Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۲(کتاب الحظر والاباحۃ)
112 - 146
عوارف شریف میں ہے :
قیل ان الجنید ترک السماع فقیل لہ کنت تستمع فقال مع من قیل لہ تسمع لنفسک فقال ممن لانھم کانوا لایسمعون الامن اھل مع اھل فلما فقد الاخوان ترک ۱؎۔
کہا گیا کہ حضرت جنید بغدادی (رحمۃ اللہ علیہ) نے سماع چھوڑدیا تھا ان سے عرض کی گئی آپ سماع پر کاربند تھے (پھر کیوں ترک کردیا؟) آپ نے ارشاد فرمایا: کن لوگوں کے ساتھ ہوکر سنتاتھا ّ(مراد یہ کہ وہ اہل تھے) پھر ان سے کہا گیا اپنی ذات کے لئے سنا کریں۔ فرمایا: کس سے سنوں، کیونکہ وہ سماع صرف اہل اسے اور اہل کی معیت میں ہوکر سنا کرتے تھے، پھر جب ایسے احباب نایاب اور ناپید ہوگئے تو سماع چھوڑدیا۔ (ت)
 (۱؎ عوارف المعارف     الباب الثالث والعشرون       مطبعہ المشہد الحسینی قاہرہ    ص۱۱۴)
حضرت شیخ الشیوخ قدس سرہ، نے عوارف شریف میں پہلے ایک باب قبول وپسند سماع میں تحریر فرمایا اور اس میں بہت احادیث وارشادات ذکر فرمائے۔ اور فرماما :
وقد ذکر الشیخ ابو طالب المکی رحمہ اﷲ تعالٰی مایدل علی تجویزہ ونقل عن کثیر من السلف صحابی وتابعی وغیرھم وقول الشیخ ابی طالب المکی یعتبر لو فورعلمہ وکمال حالہ وعلمہ باحوال السلف ومکان ورعہ وتقواہ وتحریر الاصواب والاول و قال فی السماع حلال وحرام وشبہ فمن سمعہ بنفس مشاھدۃ شھوۃ وھوی فھو حرام ومن سمعہ بمعقولہ علی صفۃ مباح من جاریۃ اوزوجۃ کان شبھۃ لدخول اللھو فیہ و من سمعہ بقلب یشاھد معانی تدل علی الدلیل ویشدہ طرقات الجلیل فھو مباح وھذا قول الشیخ ابی الطالب المکی وھو الصحیح ۲؎۔
بیشک شیخ ابوطالب مکی رحمہ اللہ تعالٰی علیہ نے کچھ ایسے دلائل وشواہد بیان فرمائے جو سماع کے جواز پر دلالت کرتے ہیں اور بہت سے اسلاف، صحابہ کرام اور تابعین عظام اور ان کے علاوہ دوسرے اکابرین سے نقل فرمایا، اور شیخ ابوطالب مکی علیہ الرحمۃ کاقول معتبر اور مستند ہے۔ کیوں؟ اس لئے کہ وہ کثیر علم سے معمور ہےں، حال میں صاحب کمالہیں۔ اور اسلاف کے حلات کو بخوبی جانتے ہیں۔ اور تقوٰی ودورع میں ان کا ایک خاص مقام ہے۔ اور زیادہ صواب اور زیادہ بہترامورمیں گہری سوچ اور فکر کامل رکھتے ہیں۔ چنانچہ ارشاد فرمایا : سماع میں حلال، حرام اور شبہ کی اقسام ہیں، لہذا جس نے نفس مشاہدہ شہوت اور خواہش کے پیش نظر سماع سنا تویہ حرام ہے۔ اور جس نے معقولیت کے پیش نظر مباح طریقے سے لونڈی یا اہلیہ سے استفادہ سماع کیا تو اس صورت میں شبہہ پیدا ہوگیا کیونکہ اس میں کھیل داخل ہوگیا۔ اور جس شخص نے ایسے نفیس دل کے ساتھ سماع سنا جو ایسے معانی کا مشاہدہ کررہا تھا جو دلیل کی راہنمائی کرتے ہیں۔ اور اس کے لئے رب جلیل کے راستے گواہ ہوں۔ لہذا یہ سماع مباح ہے۔ شیخ ابوطالب مکی کا یہ ارشاد ہے اور یہی صحیح ہے۔ (ت)
 (۲؎عوارف المعارف  الباب الثانی والعشرون      مطبعہ المشہد الحسینی قاہرہ    ص ۱۰۹)
تو وہ کیونکر مطلقا غنا کو ذنوب سے شمار فرماسکتے ہیں اس کے بعد انھوں نے دوسرا باب انکار سماع میں وضع فرمایا اور یہاں اس سماع پر کلام فرمایا شہوات نفسانیہ پر مشتمل اس میں یہ قول تحریر فرمایا ہے عبارت ملخصا یہ ہے:
وقد ذکر ناوجہ صحۃ السماع ومایلیق منہ باھل الصدق وحیث کثرت الفتنۃ وزالت العصمۃ وتصدی للحرص علیہ اقوام فسدت احوالھم واکثروالاجماع للسماع وربما یتخذ للاجتماع طعام تطلب النفوس الاجتماع لذٰلک لارغبۃ للقلوب فی السماع کما کان من سیر الصادقین فیصیر السماع معلولا ترکن الیہ النفوس للشہوات واستحلاء لمواطن اللھووالغفلات وتکون الرغبۃ فی الاجتماع طلبا لتناول الشہوۃ واسترواحا لاولی الطرب واللہو والعشرۃ ولایخفی ان ھذا الاجتماع مردود عند اھل الصدق الی ان قال وسماع الغنا من الذنوب ۱؎۔
بلا شبہہ صحت سماع کی وجہ ہم نے بیان کردی اور وہ کوائف بھی ذکر فرمادئے جوارباب صدق وصفا کے لائق اور موزوں ہیں، جہاں فتنہ بکثرت پھیل جائے عصمت زائل اور ختم ہوجائے اور کچھ لوگ بربنائے حرص اس کے درپے ہوں جن کے حالات بگڑے ہوئے اور خراب ہوں اور وہ سماع کے لئے زیادہ تراجتماعات کا پروگرام بنائیں اور کبھی اجتماع کو بارونق اور مؤثر بنانے کے لئے دکھانے کااہتمام کیا جائے کہ لوگ صرف کھانے کے شوق میں ایسے اجتماع کو تلاش کریں اس لئے نہیں کہ دلوں کو سماع کی طرف رغبت اورچاہت ہے کہ جیسے سچے عاشقوں کی سیرت ہوا کرتی ہے۔ لہذا سماع (اصل غرض و غایت کا) بظاہر سبب بن گیا کہ نفوس اس کی طرف طلب شہوات کے لئے مائل ہوگئے اور اس لئے کہ انھیں مقامات لہو (کھیل وتفریح) اور انواع غفلت کی مٹھاس دستیاب ہوجائے۔ لہذا مجالس سماع کی طرف رغبت محض طلب شہرت کے لئے ہوگی۔ اور اس لئے کہ عیش وعشرت اورکھیل تماشوں میں دلچسپی رکھنے والوں کو حسب منشاء آرام وراحت حاصل ہوجائے اور یہ بات پوشیدہ نہیں کہ ایسا اجتماع اہل صدق کے نزدیک مردو دہے یہاں تک کہ یہ فرمایا کہ گانا سننا گناہوں میں شمار ہے۔ (ت)
 (۱؎ عوارف المعارف     الباب الثالث والعشرون   مطبعۃ المشہد الحسینی قاہرہ    ص۱۱۴)
صوفیہ کرام کی نسبت یہ کہنا کہ ان کا قول وفعل معاذاللہ کچھ وقعت نہیں رکھتا بہت سخت بات ہے۔ اللہ عزوجل 

فرماتاہے:
واتبع سبیل من اناب الی ۱؎۔
جومیری جھکے ان کی راہ کی پیروی کر۔
 (۱؎ القرآن الکریم  ۳۱/ ۱۵)
صوفیہ کرام سے زیادہ اللہ کی طرف جھکنے والا کون ہوگا، 

فتاوٰی عالمگیری میں ہے :
انما یتمسک بافعال اھل الدین ۲؎۔
دینداروں کے افعال سے سندلائی جاتی ہے۔
 (۲؎ فتاوٰی ہندیہ     کتاب الکراھیۃ     الباب السابع عشر     نورانی کتب خانہ پشاور    ۵/ ۳۵۲)
صوفیہ کرام سے بڑھ کر اور کون دیندار ہے۔ حضرت شیخ الشیوخ شہاب الحق والدین سہروردی قدس سرہ، کی عارف سے سندلائی جائزنہ ہونا چاہئے کہ وہ بھی صوفی تھے یونہی حضرت سیدالطائفہ جنید رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ترک سے جس کا قول وفعل حجت نہیں اس کا ترک کیا حجت ہوسکتا ہے کہ ترک بھی فعل ہی ٹھہر کر قابل تمسک ہوتاہے نہ کہ بمعنٰی عدم کہ نہ متعدور نہ اس میں اتباع منقول
کما نص علیہ فی غمزالعیون والبصائر
 (جیسا کہ غمزالعیون والبصائر میں اس پر نص ہے۔ ت) اور شاہ ولی اللہ صاحب کب اپنے آپ کو صوفیہ سے خارج کرسکتے ہیں تو ان کا قول وفعل سب سے بڑھ کر  بے وقعت ہوناچاہئے محل ادب میں ایسا ارسال لسان خصوصا پیش عوام غنا کے مفاسد سے سخت تر مفسدہ ہے اس کا جواز تو مختلف فیہ ہے اس کا عدم جواز متفق علیہ ہے بالجملہ فریق ثانی کے اکثر احکام صحیح ہیں اس کی بڑی فاحش غلطی سجدہ تحیت کی تحلیل ہے صحیح یہی ہے کہ سجدہ تحیت حرام ہے یہی مسئلہ ان سب میں بڑا ہے عندالتحقیق یہ بھی اس حدتک نہیں کہ قائل خلاف پر اندیشہ کفر ہو۔
کیف وقد بہ سلطان الاولیاء سیدنا نظام الحق والدین رضی اﷲ تعالٰی عنہ واستدل بانہ کان واجبا للامر ثم نسخ الوجوب فبقی الندب۔
یہ کیسے ہوسکتا ہے جبکہ سلطان الاولیاء سیدنا نظام الحق والدین رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اس کے بارے میں فرمایا اور اس بات پر استدلال کیاکہ سجدہ صیغہ امر کی وجہ سے پہلے واجب تھا پھر وجوب منسوخ ہوگیا تو استحباب باقی رہ گیا۔ (ت)

اسی تحریم میں ہماری سند تصریح فقہائے کرام ہے اور اسی قدر ہمیں بس ہے ہم مقلد ہیں دلیل مجتہد کے پاس ہے آیات سے اس پر استدلال کسی طرح تام نہیں، کریمہ
واذ حییتم بتحیۃ ۳؎۔
 (جب تمھیں سلام کیا جائے۔ ت) میں سلام مراد ہے نہ کہ ہر تحیت تحیتیں کثیر ہیں۔ سلام ، مصافحہ، معانقہ، قلیل انحناء دست بوسی، قدمبوسی، قیام، انحنا تاحد رکوع ، سجدہ تحیت سلام سے سجود تک سب تحیت ہی ہیں اور اخیرین کے سواسب جائز بلکہ انحناء کے سوا سب حدیث وسنت سے ثابت ہے۔ کیا کوئی عاقل کہہ سکتا ہے کہ اگر بیٹا چومے تو باپ پر بھی فرض ہے کہ اس کے قدم چومے کیونکہ اس نے تحیت کا معاوضہ فرض ہے یہ محض باطل ہے۔
 (۳؎ القرآن الکریم   ۴/ ۸۶)
ولہذا کتابوں میں وجوب جواب صرف سلام کے لئے فرمایا ہے۔ کریمہ
ایامرکم بالکفر بعد اذانتم مسلمون ۱؎
 (کیا وہ تمھیں کفر کرنے کاحکم دے گا جبکہ تم مسلمان ہوچکے ہو۔ ت)
(۱؎ القرآن الکریم    ۳/ ۸۰)
خود شاہد عدل ہے کہ وہ دربارہ سجدہ عبادت ہے سجدہ تحیت کو کون کفر کہہ سکتا ہے کفر ہوتا تو اگلی شریعتوں میں کیونکر جائزہوسکتا کیا کوئی شریعت جواز کفر بھی لاسکتی ہے کفر ہوتا تو رب عزوجل ملائکہ کو اس کا حکم کیونکہ فرماتا کیا رب عزوجل کبھی کفر کا بھی حکم فرماتاہے تو سجدہ تحیت قطعا کفر نہیں اور یہ آیت فرمارہی کہ اس چیز کاذکر ہے جو قطعا کفر ہے تو اگر دربارہ سجود نازل ہے تو یقینا دربارہ سجدہ عبادت ہی نازل ہے۔ کبیرہ وابوالسعود وکشاف ومدارک جن کا حوالہ دیا گیا ان میں کہیں اس کی تصریح نہیں کہہ یہ سجدہ تحیت کے بارے میں اتری۔
یہاں تفسیر ماثور دو ہیں: ایک امام ائمہ المفسرین ترجمان القرآن سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے جسے ابن ابی حاتم وابن جریر وابن المنذر اور بہیقی نے دلائل النبوۃ میں روایت کیا کہ ابورافع قرظی یہودی اور سمی رئیس نصرانی نجراتی نے خدمت اقدس حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں عرض کیا حضور یہ چاہتے ہیں کہ ہم حضور کی عبادت کریں جیسے نصارٰی نے عیسی کو پوجا، فرمایا معاذاللہ غیر خدا کی عبادت نہیں ہوسکتی، نہ مجھے اس کا حکم ہوا نہ میں اس لئے بھیجا گیا ۲؎
اوکما قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم
(یا جیسا کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا۔ ت)
 (۲؎ الدرالمنثور         بحوالہ ابن جریر وابن ابی حاتم والبیہقی فی الدلائل     تحت آیۃ ۳/ ۸۰    ۲/ ۴۱)
Flag Counter