فصل سوم اللہ عزوجل پر بکر کے افتراء اور خود اسی کے منہ قرآن عظیم سے تحریم سجدہ تحیت کا ثبوت۔
(۱۱۴) سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر افتراء اگر چہ اللہ عزوجل پر افتراء ہے مگر بکر تو صریح خاص کا طالب ہے قرآن میں تصریح نہ ہو تو حدیث نہیں سنتا لہذا بالخصوص رب العزت پر بھی جرآتیں کیں ص ۹۵ میں اس کی عبارت دیکھ چکے خود مانا کہ سجدہ تحیت سے خدا کی عظمت کے انتہائی طریقے میں آدم کا شرک ہوتا تھا'' پھر اسی کو اللہ کی مرضی ٹھہرایا کہ ''خدا کی مرضی تھی کہ میری خلافت کی تعظیم وہی چاہئے جو خود میری ہے'' یہ اللہ پر افتراء ہے اور کھلا شرک اس کے ذمہ باندھنا ایسے ہی افتراؤں کو کفر فرمایا:
انما یفتری الکذب بہ الذین لایومنون ۱؎۔
ایسے افتراء وہی کرتے ہیں جو مسلمان نہیں
(۱؎ القرآن الکریم ۱۶ /۱۰۵)
(۱۱۵) ص ۶ پر کہا ''خدا نے اپنے عبادت کے سجدے کے لئے کعبہ کو سمت قراردیا ہے اس میں ایک بڑا فلسفہ پرشیدہ ہے وہ یہ کہ خدا سجدہ عبادت اور سجدہ تعظیم امتیاز قام کرنا چاہتا تھا تاکہ مسلمان جان جائیں کہ سمت کعبہ کا سجدہ عبادت ہے جو غیر خدا کو جائز نہیں اور غیر مقرر سمت کے سجدے جائز ہیں۔ سمت کعبہ مقررہونے سے پہلے خدا نے فرمایا تھا:
فاینما تولوا افثم وجہ اﷲ ۲؎۔
تم جدھر متوجہ ہو خدا اسی طرف ہے۔
(۲؎ القرآن الکریم ۲/۱۱۵)
یعنی جس سمت سجدہ کروخدا ہی کوہگا مگر بعد میں سمت کعبہ مقرر ہوگئی اس کی وجہ یہی تھی کہ خدا سجدہ عبادت وسجدہ تعظیم میں فرق کرنا چاہتاتھا جو اس سمت نے کردیا'' یہ اللہ عزوجل پر دوسرا افتراء ہے۔ بکر جلد بتائے کہ سمت کعبہ مقرر فرمانے کی یہ وجہ اللہ عزوجل یا نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے کہا بتائی ہے
ام تقولون علی اﷲ ما تعلمون ۳؎
(کیا تم اللہ تعالٰی کے متعلق وہ کہتے ہو جو تم نہیں جانتے۔ ت)
(۳؎ القرآن الکریم ۲ /۸۰)
اللہ ورسول کی طرف بے ثبوت بات نسبت کرنی بھی افتراء ہے
ھاتوابرہانکم ان کنتم صٰدیقن ۴؎
(اپنی دلیل پیش کرو اگر تم اپنے دعوٰی میں سچے ہو۔ ت) نہ کہ غلط بات جس کی غلطی ابھی ظاہر ہوتی ہے۔
(۴؎ القرآن الکریم ۲ /۱۱۱)
(۱۱۶) کریمہ فاینما تولوا افثم وجہ اﷲ ۵؎
( تم جدھر منہ کرو اسی طرف اللہ تعالٰی کا جلوہ ہے۔ ت)
(۵؎ القرآن الکریم ۲ /۱۱۵)
حسب حدیث جامع الترمذی شریف قبلہ تحری میں ہے اس کا یہ مطلب ٹھہرانا کہ اس آیت کے نزول تک سمت قبلہ مقرر نہ تھی اللہ عزوجل نے اختیار دیا تھا جدھر چاہو نماز پڑھو۔ یہ اللہ تعالٰی پر تیسرا افتراءہے۔ تقرر قبلہ روز اول سے ہے۔
ان اول بیت وضع اللناس للذی ببکۃ مبرکا ۶؎۔
سب سے پہلا گھر جولوگوں کے لئے (زمین پر) تعمیر کیا گیا وہ ہے جو مکہ مکرمہ میں بابرکت شان سے موجود ہے۔ (ت)
(۶؎ القرآن الکریم ۳ /۹۶)
(۱۱۷) بفرض باطل امتیاز سجدہ عبادت وسجدہ تحیت ہی کے لئے وضع قبلہ ہوتی تویوں کہ وہ سجدہ جودوسرے کو کفر ہے اس سجدہ سے ممتاز ہوجائے جو صرف حرام ہے اللہ عزوجل کا جواز سجدہ تحیت کے لئے یہ امتیاز رکھنا اللہ عزوجل پر چوتھا افتراہے۔
(۱۱۸) سجدہ تحیت وسجدہ عبادت کا امتیاز اللہ عزوجل اور خود ساجد کے نزدیک نیت سے ہے ساجد اور اس کا رب جانتاہے کہ یہ سجدہ کس نیت سے ہے ساجد کو ممتاز قطعی کے امتیاز کی حاجت اور اگر یہ امتیاز ناظر کے لیے رکھا ہے تو جب کہ سجدہ تحیت کے لئے کوئی سمت مقررنہیں سمت کعبہ بھی ہوگا پھردونوں سجدوں کا خلط ہوگیا اور امتیاز نہ رہا ناظر اس وقت نہیں کہہ سکتا کہ یہ سجدہ عبادت ہے یا سجدہ تحیت بالجملہ یہ امتیاز ساجد کے لئے رکھا تو لغو وفضول اور ناظر کے لئے تو ناقص ومدخول، اللہ عزوجل ان دونوں سے پاک ومنزہ ہے۔ اوراگر امتیاز محض ذہنی ہے کہ جس میں تقید سمت ملحوظ ہو سجدہ عبادت ہے۔ ورنہ سجدہ تحیت۔ تو کام پھر نیت کی طرف عود کرگیا ناظر کو اس سے کیا فائدہ اور ساجد کو اس کی کیا حاجت، امتیاز نیت ان میں بالذات تھا یہ بالعرض کس لئے بہر حال اللہ عزوجل کی طرف اس کی نسبت اللہ پر سخت جرأت۔
(۱۱۹) نوافل میں بیرون شہر سواری پر اور نوافل وفرائض میں ہنگام تحری اور اس مریض کو بوجہ مرض اور اس ہارب کو کہ بخوف دشمن استقبال پر قادر نہ ہو سمت کعبہ مقرر نہیں اور یہ سب سجدہ عبادت ہیں تو امتیاز باطل۔
(۱۲۰) بکر ہی کی مستند عبارات عالمگیری وفتاوٰی قاضیخان گرزا کہ اگر کفار بادشاہ کے لئے سجدہ عبادت پر اکراہ کریں صبر افضل ہے ظاہر ہے کہ کفار تعیین سمت کعبہ نہ چاہیں گے بلکہ جدھر بادشاہ ہو تویہ بے تقرر سمت کیونکہ سجدہ عبادت ہوگیا
ولکن الجھلۃ یفترون
(لیکن نادان لوگ جھوٹ گھڑتے ہیں۔ ت)
(۱۲۱) طرفہ یہ کہ امتیاز خدا نے ایسا خفیہ مقرر کیا کہ اس کے رسول کو بھی خبر نہ ہوئی بالا بالا بکر کو چھپی پاتی بھیج دی صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم نے جو حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو سجدے کی اجازت حضور سے مانگی وہ کب تعیین سمت سے تھی اگر اجازت ملتی تو جدھر حضور جلوہ افروز ہوتے اسی طرف سجدہ کیا جاتا اور زعم بکر میں خدا سجدہ عبادت کا وہ امتیاز مقرر کرچکا تھا کہ یہ پابندی سمت ہو تو اس درخواست سے کسی طرح سجدہ عبادت مفہوم نہ ہوسکتا تھا لیکن بکر کہتا ہے ص ۹ ''حضور نے صحابہ کی خواہش کو سجدہ عبادت تصور کیا اس وقت آپ کے ذہن میں سجدہ عبادت تھا۔ اب دو حال سے خالی نہیں، یا تو بکر کے نزدیک خدا نے ایسا بیہودہ بے معنٰی امتیاز مقرر کیا جس سے رسول تک کو تمیز نہ ہوئی توامتیاز کیا خاک ہوایا زعم بکر میں معاذاللہ رسول اللہ کی عقل اتنی موٹی بکر کی مَت سے بھی گئی گزری کہ خدا کے واضح امتیاز کے بعد بھی تمیز نہ ہوئی اور دونوں کفر صریح ہیں ہم نہ کہتے تھے کہ جاہل کو مصنف ہی بننا سخت آفت کاسامنا ہے نہ کہ محقق نہ کہ مجتہد نہ کہ شارع کہ تصنیف توتیار ہوجاتی ہے اور ایمان رخصت
، لاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم
(گناہ سے بچاؤ اور نیکی کی قوت بجز اللہ تعالٰی بلند مرتبہ بڑی شان والے کے کرم کے بغیر کسی میں نہیں۔ ت)
(۱۲۲) جب یہ ٹھہری کہ ص ۶''سمت کعبہ کا سجدہ عبادت کا سجدہ ہے جو غیر خدا کو جائز نہیں اور غیر مقررسمت کے سجدے جائز ہیں'' تو بلا شبہہ مندروں میں جو سجدے کئے جاتے ہیں غیر مقرر سمت کے ہیں تو بکر نے دوبارہ بتوں اور لنگ جلہری کو سجدے جائز قراردئے کیونکہ یہی کرشن مت ہے۔
(۱۲۳) جبکہ تقرر سمت سے سجدہ عبادت وسجدہ تحیت میں امتیاز ہوا نزول
"فثم وجہ اﷲ"
تک امتیاز نہ تھا تو قطعا اس وقت سجدہ تحیت حرام تھا کہ غیر خدا کے لئے وہ فعل جسے عبادت سے کچھ فرق نہ ہو حلال نہیں ہوسکتا اور جب سجدہ تحیت اس وقت حرام تھا تو غیر ملت آدم ویوسف علیہما الصلٰوۃ والسلام میں اگر اس کی حلت بھی تھی یقینا منسوخ ہوگئی اور اب اس ناسخ کا ناسخ کوئی ہے نہیں تو یقینا سجدہ تحیت حرام ہے اور تاقیامت حرام رہے گا اچھی تقریر سنائی کہ اپنی ساری چنائی آپ ہی ڈھائی۔
(۱۲۴)ص ۱۰ ''خدا نے فرمایا ہے :
فلیعبد وارب ھذا البیت ۱،
عبادت کریں اس گھر کے پالنے والے کی ۔اس صورت میں
رب ھذا البیت
کالفظ ہے اور قاعدہ عرب کے بموجب رب کا لفظ ذی روح پر آتاہے اور کعبہ زی روح نہیں پتھر کا مکان ہے۔
(۱؎ القرآن الکریم ۱۰۶ /۳)
پس ثابت ہوا کہ اس بیت سے مراد قلب آدم ہے'' یہ اللہ سبحانہ پر پانچواں افتراء بھی ہے اور قرآن کی تفسیر بالرائے بھی اور بتصریح کتب عقائد الحاد بھی کہ معنی ظاہر باطل کرکے باطنیہ کی طرح باطنی گھڑے،
متن عقائد امام اجل نسفی رضی اللہ تعالٰی عنہ میں ہے :
النصوص تحمل علی ظواھر ھاواالعدول عنھا الی معان یدعیھا اھل الباطن الحاد ۲؎۔
نصوص اپنے ظاہر پر حمل کئے جاتے ہیں، لہذا ظاہر معانی سے ہٹ کر اپنے معانی تراش لینا کہ جن کا اہل باطن دعوٰی کرتے ہیں سراسر بے دینی ہے۔ (ت)
(۲؎ مجموع المتون فی مختلف الفنون متن العقائد النسفیہ فی التوحید الشؤن الدینیۃ دولۃ قطر ص۶۱۸)
( ۱۲۵) عرب پر بھی افتراء رب المال ورب الدار نہ سنئے، حدیث میں ہے :
کلاورب الکعبۃ ۱؎
(ہر گز نہیں، رب کعبہ کی قسم ۔ت )
(۱؎ شعب الایمان حدیث ۵۱۵۴ درالکتب العلمیۃ بیروت ۴ /۲۹۴)
رب المشرقین ورب المغربین ۲؎
(دو مشرق اور دو مغرب کے رب کی قسم۔ ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۵۵/ ۱۷)
اور فرماتاہے :
فلا اقسم برب المشارق والمغارب ۳؎
(متعدد ومشرق اور متعدد مغرب کے مالک کی میں قسم کھاتاہوں۔ ت)
(۳؎ القرآن الکریم ۷۰ /۴۰)
اورفرماتاہے :
وانہ ھو رب الشعری ۴؎
(بیشک وہ شعرٰی ستارے کا رب ہے۔ ت)
(۴؎ القرآن الکریم ۵۳ /۴۹)
اور فرماتاہے :
رب السموت والارض ۵؎
(وہ آسمان وزمین کا مالک ہے۔ ت)
(۵؎ القرآن الکریم ۳۷/ ۵)
اور فرماتاہے :
سبحن ربک رب العزۃ عما یصفون ۶؎
(تمھارا رب عزت والا رب ہر عیب سے پاک ہے۔ ت)
(۶؎ القرآن الکریم ۳۷ /۱۸۰)
کیا افق کا وہ حصہ جس سے تحویل سرطان کا آفتاب نکلتاہے اور وہ جس سے تحویل جدی کا اور وہ حصے جن میں یہ ڈوبتے ہیں اور وہ جن سے ہر روز کا آفتاب نکلتا ہے اوروہ جن میں ڈوبتا ہے اور شعرٰی ستارہ اور وہ آسمان وزمین وعزت یہ سب ذی روح ہیں۔ اس سے بڑھ کر جھوٹا کون جسے قرآن جھٹلائے۔
(۱۲۶) یہ عیاری دیکھئے کہ ذی روح پر جمانے کے لئے ترجمہ کیا ''اس گھر کے پانے والے'' اور نہ جانا کہ گھر کے ساتھ پالنے کا لفظ چسپاں ہی نہیں جب تک گھر سے مجازا اس کے ساکن مراد نہ لیں ۔ یہ بھی کلام الٰہی میں معنی تحریف ہے۔
(۱۲۷) مسلمان دیکھیں ہم نے حدیث سے ثابت کردیا کہ سجدہ تحیت حرام ہے خود بکر کی مسلم ونہایت معتمد کتب فقہ سے ثابت کردیاکہ سجدہ تحیت سوئر کھانے سے بھی بدتر حرام ہے۔ اس کے مستندکی تصریح نے دکھادیا کہ اس کے حرام ہونے پر اجماع قطعی ہے۔ اسی کے منہ قرآن عظیم نے ثابت کردیا کہ حرام ہے۔ اسی کی مستند لطائف کی تصریح دکھادی کہ جمہور اولیاء اس کی ممانعت پر ہیں، اب بکر کی ناپاک بدزبانیاں دیکھئے ص ۱۰'' تعظیمی کاانکار موجب لعنت وپھٹکار ہے'' ص ۲۳ ''سوائے چند جاہل وضدی لوگوں کے کوئی شخص اس سجدہ تعظیمی کے خلاف نہ تھا '' ص ۲۴ ''اس میں مخالفانہ کلام کرنا شقاوت وسنگدلی ہے'' ص ۲۴'' اس سے انکار کرنیوالے شیطان کی طرح راندہ درگاہ ہونگے'' اب کہئیے اس کی یہ لعنت وشقاوت وشیطنت کس کس پر ہوئی قرآن پر ، حدیث پر، فقہ پر، اجماع پر، ائمہ پر، اولیاء پر، الحمداللہ کہ یہ سب تو اس تو اس سے پاک ومنزہ ہیں لیکن وہ تمام خباثتیں اپنے قابل ہی پر پلٹیں۔
وذٰلک جزاء الظلمین o۱؎ وسیعلم الذین ظلموان ای منقلب ینقلبونo۲؎
ظالموں کی یہی سزا ہے۔ اب ظالم جان لیں گے کہ اب کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے(ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۵ /۲۹ و ۵۹ /۱۷) (۲؎ القرآن الکریم ۲۶ /۲۲۷)
چھٹا فائدہ تھا عبارت لطائف کا کہ بکر ائمہ کرام وفقہائے عظام وعلمائے اعلام بلکہ جمہور حضرات اولیائے فخام کوبھی شیطان ملعون، شقی، سنگدل، رانددرگاہ، جاہل، ضدی کہتاہے مگر قرآن عظیم سے نہ سنا