Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۲(کتاب الحظر والاباحۃ)
107 - 146
امام اجل بخاری کشف الاسرار میں فرماتے ہیں:
ھذا الحدیث فی قوۃ المتواتر اذ  المتواتر نوعان متواتر  من حیث الروایۃ ومتواتر من حیث ظھور العمل بہ من غیرنکیر فان ظھورہ یغنی الناس عن روایتہ وھو بھذہ المثابۃ فان العمل ظھربہ مع القبول من ائمۃ الفتوٰی بلاتنازع فیجوز النسخ بہ ۱؎۔
یہ حدیث متواتر کے زمرہ میں ہے۔ اس لئے کہ متواتر کی دوقسمیں ہیں: (۱) متواتر بلحاظ روایت (۲) اس حقیقت سے متواتر کہ بغیر انکار اس پر ظہور عمل ہے (خلاصہ) (i) متواتر روایتی (ii) متواتر عملی، کیونکہ اس کا ظہور لوگوں کو اس کی روایت کرنے سے بے نیاز کردیتا ہے۔ اور وہ اس درجہ میں ہے کیونکہ ا س پر عمل کرنا بالکل ظاہر اور واضح ہوگیا، اور اس کے باوجود ائمہ فتوٰی نے اسے بغیر کسی نزاع کے قبول اور تسلیم کیا ہے۔ لہذا اس کے ساتھ نسخ جائز ہے۔ (ت)
 (۱؎ کشف الاسرار عن اصول البزدوی     باب تقسیم الناسخ     دارالکتاب العربی بیروت    ۳ /۱۷۸)
(۱۶۴) نہ سہی تو خود بکر کے مستند فتاوٰی عزیز سے نمبر ۱۵ میں گزرا کہ سجدہ تحیت حرام ہونے پر اجماع قطعی ہے اجماع اگر چہ ناسخ ومنسوخ نہ ہو دلیل نسخ  یقینا ہے کہ :
لاتجتمع امتی علی الضلالۃ ۲؎۔
میری امت گمراہی پر جمع نہ ہوگی۔ (ت)
(۲؎ سنن ابن ماجہ   ابواب الفتن باب السواد الاعظم     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ص۲۹۲)
کشف میں ہے :
الاجماع لاینعقد البتۃ بخلاف الکتاب والسنۃ فلا یتصوران یکون ناسخا لھما ولووجد الاجماع بخلافہا لکان ذٰلک بناء علی نص آخر ثبت عندھم انہ ناسخ للکتاب والسنۃ ۳؎۔
یقینا اجماع کتاب وسنت کے خلاف کبھی منعقد نہیں ہوتا، لہذا یہ تصور نہیں کیا جاسکتا کہ اجماع کتاب وسنت کے لئے ناسخ ہوگا، پھر اگر اجماع ان دونوں کے خلاف پایا جائے تویہ کسی ایسی دوسری نص کی بناء پر ہوگا جو ائمہ کرام کے نزدیک کتاب وسنت کی ناسخ ہوگی۔ (ت)
(۳؎ کشف الاسرار عن اصول البزدوی باب تقسیم الناسخ     دارالکتاب العربی بیروت    ۳ /۱۷۶)
مسلم وفواتح میں ہے :
الاجماع دلیل علی الناسخ کعمل الصحابی خلاف النص المفسر ۴؎۔
 اجماع ناسخ پر دلیل ہے جیسے کسی صحابی کا اپنی نص مفسر کے خلاف عمل کرنا ۔ (ت)
 (۴؎ فواتح الرحموت بذیل المستصفی     باب فی النسخ        منشورات الشریف الرضی قم ایران  ۲ /۸۱)
 (۱۶۵) خبر منسوخ نہونے کا مسئلہ یہاں پیش کرنا سخت جہالت ہے۔ خبر یہ تھی کہ ملائکہ ویعقوب علیہم الصلٰوۃ والسلام نے سجدہ کیا۔ اسے کون منسوخ مانتا ہے کیا واقع غیر واقع ہوسکتا ہے اس خبر سے یہ حکم مستنبط کرتے ہوئے کہ سجدہ تحیت غیر خدا کو جائز ہے یہ حکم اگر تھا تو منسوخ ہوا،
مسلم وفواتح میں ہے :
ھھنا امران الاخبار بتعلق الامر بالخاطبین والامر المتعلق بھم الموجب ولم ینتسخ الخبرلان وقوع الامرواقع ولم یرتفع وانما نسخ الامر المخبر عنہ وھو لیس خبرا فماھو خبر لم ینتسخ وما انتسخ لیس بخبر ۱؎،۔
یہاں دو امر ہیں : ایک یکہ کہ خبر ''امر بالمخاطبین'' سے متعلق ہے۔ دوسری یہ کہ جوامر ان سے متعلق ہے وہ موجب ہے۔ لہذا خبر میں نسخ نہیں اس لئے کہ وقوع امر واقع ہے کہ جس میں ارتفاع ممکن نہ ہو، البتہ امر مخبر عنہ میں نسخ واقع ہوا ہے۔ اور وہ خبر نہیں، لہذا جو خبر ہے وہ منسوخ نہیں اور جو منسوخ ہے وہ خبر نہیں۔ (ت)
 (۱؎ فواتح الرحموت بذیل المستصفٰی     باب فی النسخ جاز نسخ ایقاع الخبر اتفاقا     منشورات الشریف قم ایران ۲ /۷۶)
 (۱۶۶) بکر نے اپنے افتراءات علی اللہ تعالٰی میں زعم کیا تھا ص ۶ ''کہ خدا نے قرآن میں فرمایا تھا
اینما تولوا فثم وجہ اﷲ ۲؎
تم جدھر متوجہ ہو خدا اسی طرف ہے یعنی جس طرف سجدہ کرو خدا ہی کو ہوگا، بعد میں سمت کعبہ مقرر ہوگئی یہ آیت بھی جملہ خبر یہ تھی کس طرح منسوخ ہوگئی۔
 (۲؎ القرآن الکریم   ۲/ ۱۱۵)
 (۱۶۷ تا ۱۷۲) اب باپ بیٹی ۔ بہن بھائی کے نکاح اور دیگر امور مذکورہ نمبر ۱۵۴ کی حرمت کی کوئی راہ نہ رہی کہ وہ تمام آیات اخبار ہی تھیں اور ''اخبار منسوخ نہیں ہوتے''

(۱۷۳) بلکہ یہ سب زائد حاجت ہے ہم ثابت کرچکے کہ اس سجدہ تحیت کا جواز نص کا حکم نہیں، ہوگا تو قیاس سے قیاس مجتہدین پر ختم ہوگیا۔
 (۱۷۴) قیاس بھی سہی تو سجدہ غایت تعظیم ہے۔ خود بکر نے ص ۵ پر کہا'' تعطیم کا اظہار ا س سے زیادہ انسان اور کسی صورت سے نہیں کرسکتا'' ص ۱۱ آخری تعظیم ہے جو حقیقت میں عبادت کی آخری شان ہے'' اور غایت تعظیم کے لئے نہایت عظمت درکار، کم درجہ معظم کے لئے انتہا درجہ کی تعظیم ظلم صریح ہے اور اعلی معظمین کے حق میں دست اندازی ع
گرفرق مراتب نکنی زندیقی
 (اگر تم مراتب کافرق ملحوظ نہ رکھوگے تو نری بے دینی ہوگی۔ ت)

مخلوق میں نہایت عظمت انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام کےلئے ہے آدم ویوسف علیہما الصلٰوۃ والسلام دونوں نبی تھے تو غیر انبیاء مشائخ ومزارات کو ان پر قیاس کرکے ان کے لئے سجدہ تعظیمی بتانا ظلم شدید ہے اور انبیاء کا حق تلف کرنا۔
 (۱۷۵) یہ سب اسے شریعت سابقہ مان کرہے۔ ہم بیان کرچکے کہ سرے سے اسی کا ثبوت نہیں اب نہ حکم ثابت نہ نسخ کی حاجت سجدہ آدم کا حکم بشر کونہ تھا ملائکہ کے لئے اب بھی ہو تو ہمیں کیا، سجدہ یوسف بربنائے اباحت اصلیہ ہونا ممکن اوراباحت اصلیہ کارفع نسخ نہیں، 

مسلم الثبوت میں ہے :
رفع مباح الاصل لیس بنسخ ۱؎۔
اصل اباحت کا اٹھ جانا نسخ نہیں۔ (ت)
(۱؎ مسلم الثبوت   باب فی النسخ     مسئلہ اجمع اہل الشرائع علی جواز عقلا     مطبع انصاری دہلی    س۱۶۳)
اس طرح کشف الاسرار میں ہے تو ارشاد
حدیث لاتفعلوا ۲؎
(ایسا نہ کرو۔ ت) واجب القبول اور سجدہ تحیت کا حرام ہونا ہی حکم خدا ورسول
جل وعلا وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔ واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
(۲؎ سنن ابی داؤد   کتاب النکاح باب حق الزوج علی المرأۃ    آفتاب عالم پریس لاہور    ۱ /۲۹۱)

(سنن ابن ماجہ ابواب النکاح    باب حق الزوج علی المرأۃ   ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ص۱۳۴)
رسالہ

"" الزبدۃ الزکیۃ تحریم سجود التحیۃ ""

ختم شد
Flag Counter