(۹۲) رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو اونٹ کا سجدہ کرنا کیا حضور کو معبود وخدا بنا کر تھا، حاش ﷲ۔ معجم کبیر طبرانی میں یعلٰی بن مرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
مامن شیئ الایعلم انی رسول اﷲ الا کفرۃ الجن والانس ۱؎۔
ہر چیز مجھے اللہ کا رسول جانتی ہے سوائے کافر جن اور آدمیوں کے،
یوہیں حیرہ ویمن میں لوگوں کا زمینداروں کو سجدہ کرنا قطعا سجدہ تحیت ہی تھا نہ کہ سجدہ عبادت، انھیں سجدوں کی بناپر صحابہ نے حضور کو سجدے کی اجازت مانگی تھی جس سے کسی عاقل کا بھی وہم معبود والہ بنانے کی طرف نہیں جاسکتا محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر ایسی باطل سمجھ کا الزام کسی دریدہ دہنی ہے۔
(۹۳) غنیمت ہے کہ سجدہ غیر کی سخت شناعت خود بکر کے منہ ثابت ہوئی، صحابہ وہ صحابہ جن کے کانوں میں ہر وقت لا الہ الا اللہ کے نغمے گونج رہے تھے جنھیں بات بات میں توحید کا سبق دیا جاتا جن کے دلوں میں اللہ کی وحدانیت پر ایمان پہاڑوں زیادہ گراں ومتمکن تھا۔ قرآن عظیم بار بار جن کے ایمان کی گواہی دے چکا تھا دوسرے کو سجدہ تحیت ایسی سخت چیز ہے کہ اس کا فعل نہیں صرف اس کی خواہش سنتے ہی ان کے یہ تمام فضائل جلیلہ اور ان کے ایمان وتوحید کی قوت سب حضور کے ذہن اقدس سے اتر گئے اور یہی خیال گیا کہ یہ مجھے خدا بنانا چاہتے ہیں تو ایسا ناپاک فعل دوسروں کو کیونکر حلال ہوسکتاہے۔
(۹۴) بیشک سجدہ افعال عبادت سے ہے۔ سجدہ عبادت وسجدہ تحیت میں سوائے نیت کوئی فرق نہیں، سجدہ تو سجدہ زمین بوسی کی نسبت درمختار سے گزرا کہ
یشبہ عبادۃ الوثن ۲؎
بت پرستی کے مشابہ ہے۔
(۲؎ درمختار کتاب الحظروالاباحہ باب الاستبراء وغیرہ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۴۵)
اور بکر کی مسلم کامل التحقیق ردالمحتار نے اسے مسلم رکھا، اور اخلاص عبادت یہ ہے کہ عبادت غیر کی مشابہت سے بھی بچے، لہذا حضور نے ذکر عبادت فرمایا کہ افعال عبادت صرف اپنے رب کے لئےکرو اسے اس ناپاک محمل پرڈھالنا جس سے وہ تین الزام شدید شان رسالت پر عائد کئے سخت خلاف دین ہے۔
(۹۵) خود بکر نے اسی سجدہ تحیت کو کہا ہے ص ۱۱'' ، سجدہ ایک ایسی چیز تھی جس میں سجدہ عبادت شریک تھا اور خدا کی عظمت کے انتہائی طریقہ میں خوا مخواہ آدم کا شریک ہوتا تھا اس سے ثابت ہوتاہے کہ خدا کی خودمرضی تھی کہ میری خلافت کی تعظیم وہی ہونی چاہئے جو خود میری ہے اس واسطے آدم کی عزت ایسے طریقے سے کرائی جو خدا کے سوا کسی کو زیبانہ تھا تاکہ سند ہوجائے کہ آدم خلافت کے بعد مجازی حیثت سے آخری تعظیم کا مستحق ہے جو حقیقت میں عبادت کی آخری شان ہے ایسی چیز سے ممانعت کے لئے
''اعبدواربکم''۱
(اپنے رب کی عبادت کرو۔ت) فرمانا کیا مستبعدتھا۔
(۱؎ القرآن الکریم ۲/ ۲۱)
(۹۶) حدیث قیس وحدیث معاذ وحدیث سلمان رضی اللہ تعالٰی عنہم میں تو "اعبدوا" نہیں ہے یہاں تو "لا تفعلوا اورلایینبغی" ہے یہاں کس ذریعہ اس بدگمانی پر ڈھالے گا اسی لئے ان کو چھپایا اور کہہ دیا تھا کہ اور کوئی ثبوت نہیں۔
(۹۷) بکر نے چاند سورج بلکہ بت کو سجدہ اور مہادیو کی ڈنڈوت حلال کرلی جیسے یہاں حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے عبادت کا ذکر فرمایا اور اس سے بکر نے یہ ٹھہرا لیا کہ صرف سجدہ عبادت کو منع کیا ہے یونہی آیہ کریمہ
لاتسجد وا للشمس ولاللقمر ۲؎
(لوگو! سورج اور چاند کوسجدہ نہ کرو۔ ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۴۱ /۳۷)
جس میں سجدہ شمس وقمر سے ممانعت اور سجدہ الٰہی کا حکم ہے اس کا ترجمہ یہ ہے
ان کنتم ایاہ تعبدون ۳؎
اگر تم اسے پوچتے ہو۔ یہاں بھی اللہ عزوجل نے عبادت کا ذکر فرمایا ہے تو یہاں بھی چاند سورج کو صرف سجدہ کی ممانعت ہوئی، اب بت پرستی یا بھوت کسی بلا کو سجدہ تحیت کی ممانعت پر قرآن کریم میں کوئی آیت نہ رہی،
(۳؎ القرآن الکریم ۴۱ /۳۷)
کیا بکر کوئی آیت دکھا سکتاہے، ہر گز نہیں ، اب بکر اپنی لفاظیاں یاد کرے اور ''انسانی'' کی قید سے ہاتھ اٹھا کر یوں کہے جو اس نے ص۷ پر کہا ہے قرآن میں کسی سجدہ تعظیم کی ممانعت نہیں ایسی کوئی آیت نہیں جہاں کسی سجدہ کی تعظیم کی ممانعت کی گئی ہو، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ تعظیمی سجدہ کے خلاف قرآن خاموش رہنا چاہتاہے یعنی وہ مسلمانوں سےنہ یہ کہتاہے کہ غیر خدا کو سجدہ کرو نہ یہ کہتاہے کہ تم پر سجدہ تعظیمی حرام کیا گیا ہے تم کسی غیر خدا کو سجدہ نہ کرنا'' یہ ''کسی'' کا لفظ یاد رکھنے کے قابل ہے، اس کے بعد ص ۸ کا نتیجہ دیکھئے ''پس جب قرآن نے ایسا کوئی صاف حکم نہیں دیا تو سجدہ تعظیمی کا حرام ہونا یا ناجائز ثابت نہیں ہوسکتا'' دیکھئے کیسی کھلم کھلا بت کی سجدے تعظیم اور بے نیت عبادت مہادیو کی ڈنڈوت حلال کی ہے۔ کیوں نہ ہو جن کا کرشن نبی ہو ان کا دین آپ ہی ایسا ہو۔
(۹۸) چاند سورج کو جسدہ کی ممانعت جو قرآن کریم نے فرمائی اس پر بکر کا یہ عذر ص ۷ و ۸ کہ ''اس آیت میں غیر انسان کے سجدہ کا ذکر ہے۔ اور گفتگو سجدہ انسانی میں ہے سورج چاند اور چیز ہے انسان خلیفۃ اللہ دوسری چیز ہے''
اولا عجب پادر ہوا ہے اس کے طور پر آیت میں تو چاند سورج کو سجدہ عبادت کی ممانعت ہے کہ فرمایا:
ان کنتم ایاہ تعبدون۱؎
(اگر تم خاص اس کی عبادت کرتے ہو۔ ت) سجدہ عبادت میں خلیفۃ وغیر خلیفہ کا کیا فرق۔
(۱؎ القرآن الکریم ۴۱ /۳۷)
ثانیا سجدہ آدم علیہم الصلٰوۃ والسلام سے استناد کی خود بیخکنی کرلی اس آیت میں غیر انسان کے سجدہ کا ذکر ہے (یعنی ملائکہ نے سجدہ کیا) اور گفتگو سجدہ انسانی میں ہے(کہ انسان دوسرے کو سجدہ کرے) فرشتہ اور چیز ہے۔ انسان خلیفۃ اللہ دوسری چیز ہے۔ غیر خلیفہ نے خلیفہ کو سجدہ کیا اس سے خود خلیفہ کا سجدہ کرنا کیسے جائز کرلیا علی نفسہا تجی براقش
(۹۹)قرآن کریم میں سجدہ تحیت کی ممانعت نہ سوجھنی قرآن عظیم سے غلفت پر مبنی، کیا قرآن مجید نے نہ فرمایا:
اطیعوا اﷲ واطیعوا الرسول ۲؎۔
حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا۔
(۲؎ القرآن الکریم ۴/ ۵۹)
کیا قرآن عزیز نے نہ فرمایا :
من یطع الرسول فقد اطاع اﷲ ۳؎۔
جس نے رسول کی اطاعت کی بیشک اس نے اللہ کی اطاعت کی۔
(۳؎القرآن الکریم ۴ /۸۰)
کیاقرآن حکیم نے نہ فرمایا :
ومن یعص اﷲ ورسولہ فان لہ نارجھنم ۱؎۔
جونافرمانی کرے اللہ اور اس کے رسول کی بیشک اس کے لئے جہنم کی آگ ہے۔
(۱؎ القرآن الکریم ۷۲/ ۲۳)
کیاقرآن حمید نے نہ فرمایا :
ومااٰتکم الرسول فخذوہ ومانھٰکم فانتھوا واتقوا اﷲ ان اﷲ شدید العقاب ۲؎۔
رسول جو تمھیں عطا فرمائیں وہ لو اورجس سے منع فرمائیں باز رہو اور اللہ تعالٰی سے ڈرو بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے۔
(۲؎ القرآن الکریم ۵۹ /۷)
کیا قرآن جلیل نے نہ فرمایا :
فلاوربک لایؤمنون حتی یحکموک فیما شجر بینھم ثم لایجدوافی انفسھم حرجا مماقضیت ویسلموا تسلیما ۳؎۔
اے محبوب، تمھارے رب کی قسم وہ مسلمان نہ ہوں گے جب تک تمھیں حاکم نہ بنائیں اپنے آپس کے اختلاف میں پھر جو تم فیصلہ فرماؤ اپنے دلوں میں اس سے تنگی نہ پائیں، اور خوب اچھی طرح مان لیں۔
(۳؎القرآن الکریم ۴ /۶۵)
کیا رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اس نزاع کا فیصلہ نہ فرمادیا کہ لاتفعلوا سجدہ تحیت نہ کرو۔ تو قطعا قرآن عظیم ہی سجدہ تحیت سے منع فرمارہا ہے اور جو اس فیصلہ محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو نہ مانے اس کا حکم جو ارشاد ہوا اللہ تعالٰی مسلمان کو اس سے پناہ دے۔
(۱۰۰) قرآن مجید میں تصریح نہ پانے پر بکر کا وہ حکم ص ۸ جب قرآن نے کوئی صاف حکم نہ دیا تو ناجائز ہونا ثابت نہیں ہوسکتا وہ شدید بدمذہبی ہے جس کی خبر عالم ماکان ومایکون صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے پہلے ہی دی ہے۔
الا انی اوتیت القراٰن ومثلہ معہ الایوشک رجل شبعان علی اریکتہ یقول علیکم بھذا القراٰن فما وجدتم فیہ من حلال فاحلوہ وماوجد تم فیہ من حرام فحرموہ وان ماحرم رسول اﷲ کما حرم اﷲ الا لایحل لکم الحمار الاھلی والاکل ذی ناب من السباع ۱؎ الحدیث
سنتے ہو مجھے قرآن عطا ہوا اور اس کے ساتھ اس کا مثل، خبردار نزدیک ہے کہ کوئی پیٹ بھرا اپنے تخت پر پڑا کہے یہی قرآن لئے رہو۔اس میں جو حلال پاؤ اسے حلال جانو اور اس میں جو حرام پاؤ اسے حرام مانو حالانکہ جو چیز رسول اللہ صل اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے حرام کی وہی اسی کی مثل ہے جو اللہ نے حرام فرمائی، سن لو پالتو گدھا تمھارے لئے حلال نہیں۔ نہ کوئی کیلے والا درندہ الحدیث۔ (ت)
(۱؎ مشکوٰۃ المصابیح باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ الفصل الثانی مطبع مجتبائی دہلی ص۲۹)
سجدہ تحیت بھی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے حرام فرمایا تو وہ حرام ہے اگر چہ قرآم کریم میں اس کی حرمت کی تصریح عوام کو نہ سوجھے۔
(۱۰۱ و ۱۰۲) رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے دو مثالیں ارشاد فرمائیں پالتو گدھا اور کیلے والا درندہ ان کی حرمت قرآن میں مصرح نہیں اور رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے انھیں حرام فرمایا۔ بکر کیوں ماننے لگا وہ یہی کہے گا ص ۸ کہ ''جب قرآن نے کوئی صاف حکم نہ دیا تو حرام یاناجائز ہونا ثابت نہیں ہوسکتا'' تو بکر نے گدھا اور کتا حلال کرلیا۔
(۱۰۳ تا ۱۱۰) انھیں پر بس نہیں قرآن میں لحم خنزیر کا ذکر ہے گردے کلیجی کھال اور جھڑی تلی ہڈی کا نام کہاں ہے بلکہ سری پائے بھی عرفا لحم میں نہیں تو بکر نے سوئر کے اجزا بھی حلال مانے کہ ''جب قرآن نے صاف حکم نہ دیا ناجائز ہونا ثابت نہیں ہوسکتا''
(۱۱۱ تا ۱۱۳) غرض صاف حکم قرآن دلیل کا حصر کرکے بکر نے سنت اجماع، قیاس تین اصول شرع کو رد کرکے چکڑالوی مذہب لیا۔