مسئلہ ۱۸۳: ۸/ ربیع الآخر شریف ۱۳۱۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں احمد ایک ولی اللہ امام وقت کا مرید وغلام اور امام ممدوح کی طرف سے مجاز وماذون ہے بعد وصال شریف اپنے شیخ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے احمد کو بوجہ کثرت ذنوب خیال تجدید بیعت آیا احمد نے اپنے مشائخ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم کی بعض تصانیف میں دیکھا تھا کہ اگر شیخ تک بوجہ وصال یا بعد کے وصول نہ ہوسکے اور تجدید بیعت چاہے تو شیخ کے کپڑے پر تجدید کرے بایں لحاظ احمد نے مولانا حسین بن حسن خلیفہ وسجادہ نشین حضرت شیخ سے جامہ شیخ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی استدعا کی مولانا نے فرمایا جب جانشین شیخ موجود ہے کپڑے کی کیاحاجت ہے۔ احمد کے بھی ذہن میں آیا کہ واقعی نیابت جانشین نیابت جامہ سے اتم واکمل ہونی چاہئے اس نیت سے مولانا کے ہاتھ پر بیعت کی مگر کبھی اپنا شیخ حضرت ولی اللہ امام ممدوح رضی اللہ تعالٰی عنہ کے سوا دوسرے کو نہ جانا نہ قراءت شجرہ طیبہ میں کسی اور کانام داخل کیا، نہ جو شجرے اپنے بیعت کرنے والوں کو دئے ان میں کبھی حضرت شیخ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے بعد کوئی نام
لکھا اب جانشین موصوف کو بوجہ تجدید مذکور یہ خیال ہے کہ احمد میرا مرید ہے اوراحمد اپنے ذہن میں اپنی بیعت اولٰی پر ہے۔ اس صورت میں امرحق کیاہے۔ احمد چاہتاہے کہ اگر میرے خیال کی غلطی ثابت ہو تومیں تائب ہوکر از سر نو دست مولٰنا پر بیعت مستقلہ بجالاؤں اور اگر اسی کا خیال صحیح ہے تو شرع مطہر سے اس پر کیا دلیل ہے کہ باوصف یکہ احمد نے دوبارہ بیعت دست مولٰنا پر کی، مولٰنا کا مرید متصور نہ ہو۔ بینو اتوجروا
الجواب
صورت مستفسرہ میں احمد کا خیال ہے صحیح ہے وہ اپنی بیعت اولٰی پر ہے بوجہ تجدید مذکور جانشین موصوف کا مرید قرار نہ پائے گا۔
فانما الاعمال بالنیات وانما لکل امرئ مانوی ۱؎۔
سوائے اس کے نہیں کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور سوا اس کے نہیں کہ ہر آدمی کے لئے وہ ہے جو اس نے نیت کی۔ (ت)
(۱؎ ؔصحیح البخاری باب کیف کان بدء الوحی قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲)
(صحیح مسلم کتاب الامارۃ باب قول النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم انما الاعمال بالنیات قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۴۰)
شرع مطہر سے اس پر دلیل واضح حضرت سیدنا طلحہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کا فعل اور حضرت امیر المومنین امام العارفین مولی المسلمین علی مرتضٰی کرم اللہ تعالٰی وجہہ الکریم کا قول ہے :
وناھیک بہما قدوۃ فی الدین۔
تیرے لئے ان دونوں حضرات کا دین میں پیشوا ہونا کافی ہے۔ (ت)
جب حضرت طلحہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اپنی خطائے اجتہادی سے رجوع فرماکر دست حق پر ست حضرت امیر المومنین علی کرم اللہ وجہہ پر تجدید بیعت چاہی ظالم کے ہاتھ سے زخمی ہوچکے تھے امیر المومنین علی تک وصول کی طاقت نہ تھی امیر المومنین علی کرم اللہ وجہہ کے لشکر کا ایک سپاہی گزرا اسے بلاکر حضرت طلحہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اس کے ہاتھ پر تجدید بیعت فرمائی اور روح اقدس جوار اقدس رحمت الٰہی میں پہنچی،
امیرالمومنین علی کرم اللہ وجہہ نے یہ حال سن کر فرمایا :
ابی اﷲ ان یدخل طلحۃ الجنۃ الا و بیعتی فی عنقہ ۔
اللہ عزوجل نے طلحہ کاجنت میں جانا نہ مانا جب تک میری بیعت ان کی گردن میں نہ ہو۔ (ت)
دیکھو امیر المومنین نے اس بیعت کو اپنی ہی بیعت قرار دیا نہ کہ لشکری کی، اور حضرت طلحہ نے امیر المومنین ہی کو امیر المومنین مستحق بیعت سمجھا نہ کہ معاذاللہ لشکری کو۔
ذٰلک برھانان من ربک وقد عرضتہ علی محقق الشریعۃ والطریقۃ مولٰینا محب الرسول عبدالقادر القادری البدایونی حفظہ اﷲ تعالٰی عن شر کل مجونی وفتونی فاقرہ وصوبہ واستحسنہ واعجبہ، واﷲ سبحنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
یہ دونوں برہان تیرے رب کی طرف سے ہیں اور تحقیق میں نے پیش کیا اس کو شریعت و طریقت کے محقق مولانا محب رسول عبدالقادر قادری بدایونی پر، اللہ تعالٰی ان کو محفوظ رکھے ہر بے حیا اور فتین کے شر سے، پس اس کو ثابت رکھا اور اس کو صواب قرار دیا اور اس کو عجیب اور مستحسن قرار دیا، اور اللہ تعالٰی پاک ہر عیب سے اور برتر ہے سب سے زیادہ جاننے والا اور اس کا علم جلیل اس کی بزرگی اتم اور مضبوط ہے۔ (ت)
مسئلہ ۱۸۴: از جالندھر محلہ راستہ متصل مکان ڈپٹی احمد جان صاحب مرسلہ محمد احمد خاں صاحب ۲۰/ شوال ۱۳۱۴ھ
اگر عورت نیک خصلت پابند شریعت واقف طریقت اپنے ہاتھ پر عورتوں اور مردوں کو بیعت کرتا شروع کردے تو ازروئے طریقت اور شریعت یہ بیعت درست ہے یانہیں؟ بحوالہ کتب مع عبارات تحریر فرمائیں
الجواب
اولیائے کرام کا اجماع ہے کہ داعی الی اللہ کا مرد ہونا ضرور ہے لہذا سلف صالحین سے آج تک کوئی عورت نہ پیر بنی نہ بیعت کیا۔ حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
لن یفلح قوم ولو امرھم امرأۃ ۱؎ رواہ الائمۃ احمد والبخاری والترمذی والنسائی عن ابی بکرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
ہر گز وہ قوم فلاں نہ پائے گی جنھوں نے کسی عورت کو والی بنایا، اس کو ائمہ کرام احمد وبخاری و ترمذی اور نسائی نے ابوبکرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ (ت)
(۱؎ صحیح البخاری کتاب الفتن قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۰۵۲)
(جامع الترمذی ابوب الفتن امین کمپنی دہلی ۲/ ۵۱)
(سنن النسائی کتاب ادب القضاۃ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۳۰۴)
(مسند احمد بن حنبل عن ابی بکرۃ المکتب الاسلامیۃ بیروت ۵ /۵۱)
امام عارف باللہ سیدی عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ میزان الشریعۃ کتاب الاقضیہ میں فرماتے ہیں :
قد اجمع اھل الکشف علی اشتراط المذکورۃ فی کل داع الی اﷲ تعالٰی ولم یبلغنا ان احدا من نساء السلف الصالح تصدرت لتربیۃ المریدین ابدا النقص النساء فی الدرجۃ و ان ورد الکمال فی بعضہن کمریم بنت عمران وآسیۃ امرأۃ فرعون فذٰلک کمال بالنسبۃ للتقوٰی والدین لابالنسبۃ للحکم بین الناس وتسلیکھم فی مقامات الولایۃ، وغایۃامر المرأۃ ان تکون عابدۃ وزاھدۃ کرابعۃ العدویۃ واﷲ سبحنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ فقط
بیشک اہل کشف نے اجماع کیا ہے اللہ تعالٰی کی طرف بلانے والے کے لئے مردہونا شرط قرار دینے پر، اور نہیں پہنچی کہ ہم کو خبر کہ سلف صالحین کی عورتوں میں سے کوئی عورت مریدین کی تربیت کرنے کے درپے ہوئی ہو ہمیشہ بوجہ عورتوں کے درجہ میں ناقص ہونے کے، اگر چہ ان کے بعض میں کمال وارد ہوا ہے۔ جیسے کہ مریم بن عمران اور آسیہ فرعون کی بیوی، پس یہ کمال تقوٰی اور دین کے لحاظ سے ہے نہ کہ لوگوں کے درمیان حکومت کرنے کی نسبت سے اور ان کو مقامات ولایت میں چلانے کی وجہ سے عورت کی غایت امر یہی ہے کہ وہ عابدہ زاہدہ ہو، جیسا کہ رابعہ عددیہ بصریہ، اور اللہ سبحنہ وتعالٰی سب سے زیادہ علم جاننے والا ہے اور اس کا علم بزرگ تر، اکمل اور مضبوط ہے۔ فقط۔ (ت)
(۱؎ میزان الشریعۃ الکبرٰی کتاب الاقضیہ مصطفی البابی مصر ۲ /۱۸۹)