں اس سے منع کیا گیا لیکن انھوں نے فرمایا یہ حدیث ثابت نہیں ، انھیں فورا مرض برص لاحق ہوگیا پھر انھیں خواب میں حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی زیارت ہوئی اور انھوں نے آپ سے مرض برص کی شکایت کی آپ نے ان سے فرمایا کیا تم نے بدھ کے روز ناخن کٹوانے کی ممانعت نہیں سنی تھی؟ انھوں نے جواباً عرض کیا کہ ہمارے نزدیک وہ حدیث پایہ صحت کو نہیں پہنچی تھی۔ اس پر حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تمھارے لئے اتنا ہی کافی ہونا چاہئے تھا کہ حدیث سن لی تھی۔ ازاں بعد آپ نے اپنا دست اقدس ان کے جسم پر پھیرا تو فورا مرض زائل ہوگیا۔ اس کے بعد عالم موصوف نے اسی وقت سماع کردہ حدیث کی مخالفت سے توبہ کی اھ (ت)
(۱؎ نسیم الریاض شرح الشفاء للقاضی عیاض فصل وامانظافۃ جسمہ دارالفکر بیروت ۱/ ۳۴۴)
یہ بعض علماء امام علامہ ابن الحاج مکی مالکی قدس سرہ العزیز تھے علامہ طحطاوی حاشیہ درمختار میں فرماتے ہیں:
ورد فی بعض الاثار النھی عن قص الاظفار یوم الاربعاء فانہ یورث البرص وعن ابن الحاج صاحب المدخل انہ ھم بقص اظفارہ یوم الاربعاء فتذکر ذٰلک فترک ثم رای ان قص الاظفار سنۃ حاضرۃ ولم یصح عندہ النھی فقصھا فلحقہ ای اصابہ البرص فرای النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی النوم فقال الم تسمع نھی عن ذلک فقال یا رسول اللہ لم یصح عندی ذلک فقال یکفیک ان تسمع ثم مسح صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم علی بدنہ فزال البرص جمیعا قال ابن الحاج رحمہ اﷲ تعالٰی فجددت مع اﷲ توبۃ الی لا اخالف ماسمعت عن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ابدا ۱؎۔ واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم بالصواب فقط۔
بدھ کے روز ناخن کترنے سے بعض آثار میں نہی وارد ہوئی ہے کیونکہ یہ عمل باعث مرض برص ہے ابن الحاج صاحب مدخل سے مروی ہے کہ انھوں نے بدھ کے دن اسی نہی کے پیش نظر ناخن نہ کاٹے پھر خیال آیا کہ ناخن کاٹنے کا عمل توسنت ہے اور نہی والی روایت صحیح نہیں چنانچہ اسی خیال کے ساتھ ناخن کاٹ ڈالے اور انھیں مرض برص لاحق ہوگیا پھرخواب میں آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی، آپ نے فرمایا کیا تم نے ممانعت نہیں سنی تھی؟ انھوں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم! میرے نزدیک یہ حدیث صحیح نہ تھی۔ آپ نے ارشاد فرمایا تمھارے لئے میرے نام کی نسبت سے سننا ہی کافی تھا (یعنی کافی ہونا چاہئے تھا) پھر آپ نے ان کے جسم پر ہاتھ پھیرا تو مرض برص سے شفا ہوگئی اور مرض مکمل طو رپر زائل ہوگیا۔ ابن الحاج رحمہ اللہ تعالٰی فرماتے ہیں پھر میں نے اللہ تعالٰی کے حضور نئے سرے سے توبہ کی کہ اب میں حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی نسبت اور حوالے سے جو کچھ بھی سنوں گا اس کی مخالفت کبھی نہیں کروں گا۔ اللہ تعالٰی پاک وبلند وبالا ہے اور راہ صواب کو خوب جانتاہے۔ فقط۔ (ت)
(۱؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع دارالمعرفۃ بیروت ۴/ ۲۰۲)