Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۲(کتاب الحظر والاباحۃ)
105 - 146
 (۱۳۸) وہ جو ص ۲۱ پر بحوالہ لطائف مرصاد سے نقل اور ص ۲۲ پر اس کا ترجمہ کیا کہ ''مشائخ کے سامنے جو سجدہ کیاجاتاہے یہ سجدہ نہیں بلکہ تعظیم ہے اپنے معبود کے نور کی جو مشائخ میں جلوہ فگن ہوتا ہے'' یہ بھی وہی سارے گھر کا ستیاناس لگالینا ہے۔ یہ عبارت لطائف کا ساتواں فائدہ ہے مشائخ کو سجدہ کہ مشائخ کے سامنے سجدہ رہ گیا اب کسے روئیں گے۔ وہ چھتیس جگہ لام اور را اور کو جو نمبر ۱۳۴ میں گزرے۔
 (۱۳۹) مگریہ بھی وقتی بول ہے کہ منہ سے نکل گیا۔ ہر گز یہ بکر کے دل کی نہیں کہ مشائخ کو سجدہ تحیت نہ ہو صرف اس کے سامنے ہو۔ نہ ہر گز یہ اس کے فاعلوں کی نیت ہوتی ہے بلکہ یقینا مشائخ ومزارات ہی کو سجدہ کرتے اور اسی کا قصد رکھتے اور اسی پر لڑتے جھگڑتے ہیں تو بکر پر
یقولون بافواھھم مالیس فی قلوبھم ۱؎
 (وہ اپنے مونہوں سے وہ کچھ کہتے ہیں جوان کے دلوں میں نہیں۔ ت)  صادق، ع

منہ سے کہتے ہیں جو دل میں نہیں
 (۱؎ القرآن الکریم     ۳ /۱۶۷)
(۱۴۰) جب یہ ٹھہری کہ سجدہ مشائخ کو نہیں وہ صرف سمت ہیں اور سجدہ اللہ تعالٰی عزوجل کو، تواب سجدہ عبادت وتحیت کا تعدد وباطل، کیا اللہ کو کبھی سجدہ معبود سمجھ کر ہوگا وہ سجدہ عبادت ہے اور کبھی بغیر معبود سمجھے وہ سجدہ تحیت ہے حاشا اسے ہر سجدہ معبود ہی جان کر ہوگا تو صرف سجدہ عبادت رہ گیا سجدہ تحیت خود ہی باطل ہوا اور صفحہ ۵، ۶، ۷ وغیرہا کی ساری لفاظیاں باطل ولغو ہوگئیں۔

(۱۴۱) لغو ہی نہیں بلکہ مراد بکر پر پانی پھر گئیں۔ جب ہر سجدہ سجدہ عبادت ہے اور اسے اقرار ہے کہ سجدہ عبادت کے لئے اللہ تعالٰی نے کعبہ کو سمت ٹھہرایا ہے تو مشائخ یا مزارات کو اس کی سمت بنانا اللہ عزوجل سے صریح مخالفت وحرام ہے۔
 (۱۴۲) اب شرائع سابقہ اور نسخ اور قطعی وظنی کا سب جھگڑا خود ہی چکا دیا اللہ عزوجل قرآن عظیم میں فرماچکا:
حیث ماکنتم فولوا جوھکم شطرہ ۲؎۔
تم جہاں کہیں ہو کعبہ ہی کو منہ کرو۔
 (۲؎ القرآن الکریم   ۲/ ۱۴۴ و ۱۵۰)
تو جس طرح اس آیت سے بیت المقدس کا قبلہ منسوخ ہوگیا اور جو اس طرف نماز کا قصد کرے مستحق جہنم ہے یونہی آدم ویوسف علیہما الصلٰوۃ والسلام کے یہاں جو معظمین دین کو سمت بنانا تھا وہ بھی بعینہٖ اسی آیت سے منسوخ ہوگیا اور مشائخ ومزارات کو سمت بنانے والا حکم الٰہی کا مخالف ومستحق نار ہواجیسے کوئی بہن سے نکاح کرے اس سند سے کہ شریعت آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام میں جائز تھا۔ واقعی علی نفسہا تجی براقش۔
 (۱۴۳) اب وہ بیہودہ قیاس کہ ''کیا پتھروں کا بناہوا کعبہ الخ '' خود ہی مرردود ہوگیا نص قطعی کے مقابل قیاس کار ابلیس ہے کہ:
انا خیر منہ خلقتنی من ناروخلقتہ من طین ۱؎۔
میں اس (آدم) سے بہترہوں کیونکہ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے (آدم کو) کیچڑ سے پیدا کیا ۔(ت)
 (۱؎ القرآن الکریم    ۷ /۱۲ و ۳۸ /۷۶)
 (۱۴۴) اور وہ قیاس میں کتنا اوندھا، پھتروں کا بناہوا بے جان کعبہ تو اعلٰی سجدے سجدہ عبادت کی سمت حقیقی ہو اور خلیفہ اللہ زندہ خزانہ انوار الٰہی ادنٰی سجدے سجدہ تحیت کی بھی سمت حقیقی نہ بن سکے صرف مجازی ہویہ قیاس صحیح ہوتا تو عکس ہوتا۔

(۱۴۵) جب سجدہ مشائخ کی طرف ہے تو سمت حقیقۃ متحقق موجود مشاہد کو مجازی ماننا کن آنکھوں کا کام ہے۔ 

(۱۴۶) جو آنکھیں مشاہدات کو مجازی مانیں ان سے اس کی کیا شکایت کہ کعبہ ان پتھروں سے بنے ہوئے مکان کا نام نہیں ورنہ پہاڑوں اور کنویں میں نماز باطل ہو ہاں کرشن مت میں کعبہ کی حقیقت اتنی ہی ہوگی کہ پتھر کا گھر جیسے مندر کی مو ر تیں
 (۱۴۷) اس بیہودہ قرارداد و بیمعنٰی قیاس کلام حضرت سلطان المشائخ رضی اللہ تعالٰی عنہ کا رد کردیا ہ۔ عبارت سیر الاولیاء کہ بکر نے ص ۱۹ پر جس کا حوالہ دیا قصہ سیاح کے بعداس کی ابتداء یوں ہے:
بعد فرمود معہذا درپیش من روئے برزمین می آورند من کارہ ام۔
اس کے بعد فرمایا اس کے باوجود لوگ میرے سامنے اپنے چہرے زمین پر رکھ دیتے ہیں۔ لیکن میں اس کو ناپسند کرتا ہوں۔ (ت)
جب یہ سجدہ اللہ ہی کو ہے خدا کے سجدے کو برا سمجھنا کیا معنٰی، اپنے سمت بنے کو براجاننا کس لئے کیا ''پتھروں کا کعبہ سمت سجدہ ہوسکتا ہ ے۔ اور خلیفۃ اللہ اور انوار الٰہی کا زندہ خزانہ نہیں ہوسکتا، اگر وہ اپنے آپ کو کزانہ انور الٰہی نجانتے تھے تو منع کیوں نہیں فرماتے تھے، یہ کیا حجت ہوئی کہ ص ۱۹ ''اپنے شیخ کے ہاں ایسا دیکھا ہے'' شیخ تو خزانہ انوار الٰہی تھے یہاں منع کرنے کو معاذاللہ وہاں کی تجہیل و تفسیق سے کیا علاقہ۔
 (۱۴۸) صدر کلام سے حضرت محبوب الٰہی رضی اللہ تعالٰی عنہ کا سجدہ تحیت سے کارہ ہونا اڑادیا ۔ یہ خیانت کی فہرست میں اضافہ ہے۔

(۱۴۹) یہی رد عبارت لطائف کا کرلیا خود ص ۲۱ حضرت مخدوم سید اشرف جہانگیر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے عالم کے سوال اور حضرت کے ارشاد کا ترجمہ کیا ''ایک مولوی صاحب نے مخدوم سے سوال کیا یہ سجدہ نامشروع ہے مخدوم نے فرمایا میں نے بار ہا منع کیا اور اس حرکت سے روکا ہے یہ باز نہیں آتے۔ اللہ کو سجدے سے روکنا اور بار بار منع کرنا اور بکر صاحب کا ترجمہ میں اسے حرکت کہنا کیا معنٰی!
 (۱۵۰) عالم نے کہا یہ سجدہ نا مشروع ہے حضرت مخدوم نے اس پرانکار نہ فرمایا بلکہ اور تائید فرمائی کہ میں نے تو بارہا منع کیا ہے معلوم ہوا کہ حضرت مخدوم بھی اسی پر سجدہ کو نامشروع جانتے تھے ورنہ حق سے سکوت درکنار باطل کی تائید نہ فرماتے۔ یہ عبارت لطائف کا اٹھواں فائدہ ہوا، وجہ دوم میں یہ ۱۴ نمبر اس وجہ پر زائد تھا مکر اصل مبحث کے کمال مؤید کہ بکر کے ہاتھوں
''یخربون بیوتھم بایدیھم ''
آشکار ہوا اپنے ہاتھوں اپنا گھرویران کرتے ہیں۔ رہا
وبایدی المؤمنین
اور مسلمانوں کے ہاتھوں یہ اوپر کے گزشتہ وآئندہ کے کثیر نمبروں سے آشکار
فاعتبروایا اولٰی الابصار ۱؎
 (پھر نصیحت اور پند پذیر ہو  ا ے نگاہیں رکھنے والو!۔ ت)
 (۱؎ القرآن الکریم  ۵۹ /۲)
 (۱۵۱) وجہ سوم: آیت سورہ یوسف علیہ الصلٰوۃ والسلام میں ایک وجہ نفیس اورہے جس سے سمت بنانا بھی برقرار نہیں رہتا، ابن عبا بن ابی رباح استاذ سیدنا اما م اعظم ابوحنیفہ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہم سے روایت فرماتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا معنی آیت یہ ہے کہ یوسف کے پانے پر اللہ تعالٰی کے لئے سجدہ شکر کیا، امام فخر الدین رازی تفسیر کبیر میں فرماتے ہیں میرے نزدیک آیت کے یہی معنٰی متعین ہیں یعقوب علیہ الصلٰوۃ والسلام کا یوسف علیہ الصلوٰہ والسلام کو سجدہ کرنا از بس بعید ہے اور یوسف علیہ الصلوٰہ والسلام کا اسے روا رکھنا ان کے دین وعقل سے مستبعد کہ باپ اور بوڑھے اور نبی اللہ اور علم دین وردرجات نبوت میں ان سے زیادہ اور وہ الٹا انھیں سجدہ کریں، تفسیر کبیر کی عبارت یہ ہیں :
وھو قول ابن عباس فی روایۃعطاء ان المراد بھذہ الاٰیۃ انھم خروالہ ای لا جل وجد انہ سجد ﷲ تعالٰی و حاصل الکلام ان ذٰلک السجود کان سجود الشکر فالمسجود لہ ھو اﷲ تعالٰی الا ان ذٰلک السجود انما کان لاجلہ، وعندی ان ھذالتاویل متعین لانہ لایستبعد من عقل یوسف و ودینہ ان یرضی بان یسجد لہ ابوہ مع سابقتہ فی حقوق الابوۃ و الشیخوخۃ والعلم والدین وکمال النبوۃ ۱؎۔
پہلی بات اور وہ عبدالہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما کا ارشا دہے بروایت عطا بن ابی رباح رضی اللہ تعالٰی عنہم کے اس آیۃ اخروالہ سجدا سے مراد یہ ے کہ وہ سب حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ والسلام کے پالینے کی نعمت پر اللہ تعالٰی کے لئے سجدہ ریز ہوئے۔ لہذا خلاصہ کلام یہ ہے کہ وہ سجدہ تو اللہ تعالٰی کے شکر ادا کرنے کا سجدہ تھا لہذا اس میں ''مسجودلہ'' (وہ جس کے لئے سجدہ کیا جائے'' اللہ تعالٰی ہے۔ البتہ وہ سجدہ حضرت یوسف کی وجہ سے تھا یعنی ان کو پالینے کی خوشی میں اللہ تعالٰی کا شکر ادا کرتے ہوئے اس کے لئے سجدہ بجالایا گیا اور میرے (یعنی امام فخر الدین رازی کے) نزدیک یہی تاویل و توجیہ متعین ہے۔ کیوں؟ اس لئے کہ حضرت یوسف کی ذہانت او رکمال عقل اور صاحب دین ہونے کی وجہ سے یہ بعید ہے کہ وہ اس بات پر راضٰ ہوجائیں کہ ان کے بوڑھے باپ جو حقوق ابوت (پدری حقوق) مقام نبوت، بڑھاپے، علم اور دین اور ان تمام اوصاف میں) ان سے درجہ اولویت اور سبقت رکھتے ہوں، ان کے آگے سجدہ کریں۔ (ت)
 (۱؎ مفاتیح الغیب (التفسیر الکبیر)     تحت آیۃ ۱۲ /۱۰۰     المطبعۃ البہیۃ المصریۃ مصر    ۱۸ /۲۱۲)
پھر فرمایا:
الوجہ الخامس لعل التحیۃ فی ذٰلک الوقت ھوا لمسجود وھذا فی غایۃ البعد لان المبانعۃ فی التعظیم کانت الیق بیوسف منھا یعقوب علیھما الصلٰوۃ والسلام فلو کان الامر کما قلتم لکان من الواجب ان یسجد یوسف یعقوب علیہما الصلٰوۃ والسلام ۲؎۔
پانچویں وجہ: اس دورمیں، شائد تعظیم کے لئے سجدہ ہوا کرتا تھا (اور جو کچھ مروی ہوا) یہ عقل ہے انتہائی بعید ہے کیونکہ تعظیم میں مبالغۃ اختیار کرنا حضرت یوسف کے زیادہ لائق اور مناسب تھا کہ وہ اپنے والدبزرگوار حضرت یعقوب علیہ الصلٰوۃ والسلام کے لئے کرتے، لہذا اگر معاملہ اب ایسا ہے جیسا کہ تم نے کہا تو پھر حضرت یوسف کے لئے واجب تھا کہ وہ اپنے والد گرامی حضرت یعقوب علیہما الصلٰوۃ والسلام کو سجدہ کرتے۔ (ت)
 (۲؎مفاتیح الغیب (التفسیر الکبیر)     تحت آیۃ ۱۲ /۱۰۰     المطبعۃ البہیۃ المصریۃ مصر    ۱۸ /۲۱۳)
Flag Counter