Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ )
96 - 144
مسئلہ ۱۸۱ : از کچھوچھا شریف ضلع فیض آباد مرسلہ حضرت سیدچاہ ابوالمحمو ومولٰنا مولوی احمد اشرف میاں صاحب اشرفی دام مجدھم ۱۷/ شوال ۱۳۱۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے عظام وحضرات مشائخ کرام اس مسئلہ میں کہ پانسو برس کا زمانہ ہوا زید وعمرو دونوں برادر حقیقی کو ایک ہی مرشد یعنی اپنے والد ماجد سے علیحدہ علیحدہ دو خرقے عطا ہوکر خلافت وسجادہ نشینی حاصل ہوئی، زید خلف اکبربرابر اپنے مرشد کے یوم العرس خرقہ عطیہ مرشد کو خاص خانقاہ ومرشدمیں پہن کر فاتحہ عرس حسب دستور مشائخ کرتا رہا یونہی آٹھ پشت تک زید کے خاندان میں خلافت خاندانی وخرقہ پوشی بحیثیت سجادہ نشینی قائم رہی اٹھویں پشت کا اخیر سجادہ نشینی بکر پانی زوجہ ہندہ اور برادر وخلیفہ خاص خالد کو چھوڑ کر انتقال کرگیا ہندہ بعد وفات شوہر خرقہ مذکورہ لے کر اپنے میکے چلی گئی خالد سے سلسلہ بیعت وخلافت خاندانی قریب سو برس سے جارہ ہے مگر بوجہ مذکور خرقہ پوشی اس مدت میں نہ ہوسکی، عمروخلف اصغر کی نسل میں نو پشت تک خرقہ پوشی ایک روز قبل عرس ہوا کہ خاص روز عرس کی خرقہ پوشی نسل خلف اکبر میں ہوئی جب زمانہ خالد میں خرقہ نہ رہنے کے سبب وہ رسم ادانہ ہوسکی رشید نے کہ نسل عمرو کا نواں سجادہ نشین اور معاصر خالد تھا دونوں روز خرقہ پوشی کی اب عمرو کے سلسہ میں حامداور زید کے خاندان میں محمود ہے جس نے علاوہ بیعت وخلافت خاندانی بزرگ ہوا خرقہ بھی واپس لیا اور رسم رفتہ پھر از سرنو تازہ کی، اب حامد اس کے استحااق خرقہ پوشی میں منازع ہے مرشد مرشد محمود تک خلافت خاندانی بہت معززین اہل خاندان وغیرہم کو مسلم اور ان میں مشہورہے بعض اکابر اہل خاندان نے اپنے رسائل شائع شدہ میں بھی اسے درج کیا ہے، مرشد محمود کو کہ ثقاب عدول سے تھے ان کے مرشد نے خلافت نامہ تحریری دستخطی اپنے قلم مبارک سے دیا جسے خود ان کے صاحبزادے وغیرہ بہت جانتے ہیں انھوں نے مدت سے اس سلسلہ کو اجرا فرمایا، لوگ ان کے پھر محمود پھر خلیفائے محمود کے مرید ہوتے رہے اور ہوتے ہیں کبرائے علماء ومشائخ عصر نے محمود کو خلیفہ وسجادہ نشین خاندان مانا اور اس پر مہر یں کی ہیں بلکہ خود مرشد مرشد محمود نے ایک خط دستخطی کے القاب میں نام محمود کے ساتھ لفظ سجادہ نشین تحریر فرمایا، کیا اس صورت میں یہ سلسلہ خلافت و سجادہ نشینی ثابت ومسلم مانا جائے گا یا انکار بعض منازعین کے باعث تسلیم نہ ہوگا، اور چار سو برس تک رسم خرقہ پوشی خاندا ن محمود میں جاری رہ کر تقریبا سو برس تک بوجہ مذکور منقطع اور حامد کے یہاں دونوں رو ز خرقہ پوشی ہونے سے اب حق محمود زائل ہوگیا، یا وہ اس رسم کو تازہ کرسکتا ہے حامد کو بوجوہ مذکورہ یوم العرس خصوصا حدود خانقاہ میں خرقہ پوشی محمود سے تعرض ومزاحمت کا حق حاصل ہے یانہیں؟ بینو توجروا (بیان فرماؤ تاکہ اجر پاؤ۔ ت)
الجواب

صورت مستفسرہ (دریافت کردہ صورت) میں محمود کی خلافت خاندانی وسجادہ نشینی ضرور ثابت ومسلم ہے اور انکار منازعین اصلا مسموع نہیں شرعا وعقلا ایسے امور کے ثبوت کے دو طریقے ہیں ایک اتصال سند، دوسرے شہرت ____ تقریر سوال سے ظاہر ہے کہ محمود کو دونوں وجہ شہرت بروجہ احسن حاصل، تو نفی نافی قطعا نامسموع وباطل (نفی کرنے والے کی نفی نہ سنی ہوئی)
فتح القدیر وبحرالرائق ونہر الفائق ومنح الغفار وردالمحتار میں ہے :
طریق نقلہ لذٰلک عن المجتہد احد امرین امام ان یکون لہ سند فیہ اویاخذہ من کتاب معروف تد اولتہ الایدی نحو کتب محمد بن الحسن ونحوھا من التصانیف المشہورۃ للمجتہدین لانہ بمنزلۃ الخبر المتواتر المشہور ھکذا ذکر الرازی ۱؎۔
اس قول کو مجتہد سے نقل کرنے کا طریقہ دو میں سے ایک ہے یا تو یہ کہ اس کی سند اس میں موجود ہو یا اس کو کسی مشہور کتاب سے پکڑے جو ہاتھوں میں متداول ہو جیساکہ محمد بن حسن کی کتابیں اور

ان کی مثل مجتہدین کی مشہور تصانیف اس لئے کہ وہ بمنزلہ خبر متواتر مشہور کے ہے، رازی نے اسی طرح ذکر کیا ہے۔ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار     بحوالہ الفتح والبحروالمنح     کتاب القضاء     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴ /۳۰۶)
جب بتصریح ائمہ کرام دین خدا واحکام شرع ومسائل حلال وحرام وفتوٰی وقضا متعلق بدماء ومحارم میں انھیں دو طریقہ سند وشہرت سے صرف ایک کا وجود کافی جس کی بناء پر اجرائے حدود وقصاص تک کیاجائے گا امر سجادہ نشینی میں دونوں کا اجتماع بھی کافی نہ جاننا سراسر بعید از انصاف ہے سند کی تویہ حالت ہے کہ زید مسموع القول جب کوئی حدیث یا مسئلہ فقہیہ اپنے شیخ سے روایت کرے اور اس میں تصریح سماع بھی نہ ہو، تاہم امام بخاری وغیرہ بعض ائمہ کے نزدیک  شیخ وتلمیذ کی صرف کبھی ملاقات ہونا تسلیم کے لئے بس ہے اور امام مسلم وغیرہ جمہور اکابر کے نزدیک اس کی ضرورت نہیں محض معاصرت یعنی دونوں کا ایک زمانہ میں ہونا اور امکان لقاہی کافی ہے۔ ہمارے علماء کے نزدیک یہی مذہب صحیح ہے نہ کہ جب وہ کہے کہ میں نے سنا یا مجھے خبر دی یا مجھ سے حدیث بیان کی کہ اب تو بالاجماع بے شرط مذکور قبول اور صاحب سند سے دعوی سماع پر گواہ مانگنا ضروری جاننا باجماع ائمہ باطل ومخذول امام مسلم اپنے مقدمہ صحیح میں فرماتے ہیں :
زعم القائل الذی افتتحنا الکلام علی الحکایۃ عن قولہ ان کل اسناد فیہ فلان عن فلانہ وقد احاط العلم بانہما کانا فی عصر واحد وجائز ان یکون سمعہ منہ غیر انہ لم تجد فی الروایات انھما التقیا لم یکن حجۃ وہذا القول مخترع مستحدث والمتفق علیہ بین اھل العلم قدیما وحدیثا ان الروایۃ ثابتۃ والحجۃ بہا لازمۃ الاان تکون ہناک دلالۃ بینۃ ان الراوی لم یلق من روی عنہ اھ ۱؎ ملخصا۔
گمان کیا ہے اس قائل نے کہ شرو کیا ہم نے کلام کو اس کے قول کی حکایت پر تحقیق ہر استاد کہ اس میں فلان عن فلاں ہو، اور حال یہ کہ علم نے اس کا احاطہ کیاہو کہ وہ دونوں ایک ہی زمانہ میں ہوں او رجائز ہے کہ اس نے اس سے سنا ہو سوا ا س کے کہ ہم روایات میں نہ پائیں ان کی باہم ملاقات کو کہ وہ حجت نہ ہو اور یہ قول نیا گھڑا ہوا ہے اور پرانے اورنئے اہل علم میں یہ اتفاقی بات ہے کہ روایت ثابت ہے اور حجت اس کے ساتھ لازم ہے مگریہ کہ اس

جگہ دلالت ظاہر کہ روای نے جس سے روایت کی ہے اس سے ملاقات نہیں کی اھ ملخصا۔ (ت)
 (۱؎ صحیح مسلم   مقدمۃ الکتاب     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۲۱و ۲۲)
شرح امام نووی میں ہے :
ھذا الذی صار الیہ مسلم قد انکرہ المحققون وقالو اھذا ضعیف والذی ردہ ھوالمختار الصحیح الذی علیہ ائمۃ الفن علی بن المدینی والبخاری وغیرھما ۲؎۔
یہ وہ ہے جس کی طرف مائل ہوئے ہیں امام مسلم، حال یہ ہے کہ محققوں نے اس کا نکار کیا ہے اور انھوں نے کہا ہے یہ ضعیف ہے اور جس کو اس نے رد کیا ہے وہی مختار صحیح ہے جس پر ائمہ فن علی بن المدینی اور امام بخاری وغیرہما جمع ہوئے ہیں۔ (ت)
(۲؎ شرح صحیح مسلم للنووی    مقدمۃ الکتاب     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۲۱)
فتح القدیر میں ہے :
مانقل عن البخاری من انہ اعلم بقولہ لایعرف سماع بعض ھؤلاء من بعض فبناء علی اشتراطہ العلم باللقی والصحیح الاکتفاء بامکان اللقی ۳؎۔
جو نقل کیا گیا ہے امام بخاری سے کہ انھوں نے ضعیف قرار دیاا ہے ساتھ اپنے قول کہ نہیں پہچانا جاتا سننا بعض ان حضرات کا بعض سے، تویہ اس پر مبنی ہے کہ ان کے نزدیک ملاقت کا علم ہونا شرط ہے اور صحیح یہ ہے کہ ملاقات کا امکان ہی کافی ہے۔ (ت)
 (۳؎ فتح القدیر    کتاب الصلٰوۃ باب الوتر     مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۱ /۳۷۰)
نیز کتاب الزکوٰۃ فصل فی البقر
میں فرمایا :
قول الجمہور الاکتفاء بالمعاصرۃ مالم یعلم عدم اللقاء و شرط البخاری ابن المدینی العلم باجتما عہما ولو مرۃ والحق خلافہ ۱؎ اھ ملتقطا۔
جمہور کا قول کفایت کرتاہے ہم عصر ہونے کے ساتھ جبکہ ملاقات کے نہ ہونے کا علم نہ ہو اور شرط قرار دیا ہے امام بخاری اور ابن المدینی نے ان کے اجتماع کو اگرچہ ایک ہی مرتبہ ہوا ہو۔حال یہ ہے کہ حق اس کے خلاف ہے ھ ملتقطا(ت)
 (۱؎ فتح القدیر     کتاب الزکوٰۃ فصل فی البقر     مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۲/ ۱۳۳)
زیدوعمرو کی خلافت وسجادہ نشینی درکنار خود حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی صحابیت (جس کا اثر اعمال سے گزر کر عقائد تک پہنچتا ہے کہ صحابہ کی تعظیم ومحبت ضروری، مذہب اہلسنت اور معاذاللہ ان کی توہین وتنقیص گمراہی وضلالت) اس کے بارے میں محققین علماء فرماتے ہیں ، ثقہ عادل کا خود اپنی خبر دینا کہ مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے شرف صحبت حاصل ہوا کافی ہے اگر چہ کسی دوسرے طریقے سے اس کی صحابیت کا اصلا ثابت نہ ہو جبکہ وہ ایسے وقت میں تھا کہ فضل اسے ملنا متصود ہو،
امام ابن حجر عسقلانی فی تمیز الصحابہ میں فرماتے ہیں :
الفصل الثانی فی الطریق الی معرفۃ کون الشخص صحابیا وذٰلک باشیاء اولھا ان یثبت بطریق التواتر انہ صحابی ثم بالاستفاضۃ والشہرۃ ثم بان یروی عن احد من الصحابۃ ان فلانالہ صحبۃ مثلا وکذا عن احادالتا بعین بناء علی قبول التزکیۃ من واحد وھو الراجح ثم بان یقول ھوا ذاکان ثابت العدالۃ والمعاصرۃ انا صحابی ۲؎۔
دوسری فصل کسی شخص کے حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے صحابی ہونے کی پہچان کے طریق میں اور چند چیزوں سے ہے، اول یہ کہ تواتر کے طریق سے ثابت ہو کہ وہ صحابی ہے  پھر ساتھ طریق استفاضہ اور شہرت کے، پھر بایں طور کہ کسی صحابی سے روایت کیاجائے کہ فلاں کو صحبت نصیب ہے مثلا اور ایسے ہی کسی ایک تابعی سے بنا پر قبول کرنے تزکیہ کے کسی ایک سے اور یہی راجح ہے پھر بایں طور کہ کہے وہ جب کہ اس کی عدالت اور ہم عصر ہونا ثابت ہو کہ میں صحابی ہوں۔ (ت)
(۲؎ الاصابۃ فی تمییر الصحابۃ  خطبۃ الکتاب  الفصل الثانی  دار صادر بیروت  ۱ /۸)
Flag Counter