Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۲(کتاب الحظر والاباحۃ)
113 - 146
دوسری تفسیر کہ حسن بصری سے مرسلا ہے
وقد قال المحدثون ان مراسیل الحسن عندھم شبہ الریح
 (جبکہ محدثین حضرات نے ارشاد فرمایا حضرت حسن کی مرسل حدیثیں ان کے نزدیک ہوا کے مشابہ ہیں یعنی درجہ اعتبار سے ساقط  ہیں۔ ت)ایک شخص نے عرض کی ہم حضور کو ایسے ہی سلام کرتے ہیں جیسے آپس میں ایک دوسرے کو کیا ہم حضور کو سجدہ نہ کریں۔ اس پر انکار فرمایا اور یہ آیت ۳؎ اتری۔
 (۳؎الدرلمنثور         بحوالہ عبد بن حمید عن الحسن         مکتبہ آیۃ اللہ الاعظمی قم ایران    ۲/ ۴۶ و ۴۷)
تفسیر اول کہ ہر طرح اصح واقوی ہے اس پر تو مطلع صاف ہے یہودی ونصرانی نے عبادت ہی کو پوچھا تھا جس پر یہ جواب ارشاد ہوا اور اسی تفسیر پر رب عزوجل کا روئے سخن اپنے مسلمان بندوں کی طرف رکھنا خبیث سائلوں کی تفسیر اور ان کے حال کی تقبیح ہے کہ یہ حمیر قابل جواب نہیں ، اے میرے مسلمان بندو! تم خیال کرو کہ یہ اگر ایسا چاہتے تو تم سے فرماتے کہ تم اپنے غلامان فرمانبردار، پھر کیا ایسا ہوسکتا تھا کہ تمھیں اسلام کے بعدکفر کاحکم دیتے، معاذاللہ، اور یہیں سے ظاہر ہوگیا کہ بوجہ خطاب یہ گمان کہ سائل مسلمان تھے جیسا کہ اس معتزلی کی کشاف میں گزرا اور بعض بعد والوں نے اتباع کیا باطل ہے۔ اور اس کی تفسیر صحیح کے خلاف جو سلطان المفسرین صحابی وابن عم رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمائی، دوم مرسل موقطوع اگر ثابت ہوجائے تو اس میں رجلا ہے یعنی ایک شخص نے عرض کی، ضرر یہ کوئی اعرابی بادیہ نشیں کفر کا حکم دیں گے اور ایسے بعض اشخاص سے ایسے سوال کا اصدور مستبعد نہیں بلکہ ہو نا ہی چاہئے تھا۔ رب عزوجل فرماتاہے :
لترکبن طبقا عن طبق ۱؎
 (ضرور تم زینہ بہ زینہ (بتدریج) چڑھتے جاؤ گے۔ ت) سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اگلوں میں کوئی ایسا ہو گزرا ہو جس نے علانیہ اپنی ماں کے ساتھ زنا کیا ہو تو ضرور تم میں بھی کوئی ایسا ہوگا ۲؎
لترکبن طبقا عن طبق
سیدنا موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام سے ان کے متعدد اصحاب نے سوال کیا
یموسٰی اجعل لنا الھاکما لھم الھۃ ۳؎
 (اے موسٰی! ہمیں بھی ایک خدا بنادے جیسے ان کے بہت سے خداہیں فرمایا
بل انتم قوم تجھلون ۴؎
بلکہ تم نرے جاہل ہو۔ تویہاں بھی اگر کسی بادیہ نشین نومسلم جاہل ناواقف نے اپنی نادانی سے ایسی درخواست کی کیا بعید ہے اور اسی قرب عہد کے سبب ہدایت فرمادی گئی تکفیر نہ ہوئی جیسے موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نے تجھلون (تم نرے نادان لوگ ہو۔ ت) فرمایا نہ کہ تکفرون (تم کفر کررہے ہو۔ ت)
 (۱؎القرآن الکریم   ۸۴/ ۱۹)	۲؎ 	(۳؎ القرآن الکریم     ۷/ ۱۳۸)	(۴؎القرآن الکریم     ۷/ ۱۳۸ )
جس طرح ایک جوان حاضر خدمت اقدس ہوا اورآکر بے دھڑک عرض کی یا رسول اللہ! میرے لئے زنا حلال کردیجئے۔ نبی سے براہ راست یہ درخواست کس حد کس حد تک پہنچتی ہے صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم نے اس کو قتل کرنا چاہا حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے منع فرمایا اور اسے قریب بلایا یہاں تک کہ اس کے زانو زانوئے اقدس سے مل گئے پھر فرمایا: کیا تو پسند کرتا ہے کہ کوئی شخص تیری ماں سے زنا کرے؟ عرض کی: نہ۔ فرمایا: تیری بہن سے؟ عرض کی: نہ فرمایا: تیر بیٹی سے؟ عرض کی، نہ۔ فرمایا : تیری پھوپی سے؟ عرض کی: نہ۔ فرمایا: تیری خالہ سے؟ عرض کی: نہ۔ فرمایا: تو جس سے زنا کرے گا وہ بھی تو کسی کی ماں بہن بیٹی پھوپھی خالہ ہوگی، جب اپنے لئے پسند نہیں کرتا اوروں کے لئے کیوں پسند کرتاہے۔ پھر دست اقدس اس کے سینہ پر ملا اور دعا کی: الٰہی! اس کے دل سے زنا کی محبت نکال دے۔ وہ صاحب فرماتے ہیں اس وقت سے زنا سے زیادہ کوئی چیز مجھے دشمن نہ تھی۔ پھر صحابہ کرام سے ارشاد فرمایا کہ اس وقت اگر تم اسے قتل کردیتے تو جہنم میں جاتا میری تمھاری مثل ایسی ہے جیسے کسی کا ناقہ بھاگ گیا لوگ اسے پکڑنے کو اسے کے پیچھے دوڑتے ہیں وہ بھڑکتا اور زیادہ  بھاگتا ہے اس کے مالک نے کہا تم رہنے دو تمھیں اس کی ترکیب نہیں آتی پھر گھاس کا ایک مٹھا ہاتھ میں لیا اور اسے دکھایا اور چمکارتا ہوا اس کے پاس گیا یہاں تک کہ بٹھا کر اس پر سوا ر ہوگیا۔
اوکما قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم
 (یا جیسا کہ حضوراکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۹ : از قادر گنج ضلع بیربھوم ملک بنگالہ مرسلہ سید ظہور الحسینی قادری رزاقی ۲۲ جمادی الاولٰی ۱۳۳۶ھ

کسی شیئ متبرک کو تعظیما چومنے یا تعظیما اپنے پیروومرشد اور استاد والدین اور پیر زادہ اور سادات کرام اور علمائے عظام کے ہاتھ اور پاؤں چومنے اور ان لوگوں کو دیکھ کر تعظیما اٹھنے سے کفر وشرکت لازم آتاہے یا یہ امر جائز ومستحسن ہے اور احادیث شریفہ وفقہ سے ثابت ہے یانہیں یایہ کہ لوگوں نے ان کو بدعۃ مثل اور بدرسموں کے ایجاد کیاہے؟
الجواب

اشیاء معظمہ کو تعظیما بوسہ دینا جائز ہے جبکہ کسی حرج شرعی پرمشتمل نہ ہو۔
وقد ثبت عن ابی ایوب الانصاری کما فی مسند الامام احمد وعن عبداﷲ بن عمر کما فی الشفاء للامام قاضی عیاض رضی اﷲ تعالٰی عنہم۔
چنانچہ حضرت ابوایوب انصاری سے یہ ثابت ہے جیسا کہ مسند امام احمد میں مذکور ہے اور حضرت عبداللہ بن عمر سے مروی ہے جیسا کہ ''الشفائ'' قاضی عیاض میں موجود ہے۔ اللہ تعالٰی ان سب سے راضی ہو۔ (ت)

اور معظمان دینی کے ہاتھ پاؤں چومنا بھی احادیث کثیرہ سے ثابت ہے یونہی انھیں دیکھ کر قیام مگر ہاتھ باندھے

کھڑے رہنا نہ چاہئے اوراگر کوئی معظم اس کی خواہش کرے اس کی یہ خواہش حرام ہے۔
حدیث میں ہے :
من سرہ ان یتمثل لہ الرجال قیاما فلیتبوأ مقعدہ من النار ۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
جو کوئی اس بات سے خوش اورع مسرور ہو کہ لوگ اس کے لئے کھڑے رہیں تو اس کو اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنالینا چاہئے ۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۱؎ جامع الترمذی     ابواب الادب باب ماجاء فی کراھیۃ قیام الرجل للرجل      امین کمپنی دہلی   ۲/ ۱۰۰)
مسئلہ ۱۹۰ :  از ڈاکخانہ راموچکماء کول ضلع چٹگانگ مدرسہ عزیزیہ مرسلہ مفیض الرحمن صاحب ۹ جمادی الاولٰی ۱۳۳۶ھ

قرآن مجید کو بعد تلاوت ماتھے پر رکھنا بہ نیت تعظیم کیساہے؟
الجواب :  مصحف شریف کو تعظیما سراور آنکھوں اور سینے سے لگانا اور بوسہ دینا جائز ومستحب ہے کہ وہ اعظم شعائر سے ہے اور تعظیم شعائر تقوٰی القلوب سے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۱: از کوٹلی لوہاران مغربی ضلع سیالکوٹ مرسلہ ابوالیاس محمد امام الدین

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عورتوں کے ساتھ السلام علیکم کا کیا حکم ہے کہنا چاہئے یا نہ؟ اگر کہنا چاہئے تو بوڑھی جوان کا فرق ہے یانہیں؟ اور اپنے بیگانے کی تمیز ہوگی یانہیں؟ اور عورتیں آپس میں کن الفاظ سے سلام کیا کریں اور مرد عورتوں سے کن الفاظ سے کہا کریں؟
الجواب :  محارم وازواج پر سلام مطلقا ہے اور اجنبیات میں جوانوں کو سلام نہ کیا جائے بوڑھیوں کو کیا جائے بلکہ جوانیں اگر سلام نہ کریں تو جواب دل میں دیا جائے انھیں نہ سنائے حالانکہ جواب دینا واجب ہے اور لفظ سلام کا مرد وعورت کا باہم اور ایک دوسرے کے ساتھ مطلقا السلام علیکم ہے اور سلام بھی کافی۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۲ :  از رام پور        مسئولہ محمد سعید

بعد نماز فجر اورعصر مصلحین باہم مصافحہ بالخصوص اور ضروری جان کر کرنا عندالحنفیہ سنت ہے یا مستحب یا مکروہ؟
الجواب :  فجروعصر کے بعد مصافحہ جائز ہے۔ اصل میں سنت ہے اور تخصیص مباح،
کما ذکرہ الشاہ ولی اﷲ الدھلوی فی شرح المؤطا والامام النووی فی الاذکار وغیرھما
(جیسا کہ حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی نے شرح مؤطا میں اور امام نووی نے اذکار میں اور ان دوکے علاوہ باقیوں نے اپنی اپنی کتابوں میں بیان فرمایا ہے۔ ت) اور ضروری عرفی جاننے میں حرج نہیں اور ضروری شرعی خود نفس مصافحہ بھی نہیں حالانکہ سنت ہے نہ اسے کوئی غرض وہ واجب شرعی کہتاہے ،
نسیم الریاض میں ہے :
الاصح انھا بدعۃ مباحۃ ۱؎۔
زیادہ صحیح یہ ہے کہ مصافحہ کرنا ایک جائز بدعت ہے۔ (ت)

تمام تفصیل ہمارے رسالہ وشاح الجید (ف) میں ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
 (۱؎ نسیم الریاض     شرح الشفاء للقاضی عیاض     الباب الثانی         دارلکتب العلمیہ بیروت    ۲/ ۱۳)
ف: رسالہ وشاح الجید فی تحلیل معانقۃ العید فتاوٰی رضویہ جلد ہشتم مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور میں مرقوم ہے۔
مسئلہ ۱۹۳:از شہر بریلی مدرسہ منظر الاسلام مسئولہ مولوی رمضان علی صاحب بنگالی ۱۵صفر ۱۳۳۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کچھ لوگ ایک مسجد میں سنتیں پڑھ رہے ہیں کچھ لوگ تسبیح وتہلیل کررہے ہیں اور کچھ تلاوت کلام اللہ شریف کررہے ہیں اور کچھ لوگ یونہی بیٹھے ہوئے ہیں تو ایسی حالت میں انھیں سلام کرناجائز ہے یانہیں؟
الجواب :  اگر کچھ لو گ خالی بیٹھے ہوں ان کو سلام کرسکتا ہے اور جو لوگ نماز یا تلاوت یا ذکر میں ہیں ان کو سلام کرنا مکروہ ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۴: ازنصیر آباد ضلع اجمیر شریف میں محلہ دودہان مرسلہ جناب شیخ محمد عمر صاحب ۲۱ رجب المرجب ۱۳۳۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید اپنے پیر کو سجدہ تعظیمی کیا کرتا ہے اور جب اس کو منع کیا جاتاہے کہ تعظیمی سجدہ سوائے خدا کے کسی کو درست نہیں خواہ پیغمبر ہو یا پیر، تو زید مذکور پیر کو سجدہ تعظیمی کرنے کی نفی میں قرآن مجید واحادیث نبوی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے ثبوت طلب کرتا ہے لہذا دریافت طلب امر یہ ہے کہ آیا یہ تعظیمی سجدہ جو اپنے پیر یا استاد کوکیا جاتاہے ازروئے شرع شریف جائز ہے یا حرام ؟ اور پیر کو تعظیمی سجدہ کرنے والا مومن ہے یا مشرک۔ فقط ۔ بینوا توجروا۔
الجواب : غیر خدا کو سجدہ عبادت شرک ہے سجدہ تعظیمی شرک نہیں مگر حرام ہے گناہ کبیرہ ہے متواتر حدیثیں اور متواتر نصوص فقہیہ سے اس کی حرمت ثابت ہے۔ ہم نے اپنے فتاوٰی میں اس کی تحریم پر چالیس حدیثیں روایت کیں اور نصوص فقہیہ کی گنتی نہیں، فتاوٰی عزیزیہ میں ہے کہ اس کی حرمت پر اجماع امت ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter