مسئلہ ۱۹۵ : از امؤپور میواڑ راجپوتانہ مہارانا اسکول مرسلہ مولوی وزیر احمد صاحب مدرس ۱۲ رمضان ۱۳۳۸ھ
دس آدمی جاہل بیٹھے ہوئے ہوں اور عالم مولوی ان کے پاس آئے تو وہ سلام کریں یا یہ انھیں ، پہلے کون کرے؟
الجواب
آنے والے کو پہلے سلام کرنا چاہئے، او رانکا جاہل ہونا ابتداء السلام کے مانع نہیں جبکہ فاسق نہ ہوں۔ واللہ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۹۶: از دہلی مدرسہ نعمانیہ محلہ بلی ماراں مرسلہ مولوی عبدالرشید صاحب مہتمم ۵ ذی الحجہ ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین والدین واستادوعلماء کے ہاتھ پاؤں چومنا زید حرام کہتاہے۔
جواب : از مولوی عماد الدین صاحب سنھبلی مدرس اول مدرسہ نعمانیہ
بالاتفاق جائز ودرست ہے منصف کے لئے اس قدر کافی ہے معاند منکر کا علاج نہیں۔
قاضی خان، عالمگیری، عینی شرح ہدایہ، درمختار، ردالمحتار ، ابن ماجہ، مشکوٰۃ شریف، بوداؤد، اشعۃ اللمعات سے اس کا جواز بلکہ امر ممدوح ہونا ثابت ہوگیا۔ لہذا بدتر ازبول زید پر کید کا قول باطل ہوا کہ وہ اپنے گھر سے نئی شریعت گھڑتا ہے الخ
ت
کسی بزرگ مثلا والد یا پیر یا عالم کے ہاتھ پاؤں چومنا فی حد ذاتہ مباح ہے اور اس کی اباحت احادیث و روایات فقہیہ سے ثابت ہے جیسا کہ جوابات مذکورہ بالا میں علماء کرام نے مفصل ومدلل بیان فرمادیا ہے البتہ ذرا یہ بات بھی قابل لحاظ ہے کہ بہت سے عوام بحیلہ پابوسی پیروں کو سجدہ کرنے لگتے ہیں اور سجدے کی تاویل میں پابوسی کے جواز کو حیلہ بنالیتے ہیں تو اگر کسی ایسی خاص صورت میں کوئی عالم کسی خاص شخص کو پابوسی سے منع کردے تو درحقیقت وہ ممانعت پابوسی کی نہیں بلکہ سجدے کی ہوگی اور صحیح ہوگی اور عوام سے اس بارے میں اس قدر غلو کرلینا مستبعد نہیں۔ واللہ تعالٰی اعلم، محمد کفایت اللہ مدرس مدرسہ امینیہ دہلی
الجواب (تحریردارالافتاء)
مولٰنا مولوی عمادالدین صاحب سلمہ کا جواب بہت صحیح ہے، والدین کے ہاتھ پاؤں چومنا جائز ہے۔ اور علماء وصلحاء ورثہ سید الانبیاء علیہ وعلیہم الصلٰوۃ والثناء کی دست بوسی وقدمبوسی سنت مستحبہ ہے۔
کما فصلناہ فی فتاوٰنا بما لامزید علیہ واکثرنا من الاحادیث الناصبۃ بہ والداعیۃ الیہ وفی ماذکر المجیب کفایۃ واﷲ ولی الہدایۃ،
جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوٰی میں اس مسئلے کو تفصیل کے ساتھ بیان کردیا کہ جس پر اضافہ نہیں ہوسکتا اور اس بارے میں ہم بکثرت ایسی حدیثیں لائے جواس مسئلہ پر قائم اور باعث تھیں۔ اور جو کچھ فاضل مجیب نے (سوال مذکور کے) جواب میں ذکر فرمایا وہ راہنمائی کے لئے کافی ہے۔ اور اللہ تعالٰی ہی ہدایت دینے کا مالک اور ذمہ دار ہے۔ (ت)
اور اس میں انکار کی شق وہی نکالتے ہیں جو تعظیم محبوبات ومقبولان خدا سے منکر ہیں قدمبوسی کو سجدہ سے کیا تعلق۔ قدم بوسی سربرپانہادن (پاؤں سر پر رکھنا ۔ ت) اور سجدہ پیشانی بر زمین نہادن (پیشانی زمین پر رکھنا۔ ت) ہے، مسلمان پر بدگمانی حرام ہے۔
قال اﷲ تعالٰی یایھا الذین اٰمنوا اجتنبوا کثیرا من الظن ان بعض الظن اثم ۱؎۔
وقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم : یاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث ۲؎۔
(اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا: اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچتے رہواس لئے کہ بعض گمان گناہ ہیں۔ اور رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: بدگمانی سے بچو کہ بدگمانی سب سے بڑھ کر جھوٹی بات ہے(ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۴۹/ ۱۲)
(۲؎صحیح البخاری کتاب الوصایا باب قول اللہ عزوجل من بعد وصیۃ یوسی بہا اودین قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۸۴)
وقال سیدی زروق رضی اﷲ تعالٰی عنہ الظن الخبیث انماینشؤ من القلب الخبیث ۳؎۔
(سیدی زروق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا) گمان خبیث خبیث ہی دل میں پیدا ہوتاہے۔
والعیاذ باللہ تعالٰی
(اور اللہ تعالٰی کی پناہ۔ ت)
(۳؎ فیض القدیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث ۲۹۰۱ دارالمعرفۃ بیروت ۳/ ۱۲۲)
ہاں اگر کوئی سجدہ کرے تو اسے منع کرنا فرض ہے یہ دوسری بات ہے قدمبوسی کو سجدہ سمجھ کر منع کرنا وہی گمان خبیث ہے اور براہ توارضع اگر دست بوسی کو بھی منع کرے تو وہ اس سے منع نہیں بلکہ اپنے آپ کو اس قابل نہ سمجھنا ہے،
اعمال کا دارومدار انسانی ارادو ں پر ہے اور ہر آدمی کے لئے وہی کچھ ہے جس کا اس نے ارادہ کیا ہے واللہ تعالٰی اعلم (ت)
(۱؎ الصحیح البخاری باب کیف کان بدء الوحی الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲)
مسئلہ ۱۹۷ : از بذلہ بارٹہ ڈاکخانہ خاص تحصیل وضلع ہوشیار پور محمد عطاء الٰہی
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین دریں مسئلہ کہ عمر نے اپنے شیخ طریقت کا دست بوسی وپابوسی سے استقبال کیا ۔ زید نے جو کہ اپنے آپ کو ایک عالم شخص تصور کرتاہے فی البدیہہ کہاکہ عمر اس فعل کے ارتکاب سے مشرک ہوگیا اور اس کا نکاح بھی باطل ہوگیا شریعت عزا کا اس مسئلہ میں کیا فیصلہ ہے۔ اگر زید کا عمر کو مشرک کہنا جائز نہیں تو زید کس عتاب کا مرتکب ہے؟
الجواب
علمائے دین ومشائخ صالحین کی دست بوسی وقدمبوسی سنت ہے
کما حققناہ فی فتاوٰنا
(جیسا کہ ہم نے اپنے فتوٰی میں اس کی تحقیق کی ہے۔ ت) زید نے کہ اس بناء پر بلاوجہ مسلمان کو کافر اور اس کے نکاح کوساقط بتایا وہ بحکم احادیث فقہ خود اس حکم کا قابل ہے از سر نور کلمہ اسلام پڑھے اور اس کے بعد اپنی عورت سے نکاح جدید کرے بشرطیکہ وہابی نہ ہوا اور جو وہابی ہے وہ خود مرتد ہے نہ وہ توبہ کرے نہ اس کی توبہ ہے۔
قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یمرقون من الدین کما یمرق السھم من الرمیۃ ثم لا یعودون ۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
حضور اکرم صلی تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر کمان سے نکل جاتاہے پھر وہ دین کی طرف نہ لوٹیں گے۔ اور اللہ تعالٰی سب سے بڑا عالم ہے۔ (ت)
(۲؎ المستدرک للحاکم کتاب قتال اھل البغی باب صفات الخوارج الخ دارالفکر بیروت ۲/ ۱۴۷)
مسئلہ ۱۹۸ : از پنڈول بزرگ ڈاکخانہ رائے پور ضلع مظفرپور مسئولہ نعمت شاہ خاکی بوڑاہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ سید کے لڑکے سے جب شاگر ہو یا ملازم ہو دینی یا دنیاوی خدمت لینا اور اس کو مارنا جائز ہے یانہیں؟
الجواب
ذلیل خدمت اس سے لینا جائز نہیں۔ نہ ایسی خدمت پر اسے ملازم رکھنا جائز۔ اور جس خدمت میں ذلت نہیں اس پر ملازم رکھ سکتاہے۔ بحال شاگرد بھی جہاں تک عرف اورمعروف ہو شرعا جائز ہے لے سکتا ہے اور اسے مارنے سے مطلق احتراز کرے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۹ : از پنڈول بزرگ ڈاکخانہ رائے پور ضلع مظفر پور مسئولہ نعمت شاہ خاکی بوڑاہ
کوئی لڑکا ایسا ہے کہ ماں اس کی شیخ ہے اوربا پ سید اور وہ لڑکا خدمت کرنے کے لئے اپنے کو چھپاکے شیخ کہتا ہے کہ استاد یا آقا کی خدمت کریں اور اُش کھائیں ہرچند منع کیا جاتاہے لیکن وہ نہیں مانتا ایسی حالت میں کیا کیا جائے اس سے خدمت لی جائے اوراس کوجھوٹا دیا جائے یانہیں؟
الجواب
جب معلوم ہے کہ وہ سید کا بیٹا ہے اگر چہ ماں شیخ یا کوئی قوم ہے تو اس کا جواب مسئلہ ماقبل میں گزرا اس کا انکار کچھ معتبر نہیں۔ باقی رہا مسلمان کا جھوٹا وہ کھانا کوئی ذلت نہیں۔ حدیث میں اسے شفا فرمایا وہ مانگے تو اسے اسی نیت سے دیا جائے نہ کہ بہ نیت اوش۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۰ : از شہر بالجتی کنواں ۲۵ محرم ۱۳۲۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین وفضلائے شرع متین جو شخص السلام علیکم کے جواب میں سلامت یا سلاملیکم یا سلامالکم یا ولیکم کہے اور اس کو السلام علیکم وعلیکم السلام بتایاجائے لیکن وہ غلط کو صحیح جانے یا صحیح کی صحت میں سعی نہ کرے تو اس کو السلام علیک کرنا یا جواب دینا چاہئے یانہ چاہئے؟
الجواب
سنی مسلمان غیر فاسق معلن کو ابتداء سلام کرے، وہ اگر جواب خلاف سنت دے سمجھائے، ورنہ اس پر الزام نہیں۔ نہ اس کے سبب سنت سلام ترک کی جائے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۱ : مولوی عبداللہ صاحب بہادری مدرس مدرسہ منظر الاسلام محلہ سوداگران بریلی ۹ صفر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ وجو، وظیفہ، تلاوت قرآن مجید میں کوئی شخص سلام علیک کرے اس کا جواب دے یا نہیں؟ بینوا توجروا۔
الجواب : وضو میں جواب دے۔ اور وظیفہ وتلاوت میںجواب نہ دینے کا اختیار رکھتاہے۔ کہ اس حال میں اس پر سلام مکروہ ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔