(۱۲۸) ہم نے دکھادیا کہ بکر نے ائمہ پر افتراء کئے کتابوں پر چٹے جوڑے،، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر تہمتیں باندھیں، واحد قہار پر بہتان اٹھائے جل وعلا وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ، قرآن عظیم تو ایسوں ہی پر لعنت کرتا ہے ہاں کرشن مت جدا ہے۔
(۱۲۹) اپنی ان ناپاکیوں کے ہوتے ہوئے اپنے گریبان میں منہ نہیں ڈالتا اور قرآن وحدیث وفقہ واجماع وائمہ اولیائ، پر ایک اور ملعون تہمت گھڑتاہے ص ۱۹ ''جو لوگ سجدہ تعظیمی کو منع کرتے ہیں وہ حضرت محبوب الٰہی اور ان کے پیران عظام کو جاہل وفاسق بنانا چاہتے ہیں
'' لا الہ الا اﷲ کبرت کلمۃ تخرج من افواھھم ان یقولون الا کذبا ۴؎o
اللہ تعالٰی کے سوا کوئی سچا معبود نہیں۔ بڑی بات ہے جو ان کے منہ سے نکلتی ہے۔ وہ تو نہیں کہتے مگر نرا جھوٹ۔
(ت)
(۴؎ القرآن الکریم ۱۸ /۵)
ہر عاقل مسلمان جانتاہے کہ نوع بشر میں عصمت خاصہ انبیاء ہے نبی کے سوا کوئی کیسے ہی عالی مرتبے والا ایسا نہیں جس سے کوئی نہ کوئی قول ضعیف خلاف دلیل یا خلاف جمہور نہ صاد ر ہواہو
کل ماخوز من قولہ ومردود علیہ الا صاحب ھذا القبر صلی اﷲ تعلٰی علیہ وسلم ۱؎
(ہر آدمی کی اس کے کہنے سے گرفت ہوگی، اور اس پر وہ قول لوٹا دیا جائے گا سوائے اس قبرو الےکے کہ ان پر اللہ تعالٰی کی رحمت اور سلام ہو (یعنی حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کی ذات اقدس )۔ ت)
(۱؎ الیواقیت والجواہر المبحث التاسع والاربعون داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۴۷۸)
اتباع جمہور کا ہوگا
علیکم بالسواد الاعظم ۲؎
(لوگو! بڑی جماعت کو اختیار کرو۔ ت)
(۲؎ سنن ابن ماجہ ابوالفتن باب السواد الاعظم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۹۲)
اور قول شاز ماننے والے پر شرعی الزام شدید عائد ہوگا نہ کہ معاذاللہ صاحب قول پر تصحیح قدوری ودرمختار اور بکر کی مسلم نہایت معتمد محقق منقح کتاب ردالمحتار میں ہے :
الحکم والفتیا بالقول المرجوح جھل و خرق للاجماع ۳؎۔
قول مرجوح پر حکم اور فتوٰی جہل ہے اور اجماع کا توڑنا۔
(۳؎ ردالمحتار کتاب الطلاق باب العدۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۶۰۲ و ۶۱۴)
اور قطعا معلوم کہ اجماع امت کا توڑنے والا کم از کم فاسق ائمہ میں کون ایسا ہے حتی کہ صحابہ جس کا کوئی نہ کوئی قول مرجوح نہیں وہ معاذاللہ نہ جاہل نہ فاسق لیکن جو قول جمہور کے خلاف ان میں کسی کے قول مرجوح پر حکم یا فتوٰی دے وہ ضرور جاہل وفاسق ہے۔ تو حضرت سیدنا محبوب الٰہی اور ان کے پیران عظام رضی اللہ تعالٰی عنہم محبوبان خدا ہیں اور جواز سجدہ تحیت کہ جمہور اولیاء واجماع فتوٰی وفقہ وحدیث وقرآن کے خلاف ہے مرجوح ومجہور اور ایسے قول کی سند سے یہ جو اس پر فتوٰی دے رہا ہے جاہل وفاسق ضرور، جاہل وفاسق کی کیا گنتی جبکہ وہ جمہ ائمہ وجمہور اولیاء کو شقی، ملعون، شیطان، راندہ درگاہ کہہ کر خوداہ ایسا ہوچکا
سیعلمون غدا من الکذاب الاشر ۴؎
(۴؎ القرآن الکریم ۵۴ /۲۶)
تنبیہ : فقیر کا رسالہ
(عہ) مقالہ العرفاء باعزاز شرع وعلماء (۱۳۲۷ھ)
ملاحظہ ہو، اکابر اولیاء کے عظام رضی اللہ تعالٰی عنہم کے ارشادات کثیرہ سے ثابت کیا ہے کہ شریعت مطہرہ سب پر حجت ہے۔ اورشریعت مطہرہ پر کوئی چیز حجت نہیں، حضرات اولیاء جن کی ولایت ثابت ومحقق ہے ان سے جو قول یا فعل یا حال ایسا منقول ہو کہ بظاہر خلاف شرع مطہر ہو۔
عہ : رسالہ ہذا فتاوٰی رضویہ مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور کی جلد ۲۱ ص ۵۲۱ پر مرقوم ہے۔
اولا اگر وہ سند صحیح واجب الاعتماد سے ثابت نہیں ناقل پر مردود ہے اور دامن اولیاء اس سے پاک بلکہ اولیاء تو اولیاء حجۃ الاسلام غزالی قدس سرہ، نے احیاء شریف میں تصریح فرمائی کہ کسی مسلمان کی طرف کسی کبیرہ کی نسبت جائز نہیں جب تک ثبوت کامل نہ ہو۔
لاتجوز نسبۃ مسلم الی کبیرۃ من غیر تحقیق نعم یجوز ان یقال قتل ابن ملجم علیا فان ذٰلک ثبت متواترافلا یجوز ان یرمی مسلم بفسق وکفر من غیر تحقیق ۱؎۔
بغیر تحقیق کئے کسی مسلمان کی کبیرہ گناہ کی طرف نسبت کرنا جائز نہیں، لیکن ہاں یہ جائز ہے کہ کہا جائے کہ ابن ملجم نے جناب علی (کرم اللہ وجہہ) کو شہید کیا اس لئے کہ یہ تواتر سے ثابت ہے لہذا کسی مسلمان کو فسق اور کفر کی تحقیق کئے بغیر تہمت لگانا جائز نہیں۔ (ت)
(۱؎ احیاء العلوم کتاب آفات اللسان الآفۃ الثامنۃ اللعن مطبعۃ المشہد الحسینی قاہرۃ ۳ /۱۲۵)
اوریہ تواتر نہیں کہ کوئی نسخہ کسی کی طرف منسوب کسی الماری میں ملا چھاپے نے اسے چھاپ کر شائع کردیا کہ اس کی مثال ایسی ہے کہ کوئی مجہول ناشنا ختہ بازار میں کوئی بات منہ سے نکالے اور اسے ہزار آدمی سنیں اور نقل کریں، ناقل ہزار نہیں لاکھ سہی منتہائے سند تو ایک فردمجہول ہے تو تواتر درکنار صحت ہی نہیں، آج کل حضرات اولیائے کرام کے نام سے بہت کتابیں نظم ونثر ایسی شائع ہورہی ہیں ع
پس بہرا دستے نباید داد دست
(لہذا ہر ہاتھ میں اپنا ہاتھ دینا نہ چاہئے۔ ت)
یہ چال بعض علماء کے ساتھ بھی چلی گئی ہے۔ ایک کتاب عقائد امام احمد رضی اللہ تعالٰی عنہ کے نام سے چھپی جس سے وہ ایسے ہی بری ہے جیسا اس کا مفتری حیاودیانت سے، شاہ ولی اللہ صاحب کی مشہور کتابوں میں وہابی کشش دفتر دیکھ کر کسی وہابی نے ان کے نام سے ایک کتاب گھڑی اور چھاپی گئی ہے۔
ثانیا اگر بہ ثبوت معتمد ثابت ہو اور گنجائش تاویل رکھتا ہے تاویل واجب اور مخالفت مندفع ۔ اولیاء کی شان توارفع ہر مسلمان سنی کے کلام میں تاحد امکان تاویل لازم،
امام علامہ عارف باللہ عبدالغنی نابلسی قد س سرہ، القدسی حدیقۃ ندیہ میں فرماتے ہیں :
قال الامام النووی رضی اﷲ تعالٰی عنہ فی ادب العلم والتعلم من مقدمۃ شرح المھذب یجب علی الطالب ان یحمل اخوانہ علی المحامل الحنسۃ فی کلام یفھم منہ نقص الی سبعین محملا ثم قال۔، لایعجز عن ذٰلک الاکل قلیل التوفیق ۱؎۔
امام نووی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے شرح مہذب کے مقدمہ ''آداب العلم والمتعلم'' میں ارشاد فرمایا ''طالب پر واجب ہے کہ اپنے بھائیوں کے کلام کو اچھے محمل پر حمل کرے کسی ایسے کلام میں کہ جس میں نقص سمجھا جائے لہذا اس کے لئے ستر تک محمل تلاش کرے۔ پھر ارشاد فرمایا کہ اس سے عاجز نہیں ہوتا۔ مگر ہر ایسا شخص کہ جس کو کم توفیق عنایت کی گئی۔ (ت)
(۱؎ الحدیقۃ الندیہ شرح الطریقہ المحمدیہ الفصل الثانی النوع الثالث مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱ /۳۷۹)
ثالثا اگر تاویل ناممکن مگر محتمل ہو کہ وہ کلام ان کے مناسب رفیعہ ولایت وامامت تک پہنچنے سے پہلے کا ہے تو اسی پر حمل کریں گے اور نہ اس سے استناد جائز نہ ان پر اعتراض ،
امام علامہ عارف باللہ سیدی عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ، میزان الشریعۃ الکبرٰی میں فرماتے ہیں :
یحتمل ان من خطأ غیر من الائمۃ انما وقع ذٰلک منہ قبل بلوغہ مقام الکشف کما یقع فیہ کثیر ممن ینقل کلام الائمۃ من غیر ذوق فلا یفرق بین ماقالہ العالم ایام بدایتہ وتوسطہ ولابینہ ماقالہ یام نہایتہ ۲؎۔
جن لوگوں نے ائمہ کرام کو (ان کے بعض نظریات کی وجہ سے) انھیں خطا کا ر ٹھہرایا ہے احتمال ہے کہ یہ ان سے (درجہ عالیہ) مقام کشف تک ان کی رسائی سے پہلے صادر ہوئے ہوں جیسا کہ بہت سے بے ذوق حضرات جب ائمہ کرام کا کلام نقل کرتے ہیں تو وہ اس خطا میں پڑجاتے ہیں لہذا عالم نے ابتدائی اور درمیانی دور اور آخری ایام میں جو کچھ فرمایا ہے یہ لوگ ان دونوں میں فرق نہیں کرسکتے (ت)
(۲؎ المیزان الکبرٰی للشعرانی فصل فی بیان تقریر قولہ من قال الخ مصطفی البابی مصر ۱ /۳۳)
رابعا یہ بھی ناممکن ہو تو جن کی ولایت وامامت ثابت ومتحقق ہے ان کے ایسے فعل کو افعال خضر علیہ الصلٰوۃ والسم کے قبیل سے ٹھہرائیں گے اور ایسے کلام کو متشابہات سے کہ ان پر طعن کریں نہ اس سے بحث اور گمراہ ہے وہ کہ متشابہات کااتباع کرے۔
اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا: وہ لوگوں کے دلوں میں کجی ہے وہ اللہ تعالٰی کے متشابہ کلام کی پیروی کرتے ہیں۔ (ت)
(۱؎ القرآن الکریم۳ /۷)
متشابہات جس طرح اللہ ورسول کے کلام میں یونہی ان کے اکابر کے کلام میں ہوتے ہیں
کما افادہ اما الطریقۃ لسان الحقیقۃ سیدی محی الملۃ والدین ابن عربی رضی اﷲ تعالٰی عنہ
(جیسا کہ طریقت کے امام، حقیقت کی زبان ، میرے آقا، دین ملت کو زندگی بخشنے والے شیخ ابن عربی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے افادہ فرمایا۔ ت) یہ ہے بحمداللہ سلامت اور اللہ عزوجل کے ہاتھ ہدایت،
واللہ یھدی من یشاء الی صراط مستقیم والحمداللہ رب العالمین
(اور اللہ تعالٰی جسے چاہے سیدھا راستہ دکھاتاہے اور سب تعریف اللہ تعالٰی کے لئے ہے۔ جوتمام جہانوں کا پروردگارہے۔ ت)