Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۲(کتاب الحظر والاباحۃ)
111 - 146
حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من تشبہ بقوم فھو منہم ۱؎۔
جو کسی قوم سے تشبہ کرے گا وہ انھیںمیں سے ہے۔
 (۱؎ سنن ابی داؤد     کتاب اللباس باب فی لیس الشہرۃ     آفتاب عالم پریس لاہور    ۲/ ۲۰۳)
دوسری حدیث میںہے:
ان لم تبکوا فتباکوا ۲؎۔
رونا نہ آئے تو رونے کی صورت بناؤ۔
 (۲؎ سنن ابن ماجہ     ابواب اقامۃ الصلوٰت باب فی حسن الصوت بالقرآن     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ص۹۶)
دوسری نیت طالبان راہ کے لئے وجد کی صورت بنائے کہ حقیقت حاصل ہوجائے نیت صادقہ کے ساتھ بتکلف بننا بھی رفتہ رفتہ حصول حقیقت کی طرف منجر ہوجاتاہے۔ امام حجۃ الاسلام غزالی قدس سرہ العالی احیاء العلوم میں فرماتے ہیں :
التواجد المتکلف فمنہ مذموم یقصد بہ الریاء ومنہ محمود وھو التوسل الی استدعاء الاحوال الشریفۃ واکتسابھا واجتلابھا بالحیلۃ فان للکسب مدخلا فی جلب الاحوال الشریفۃ ولذٰلک امررسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من لم یحضرہ البکاء فی قراء ۃ القراٰن ان یتباکی ویتحازن ۱؎۔
تکلف سے ''وجد'' طلب طاری کرنا اسکی ایک قسم ہے تو مذموم ہے کہ جس میں دکھاوے (ریا) کا ارادہ کیا جائے اور اس کی ایک قسم محمود (اچھی)ہے کہ جس کو شریفانہ حالات کے چاہنے ان کے اکتساب اور حصول کا حیلہ سازی سے ذریعہ بنایا جائے کیونکہ انسانی کسب کو شریفانہ حالات کے حصول میں ایک طرح دخل ہوتاہے اسی لئے حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے تلاوت قرآن کے وقت جس شخص کو رونانہ آئے اسے حکم دیا کہ وہ رونے اور غمگین ہونے کی صورت بنائے۔ (ت)
 (۱؎ احیاء العلوم     کتاب آدب السماع والوجد     الباب الثانی المقام الثانی     المشہد الحسینی قاہرہ    ۲/ ۹۶۔ ۲۹۵)
سیدی عارف باللہ علامہ عبدالغنی نابلسی قدس سرہ، القدسی ندیہ میں فرماتے ہیں :
لاشک ان التواجد وھو تکلف الوجد واظھارہ من غیر ان یکون لہ وجد حقیقۃ فیہ تشبہ باھل الوجد الحقیقی وھو جائز بل مطلوب شرعا قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من تشبہ بقوم فھو منہم ۲؎۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ''تواجد'' بناوٹ اور تکلف سے وجد لانا اور اس کا اظہار کرنا ہے بغیر اس کے کہ اسے حقیقی طو رپر حالت وجد ہو، پس اس میں جو حقیقۃ اہل وجد ہیں ان سے تشبہ ہے۔ اور یہ نہ صرف جائز ہے بلکہ شرعا مطلوب ہے (کیا تمھیں معلوم نہیں کہ ) آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص کسی قوسم سے مشابہت اختیار کرے وہ انہی میں سے ہے۔ (ت)
 (۲؎ الحدیقہ الندیہ     شرح الطریقہ المحمدیہ     الصنف التاسع     تتمہ الاصناف التسعۃ المکتبہ نوریہ رضویہ  ۲/ ۵۲۵)
فتاوٰی علامہ خیر رملی استاذ صاحب درمختار علیہما رحمۃ الغفار میں ہے :
اماالرقص ففیہ للفقہاء کلام منھم من منعہ ومنھم من لم یمنع حیث وجد لذۃ الشھوۃ وغلب علیہ الوجد واستدلوا بما وقع لجعفر بن ابی طالب لما قال لہ علیہ الصلٰوۃ والسلام اشبھت خلقی وخلقی فی لفظ جعفر اشبہ الناس بی خلقا وخلقا فحجل ای مشی علی رجل واحدۃ وفی روایۃ رقص من لذۃ ھذا الخطاب ولم ینکر علیہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم رقصہ وجعل ذٰلک اصلا لجواز رقص الصوفیۃ عند مایجدونہ من لذۃ المواجید فی مجالس الذکر والسماع وفی التتارخانیۃ مایدل علی جوازہ للمغلوب الذی حرکاتہ کحرکات المرتعش وبھذا افتی البلقینی وبرھان الدین الابناسی وبمثلہ اجاب بعض ائمۃ الحنفیہ والمالکیۃ وکل ذٰلک اذاخصلت النیۃ وکانوا صادقین فی الوجد مغلوبین فی القیام والحرکۃ عند شدۃ الھمام والشیئ قدیتصف تارۃ بالحلال وتارۃ بالحرام باختلاف القصد والمرام وبتقریر جمیع ماقالوہ یطول الکلام ۱؎۔
رہا رقص (ناچ) تو اس میں فقہائے کرام کا کلام (اختلاف) ہے پس بعض ائمہ نے تو اس سے منع فرمایا لیکن بعض نے اس سے منع نہیں فرمایا۔ جہاں شہوۃ کی لذت پائے اور اس پر وجہ غالب ہو تو (جائز ہے) اور انھوں نے اس واقعہ سے استدلال کیا کہ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے جب حضرت بن ابی طالب سے ارشاد فرمایا: تم صورت وسیرت میں میرے مشابہ ہو۔ اور ایک روایت میں یہ الفاظ آئیں ہیں : جعفر سب لوگوں سے صورت وسیرت میں میرے ساتھ سب سے زیادہ مشابہ ہے ( یہ سن کر) حضرت جعفر ایک پاؤں پر چلے یعنی رقص کیا۔ اور ایک دوسری روایت میں آیا ہے کہ حضرت جعفر اس خطاب کی لذت اور سرور سے ناچنے لگے، اس کے باوجود حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے ان کے رقص کرنے پر انکار نہیں فرمایا۔ پس اس کو صوفیائے کرام نے رقص کرنے کے جواز پر دلیل ٹھہرایا گیا ہے جبکہ مجالس ذکر اور سماع میں صوفیائے کرام وجد کی لذت محسوس کریں۔ فتاوٰی تتارخانیہ میں کچھ ایسا کلام ہے جو اس کے جواز پر دلالت کرتاہے ان مغلوب الحال لوگوں کے لئے کہ جن کی حرکات رعشہ والے مریض کی حرکات جیسی ہوں (رعشہ ایک مرض ہے جس میں غیر اختیاری طور پر ہاتھ کانپتے رہتے ہیں) چنانچہ علامہ عینی اور برہان الدین ابناسی نے یہی فتوٰی دیا ہے اور بعض حنفی اور مالکی ائمہ کرام نے اسی کے مطابق فتوٰی دیا ہے۔ یہ سب کچھ جائز ہے بشرطیکہ ایسا کرنے والوں کی نیت خالص ہو اور حالت وجد میں سچے ہوں اور قیام وحرکت شدت حیرت اور وارفتگی کی وجہ سے مغلوب ہوں (اور نیم دیوانہ ہو) اور حقیقت یہ ہے کہ ایک ہی چیز ارادے اور مقصد کے اعتبار سے کبھی حلال اور کبھی حرام سے متصف ہوسکتی ہے اور جو کچھ (اس باب میں) اہل علم نے ارشاد فرمایا اس سب کی تقریر باعث طول کلام ہے۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی خیریہ   کتاب الکراھیۃ والاستحسان   دارالمعرفۃ بیروت    ۲/ ۱۸۲)
نہایہ ابن اثیرہ مجمع البحار میں ہے :
قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لزید انت مولٰینا فحجل الحجل ان یرفع رجلا ویقفز علی الاخرٰی من الفرح زادف النھایۃ وقد یکون بالرجلین الاانہ قفز ۱؎۔
حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے حضرت زید سے ارشاد فرمایا: تم ہمارے ''مولٰی'' ہو۔تو حضرت زید خوشی اور مسرت، سے ناچنے لگے اس طور پر کہ ایک پاؤں اٹھاتے اور دوسرے پا ناچتے اور نہایہ (ابن اثیر) میں اتنا زیادہ ہے کبھی یہ دوپاؤں سے ہوتاہے مگر یہ وہ کودے۔ (ت)
 (۱؎ النہایۃ لابن لاثیر     باب الحاء مع الجیم تحت لفط ''حجل''     المکتبۃ الاسلامیۃ     ۱/ ۳۴۶)
چلانا بھی اگر بے اختیاری سے ہو تو مثل وجد کسی طرح زید حکم نہیں آسکتا، اور اگر ریا سے ہے تو نماز بھی حرام ہے۔ اور اگر کوئی نیت فاسدہ نہیں مگر وہاں کسی مریض یانائم کو تکلیف یا نمازی یاذاکر یا مشتغل عالم کی تشویش ہو تو ممنوع ہے امیر المومنین مولی علی کرم اللہ وجہہ کی حدیث میں ہے وقت نماز  میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت کرنے والوں کو جہر قرآن سے منع فرمایا اور اگر تمام مفاسد سے پاک ہو تو کوئی حرج نہیں۔ 

علامہ ابن عابدین شامی منہوات شفاء العلیل میں نورا لعین فی اصلاح جامع الفصولین علامہ ابن کمال وزیرکا فتوٰی نقل فرماتے ہیں: ؎
مافی التواجد ان حققت من حرج	 ولا التمایل ان اخلصت من بأس

فقمت تسعی علی رجل وحق لمن	 دعاوہ لاہ ان یسعی علی الرأس

 الرخصۃ فیما ذکر من الاوضاع عند الذکر والسماع للعارفین الصارفین اوفاتھم الی احسن الاعمال السالکین المالکین لضبط انفسھم عن قبائح الاحوال فھم لا یستمعون الامن الالہ ولایشتاقون اﷲ ان ذکروہ ناحوا وان وجدوہ صاحوا اذا وجد علیہم الوجد فمنھم من طرقتہ طوارق الھیبۃ فخروذاب ومنھم برقت لہ بوارق اللطف فتحرک وطاب ھذا ماعن لی فی الجواب ۱؎ واﷲ تعالٰی اعلم بالصواب۔
وجد کی صورت اختیار کرنے میں کچھ حرج نہیں بشرطیکہ محقق اور ثابت ہوجائے، جھومنے اور لڑکھڑانے میں بھی کچھ مضائقہ نہیں بشرطیکہ خالص ہو، اگر تو ایک پاؤں پر دوڑے اورناچ کرے تو یہ اس کے لئے حق ہے کہ جس کو اپنا مولٰی بلائے کہ وہ اپنے سر کے بل دوڑ لگائے۔ اور جن اوضاع (انواع اقسام) میں یہ ذکر کیا گیا کہ ذکر اور سماع کے وقت ان کی اجازت (رخصت) سے وہ ان خداشناس لوگوں کے لئے ہے جو اپنے اوقات کو اچھے کاموں میں صرف کرتے ہیں اور راہ خدا وندی پر چلنے والے ہیں مذموم حالات سے اپنے نفس کو قابورکھنے کی دسترس رکھتے ہیں (یعنی بری حرکات سے انھیں روک سکتے ہیں) پھر وہ اللہ تعالٰی کے سواکچھ نہیں سنتے، اور وہ صرف اس کااشتیاق رکھتے ہیں اگر اس کا ذکر کریں تو یہ آہ وزاری کرتے ہیں اوراگر اسے پائیں تو چیخیں چلائیں جبکہ ان پر وجد طاری ہوجائے پھر ان میں کوئی وہ ہے کہ جس کو مصائب ہیبت دستک دیں تو وہ گر کر پگھل جائے، اور کوئی وہ ہے کہ جس کے لیے لطف وکرم کی بجلیاں چمکیں تو وہ متحرک ہوکر خوش وخرم ہوجائے  اس جواب میں مجھ پر یہی کچھ ظاہر ہوا، اور راہ صواب کو سب سے زیادہ اللہ تعالٰی ہی جانتاہے۔ (ت)
 (۱؎ رسائل ابن عابدین رسالہ     شفاء العلیل وبل الغلیل الخ         سہیل اکیڈیمی لاہور    ۱/ ۱۷۲)
غنا اگر منکرات شرعیہ پر مشتمل ہو مثلا مزامیر کو حرام ہیں یا عورت کا گانا کہ باعث ہیجان فتنہ ہے یونہی محل فتنہ ارمرد کا گانا، یا جوکچھ گایا جائے اس کا امور مخالف شرع پر مشتمل ہونا یا ایسے امور پر خیالات کا سدہ وشہوات فاسدہ کے باعث ہوں خصوصا مجمع عوام میں بلا شبہ ممنوع ہے اور تمام مفاسد سے خالی ہو تو اس کے جواز میں کوئی شبہ نہیں
کما حققناہ فی اجل التحبیر
(جیسا کہ ہم نے اپنے رسالہ اجل التحبیر میں اس کی تحقیق کردی۔ ت)

غنا کا غالب اطلاق انھیں مہیجات شہوات باطلہ پر آتاہے
کما نبہ علیہ فی ارشاد الساری
(جیسا کہ ارشاد الساری شرح صحیح بخاری میں اس پر آگاہ کیا گیا ہے۔ ت) احادیث واقوال مذمت اسی پر محمول ہیں ورنہ اذکار حسنہ اصوات حسنہ والحانات حسنہ سننے کی کوئی ممناعت نہیں بلکہ اس میں احادیث وارد، اور اب وہ لہو نہیں نہ وہ شیطانی آواز ہے تو آیہ کریمہ
واستفزز من استطعت منہم بصوتک ۲؎
(اس میں سے جس پر تو قابو پائے (اور تیرا بس چلے) انھیں اپنی آواز سے پھسلادے۔ ت) اس پر صادق نہیں حضرت سید الطائفہ جنید بغدادی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے جو آخر عمر شریف سماع سننا ترک فرمایا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ اب کوئی گانے ولااہل نہ ملتا تھا۔
 (۲؎ القرآن الکریم۱۷/ ۶۴)
Flag Counter