Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ )
95 - 144
مسئلہ ۱۸۰ :  ۱۵/شوال ۱۳۱۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ مین کہ زید کہتاہے اور اپنی کتاب میں لکھتاہے
من لا شیخ لہ فی الدنیا فشیخ لہ شیطان فی الاخرۃ
یعنی جس کا شیخ نہیں ہے بیچ دنیا کے پس شیخ ہے واسطے اس کے شیطان بیچ اخرت کے یعنی قیامت کے روز گروہ شیطان میں شیطان کے ساتھ اٹھایا جائے گا، آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :
الشیخ فی قومہ کالنبی فی الامہ ۲؎
یعنی شیخ بیچ قوم اپنی کے مثل نبی کے ہے بیچ امت اپنی کے یعنی جس طرح نبی سے ہدایت امت کی ہوتی ہے اس طرح شیخ یعنی مرشد سے مرید کو ہدایت ہوتی ہے جس قوم پر نبی نہیں آیا ہے وہ قوم گمراہ ہے ایسا ہی جو شخص بے پیرہے وہ گمراہ ہے۔
(۲؎ المقاصد الحسنۃ     حدیث ۶۰۹      دارالکتب العلمیہ بیروت   ص۲۵۷)
حضرت شیخ المشائخ نظام الدین اولیاء محبوب الٰہی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے راحت القلوب میں ارقام فرمایا ہے، جو شخص پلہ دامن اولیاء اللہ میں نہیں ہے یعنی بے پیر ہے وہ شخص دائرہ اسلام سے باہر ہے یہاں تک کہ

بندگی اس کی قبول نہیں ہوتی، نماز وروزہ اس کا ایسا ہے جیسا چراغ بے روغن، اور بعض حضرات صوفیہ کرام نے فرمایا: بے پیر کے سلام کا جواب ہداک ﷲ دینا چاہئے جس کس نے علیک جواب بے پیر کو جان کر دیا اس نے ساتھ شیطان کے آشنائی کی ، بیت:
اگر بے پیر کارے پیش گیرد     ہلاکی راز بہر خویش گیرد
 (اگر بغیر پیر کے کوئی کام پکڑے تو وہ ہلاکت کو اپنے لئے پکڑے گا۔ ت)

ع     بناگرو کی مالا جپنا جنم اکارت جائے۔

(پیشوا اور شیخ کے سوا تسبیح پھیرنا اور درود ووظیفہ کرنا زندگی برباد کرنے کے برابر ہے۔ ت)
اور بکر کہتاہےکہ میں کسی شخص سے بيعت نہیں ہوں اور نماز پڑھتاہوں اور روزہ رکھتاہوں اور احکامات شرع شریف اور کلام مجید کو اور جو علمائے دین فرماتے ہیں برحق جانتاہوں لیکن کسی پیر فقیر کا مرید نہیں ہوں اور نہ مرید ہونے کو برا کہتاہوں، تو اس صورت میں بموجب کہنے زید کے بکر کی کوئی عبادت کسی قسم کی درگاہ باری تعالٰی میں قبول نہیں سب عبادت بکر کی بلا مرید ہوئے برباد گئی اور سلام علیک بکر سے ناجائز ٹھہری اور بکر دائرہ اسلام سے خارج ہوگیا اور گروہ شیاطین کے ساتھ بکر کا حشر ہوگا تو ا س صورت میں بکر کیا کرے؟
الجواب

شیخ یعنی مرشدوراہنما وہادی راہ خدا دوطورپر ہے : عام ہادی کلام اللہ وکلام ائمہ شریعت وطریقت کلام علمائے اہل ظاہر وباطن ہے اسی سلسلہ صحیحہ پر کہ عوام کا ہادی کلام علماء علماء کا رہنماکلام ائمہ ، ائمہ کامرشد کلام رسول، رسول کا پیشوا کلام اللہ، اور خاص یہ کہ زید کسی خاص بندہ خدا ہادی مہتدی قابل پیشوائی وہدایت جامع شرائط بیعت کے ہاتھ پر بیعت کرے اور اپنے اقوال وافعال وحرکات وسکنات میں اس کی ہدایت مطابقہ شریعت وطریقت کا پابند رہے۔ شیخ مرشد بمعنی اول ہر شخص کو ضرور اور ایسا بے پیر قطعا دائرہ اسلام سے دور، اس کی عبادت تباہ ومہجور، اور اس سے ابتداء بسلام ممنوع، ومحظور، اور روز قیامت گروہ شیطان میں محشور،
قال اﷲ تعالٰی : یوم ندعوا کل اناس بامامھم۱؎
جس دن ہم ہر گروہ کو اس کے امام کے ساتھ لائیں گے۔
 (۱؎ القرآن الکریم   ۱۷ /۷۱)
جب اس شخص نے ائمہ ہدی کو اپنا مرشد وامام نہ مانا تو امام ضلالت یعنی شیطان لعین کا مرید ہوا، لاجر م روز قیامت اسی کے گروہ میں اٹھے گا،
والعیاذباللہ سبحانہ وتعالٰی۔
مگر کلمہ گویوں میں اس طرح کے بے پیرے چارگروہ ہوسکتے ہیں۔
اول وہ کافر جو سرے سے قرآن وحدیث ہی کو نہ مانے جیسے نیچری کو حدیثوں کو صراحۃ مردود و بے سودبتاتے ہیں اور قرآن کے یقینی قطعی معافی حق کو رد کر کے اپنے دل سے گھڑ کر کہانی پہیلی بناتے ہیں
لعنہم اﷲ لعنا کبیرا۔
دوم غیر مقلد کہ بظاہر قرآن وحدیث کو مانتے اور ارشادات ائمہ دین وحاملان شرع متین کو باطل و نامعتبر جانتے ہیں یہ سلسلہ بیعت توڑکر براہ راست خدا اور رسول سے ہاتھ ملا یا چاہتے ہیں،
وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ۱؎
 (اور عنقریب جان لیں گے کیسا پلٹا کھائیں گے۔ ت)
(۱؎ القرآن الکریم    ۲۶ /۲۲۷)
سوم وہابیہ مقدلین کہ اگر چہ بظاہر فروع فقہیہ میں تقلید ائمہ کا نام لیتے ہیں مگر اصول وعقائد میں صراحۃ سواد اعظم کے خلاف چلتے ہیں اور مقامات ومناسب وتصرفات ومراتب اولیائے کرام کے نام سے جلتے ہیں۔

چہارم اسی طرح تمام طوائف ضالہ بد مذہب گمراہ رافضی خارجی معتزلہ قدری جبری وغیرہم خذلھم اﷲ کہ ان سب نے راہ ہد ی چھوڑ کر اپنی ہوا کو امام بنایا اور اپنا سلسہ بیعت شیطان لعین سے جاکر ملایا،
قا ل اﷲ تعالٰی : افرأیت من اتخذ الہہ ھواہ ۲؎
کیا تو نے دیکھا وہ شخص جس نے اپنی خواہش کو اپنا معبود ٹھہرایا، (ت)
(۲؎القرآن الکریم    ۴۵/ ۲۳)
بالجملہ کلمہ جامعہ یہی ہے کہ جو اہل ہوا ہیں یعنی مخالفان اہلسنت وجماعت وہی اس معنی پر بے پیر صادق اور ان تمام احکام کے ٹھیک مستحق ہیں
قاتلھم اﷲ انی یؤفکون ۳؎
 (اللہ تعالٰی ان کو ہلاک کرے کہاں اوندھے پھرتے ہیں۔ ت)
 (۳؎القرآن الکریم    ۹ /۳۰)
سنی صحیح العقیدہ کہ ائمہ ہدی کو مانتا تقلید ائمہ ضروری جانتا اولیائے کرام کا سچا معتقد تمام عقائد میں راہ حق پر مستقیم وہ ہر گز بے پیر نہیں دو چاروں مرشداں پاک یعنی کلام خدا و رسول وائمہ علمائے ظاہر وباطن اس کے پیر ہیں بلکہ اگر اسی حالت پر ہے تو مثل اور لاکھوں مسلمانان اہلسنت کے اس کا ہاتھ شریعت مطہرہ کے ہاتھ میں ہے اگر چہ بظاہر کسی خاص بندہ خدا کے دست مبارک پر شرف بیعت سے مشرف نہ ہوا ہو ؎
عہد مابالب شیریں دہنا بست خدائے     ماہمہ بندہ وایں قوم خداوند انند
 (ہمارے عہد کو میٹھے منہ والے لوگوں سے خدا نے باندھ دیا ہے ہم سب بندے ہیں اور یہ لوگ آقا ومولٰی ہیں۔ ت)

شیخ ومرشد بمعنی دوم سے بھی اس شخص کو چارہ نہیں جو سلوک راہ طریقت چاہے یہ راہ ایسی نہیں کہ آدمی اپنی رائے سے یا کتابیں دیکھ بھال کر چل سکے اس میں ہر شخص کو نئے مشکلات اپنی اپنی قابلیت وحالات کے لائق پیش آتے ہیں جس کی عقد وکشائی بے توجہ خاص رہبر کامل نہیں ہوسکتی مگر اس کے ترک پر وہ جبروتی احکام لگادینا محض باطل وکذب عاطل وظلم صریح اور دین الٰہی پر افترائے صحیح ہے اول تو اس راہ کے قاصد اقل قلیل، اور جو طلب بھی کرے اسے اس زمانہ تاریکی و ظلمت وغیبت اکثر اصحاب ولایت وہجوم دنیا طلبان ریاخصلت میں شیخ کا مل ہر وقت میسرآنا مشکل ہے ؎
اے بسا ابلیس آدم ہوئے ہست     پس بہرد ستے نباید داددست
 (یعنی بہت سے ابلیس صفت شکل وصورت میں آدمی ہیں پس ہر ہاتھ میں ہاتھ نہیں دینا چاہئے۔ ت)

ہزاروں علماء وصلحاء گزرے کہ بظاہر اس خاص طریقت بیعت میں ان کا انسلاک ثابت نہیں، کیا معاذاللہ انھیں ان سخت احکام کا مصداق کہا جاسکتاہے۔ اور جو منسلک بھی ہوئے کیا سب ہوش سنھبالتے ہی منسلک ہوگئے تھے حاشا بلکہ بہت اس وقت جبکہ علم ظاہر میں پایہ عالیہ امامت تک پہنچ چکے تھے اس وقت تک عیاذ باللہ ان احکام کے مستحق تھے یہ سخت جہالت فاضحہ واضحہ ہے۔ والعیاذباللہ تعالٰی۔
پہلی حدیث جو زید نے بیان کی کلام رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں اس کا نشان نہیں ہاں قول اولیاء ہے اور دوسری حدیث :
الشیخ فی قومہ کالنبی فی امہ ۱؎
 (شیخ اپنی قوم میں ایسا ہے جیسا کہ نبی اپنی امت میں)۔
 (۱؎ المقاصد الحسنۃ    حدیث ۶۰۹    دارالکتب العلمیہ بیروت    ص۲۵۷)
جسے ابن حبان نے کتب الضعفاء اور دیلمی نے مسند الفردوس میں حضرت ابورافع رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ایسا فرمایا اگر چہ امام ابن حجر عسقلانی اور ان سے پہلے ابن تیمیہ نے موضوع اور امام سخاوی نے باطل کہا مگر صنیع امام جلیل جلال سیوطی سے ظاہر کہ وہ صرف ضعیف ہے باطل وموضوع نہیں انھوں نے یہ حدیث دو وجہ سے جامع صغیر میں ایرادفرمائی۔
حیث قال الشیخ فی اھلہ کالنبی فی امتہ والخلیل فی مشیختہ وابن النجار من ابی رافع ۱؎ الشیخ فی بیتہ کالنبی فی قومہ حب (ابن حبان) فی الضعفاء والشیرازی فی الالقاب عن ابن عمر ۲؎۔
جیسے فرمایا کہ شیخ اپنے اہل یعنی اپنی قوم میں ایسے ہے جیسا کہ نبی اپنی امت میں، اسے ذکر کیا خلیل نے اپنی کتاب مشیخت میں اور ابن نجار نے ابورافع سے روایت کی، شیخ اپنے بیت میں جیسے نبی اپنی قوم میں، ابن حبان نے ضعفاء میں اور شیرازی نے القاب میں حضرت ابن عمر سے روایت کی۔ (ت)
 (۱؎و ۲؎ الجامع الصغیر    حدیث ۴۹۶۹  و  ۴۹۷۰     دارالکتب العلمیہ بیروت    ۲ /۳۰۶)
اور خطبہ کتاب میں وعدہ فرمایا کہ اس میں کوئی حدیث موضوع نہ لاؤں گا۔
حیث قال ترکت القشر واخذات اللباب وصنتہ عما تفرد بہ وضاع اوکذاب ۳؎۔
چھلکے کو چھوڑا میں نے اور مغز کو لیا میں نے، اور جس چیز کے ساتھ گھڑنے والا یا جھوٹ بولنے والا اکیلا ہوا اس سے بچایا میں نے۔ (ت)
 (۳؎الجامع الصغیر    خطبۃ المؤلف   دارالکتب العلمیہ بیروت   ۱ /۵)
مگر اس سے اس قدر ثابت کہ ہادیان اخدا کی اطاعت لازم ہے۔ اس میں کیا کلام ہے اس کے لئے خود آیہ کریمہ :
اطیعوا اﷲ واطیعوا الرسول واولی الامر منکم ۴؎۔
اطاعت کرو تم اللہ تعالٰی کی اور اطاعت کرو رسول اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اور اپنے صاحب امر کی۔ (ت)
(۴؎ القرآن الکریم   ۴ /۵۹)
کافی ہے قول اصح وارجح پر اولی الامر سے مراد علمائے دین ہیں کہ علمائے شریعت وطریقت دونوں کو شامل، اس سے زیادہ یہ معنی اس کے لینا کہ جس نے بیعت ظاہری کسی کے ہاتھ پر نہ کی وہ گمراہ ہے ہرگز مفادحدیث نہیں یہ افتراء وتہمت یا جہل وسفاہت ہے والعیاذ باللہ تعالٰی، ہاں بیعت و امامت کبرٰی کےلئے صحیح حدیث میں ارشاد ہوا :
من خلع ید امن طاعۃ لقی اﷲ یوم القیمۃ لاحجۃ لہ ومن مات ولیس فی عنقہ بیعۃ مات میتۃ جاھلیۃ رواہ مسلم ۱؎ عن عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔
جس نے کھینچا ہاتھ کو اطاعت سے ملے گا اللہ تعالٰی کو اس حال میں کہ اس کے پاس قیامت کے دن کوئی دلیل نہ ہوگی، اور جو مرجائے اس حال میں کہ اس کی گردن میں بیعت کا پٹکا نہ ہو تو وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔ روایت کیا اس کو مسلم نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے۔ (ت)
(۱؎ صحیح مسلم     کتاب الامارۃ    باب وجوب ملازمۃ جماعۃ المسلمین     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲ /۱۲۸)
یہ بھی اس صورت میں ہے کہ امام موجود ومتیسر ہو۔
کما لایخفی والا فلایکلف اﷲ نفسا الاوسعہا واﷲ سبحنہ وتعالٰی اعلم۔
جیسا کہ پوشیدہ نہیں ہے ورنہ اللہ تعالٰی کسی جان کو تکلیف نہیں دیتا مگر اس کے وسعت کے مطابق۔ واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔ (ت)
Flag Counter