Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۲(کتاب الحظر والاباحۃ)
110 - 146
ابراہیم بن سعد وعبداللہ عنبری جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے پاس عمرو بن قرۃ آیا اور اس نے غناء فاحشہ کی رخصت چاہی حضرت نے جازت نہ دی علاوہ بریں تمام فقہائے اور صوفیائے کرام نے غناورقص وغیرہ سے منع فرمایا ہے۔
مضمرات میں ہے :
من اباح الغناء یکون فاسقا ۲؎۔
جو گانے بجانے کو مباح قرار دے تو وہ فاسق ہے۔ (ت)
 (۲؎ فتاوٰی جامع الفوائد     بحوالہ المضمرات کتاب الکراھیۃ فصل فی الغناء     مکتبہ حقانیہ کوئٹہ ص۴۲۸)
اور شیخ شہاب الدین سہروری عوارف میں فرماتے ہیں:
سماع الغناء من الذنوب ۳؎ الخ۔
گانا سننا گناہ ہے۔ الخ (ت)
 (۳؎ عوارف المعارف     الباب الثالث والعشرون     مطبعۃ المشہد الحسینی قاہرہ    ص۱۱۴)
اور چونکہ غنا ورقص وغیرہ خصوصا اس زمانہ فتنہ وفساد میں جیسا کہ صوفی لوگ مجلس قائم کرکے کرتے ہیں عوام وجہال کے لئے سخت مضرت رساں وگمراہی ہے پھر اگر وجد یارقص میں ستر عورت کھل جائے تو حاضرین جلسہ بجائے نیکی حاصل کرنے کے گنہگار ہوجائیں گے۔

یہ کل وجوہات بالا کی طرف نظر کرکے میری یہی رائے ہے کہ سجدہ وتحیت ورقص وغناووجد وتواجد بالکل حرام وناجائز ہے۔ پھر جیسا کہ آج کل کے صوفی گندم نما جو فروش جلسوں میں یا چند آدمی مل کر کرتے ہیں بالکل ناجائز ہے اور مرتکب ان امور مذکور کا گنہگار ہے۔ اور جب ان کی حرمت کتاب وسنت وفقہ اواجماع امت سے ثابت ہے تو اس کے مستحل پر کفر کا خوف ہے کیونکہ ابونصر دبوسی قاضی ظہیر الدین خوارزمی سے روایت کرتے ہیں :
من سمع الغناء من المغنی اورای فعلا من الحرام فحسن ذٰلک باعتقاد اوبغیر اعتقاد یصیر مرتدا فی الحال بناء علی انہ ابطل فلایکون الشریعۃ ومن ابطل حکم الشریعۃ فلا یکون مؤمنا عند کل مجتہد ولایقبل اﷲ تعالٰی طاعۃ واحبط اﷲ کل حسنائہ ۱؎ الخ کما فی حاشیۃ جامع الفوائد۔
جس نے کسی گویّے سے گانا سنا یا کوئی حرام فعل دیکھا اور اعتقاد یا بے اعتقاد اس کو اچھا سمجھا (اور اس کی تحسین کی) تو وہ فورا مرتد ہوجائے گا اس بناء پر کہ اس نے شرعی حکم کو باطل کیا، اورع جو شریعت کے حکم کو باطل کردے وہ کسی مجتہد کے نزدیک مومن نہیں ہوسکتا، اور اللہ تعالٰی اس کی کوئی طاعت قبول نہیں فرماتا اور اللہ تعالٰی اس کی ساری نیکیاں ضائر کردیتا ہے الخ۔ جیسا کہ حاشیہ جامع الفوائد میں مذکور ہے۔ (ت)
 (۱؎ حاشیہ فتاوٰی جامع الفوائد     کتاب الکراھیۃ فصل فی الغناء     مکتبہ حقانیہ کوئٹہ     ص۴۲۸)
بناء علیہ میرے نزدیک فریق اول کا قول نہایت صحیح اور موافق قرآن وحدیث وفقہ مذہب اہلسنت وصوفیائے کرام ہے اور فریق ثانی کا قول قرآن وحدیث وفقہ جمہور صوفیہ کے بالکل خلاف ہے اور غیر صحیح یہ لوگ سخت غلطی اور دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں ان کو ایسے امو رکے ارتکاب سے اجتناب وتوبہ کرنی چاہئے اور وہ دوسروں کو ایسے فعل ناجائز سے حتی الامکان روکیں۔
وما علینا الا البلاغ۔

                        محمد عبدالقادر عفی عنہ مدرس اول مدرسہ منیر سراج گنج ضلع پاپنہ بنگال
الجواب

بلاشبہ ہماری شریعت مطہرہ میں غیر خدا کے لئے سجدہ تحیت حرام فرمایا، تمام کتب اس کی تحریم سے مالامال ہیں۔ شرائع من قبلنا اس وقت تک حجت ہیں کہ ہماری شریعت ممانعت نہ فرمائے اور منع کےبعداباحت سابقہ سے استدلال نہیں ہوسکتا۔ جیسے شراب وغیرہ، اصل اشیاء میں ضرور اباحت ہے مگر بعد ممنوع شرع اباحت نہیں رہ سکتی۔
  قال اﷲ تعالٰی مااتکم الرسول فخذوہ ومانھٰاکم عنہ فانتھوا ۱؎۔
اللہ تعالٰی جو کچھ تمھیں رسول گرامی عطا فرمائیں اسے لے لو اور جس سے تمھیں رسول منع فرمائیں اس سے باز رہو۔ (ت)
 (۱؎ القرآن الکریم     ۵۹/  ۷)
ان صحابی رضی اللہ تعالٰی عنہ کا پیشانی اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر سجدہ کرنا حضور کو سجدہ تحیت نہ تھا بلکہ اللہ عزوجل کو سجدہ عبادت اور پیشانی اقدس اس وقت مسجد تھی یعنی موضع سجود، انھوں نے اسی طرح خواب دیکھا تھا اس کی تصدیق کے لئے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اجازت عطا فرمائی کہ پیشانی انور پر سر رکھ کر اللہ عزوجل کو سجدہ کرلیں۔ فریق ثانے نے سجدہ تحیت کو جائز کہا ہے جب پیشانی زمین کو لگائیں، ہیئت نماز پر نہ ہو، پیشانی زمین پر نہ لگے، باطہارت نہ ہو یہ صریح تناقص ہے جب پیشانی زمین کو نہ لگی سجدہ ہی نہ ہوگا اور باطھارت نی ہونے کی قید عجیب ہے معظمان دینی کو وہ کون سی تعظیم ہے جس میں محدث ہونا شرط ہے شاید مقصود یہ ہو کہ سجدہ نماز کی طرح طہارت اس میں ضروری نجانیں، طرفہ یہ کہ قدمبوسی میں بھی شرط لگائی حالانکہ معظمان دینی کی قدمبوسی بلا شبہ بحال طہارت بھی جائز ہے بلکہ یہی مستحب ہے کہ اس میں تعظیم زائد ہے، فتح القدیر میں فرمایا :
کل ماکان ادخل فی الادب والاجلال کان حسنا ۲؎۔
جس چیز کا ادب اور تعظیم میں زیادہ دخل ہو وہ اچھی ہے۔ (ت)
(۲؎ فتح القدیر   باب الھدی  مسائل منشورۃ     مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر        ۳/ ۹۴)
قدمبوسی سنت سے ثابت اور اس میں احادیث کثیرہ وارد،
کما بینا فی فتاوٰنا
(جیسا کہ ہم نے اس کو اپنے فتاوٰی میںبیان کیا ہے۔ ت) انحناء یعنی جھکنا دو قسم ہے۔ مقصود ووسیلہ، اگر خود نفس انحناء سے تعظیم مقصود نہیں بلکہ دوسرے فعل سے جس کا یہ ذریعہ ہے تو اس صورت میں اس کا حکم اس فعل کا حکم ہوگا قدمبوسی جائز بلکہ مسنون ہے تو اس کے لئے جھکنا بھی مباح بلکہ سنت ہے اور غیر خدا کو سجدہ تحیت حرام ہے تو اس کے لئے جھکنا بھی حرام ہے۔ دوسری قسم کہ نفس انحناء سے تعظیم مقصود ہو یہ اگر رکوع تک ہے ناجائز وگناہ ہے اور اس سے کم ہے تو حرج نہیں۔
امام عبدالعغنی نابلسی قدس سرہ القدسی حدیقہ ندیہ شرح محمدیہ میں فرماتے ہیں :
الانحناء البالغ حد الرکوع لایفعل لاحد کالسجود ولاباس بما نقص من حد الرکوع لمن یکرم من اھل الاسلام ۱؎۔
 رکوع کی حد تک جھکنا کسی کے لئے نہ کیا جائے جیسے سجدہ (یعنی یہ دونوں مخلوق کے لئے روا نہیں) او اگر رکوع کی حد سے کم جھکاؤ ہو تو پھر معزز اہل اسلام کے لئے ایسا کرنےکا کچھ حرج نہیں (ت)
 (۱؎ الحدیقۃ الندیہ     شرح الطریقہ المحمدیہ     المبحث الاول         المکتب النوریۃ الرضویہ    ۱/ ۵۴۷)
وجد کو حرام کہنا عجیب بات ہے وہ حالت اضطراری ہے جس پر حکم ہوہی نہیں سکتا نہ کہ تحریم نہ کہ بالاجماع نہ کہ تحلیل پر خوف کفر، یہ احکام اصلا درجہ صحت نہیں رکھتے۔ واﷲ یقول الحق ویھدی السبیل (اللہ تعالٰی حق بیان فرماتاہے اور وہی سیدھا راستہ دکھاتاہے۔ ت)یوہیں تصفیق اگر اضطراری جیساکہ فریق ثا نی نے ایک بار مطلق کہہ کے دوبارہ اس کو مقید کیا تو بلاشبہ اسے بھی زیر حکم لانا جائز وحرام ٹھہرانا اسی طرح باطل ہے کہ مورد احکام افعال اختیاریہ ہیں نہ کہ اضطراریہ، ہاں اگر بالاختیارنہ ہو تو ضرور مکروہ ہے کہ نساء وفساق سے مشابہت ہے۔
نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
التسبیح للرجال والتصفیق للنساء ۲؎۔
مرد ''سبحان اللہ'' کہیں اور عورتیں تالی بجائیں (امام کونماز میں آگاہ کرنے کے لئے) ۔ (ت)
 (۲؎ صحیح البخاری   کتاب التہجد     باب التصفیق للنساء     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/ ۱۶۰)

(صحیح مسلم         کتاب الصلٰوۃ باب تسبیح الرجل وتصفیق المرأۃ  قدیمی کتب خانہ کراچی   ۱/ ۱۸۰)
حضرت سیدنا محبوب الٰہی نظام الحق والدین سلطان الاولیاء رضی اللہ تعالٰی عنہ اپنی مجلس مبارک سماع کے حاضرین کو فرماتے کہ :
کف دست بر پشت دست زنند، کف دست برکف دست نہ زنند کہ مشابہہ لہونگر دد ۳؎۔
ایک ہاتھ کی ہتھیلی دوسر ہاتھ کی پشت پر ماریں لہذا ہتھیلی کو ہتھیلی پر نہ ماریں تاکہ کھیل کے مشابہ نہ ہو۔ (ت)
(۳؎ فوائدالفوائد)
رقص میں بھی دو صورتیں ہیں
اگر بیخودانہ ہے تو سلطان گیر وخراج ازخراب
 ( اس لئے کہ بادشاہ کسی غیر آباد اور ویران زمین میں کسی سے ٹیکس نہیں لیتا ۔ ت) وہ کسی طرح زیر حکم نہیں آسکتا، اور اگر بالاختیار ہے تو پھر اس کی دو صورتیں ہیں اگر تثنی وتکسر کے ساتھ ہے تو بلاشبہہ ناجائز ہے۔ تکسر لچکاتثنی توڑا یہ رقص فواحش میں ہوتے ہیں اور ان سے تشبہ حرام۔ اور اگر ان سے خالی ہے تو اہل بیعت کو مجلس عالم ومحضر عوام میں اس سے احتراز ہی چاہئے، کہ ان کی نگاہوں میں ہلکاہونے کا باعث ہے۔ اور اگر جلسہ خاص صالحین و سالکین کا ہو تو داخل تواجد ہے۔ تواجد یعنی اہل وجد کی صورت بننا، اگر معاذاللہ بطور ریا ہے تو اس کی حرمت میں شبہ نہیں کہ ریا کے لئے تو نماز بھی حرام ہے۔ اور اگرنیت صالحہ ہے تو ہر گز کوئی وجہ ممانعت نہیں، یہاں نیت صالحہ دو ہوسکتی ہےں ایک عام یعنی تشبہ بصلحائے کرام ؎
ان لم تکونوا مثلھم فتشبھوا     ان التشبہ بالکرام فلاح
 (اگر تم ان کی مثل نہیں ہو تو پھر ان سے مشابہت اختیار کرو کیونکہ شرفاء اور معزز لوگوں سے تشبہ کا میابی کا ذریعہ ہے۔ ت)
Flag Counter