مسئلہ ۱۸۵ :
اگر زید کا پیر ومرشد نہ ہو تو وہ فلاح پائے گا یا نہیں؟ اوراس کا پیر ومرشد شیطان ہوگا یانہیں؟ کیونکہ رب عزوجل حکم کرتاہے :
وابتغوا الیہ الوسیلۃ
اور ڈھونڈو طرف اس کی وسیلہ۔
الجواب
ہاں اولیاء کرام قد سنااللہ باسرارہم کے ارشاد سے دونوں باتیں ثابت ہیں اور عنقریب ہم ان دونوں کو قرآن عظیم سے استنباط کریں گے، ایک یہ کہ بے پیرا فلاح نہ پائے گا، حضرت سیدنا شیخ الشیوخ شہاب الحق والدین سہروردی قدس سرہ، عوارف المعارف شریف میں فرماتے ہیں :
سمعت کثیرا من المشائخ یقولون من لم یر مفلحا لایفلح ۱؎۔
یعنی میں نے بہت اولیائے کرام کو فرماتے سنا کہ جس نے کسی فلاح پائے ہوئے کی زیارت نہ کی وہ فلاح نہ پائے گا۔
(۱؎ عوارف المعارف الباب الثانی مطبعۃ المشہد الحسینی ص۷۸)
دوسرے یہ کہ بے پیر کا پیر شیطان ہے عوارف شریف میں ہے :
روی عن ابی یزید (رضی اﷲ تعالٰی عنہ) انہ قال من لم یکن لہ استاد فامامہ الشیطان ۱؎۔
یعنی سیدنا بایزید بسطامی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہوا کہ فرماتے ہے جس کا کوئی پیر نہیں اس کا پیر شیطان ہے۔
(۱؎ عوارف المعارف الباب الثانی مطبعۃ المشہد الحسینی ص۷۸)
رسالہ مبارکہ امام اجل ابوالقاسم قشیری میں ہے :
یجب علی المرید ان یتادب بشیخ فان لم یکن لہ استاذ لایفلح ابدا ھذا ابویزید یقول من لم یکن لہ استاذ نا فاما مہ الشیطان ۲؎۔
یعنی مرید پر واجب ہے کہ کسی پیر سے تربیت لے کہ بے پیرا فلاح نہ پائے گا۔ یہ میں ابویزید کہ فرماتے ہیں جس کا کوئی پیر نہ ہو اس کا پیر شیطان ہے۔
(۲؎ الرسالۃ القشیریۃ باب الوصیۃ للمریدین مصطفی البابی مصر ص۱۸۱)
پھر فرمایا :
سمعت الاستاذ ابا علی الدقاق یقول الشجرۃ اذا انبتت بنفسہا من غیر غارس فانھا تورق ولکن لاتثمر کذٰلک المرید اذا لم یکن لہ استاذ یأ خذ منہ طریقۃ نفسا فنفسا فھو عابد ھواہ لایجد نفاذا ۳؎۔
یعنی میں نے حضرت ابوعلی دقاق رضی اللہ تعالٰی عنہ کو فرماتے سنا کہ پیڑ جب بے کس بونے والے کے آپ سے اُگے توپتے لاتاہے مگر پھل نہیں دیتا یونہی مرید کے لئے اگر کوئی پیر نہ ہو جس سے ایک ایک سانس پر راستہ سیکھے تو وہ اپنی خواہش نفس کا پجاری ہے راہ نہ پائےگا۔
(۳؎الرسالۃ القشیریۃ باب الوصیۃ للمریدین مصطفی البابی مصر ص۱۸۱)
حضرت سیدنا میر سید عبدلواحد بلگرامی قد س سرہ، سبع سنابل شریف میں فرمات ہیں : ؎
چوپیرت نیست پر تست ابلیس کہ راہ دین نہ زدست ازمکروتلبیس ۴؎
(جب تیرا پیر نہیں ہے تو تیرا پیر ابلیس ہے کہ اس نے دین کی راہ ماری ہے مکر وفریب سے۔ ت)
(۴؎سبع سنابل)
یہ مقام بہت تفصیل وتوضیح چاہتاہے
فاقول وباللہ التوفیق
(میں کہتاہون اور توفیق اللہ تعالٰی سے ہے۔ ت) فلاح دو قسم کی ہے :
اول انجام کا ررستگاری اگر چہ معاذاللہ سبقت عذاب کے بعد ہو، یہ عقیدہ اہلسنت میں ہر مسلمان کے لئے لازم اور کسی بیعت ومریدی پر موقوف نہیں اس کے واسطے صرف نبی کو مرشد جاننا بس ہے۔ بلکہ ابتدائے اسلام میں کسی دور دراز پہاڑ یا گمنام ٹاپو کے رہنے والے غافل جن کو نبوت کی خبر ہی نہ پہنچی اوردنیا سے صرف توحید پر گئے، بالاخر ان کے لئے بھی یہ فلاح ثابت ۔ صحیح بخاری وصحیح مسلم انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا : اہل محشر اور انبیاء سے مایوس پھر کر میرے حضور حاضر ہو ں گے میں فرماؤں گا انا لھا میں ہوں شفاعت کےلئے۔ پھر اپنے رب سے اذن چاہوں گا وہ مجھے اذن دے گامیں سجدے میں گروں گا ارشاد ہوا۔
یامحمد ارفع راسک وقل تسمع وسل تعطہ واشفع تشفع
اے محمد ! اپنا سر اٹھاؤ اور کہو کہ تمھاری بات سنی جائے گی اور مانگو تمھیں عطا کیا جائے گا، اور شفاعت کرو کہ تمھاری شفاعت قبول ہے۔ میں عرض کروں گا اے میرے رب! میری امت میری امت، فرمایا جائے گا جاؤ جس کے دل میں جَو بھر ایمان ہو اسے دوزخ سے نکال لو، انھیں نکال کر میں دوبارہ حاضر ہوں گا سجدہ کروں گا وہی ارشاد ہوگا کہ اے محمد ! اپنا سر اٹھاؤ اور کہو کہ سنا جائے گا مانگو کہ دیا جائے گا، شفاعت کرو کہ قبول ہے، میں عرض کروں گا اے میرے رب! میری امت میری امت۔ ارشاد ہوگا جس کے دل میں رائی برابر ایمان ہو نکال لو، میں انھیں نکال کر سہ بارہ حاضر ہوکر سجدہ کروں گا فرمائے گا اے محمد! اپنا سراٹھاؤ، اور جو کہو منظور ہے جو مانگو عطا ہے شفاعت کرو مقبول ہے، میں عرض کرو ں گا اے میرے رب میری امت میری امت، ارشاد ہوگا جس کے دل میں رائی کے دانے سے کم تر ایمان ہو اسے نکال لومیں انھیں نکال کر چھوتھی بار حاضر وساجد ہوں گا ارشاد ہوگا اے محمد ! پنا سراٹھا ؤ اور کہو کہ سنیں گے مانگو کہ دیں گے شفاعت کرو کہ قبول کرینگے۔ میں عرض کروں گا الٰہی! مجھے ان کے نکالنے کی اجازت دے جنھوں نے تجھے ایک جانا ہے۔ ارشاد ہوگا یہ تمھارے سبب نہیں بلکہ مجھے اپنے عزت وجلال و کبریاوعظمت کی قسم ہر مؤحد کو اس سے نکال لوں گا ۱؎
(۱؎ صحیح البخاری کتاب التوحید باب کلام الرب یوم القیمۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۹۔ ۱۱۱۸)
(صحیح مسلم کتاب الایمان باب اثبات الشفاعۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۱۰)
اقول: یہ ان کے بارے میں رد شفاعت حضور نہیں بلکہ عین قبول ہے کہ حضور کے عرض کرنے ہی پر توجہنم سے نکالے گئے، فقط یہ فرمایا گیا ہے کہ ان کو رسالت سے توسل کا موقع نہ ملا مجرد وعقل جنتے ایمان کے لئے کافی تھی یعنی توحید اسی قدر رکھتے تھے،
ثم اقول معنی حدیث کی یہ تقریر کہ ہم نے کی اس سے ظاہر ہوا کہ یہ اس حدیث صحیح کے معارض نہیں کہ فرمایا :
مازلت اتردد علی ربی فلا اقوم فیہ مقاما الا شفعت حتی اعطانی اﷲ من ذٰلک ان قال یامحمد ادخل من امتک من خلق اﷲ من شہدان لا الہ الا اﷲ یوما واحدا مخلصا ومات علی ذٰلک رواہ احمد ۱؎ بسند صحیح عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
میں اپنے رب کے حضور آتا جاتارہوں گا جس شفاعت کے لئے کھڑا ہوں گا قبول ہوگی، یہاں تک کہ میرا رب فرمائے گا کہ تمام مخلوق میں جتنی تمھاری امت ہے ان میں جو توحید پر مرا ہو اسے جنت میں داخل کردو، (اسے احمد نے بسند صحیح حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ ت)
(۱؎ مسند احمد بن حنبل عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۱۷۸)
کہ یہاں کلام امت میں ہے تو یہاں لا الہ الا اﷲ سے پور اکلمہ طیبہ مراد ہے جیسا کہ انھوں نے امام احمد صحیح ابن حبان حدیث ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :
شفاعتی لمن شہدان لا الہ الا اﷲ ملخصا وان محمد رسول اﷲ یصدق لسانہ قلبہ و قلبہ لسانہ ۲؎۔
میری شفاعت ہر اس شخص کے لئے ہے جواللہ کی تو حیداور میری رسالت پر اخلاص سے گواہی دیتا ہو کہ زبان دل کے موافق ہواور دل زبان کے۔
(۲؎مسند احمد بن حنبل عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۳۰۷)
(مواردالظمان باب جامع فی البعث والشفاعۃ حدیث ۲۵۹۴ المطبعۃ السلفیہ مکۃ المکرمہ ص۶۴۵)
اللھم اشہد وکفی بک شہیدا انی اشھد بقلبی ولسانی انہ لا الہ الا اﷲ وان محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم حنیفا مخلصا وما انا من المشرکین و الحمدﷲ رب العالمین۔
الٰہی! گواہ ہوجا اور تیری ہی گواہی کافی ہے کہ میں اپنے دل وزبان سے گواہی دیتاہوں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، اور محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اسکے رسول ہیں سب باطل دینوں سے کنارہ کرتاہوا خالص اسلام والاہو کر، اور میں مشرکوں میں سے نہیں اور سب تعریفیں اللہ رب العالمین کے لئے ہیں۔ (ت)