Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۲(کتاب الحظر والاباحۃ)
103 - 146
فصل چہارم آدم ویوسف علیہما الصلٰوۃ والسلام کی بحث 

اور دلائل قاہرہ سے بطلان استدلال مجوزین کا ثبوت
مجوزین کے ہاتھ میں لے دے کر جو کچھ سند ہے یہی ہے اور اسے یوں رنگتے ہیں کہ قرآن عظیم سے ثابت ہوا کہ یہ شریعت آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام ویوسف کا حکم تھا اور شرائع سابقہ قطعا حجت ہیں جب تک اللہ ورسول انکار نہ فرمائیں اور یہاں انکار نہیں تو قرآن عظیم سے قطعا جواز ہے اور یہ حکم تاقیامت باقی ہے کہ اول تو یہ خبر ہے اور خبر منسوخ نہیں ہوسکتی اور ہو تو قطعی کاناسخ قطعی چاہئے وہ یہاں مفقود اور حدیث احادنا مسموع ومردود، یہ ہے وہ جسے بکر نے طویل تقریرات پریسان میں بیان کیا نصف ص ۱۱ سے اخیر ص ۱۲ تک اور ص ۹ میں ۵ سطریں ص ۲۴ میں ۹ سطریں نیز ص ۴ و ۵ میں ۱۲ سطریں اسی کی تکمیل ہیں  غرض ڈیڑھ ورق سے زائد میں یہی ہے بلکہ اس انضباط سے ہے بھی نہیں جو ہم نے ان دو سطروں میں کردیا مگر یہ حقیقۃ نسج العنکبوت سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا اس میں ایک فقرہ بھی صحیح نہیں جیسا کہ بعونہ تعالٰی ابھی مشاہدہ ہوگا۔
 (۱۳۰) اگر دین وعقل وادب ائمہ نصیب ہو اگر آدمی آئینہ میں اپنا منہ دیکھے اگر چادر سے زیادہ پاؤں پھیلانے کو شناخت جانے، اگر ہلدی کی گرہ پر پنساری نہ بننے تو اتنا ہی دیکھنا بس تھا کہ قرآن کریم کی یہ آیتیں ائمہ دین وجماہیر اولیائے کاملین رضی اللہ تعالٰی عنہم سے مخفی نہ تھیں حجت شرائع سابقہ ونسخ وفرق قطعی و ظنی کے مسائل یقینا ان کے پیش نظر تھے آخر انھوں نے سجدہ تحیت کی تحریم وممانعت کچھ دیکھ بھال ہی کررکھی ہوگی یا ایسے پیش یا افتادہ اعتراضوں کی ان میں کسی کو سوجھ نہ ہوئی کیا وہ سب کے سب تم سے بھی علم وفہم عقل ودین میں گئے گزرے تھے۔
 (۱۳۱) جانے دو ردالمحتار وفتاوٰی قاضی خاں پر تمھارا ایمان ہے کہ ص ۱۲ ''نہایت مشہور معتبر کتابیں ہیں قرآن وحدیث کے غور واحقاق کے بعد ان کو مرتب کیا ہے'' ہم نے انھیں کتابوں سے دکھادیا کہ سجدہ تحیت کم از کم حرام وگناہ کبیرہ ہے اور سوئر کھانے سے بھی بدتر، قرآن مجید میں سجدہ آدم ویوسف علیہما الصلٰوۃ والسلام کی آیتیں انھیں نہ سوجھیں تو خاک غور واحقاق کیا، یہ بھی جانے دواسی غور واتحقاق والی رد المحتار سے اس تمام بے سروپا تقریر کا خاص رد لو،
ردالمحتار کی جلد پنجم کتاب الحظروالاباحۃ میں قبیل فصل فی البیع ہے :
اختلفوا فی سجود الملٰئکۃ قبل کان ﷲ تعالٰی والتوجہ الٰی آدم للتشریف کاستقبال الکعبۃ وقیل بل لاٰدم علی وجہ التحیۃ والاکرام ثم نسخ بقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لوامرت احدا  ان یسجد لاحد لامرت المرأۃ ان تسجد لزوجھا تاترخانیۃ قال فی تبیین المحارم والصحیح الثانی ولم یکن عبادۃ لہ بل تحیۃ واکراما ولذا امتنع عنہ ابلیس وکان جائزا فیما مضی کما فی قصۃ یوسف قال ابومنصور الماتریدی وفیہ دلیل علی نسخ الکتاب بالسنۃ ۱؎۔
یعنی سجدہ ملائکہ میں علماء  کواختلاف ہو ا بعض نے کہاسجدہ اللہ تعالٰی کے لئے تھا اور آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام کے اعزاز کے لئے منہ ان کی طرف تھا جیسے کعبہ کو منہ کرنے میں ہے اور بعض نے کہا بلکہ سجدہ ہی آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام کو تحیت وتکریم کے طور پر تھا پھر اس حدیث سے منسوخ ہوگیا کہ اگر میں کسی کوسجدہ کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ شوہر کو سجدہ کرے یہ تاتارخانیہ میں ہے، اور تبیین المحارم میں فرمایا صحیح قول دوم ہے اور یہ ان کی عبادت نہ تھا بلکہ تحیت وتکریم، ولہذا ابلیس اس سے باز رہا اور سجدہ تحیت اگلی شریعتوں میں جائز تھا جیسا کہ قصہ یوسف علیہ الصلٰوۃ ولسلام میں ہے۔ امام اجل علم الہدٰی امام اہلسنت سیدنا ابومنصور ماتریدی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا اس پر دلیل ہے کہ حکم قرآن حدیث سے منسوخ ہوجاتاہے انتہی۔
 (۱؎ ردالمحتار        باب الاستبراء وغیرہ     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵ /۲۴۶)
للہ انصاف ، اس پر غور واحقاق قرآن والی مشہور کتاب نے آپ کا کوئی فقرہ کسی فقرے کا کوئی تسمہ لگا رکھا وللہ الحمد۔
 (۱۳۲) اگر بکر ربقہ تقلید گردن سے نکال کر خود محقق بن کر یہ استدلال کرے تو استغفراللہ، کیا امکان ہےکہ ایک حرف چل سکے۔
فاقول: وباﷲ التوفیق
 (پس میں کہتاہوں اللہ تعالٰی کی توفیق کے ساتھ ۔ ت) اولا سرے سے اس کا آدم یا یوسف یا کسی نبی علیہم الصلٰوۃوالسلام کی شریعت ہونے ہی کا ثبوت دے اور ہر گز نہ دے سکے گا۔ آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام کی آفرینش سے پہلے رب عزوجل نے یہ حکم ملائکہ کو دیا تھا۔
فاذا سویتہ ونفخت فیہ من روحی فقعوالہ سٰجدین ۱؎
،جب میں اسے ٹھیک بنالوں اور اس میں اپنی طرف کی روح پھونک دوں اس وقت تم اس کے لئے سجدہ میں گرنا۔
 (۱؎القرآن     ۱۵ /۲۹ و ۳۸ /۷۲)
تو اس وقت نہ کوئی نبی تشریف لایا تھا نہ کوئی شریعت اتری، ملائکہ وبشر کے احکام جداہیں جو حکم فرشتوں کو دیا گیا وہ شریعت میں من قبلنا (جو انبیاء ہم سے پہلے گزرے ، ان کی شریعت ۔ ت)نہیں، قصہ یوسف علیہ الصلٰوۃ والسلام سے اتنا ثابت کہ شریعت یعقوب علیہ الصلٰوۃ والسلام میں سجدہ تحیت کی ممانعت نہ تھی کہ انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام فعل ممنوع نہیں کرتے، ممانعت نہ ہونا دونوں طرح ہوتاہے یا تو ان کی شریعت میں اس کے جوازکا حکم ہویہ اباحت شرعیہ ہوگی کہ حکم شرعی ہے یا ان کی شریعت میں اس کا کچھ ذکر نہ آیا ہو تو جو فعل جب تک شرع منع نہ فرمائے مباح ہے یہ اباحت اصلیہ ہوگی کہ حکم شرعی نہیں بلکہ عدم حکم ہے۔ اور جب دونوں صورتیں محتمل تو ہر گز ثابت نہیں کہ شریعت یعقوبیہ میں اس کی نسبت کوئی حکم تھا تو شریعت میں من قبلنا ہونا کب ثابت، بحمدہٖ تعالٰی شبہ کا اصل معنی ہی ساقط۔
 (۱۳۳) ثانیا قرآن عظیم سے سجدہ مبحوث عنہا ( جو زیر بحث ہے۔ت) کا جواز قطعا ثابت ہونابوجوہ باطل:

وجہ اول : علماء کو اختلاف ہے کہ یہ سجدہ زمین پر سررکھنا تھا یا صرف جھکنا ، سرخم کرنا،

ابوالشیخ کتاب العظمہ میں امام محمد بن عبادبن جعفر مخرومی سے راوی :
قال کان سجود الملئکۃ لاٰدم ایماء ۱؎۔
آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام کی ملائکہ کا سجدہ اشارہ تھا۔
 (۱؎ الدرالمنثور بحوالہ ابی الشیخ فی العظمۃ     عن محمد بن عباد تحت آیۃ    ۲/ ۳۴     مکتبہ آیۃ العظمی قم ایران  ۱ /۴۸)
ابن جریر وابن المنذر وابوالشیخ امام عبدالملک بن عبدالعزیز بن جریح سے تفسیر
قولہ تعالٰی وخروالہ سجدا
 (اللہ تعالٰی کے ارشاد خروالہ سجدا یعنی حضرت یوسف کے والدین اور ان کے برادر حضرت یوسف کےلئے سجدے میں گر گئے۔ ت) میں راوی:
قال بلغنا ان ابویہ واخوتہ سجدوا یوسف ایماء برؤسھم کھیئۃ الاعاجم وکانت تلک تحیتھم کما یصنع ذٰلک ناس الیوم ۲؎۔
ہمیں حدیث پہنچی کہ یوسف علیہ الصلٰوۃ واسلام کو ان کے ماں باپ بھائیوں کا سجدہ سرے اشارہ کرنا تھا جیسے اہل عجم کے یہاں یہ ان کی تحیت تھی جس طرح اب بھی کچھ لوگ کرتے ہیں کہ سلام میں سرجھکاتے ہیں۔
 (۲؎الدرالمنثور  بحوالہ ابن جریر وابن المنذر وابی الشیخ عن ابن جریج آیۃ  ۱۲/ ۱۰۰   مکتبہ آیۃ العظمی قم ایران  ۴ /۳۸)
امام فخر الدین رازی وغیرہ نے محاورات وغیرہ نے عرب سے اس معنی سجدہ کا اثبات کیا، امام بغوی نے معالم التزیل اور امام خازن نے لباب میں اسی کو اختیار فرمایا اور قول اول کو ضعیف کہا سجدہ ملائکہ میں فرماتے ہیں:
لم یکن فیہ وضع الوجہ علی الارض انما کان انحناء فلما جاء الاسلام ابطل ذٰلک بالسلام ۳؎۔
یعنی وہ زمین پر منہ رکھنا نہ تھا صرف جھکنا تھا جب اسلام آیا اسے بھی سلام مقرر کرکے باطل فرمادیا۔
 (۳؎ معالم التنزیل علی ہامش تفسیر الخازن     تحت آیۃ    ۲ /۳۴     مصطفٰی البابی مصر    ۱ /۴۸)
سجدہ یوسف میں فرماتے ہیں :
لم یرد بالسجود وضع الجباہ علی الارض و0انما ھا الانحناء والتواضع وقیل وضعوا الجباہ علی الارض علی طریق التحیۃ والتعظیم وکان جائزا فی الامم السابقۃ فنسخ فی ھذا الشریعۃ ۱؎۔
یعنی سجدے سے زمین پر پیشانی رکھنامراد نہیں وہ تو صرف جھکنا اور تواضع کرنا تھا اوربعض نے کہا بطور تحیت وتعظیم پیشانی ہی زمین پررکھی اور اگلی امتوں میں جائز تھا۔ اس شریعت میں منسوخ ہوگیا۔
 (۱؎ معالم التزیل علی ہامش تفسیر الخازن     تحت آیۃ ۱۲ /۱۰۰     مصطفی البابی مصر    ۳ /۳۱۷)
بیعنہٖ یونہ خازن میں ہے دونوں امام جلال الدین نے تفسیر جلالین میں اسی پر اقتصار فرمایا۔

جلال سیوطی سجدہ آدم میں فرماتے ہیں :
اذ قلنا للملئکۃ اسجد وا لاٰدم سجود تحیۃ بالانحناء ۲؎۔
یاد کرو جب ہم نے فرشتوں سے (بطور حکم) فرمادیا کہ حضرت آدم کو سجدہ کرویعنی سجدہ سے بطور تحیت صرف جھکنا مراد ہے۔ (ت)
(۲؎ تفسیر جلالین  تحت آیۃ   ۲ /۳۴     اصح المطابع دہلی     نصف اول ص ۸)
سورہ یوسف میں فرماتے ہیں :
خروالہ سجدا سجود انحناء لاوضع جبھۃ وکان تحیتھم فی ذٰلک الزمان ۳؎۔
وہ سب حضرت یوسف (علیہ الصلٰوۃ والسلام) کے لئے سجدہ میں گر گئے یعنی ان کے سامنے جھک گئے نہ کہ پیشانی زمین پر رکھی اور یہ کاروائی اس زمانے میں ان کی تحیت یعنی تعظیم تھی۔ (ت)
 (۳؎تفسیر جلالین   تحت آیۃ ۱۲ /۱۰۰    اصح المطابع دہلی     نصف اول ص ۱۹۸)
جلال محلی سورہ کہف میں فرماتے ہیں :
واذ قلنا للملئکۃ اسجدوا لادم سجود انحناء لاوضع جبھۃ ۴؎،
اور یاد کرو جب ہم نے فرشتوں سے فرمایا حضرت آدم کو سجدہ کرو یعنی ان کے سامنے جھک جاؤ نہ کہ زمین پر پیشانی رکھو۔ (ت)
(۴؎تفسیر جلالین   تحت آیۃ   ۱۸ /۵۰   اصح المطابع دہلی  نصف ثانی    ص۲۴۷)
اور یہ دونوں حضرات اصح الاقوال لیتے ہیں۔  خطبہ جلالین میں ہے :
ھذا تکملۃ ؤتفسیر القراٰن الکریم الذی الفہ الامام جلال الدین المحلی علی نمطہ من الاعتماد علی ارجح الاقول ۱؎۔
یہ قرآن کریم کی تفسیر کا تکملہ ہے جس کو جلال الدین محلی نے تالیف کیا اس کی طرز پر سب سےزیادہ راجح قول پر اعتماد کرتے ہوئے۔ (ت)
(۱؎ تفسیر جلالین    خطبۃ الکتاب   اصح المطابع دہلی    ص۴)
تو ان چاروں اکابر کے نزدیک راجح قول دوم ہے کہ محض جھکنا تھا نہ کہ سجدہ معروفہ، بعض گروہ دیگر کے نزدیک قول اول راجح ہے
وبہ اقول لقعوا وخروا
 (اور میں یہی کہتاہوں ( ترجیح قول اول)اس لئے کہ قرآن مجید میں الفاظ ''قعوا'' اور ''خروا'' ہیں یعنی اس کے لئے سجدہ میں پڑ جاؤ اور اس کے لئے وہ سجدہ میں گرگئے۔ بہر حال خود اختلاف نافی قطیعت ہے نہ کہ ترجیح بھی مختلف۔
Flag Counter