کہ عادل کا خبردینا اپنی ذات کے بارے میں کہ وہ صحابہ ہے جبکہ وہ ہمعصر ہو، خواجہ رتن کی طرح نہ ہو اپنی تعدیل کے حکم میں نہیں ہے۔ (ت)
(۳؎ مسلم الثبوت الاصل الثانی السنۃ مسئلہ اخبار عن نفسہ الخ مطبع انصاری دہلی ص۱۹۸)
کتنے صحابہ ہیں جن کی احادیث ائمہ حدیث قدیم وحدیث نے اپنے صحاح ومسانید وسنن معاجیم میں تخریج فرمائیں نہ ان کے پاس نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا کوئی فرمان تھا کہ فلاں ہمارے حضور بارگاہ علام پناہ سے شرف یاب ہوا نہ ان سے اس پر کوئی شہادت لی گئی نہ اور صحابہ کا محضر طلب ہوا ان ثقات کا خود ہی کہاکہ:
سمعت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم رأیت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم شہدت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔
میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے سنا ہے میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو دیکھا ہے میں رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا۔ (ت)
مسموع ومقبول ہوا۔
کماافادہ الامام ابو عمربن عبدالبر فی الاستیعااب واقرہ علیہ حافظ الشان۔
جیسا کہ افادہ فرمایا ہے امام ابوعمر بن عبدالبر نے استیعاب میں اور ثابت رکھا ہے اس پر حافظ الشان ابن حجر نے (ت)
شہرت وہ چیزہے جس سے رشتہ خلافت درکنار رشتہ نسب کہ صدہا احکام حلال وحرام وحقوق و ذمام کا مدار ہے شرعاوعقلا اجماعا عرفا ہر طرح ثابت ہوجاتاہے ہم شہادت دیتے ہیں کہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ حضرت ابوقحافہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے پسر اطہر اور امام زین العابدین حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہما کے خلف مطہر میں سوا شہرت کے ہمارے پاس اس پر اور کیا دلیل ہے۔
فتاوٰی خلاصہ میں ہے :
اما النسب فصورتہ اذا سمع من انسان ان فلانا ابن فلان الفلانی، ومعہ ان یشھد بذٰلک وان لم یعاین الولادۃ علی فراشہ الا یری انا نشھد ان ابابکر الصدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہ ابن ابی قحافۃ وما رأینا ابا قحافہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ ۱؎۔
لیکن نسب تو صورت اس کی یہ ہے کہ سنا کسی انسان سے تحقیق فلاں بیٹا فلاں کا فلان ہے تو اس کو گنجائش ہے اس بات کی شہادت دے اس کی اگر چہ اس کے فرش پر اس کی ولادت کا اس نے معائنہ نہ کیا ہو، کیا نہیں دیکھتا کہ ہم گواہی دیتے ہیں اس بات کی کہ تحقیق ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ ابوقحافہ کے بیٹے ہیں حالانکہ ہم نے ابوقحافہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کو دیکھا نہیں۔ (ت)
(۱؎ خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الشہادۃ الفصل الاول مکتبہ حبیبہ کوئٹہ۴ /۵۲)
اور دونوں طریق ثبوت کر ناکافی سمجھا جائے تو تمام سلاسل اولیاء اللہ سے معاذاللہ ہاتھ دھونا ہو کیا کوئی قادر ہے کہ شروع سلسلہ سے منتہی تک ہر بندہ خدا کا اپنے شیخ سے خلافت واجازت پانا ن کے سوا اور کسی طریقہ انیقہ سے ثابت کرسکے، حاشا وکلا تو اس کے انکار میں عیاذا باللہ تمام سلاسل کا انکار لازم آتاہے۔ وھو کما اتری (یہ وہ معاملہ جسے آپ سمجھتے ہیں) او رجب دلیل شرعی سے محمود کا سلسلہ سجادہ نشینی وخلافت ثابت تو خانقاہ مبارک میں رسم خرقہ پوشی سے اسے مانع ہونے کا کوئی حق حامد کو نہیں، نہ حامد خوہ کسی کاانکار قابل قبول ہوسکتاہے۔ عقل ونقل کا قاعدہ اجماعیہ ہے کہ نفی پر مثبت مقدم ہوتاہے دو ثقہ گواہی دیں کہ زید وہندہ کا نکاح ہوا اور ہزار گواہ ہوں کہ نہ ہوا ان نافیوں کی بات ہر گز نہ سنی جائے گی کہ اس کا حاصل صرف اپنے علم کی نفی ہے یعنی ہمارے سامنے نہ ہوا اور اس سے نفی وقوع لازم نہیں آتی،
اصول مسلمہ میں سے ہے :
المثبت مقدم علی النافی لان من یعلم حجۃ من لایعلم۔
مثبت نافی پر مقدم ہے اس لئے کہ ہوجاتاہے وہ حجت ہے اس پر جو نہیں جانتا۔ (ت)
الاشباہ میں ہے :
بینۃ النفی غیر مقبولۃ الا فی عشر(الی قولہ) وفی ایمان الہدایۃ لافرق بین ان یحیط علم الشاھد اولا ۱؎۔
نفی کی دلیل غیرمقبول ہے مگر دس چیزوں میں ہدایہ کی کتاب الایمان میں ہے کہ نہیں فرق درمیان اس کے کہ گواہ کاعلم احاطہ کرے یانہ (ت)
(۱؎ الاشباہ والنظائر کتاب القضاء والشہادات ادارۃ القرآن کراچی ۱ /۵۲۔ ۳۵۱)
دور کیوں جائے سلاسل طریقت ہی دیکھئے ہر سلسلہ میں بتوسط امام حسن بصری حضرت امیر المومنین مولی علی کرم اللہ تعالٰی وجہہ سے انتساب موجود حالانکہ جماہیر اکابر ائمہ محدثین کہ فن رجال میں انھیں پر اعتماد اور انھیں کی طرف رجوع ہے۔ حضرت مولا علی کرم اللہ تعالٰی وجہہ سے ان کے لئے سماع ہرگز نہیں مانتے مگر اسی قاعدہ
عقلیہ ونقلیہ المثبت مقدم علی النافی لان من حفظ حجۃ علی من لم یحفظ
(مثبت نافی پر مقدم ہے اس لئے کہ جس نے محفوظ رکھا اس کی بات حجت ہے اس پر جس نے محفوظ نہ رکھا)نے اتصال سلاسل میں اصلا خلل نہ آنے دیا جب اثبات کے سامنے ایسے اکابر کی نفی مقبول نہ ہوئی تو آج کل کے کسی صاحب کا انکار کیاا ثر ڈال سکتاہے۔ رہا سوبرس تک اس رسم کا بعذر مذکورہ ادا نہ ہونا وہ بعد ثبوت سجادہ نشینی کا قابل احتجاج ہے حامدکے یہاں چار سو برسک تک روز عرس خرقہ پوشی نہ ہونے نے اسے ممنوع نہ کیاحالانکہ اول یہ امر اس کے خاندان میں نہ تھا تو محمود کے یہاں چار سو برس جاری رہ کر سو برس بعذر منقطع ہونا کیا مخل ہوسکتاہے،
شرع کا قاعدہ مسلمہ ہے کہ :
البقاء اسھل من الابتداء ،
ابتداء سے بقاء آسان ہے۔ (ت)
بنی اسرائیل سے عمالقہ تابوت سکینہ چھین لے گئے مدتہامدت کے بعد واپس آیا تھا تو کیا ان کا حق تبرک اس سے زائل ہوگیا تھا۔ قال اﷲ تعالٰی :
وقال لھم نبیتھم ان ایۃ ملکہ ان یاتیکم التابوت فیہ سکینۃ من ربکم۱؎ الایۃ۔
اور کہا ان کو ان کے نبی نے تحقیق نشانی اس کی شاہی کی یہ ہے کہ آئے گا تابوت تمھارے پاس اس میں تمھارے رب کی طرف سے سکینت ہوگی۔ (ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۲ /۲۴۸)
یاجب قرامطہ مخذولین کعبہ معظمہ سے حجر اسود اکھیڑ کر ہجر کو لے گئے اور بائیس برس بعدمسلمانوں نے بحمداللہ تعالٰی واپس پایا تو کیا اہل اسلام یا اہل بیت الحرام کا حق تبرک واستلام اس میں باقی نہ رہا، یہ امور واضحہ ہیں نہایت درجہ روشن وصاف،
والانصاف خیر الاوصاف واﷲ سبحنہ وتعالٰی اعلم۔
(اور انصاف تمام اوصاف سے بہترہے اور اللہ تعالٰی پاک اور برتر سب سے زیادہ جاننے والا ہے۔ ت)
مسئلہ ۱۸۲ :
چہ می فرمایند علمائے دین کہ بردست کدام کس بیعت نمودن جائز وعدم جواز ست وکدام کس قابل مرشد شدن ست وباینہمہ کسیکہ قابل بیعت نمود نیست واگر کسے رابیعت نماید بحق او شان چہ حکم ست۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ کس شخص کے ہاتھ پر بیعت ہونا جائز ہے اور کس کے ہاتھ پر ناجائز ہے اور کون شخص مرشد ہونے کے قابل ہے اور باوجود ان سب باتوں کے جو شخص بیعت کرنے کے قابل نہیں اگر وہ کسی کو بیعت کرے اس کے حق میں کیاحکم ہے؟
الجواب
بیعت گفتن ودر مسند ارشاد نشستن را ازچارشرط ناگزیرست :
یکے آنکہ سنی صحیح العقیدہ باشد زیر اکہ بد مذہبیاں سگان دوزخ اند بدترین خلق چنانچہ درحدیث آمدہ ست۔
دوم عالم بعلم ضروری بودن کہ ع
بے علم نتواں خداراشناخت
سوم اجتناب کبائر کہ فاسق واجب التوہین است ومرشد واجب التعظیم ہر دو چہ گونہ بہم آید۔
چہارم اجازت صحیحہ متصلہ کما اجمع علیہ اھل الباطن۔
ہر کہ ازنہا ہیچ شرطے رافاقدست اور ا نشاید پیر گرفتن ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
بیعت لینے اور مسند ارشاد پر بیٹھنے کے لئے چارشرطیں ضروری ہیں : ایک یہ کہ سنی صحیح العقیدہ ہو اس لئے کہ بدمذہب دوزخ کے لئے کتے ہیں اوربدترین مخلوق، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے۔
دوسری شرط ضروری علم کا ہونا، اس لئے کہ بے علم خدا کوپہچان نہیں سکتا۔
تیسری یہ کہ کبیرہ گناہوں سے پرہیرز کرنا اس لئے کہ فاسق کی توہین واجب ہے اور مرشد واجب التعظیم ہے دونوں چیزیں کیسے اکھٹی ہوں گی۔
چوتھی اجازت صحیح متصل ہوجیسا کہ اس پر اہل باطن کا اجما ع ہے۔
جس شخص میں ان شرائط من سے کوئی ایک شرط نہ ہوتو اس کو پیر نہیں پکڑنا چاہئے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)