Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۲(کتاب الحظر والاباحۃ)
104 - 146
(۱۳۴) بکر ص ۵ پر اس سے بچاؤ کے لئے زعم کہ سجدے کی صورت سوائے موجودہ شکل کے اور کوئی نہیں ہے۔ اور بعض غیرمسلم اقوام میں جو سجدہ کی تعریف ہے وہ اسلامی سجدہ نہیں بلکہ رکوع کے مشابہ ہے'' سخت جہالت ہے کیا امام اجل محمد بن تابعی تلمیذ ام المومنین صدیقہ وعبداللہ بن عباس وعبداللہ بن عمر وابوہریرہ وجابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہم وامام جلیل احد التابعین ابن جریح تلمیذ امام ہمام جعفر صادق واستاد الاستاذ امام شافعی رحمہم اللہ تعالٰی اور امام محی السنۃ بغوی وامام فخر الدین رازی وامام خازن وامام جلال الدین المحلی وامام جلال الدین سیوطی وغیرہم اکابر معاذاللہ غیر مسلم اقوام سے ہیں یا اصطلاحات کفار سے قرآن عظیم کی تفسیر کرتے ہیں۔
 (۱۳۵) سجدہ تلاوت کہ نماز میں واجب ہو فورا بشکل رکوع بھی ادا ہوجاتاہے یونہی رکوع نماز میں اس سجدہ کی نیت کرنے سے جبکہ چار آیت کا فصل دے کرنہ ہو، اور ایک روایت میں بیرون نماز بھی اس سجدہ میں رکوع کافی ہے۔ تنویر الابصار ودرمختار میں ہے  :
 (تودی) برکوع وسجود ) غیر رکوع الصلٰوۃ و سجودھا (فی الصلٰوۃ لھا) ای للتلاوۃ و تودی (برکوع صلٰوۃ علی الفور ) ۲؎۔
جو سجدہ تلاوت کو نماز میں تلاوت کی وجہ سے واجب ہو وہ نماز کے رکوع، سجدہ کے علاوہ الگ رکوع اور سجدہ سے ادا کیا جاسکتاہے لیکن اگر نماز میں ایک دو، یا تین آیتیں پڑھنے سے فورارکوع کیا تو سجدہ تلاوت اس سے بھی ادا ہوجائے گا بشرطیکہ رکوع میں اسے ادا کرنے کی نیت کرے۔ (ت)
 (۲؎ الدرالمختار         کتاب الصلٰوۃ     باب سجود التلاوۃ     مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۱۰۵)
ردالمحتار میں ہے :
وروی فی غیر الظاھر ان الرکوع ینوب عنہا خارج الصلٰوۃ ایضا ۱؎۔
غیر ظاہر روایت میں مروی ہے کہ رکوع بیرون نماز سجدہ تلاوت کے قائم مقام ہوجاتاہے۔ (ت)جہالت سے شرعی احکام کو غیر اسلامی کردیا۔
 (۱؎ ردالمحتار     کتاب الصلٰوۃ      باب سجود التلاوۃ     دارحیاء التراث العربی بیروت    ۱ /۵۱۸)
(۱۳۶) وجہ دوم :  اگر یہ سجدہ مشہور تھا تو ائمہ کو اس میں اختلاف ہے کہ سجدہ آدم ویوسف کو تھا یا سجدہ اللہ عزوجل کو اور آدم ویوسف قبلہ، ابن عساکر وابوابراہیم مزنی سے راوی :
انہ سئل عن سجود الملئکۃ لآدم فقال ان اﷲ جعل آدم کالکعبۃ ۲؎۔
یعنی ان سے سجدہ ملائکہ کے بارے میں استفسار ہوا، فرمایا اللہ عزوجل نے آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام کو کعبہ کی طرح کردیا تھا۔
 (۲؎ الدرالمنثور   بحوالہ ابن عساکر     تحت آیۃ واذقلنا للملائکۃ اسجدوالآدم الخ     قم ایران    ۱ /۱۵۰)
معالم وخازن وغیرھما میں ہے :
وقیل معنی قولہ اسجدوا لاٰدم ای الی آدم فکان آدم قبلۃ والسجود ﷲ تعالٰی کما جعلت الکعبۃ قبلۃ للصلٰوۃ والصلٰوۃ ﷲ تعالٰی ۳؎۔
یعنی بعض نے کہا معنی آیت یہ ہیں کہ آدم کی طرف سجدہ کرو تو آدم قبلہ تھے اور سجدہ اللہ تعالٰی کو۔ جیسے کعبہ نماز کا قبلہ ہے اور نماز اللہ تعالٰی کے لئے۔
 (۳؎ معالم التنزیل علی ہامش تفسیر الخازن     تحت آیۃ ۲/ ۳۴   مصطفی البابی مصر    ۱ /۴۸)
نیز سورہ یوسف میں ہے :
وروی عن ابن عباس معناہ خروالہ عزوجل۔ سجدا بین یدی یوسف والاول اصح ۴؎۔
ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت ہے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالٰی کے لئے یوسف کے سامنے سجدہ میں گرے، اور اول زیادہ صحیح ہے۔
 (۴؎معالم التنزیل علی ہامش تفسیر الخازن     تحت آیۃ ۱۲ /۱۰۰    مصطفی البابی مصر   ۳ /۳۱۷)
امام رازی نے تفسیر کبیر میں اس قول دوم کی تحسین کی۔
حیث قال الوجہ الثانی انھم جعلوا یوسف کالقبلۃ وسجدوا  ﷲ شکرا لنعمۃ وجدانہ وھذا التاویل حسن فانہ یقال صلیت للکعبۃ کما یقال صلیت الی الکعبۃ قال حسان ع

الیس اول من صلی لقلبتکم ۱؎۔
جیسا کہ امام رازی نے فرمایا یا کہ دوسری وجہ یہ ہے کہ انھوں نے حضرت یوسف کو قبلہ کی طرح ٹھہرایا تھا (یعنی ان کی طرف سجدہ کیا) لیکن سجدہ اللہ تعالٰی کےلئے کیا تھا حضرت یوسف کو پالینے کی نعمت کا شکراداکرتے ہوئے ۔ اور یہ توجیہ اچھی ہے کیونکہ صلیت للکعبۃ کہا جاتا ہے جیسا کہ صلیت الی الکعبۃ کہا جاتاہے یعنی دونوں میں کوئی فرق نہیں یعنی میں نے کعبہ کی طرف نماز پڑھی) اور حضرت حسان نے فرمایا ع کیا وہ پہلا شخص نہیں جس نے تمھارے قبلہ کے لئے یعنی اس کی طرف نماز پڑھی۔ (ت)
 (۱؎ مفاتیح الغیب (التفسیر الکبیر)     تحت آیۃ۱۲ /۱۰۰     المطبعۃ البہیۃ المصریۃ مصر    ۱۸ /۲۱۲)
اورظاہر ہے کہ اس تقدیر پر محل نزاع سے خارج ہے نزاع اس میں ہے کہ غیر خدا کو سجدہ تعظیمی کیاجائے ص ۴ پر تحریر بکر کا سرنامہ: ''پیروں اور مزاروں کو تعظیمی سجدہ'' ص ۵ ''عبادت کے سجدے اور تعظیم کے سجدے میں بہت فرق ہیں عبادت کا سجدہ غیر خدا کو کرنے کی ممانعت فرمائی'' ص ۶ ''عبادت کا سجدہ غیر خدا کو جائز نہیں اور غیر مقر ر سمت کے جائز ہیں'' ص ۷ '' تعظیمی سجدے کے خلاف قرآن خاموش ہے نہ یہ کہتاہے کہ غیر خدا کو سجدہ کرو نہ یہ کہ غیر خدا کو سجدہ نہ کرنا'' ص ۷ و ۸'' وہ آیت کہ سجدہ نہ کرو سورج اور چاند کو اس میں غیر انسان کے سجدہ کا ذکر ہے اور گفتگو سجدہ انسانی میں ہے'' ص ۸ ''صحابہ نے عرض کیایا رسول اللہ! آپ کو جانور اور درخت سجدہ کرتے ہیں '' ص ۱۱ خدا کی مرضی تھی کہ کلافت کی تعظیم وہی ہو جو میری، اس واسطے آدم کو سجدہ کرایا'' ص ۱۵'،' مسجود خلائق کسی بندہ کے حق میں لکھتے ہیں یا کسی خدا کے '' ص ۱۶ ''ہر حاضر ہونے والا آپ کو سجدہ تعظیمی کرتا تھا'' ص۱۷ سیرالاولیاء سے :
درامم ماضیہ رعیت مربادشاہ راوامت مرپیغمبر راسجدہ می کردند ۲؎۔
پہلی امتوں میں رعیت بادشاہ کو امت پیغمبر کو سجدہ کرتی تھی۔
 (۲؎ سیرالاولیاء  باب ششم     مؤسستہ انتشارات اسلامی لاہور    ص۳۵۱)
لطائف سےـ :
القوم للنبی والمرید للشیخ والرعیۃ للملک والولد للوالدین والعبد للمولٰی ۳؎۔
قوم، پغمبر کو، مرید، پیرکو، رعیت، بادشاہ کو ، بیٹا والدین کو، اور غلام آقا کو سجدہ کیاکرتے تھے (ت)
 (۳؎ لطائف اشرفی فی بیان طوائف موتی     لطیفہ ہفدہم     مکتبہ سمنانی کراچی    حصہ دوم ص ۹٭)
صفحہ ۲۱ : سجد الرجل للسلطان ولغیرہ یرید بہ التحیۃ لایکفر ۱؎۔
کسی شخص نے بادشاہ یا کسی اور کو سجدہ کیا کہ جس سے اس کی تعظیم مراد تھی تو وہ (اس کام سے کافرنہ ہوگا۔
 (۱؎ لطائف اشرفی فی بیا ٭٭ طوائف صوفی    لطیفہ ہفدہم    مکتبہ سمنعانی کراچی حصہ دوم ص۲۹)
صفحہ ۲۲ ''سجدہ تحیت آدمی کے لئے ہے سجدہ عبادت خدا کے لئے'' ایضا، سجدہ تحیت نبی کے لئے ، پیر کے لئے ، بادشاہ کے لئے، والدین کے لئے، آقا کے لئے، ایضا ''بادشاہ کو سجدہ کیا یا اور کسی کو اور تعظیم کی نیت ہوئی تو کافر نہیں '' ص ۲۳ '' سجدہ تعظیمی تمام بزرگوں کو کیا جاتاتھا'' ایضا ''بزرگوں کو تعظیمی سجدہ '' ص ۲۴ ''مزاروں کو سجدہ'' غرض اول تا آخر تحریر بکر شاہد اور خود ہر شخص آگاہ غیر خدا کو سجدہ کرنے میں کلام ہے نہ کہ غیر کی طرف، کعبہ کی طرف ہر مسلمان سجدہ کرتا ہے اور کعبہ کو سجدہ کرے تو کافر۔
 (۱۳۷) بکر نے بعلت عادت خودکشی کہ
اوھوفی الخصام غیر مبین o
 (وہ کھل کر واضح طور پر جھگڑا لو نہیں۔ ت) ص ۱۰ پر ''سجدہ کی مجازی وحقیقی سمت '' کی سرخی دے کر اپنی اگلی پچھلی ساری کاروائی خاک میں ملائی نافع ومضر میں بے تمیزی اس پر لائی کہ وہی قول مان لیا جس پر سجدہ آدم کو سجدہ نزاعی سے کچھ تعلق نہ رہا اور اسی کو اپنے مزعوم سجدہ کا مطلب قرار دیا تصریح کردی کہ ''درحقیقت آدم کا سجدہ نہ تھا بلکہ وہ خدا کی جانب سجدہ تھا آدم محض ایک سمت تھے جیسا کعبہ ہمارے سجدوں کی سمت ہے تو کیا پتھروں کا بناہوا کعبہ تو سمت سجدہ ہوسکتا ہے اور آدم کا وجود جو خلیفہ اللہ اور انوار الٰہی کا زندہ خزانہ ہے سجدہ کی سمت نہیں ہوسکتا بالکل عیاں ہے کہ کعبہ کی طرح آدم بھی سجدہ تعظیمی کی سمت مجازی ہے''
چلے فراغت شہ سارا دفتر گاؤں خورد
 (سارا دفتر گائے کے کھالیا۔ ت) جس شخص کویہ تمیزنہ ہو کہ اس کے سرمیں کیا ہے اور منہ سے کیا نکلتاہے یہ ادراک نہ ہوکہ وہ اپنا گھر بناتایا یکسر ڈھارہا ہے اس کا مدارک علیہ میں دخل دینا عجب تماشا ہے۔
Flag Counter