مسئلہ ۱۸۷: از مرآد آباد مدرسہ اہلسنت باز ار دیوان مرسلہ مولوی عبدالودود صاحب بنگالی قادری برکاتی رضوی طالبعلم مدرسہ مذکور ۲ جمادی الاولٰی ۱۳۳۶ھ
ایک شخص کو اس کے مریدین سجدہ کرتے ہیں اس سے دریافت کیا گیا کہ آپ مریدین کو سجدہ سے منع نہیں کرتے۔ انھوں نے جواب دیا کہ میں مریدون کو منع بھی نہیں کرتا اور حکم بھی نہیں کرتا۔ ان کا کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا
الجواب
یہ شخص بہت خطا پر ہے۔ اس پر فرض ہے کہ مریدوں کو منع کرے۔ اور مریدوں پرفرض ہے کہ اس فعل حرام سے بازآئیں۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۸: از پوسٹ آفس سراج گنج ضلع پاپنہ مرسلہ مولوی محمد عبدالقادر صاحب مدرس اول مدرسہ جونپوری ۱۰ جمادی الاولٰی ۱۳۳۶ھ
فریق اول مولوی محمد سالم جونپوری فریق دوم مولوی عبدالباری نواکھالوی
بتاریخ ۳۰ دسمبر ۱۹۱۷ء تھانہ قاضی پور مضافات سراج گنج پاپنہ فریق اول وثانی کا بموجودگی مجسٹریٹ وافسرپولیس سب ڈویژن سراج گنج مباحثہ ہوا جس میں میں منصف مانا گیا تھا فریق اول کا یہ بیان ہے کہ سجدہ تحیت انحناء ووضع الجبہہ کے طورپر اور مثل رکوع کے ہر طرح سے کرنا حرام ہے اور گناہ کبیرہ ہے اور غناء و رقص اور وجد اور تالیاں بجانا اور زور سے چلانا اور شور کرنا اور تواجد یعنی اپنے کو زبردستی وجد میں لانا جلسہ میں عوام کو مجتمع کرکے چنانچہ صوفیائے زمانہ حال کیا کرتے ہیں جس میں لوگوں کو اور بچے بوڑھے اور مریضوں کو ایذا پہنچے اور ان کی نیند میں خلل ہو بالکل ناجائز ہے اس دعوٰی کے دلائل اس فریق نے ذیل میں پیش کئے:
( اول) شرائع سابقہ میں سجدہ تحیت جائز تھا اور ہماری شریعت میں منسوخ ہوگیا بدلیل آیۃ قرآنی:
ولایامرکم ان تتخذوا الملئکۃ والنبیین اربابا ایامکرم بالکفر بعد اذا انتم مسلمون ۱؎۔
اور نہ تمھیں یہ حکم دے گا کہ تم فرشتوں اور انبیاء کرام کو رب بنالو اس کے بعد کہ تم مسلمان ہوگئے ہو۔ (ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۳ /۸۰)
یہ آیت خاص سجدہ تحیت کے بارے میں ناز ل ہوئی ہے
کما اخرج عبدالرزاق فی تفسیرہ
(جیسا کہ
عبدالرزاق نے اپنی تفسیر میں اس کی تخریج فرمائی۔ ت) ایسا ہی تفسیر بیضاوی وتفسیر کبیر وابوالسعود و تفسیر مدارک میں ہے۔
(دوسری) حدیث
لامرت المرأۃ ان تسجد لزوجھا ۱؎
(اگر سجدہ کسی کے لئے جائز ہوتگا تو میں عورت (بیوی) کو حکم دیتا کہ شوہر کے لئے سجدہ کرے۔ ت) کی ہے کیونکہ سجدہ تحیت کی ممانعت کی حدیث متواتر ہے جیسا کہ تفسیر عزیز وفتاوٰی بزازیہ میں ہے۔
(۱؎ جامع الترمذی ابواب الرضاع باب ماجاء فی حق الزوج علی المرأۃ امین کمپنی دہلی ۱ /۱۳۸)
(سنن ابن ماجہ ابواب النکاح باب حق الزوج علی المرأۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۳۴)
اور ردالمحتار میں ہے:
فیہ دلیل علی نسخ الکتاب بالسنۃ ۲؎
(اس میں یہ دلیل ہے کہ کتاب اللہ (یعنی کسی آیت قرآنی) کا نسخ حدیث پاک سے جائز اور درست ہے۔ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ باب الاستبراء وغیرہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۴۶)
(سوم) یہ کہ ہم مقلد ہیں ہم پر اللہ صاحب کی تقلید واجب ہے اور تمام فقہاء وائمہ نے سجدہ تحیت وغنا و رقص کو حرام لکھا ہے اور اس پر امت کا اجماع بھی ہوگیا ہے اور دیگر دلائل اس پر فریق اقول کے کتب ذیل میں ہیں نظم الدر ومؤلفہ مولانا عبدالحق مہاجر مکی، مکتوب امام ربانی فتاوٰی شاہ عبدالعزیز صاحب مرحوم، فتاوٰی قاضی خاں، عالمگیری، کفایہ وعینی شرح ہدیا۔ شامی، اشعۃ اللمعات، ترمذی، عینی شرح بخاری، تفسیر کبیر، جلالین، خازن، بیضاوی، سراج المنیر، کشاف، ابوالسعود، احمدی، تفسیر محی الدین ابن عربی وغیرہا اور فریق ثانی کایہ دعوٰی ہے کہ تعظیم کے واسطے سجدہ تحیت کرنا ور اس میں گرنا اور جھکنا جائز ومباح ہے بشریکہ نمازکی ہیت پر نہ ہو اور نہ پیشانی زمین پر لگائے اور باطہارت نہ ہو اور ہر طرح سے جائز ہے بلکہ بشرطیکہ اس میں ہجو مسلم وہجو رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم یا کلمات کفریا وصف شراب ومزنیہ امرونہرہے اور اس میں ترغیب الی العبادۃ اور ایقاظ عن الغفلۃ ہوا ور سامع صدق دل اور صدق نیت سے سنے اور قوال بھی برعایت شرائط مذکورہ گائے اور اضطراری حالت میں رقص ووجد وتواجد یعنی بہ تکلف اپنے کو وجد میں لانا سچی نیت سے محمود ہے ورنہ مذموم ہے اور غلبہ اضطرار میں تالیاں بجانا بھی جائز ہے جواز سجدہ تحیت میں اس فریق کے یہ دلائل ہیں :
(اور یادکرو جب ہم نے (بطور حکم) فرشتوں سے فرمایا کہ حضرت آدم کو سجدہ کرو ت سب نے (سوائے شیطان) انھیں سجدہ کیا الخ۔ ت)
(۳؎ القرآن الکریم ۲ /۳۴)
(دوم) الاصل فی الاشیاء الاباحۃ ۱؎
(تمام اشیاء میں اصل یہ ہے کہ وہ مباح ہیں۔ (بشرطیکہ کوئی مانع نہ ہو)
(۱؎ الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الثالثۃ ادارۃ القرآن کراچی ۱ /۸۷)
(سوم) شرائع من قبلنا حجۃ لنا مالم یظھر لنا ناسخ فی شرعنا ۲؎
(ہم سے پہلی شریعتوں ہمارے لئے دلیل ہیں جب تک ہماری شریعت میں ان کا کوئی ناسخ ظاہر نہ ہو۔ ت)
(۲؎ اصول البزدوی باب شرائع من قبلنا قدیمی کتب خانہ کراچی ص۲۳۲)
(مسلم الثبوت الاصل الثانی السنۃ مسئلہ نحن والنبی علیہ السلام متعبدون شرائع من قبلنا مطبع انصاری دہلی ص۲۰۷)
(چہارم) حدیث رؤیا ابن خزیمہ اور ان کا رسول مقبول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی پیشانی مبارک پر سجدہ کرنا اور دیگر دلائل کتب ذیل ہے: تفسیر کبیر ، ابن مسعود، تفسیر بیضاوی، واحمدی وحسینی وکشاف و مدارک وعزیزی وتفسیر کلائی عبدالکریم گجراتی جس کا ذکر فتاوٰی عزیزی میں ہے اور عالمگیری قاضی خان، مسلم الثبوت وتنقیح تلویح وغیرہا، میں چونکہ اس میں منصف اور ثالث قرار دیا گیا تھا لہذا دونوں فریق کے دلائل میں بلارعایت میں نے غور کیا بیشک ملائکہ نے آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام کو اور یعقوب علیہ السلام اوران کے بیٹوں نے یوسف علیہ الصلٰوۃ والسلام کو بقول راجح سجدہ تحیت ہی کیا تھا اس وقت سجدہ تحیت جائز تھا اب منسوخ ہوگیا اور بجائے سجدہ تحیت کے اللہ تعالٰی نے ہم کو سلام عطا فرمایا ہے جیسا کہ فرماتاہے:
فاذا ادخلتم بیوتا فسلموا علی انفسکم تحیۃ من عنداﷲ مبارکۃ طیبۃ ۳؎ الخ۔
جب تم اپنے گھروں میں داخل ہو تو (وہاں) اپنے لوگوں کو سلامتی کی دعا دیاکرو وہ دعا جو اللہ تعالٰی کی طرف بڑی بابرکت اور پاکیزہ ہے الخ (یعنی گھروالوں کو سلام کیا کرو)۔ ت)
(۳؎ القرآن الکریم ۲۴ /۶۱)
معلوم ہوا کہ اس امت کی تحیت سلام ہے اور اس کی مؤید آیت
واذحییتم بتحیۃ فحیوباحسن منھا او ردوھا ۴؎
(جب تمھیں لفظ دعا سے سلام کیا جائے تو اس سے عمدہ الفاظ سے سلام کرو یا کم از کم وہی الفاظ لوٹا دو۔ ت) بھی ہے.
(۴؎ القرآن الکریم ۴ /۷۶)
اس آیت سے تحیت کا جواب دینا فرض ہوا پس اگر تحیت سے یہاں سجدہ تحیت مراد ہو تو سامع کو بھی سجدہ تحیت جوابا کرنا فرض ہوگا حالانکہ اس کا کوئی قائل نہیں اورآیت
ولایامرکم ان تتخذوا الملئکۃ والنبیین اربابا ۵؎ الخ
(اور وہ تمھیں ہر گز یہ حکم نہ دے گا کہ فرشتوں اورنبیوں کو ''رب'' بنالو الخ۔ ت)
(۵؎ القرآن الکریم ۳/ ۸۰)
کی ذیل میں مفسرین جیسے تفیسر کبیر، تفسیر ابوالسعود، تفسیر کشاف ومدارک وغیرہم لکھتے ہیں کہ یہ آیت سجدہ تحیت کی ممانعت میں نازل ہوئی ہے۔
کمااخرج عبدالرزاق فی تفسیرہ واخرج ابن جریر وابن ابی حاتم عن ابن جریج و عن الحسن قال بلغنی ان رجلا قال یا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نسلم علیک کما یسلم بعضنا علی بعض افلا نسجدلک قال لاولکن اکرموا نبیکم واعرفوا الحق لاھلہ فانہ لاینبغی ان یسجد لاحد من دون اﷲ فانزل اﷲ تعالٰی ماکان لبشر ۱؎ الخ واخرج عبد بن حمید عن الحسن مثلہ۔
جیسا کہ عبدالرزاق نے اپنی تفسیر میں اس کی تخریج کی، اور ابن جریر اور ابن حاتم نے ابن جریج اور خواجہ حسن بصری سے تخریج کی، فرمایا مجھے یہ اطلاع پہنچی کہ ایک شخص نے حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی بارگاہ میں عرض کی: یا رسول اللہ (علیک الصلٰوۃ والسلام) ہم آپ کو اسی طرح سلام کرتے ہیں جس طرح ہم ایک دوسرے کو سلام کرتے ہیں کیا ہم آپ کو سجدہ نہ کریں؟ ارشاد فرمایا: نہیں، ہاں البتہ اپنے نبی کی عزت وتوقیر کرو۔ اور حق کو اس کے اہل کے لئے پہچانو کیونکر کسی کے لئے یہ زیبا اور لائق نہیں کہ وہ اللہ تعالٰی کے علاوہ کسی کو سجدہ کرےتو پھر اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازل فرمائی ماکان لبشرالخ۔ اورعبد بن حمید نے حضرت حسن سے اسی طرح تخریج فرمائی۔ (ت)
(۱؎ الدرالمنثور بحوالہ عبد بن حمید عن الحسن تحت آیۃ ۳ /۷۹ قم ایران ۲ /۴۴)
(مفاتیح الغیب (التفسیر الکبیر) ۸ /۱۱۷، الکشاف ۱ /۴۴۰، مدارک التنزیل ۱/ ۱۶۶)
علاوہ ازیں تمام کتب احادیث اور کتب فقہ میں اس کی ممانعت بھری پڑی ہے
کما لایخفی علی اھل العلم
(جیسا کہ اہل علم پر پوشیدہ نہیں۔ ت) اور غنا ووجد تواجد ورقص وتالیا بجانا گوان میں بعض امور جیسے غنا ووجد بعض صوفیہ نے رکیک اور کمزور دلائل سے جواز ثابت کیا ہے مگر وہ بالکل لاشیئ ہے کیونکہ صوفیہ کے اقوال وافعال شریعت ومذہب میں حجت نہیں ہوسکتے
ولنعم ماقال شاہ ولی اﷲ رحمہ اللہ تعالٰی
(حضرت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ تعالٰی کیا خوب فرمایا۔ ت)
وجود صوفیہ راغنیمت داں وقول وفعل ایشاں وقعتی ندارد
صوفیائے کرام کے وجود کو غنیمت جانئے لیکن ان کا قول اور فعل (کتاب وسنت کے مقابلہ میں) اپنے اندر کوئی قدر وقعت نہیں رکھتا (لہذا جحت اور دلیل وہی ہے جو اللہ تعالٰی اور اس کا رسول فرمائیں ۔ ت)
اور تفسیر احمدی وعوارف وغیرہ میں لکھا ہے کہ جنید رحمہ اللہ تعالٰی اخر عمر میں غنا سے توبہ کرلی تھی۔ قرآن مجید میں اللہ پاک فرماتاہے :
واستفزز من استطعت منہم بصوتک ۱؎۔
اور ان میں سے جس پر تو قابو پاسکتا ہے اسے اپنی آواز کے ذریعے (راہ حق سے) پھسلا دے۔ (ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۱۷ /۶۴)
تفسیر احمدی میں ہے :
ذکر فی الفتاوٰی العمادیۃ والعوارف قال مجاھد انھا تدل علی حرمۃ التغنی وذٰلک لان قولہ استفزز خطاب لابلیس علیہ اللعنۃ ومعناہ حرک من استطعت من بنی آدم بصوتک وھو صوت التغنی والمزامیر ۲؎۔
فتاوٰی عمادیہ اور عوارف میں ذکر کیا گیا کہ امام مجاہد نے فرمایا : آیۃ مذکورہ گانا بجانے کی حرمت پر دلالت کرتی ہے۔ اور یہ اس لئے کہ اللہ تعالٰی کا ارشاد : ''استفزز'' ابلیس علیہ اللعنۃ کو خطاب ہے اور اس کا مفھوم یہ ہے اولاد آدم میں سے جس پر تو طاقت پائے (اور اس پر تیرا بس چلے) اسے اپنی آواز سے حرکت میں لا، اور وہ گانے اور اس کے ساز کی آواز ہے۔ (ت)
(اور لوگوں میں کوئی وہ ہے جو کھیل کود کی باتوں کا خریدار اور متلاشی رہتاہے۔ ت) میں ہے :
انھا نزلت فی نضربن الحارث اشتری کتب الاعاجم وکان یحدث بھا قریشا وقیل کان یشتری الفتیات المغنیات الخ وانما قلنا تدل علی حرمۃ الغناء لان اﷲ تعالٰی قد ذم من یشتغل بھوالحدیث واوعدہ بعذاب مھین و لھو الحدیث وان کان ظاھرہ عاما فی کل مایلھی عما یعنی الا انہ ذکر فی الفتاوی العمادیۃ وکذا فی العوارف وغیرہ ان ابن عباس وابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہما کانا یحلفان اناقد سمعنا عن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ان المراد بہ التغنی و یوافقہ الروایۃ الثانیۃ من النزول فیکون دلیلا علی حرمتہ ۱؎ اھ وقال الطبری واجمع علماء الامصار علی کراھۃ الغناء والمنع منہ وانما فارق الجماعۃ۔
(ملاجیون رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا) آیۃ مذکورہ بالانضربن حارث کے حق میں نازل ہوئی کہ جس نے اہل عجم کی کتابیں خریدیں اور قریش کو پڑھ کر سناتا او یہ بھی کہا گیا کہ وہ گانے والی لونڈیاں خریدا کرتا تھا اور یہ جو ہم نے کہا کہ آیۃ مذکورہ گانے کی حرمت پر دلالت کرتی ہے اس لئے کہ اللہ تعالٰی نے ان لوگوں کی مذمت بیان فرمائی جو کھیل کی باتوں میں شغل رکھتے ہیں اور انھیں تو ہین آمیز عذاب سے ڈرایا، اور کھیل کی باتیں اگر چہ بظاہر عام ہیں جوہر اس چیز کو شامل ہیں جو انسان کو فائدہ بخش کام سے غافل کردے لیکن فتاوٰی عمادیہ اور اسی طرح ''عوارف'' وغیرہ میں مذکور ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہما دونوں قسم کھا کر کہتے تھے کہ ہم نے حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے سنا ہے کہ اس سے گانابجانا مراد ہے اور شان نزول کی دوسری روایت اس کی موافت کرتی ہے لہذا یہ حرمت غنا پر دلیل ہے اھ۔ اور امام طبری، نے فرمایا: تمام شہروں کے علماء کرام کا گانے کی کراہت (ناپسندیدگی) اور ممانعت پر اجماع اور اتفاق ہے۔ (ت)