Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ )
94 - 144
فلا تکن اسرائیلیا وکن محمد یا یاتک رزقک بکرۃ وعشیا۔
پس تو اسرائیل نہ ہو تو محمدی بن ، تیرے پاس رزق صبح وشام آئے گا۔ ت(ت)

یا ھذا باپ پدر گل ہے اور پیر پدر دل، مولٰی معتق مشت خاک ہے او رپیر معتق جان پاک، اہل ہوس کے زجر کو یہی حدیث بس ہے کہ ''جو اپنے باپ کے سوا دوسرے کو باپ بتائے یا اپنے مولٰی کے ہوتے غیر کو مولٰی بنائے ا س پر خدا وملائکہ وناس سب کی لعنت، اللہ تعالٰی نہ اس کا فرض قبول کرے نہ نفل''
الائمۃ الخمسۃ عن امیر المومنین علی کرم اﷲ وجہہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من ادعی الی غیر ابیہ اوانتمی الی غیر موالیہ فعلیہ لعنۃ اﷲ والملئکۃ والناس اجمعین لایقبل اﷲ منہ صرفا ولا عدلا ۲؎۔
پانچوں اماموں نے امیر المومنین علی کرم اللہ وجہہ سے انھوں نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت فرمایا: جو شخص اپنے باپ کے سوا دوسرے کی طرف ادعا کرے یعنی کسی دوسرے کو باپ بنائے یا اپنے مولٰی کے سوا دوسرے کو اپنا مولی بنائے تو اس پر اللہ تعالٰی اورفرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے نہ انکا فرض قبول اور نہ نفل (ت)
 (۲؎ صحیح مسلم     کتا ب الحج     باب فضل المدینۃ الخ     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/ ۴۴۲)

(جامع الترمذی ابواب الوصایا باب ماجاء فی من تولی غیر موالیہ الخ امین کمپنی کراچی    ۲/ ۳۴)

(مسند احمد بن حنبل     عن علی     المکتب الاسلامی بیروت        ۱/ ۸۱)
جو لوگ متلا عبانہ ان حرکات کے مرتکب ہوتے ہیں کیا خوف نہیں کرتے کہ مبادا بحکم قیاس جلی اس حدیث صحیح کی وعید شدید سے حصہ پائیں۔

یاھذاسعادت منداں ازلی نے خود باوصف حکم پیر ترک پیر روانہ رکھا، اور پھر ترک بھی کیسا کہ چشمہ کے پاس سے بحرز خار کی بندگی میں آنا باایں ہمہ آستان پیر چھوڑنا گوارا نہ کیا، ااور ان کا یہ ادب محبوبان خدا نے پسند فرمایا حضور پر نور سید الاولیاء الکرام امام العرفاء العظام حضرت سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ حضرت سیدی علی بن بیتی قد س سرہ الملکوتی کے یہاں رونق افروز ہوئے حضرت علی بن ہیتی نے اپنے مرید خاص ولی بااختصاص سیدی ابوالحسن علی جوسقی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کو حکم دیا کہ خدمت حضرت غوثیت رضی اللہ تعالٰی عنہ کی ملازمت اختیار کریں، اور یہ پہلے فرماچکے تھے کہ میں حضور پر نور غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے غلاموں سے ہوں، سیدی ابوالحسن قدس سرہ پیر سے یہ کچھ سن کر اس پر رونے لگے اور آستانہ پیر چھوڑ نا کسی طرح نہ چاہا، حضرت غوث الاولیاء رضی اللہ تعالٰی عنہ نے انھیں روتاد یکھ کر فرمایا:
مایحب الا الثدی الذی رضع منہ۔
جس پستان سے دودھ پیا ہے اس کے غیر کو نہیں چاہتا۔

اور انھیں حکم فرمایا کہ اپنے پیر کی ملازمت میں رہیں۔
اخرج سیدی الامام نورالدین ابوالحسن علی بن یوسف اللخمی قدس سرہ فی کتابہ بہجۃ۱؎ الاسرار ومعدن الانوار بسند صحیح عن سیدی ابی حفص عمر البزار قدس اﷲ تعالٰی سرہ۔
سیدی امام نور الدین ابوالحسن علی بن یوسف اللخمی قد س سرہ نے اپنی کتاب بہجۃ الاسرار و معدن الانوار میں اس کو سند صحیح کے ساتھ سیدی ابوحفص عمر البزار (پاکیزہ کرے اللہ تعالٰی ان کے بھید چنے ہوئے کو) سے اخراج کیا ہے یعنی بیان فرمایا اور روایت کیا ہے۔ (ت)
(۱؎ بہجۃ الاسرار     ذکرابوالحسن علی الجوسقی     مصطفی البابی مصر    ص۲۰۵)
سیدی عارف باللہ امام اجل عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ الربانی میزان الشریعۃ الکبرٰی میں فرماتے ہیں:
سمعت سیدی علیا الخواص رحمہ اﷲ یقول انما امرعلماء الشریعۃ الطالب بالتزام مذہب معین وعلماء الحقیقۃ المرید بالتزام شیخ واحد ۱؎۔
یعنی میں نے اپنے سردار علی خواص رحمہ تعالٰی کو فرماتے سنا کہ علمائے شریعت نے طالب کوحکم دیا ہے کہ مذہب ائمہ میں خاص ایک مذہب معین کی تقلید اپنے اوپر لازم کرے اور علمائے باطن نے مرید کو فرمایا کہ ایک ہی پیر کاالتزام رکھے (ت)
(۱؎ المیزان الکبری     فصل فان قلت فاذا انفک قلب الولی عن التقلید الخ     مصطفی البابی مصر     ۱/ ۲۳)
اس کے بعد ولی موصوف قد س سرہ المعروف نے ایک روشن مثال سے اس امر کو واضح فرمایا ہے امام علامہ محمدعبدری مکی شہیر بابن الحاج رحمۃاللہ تعالٰی علیہ مدخل شریف میں فرماتے ہیں:
المرید یعظم شیخہ ویؤثرہ علی غیرہ ممن ہو فی وقتہ لان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یقول من رزق فی شیئ فلیزمہ ۲؎ (الی اٰخر ما افاد واجاد ہذا مختصرا)
یعنی مرید اپنے پیر کی تعظیم کرے اور اسے تمام اولیائے زمانہ پرمرجح رکھے کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں جو کسی شیئ میں رزق دیا جائے چاہئے کہ اسے لازم پکڑے ۔
 (۲؎ المدخل لابن الحاج     حقیقۃ اخذ العہد             دارالکتب العربی بیروت    ۳/ ۲۲۳ و ۲۲۴)
اسی میں ہے:
ان المرید لہ اتساع فی حسن الظن بہم وفی ارتباطہ علی شخص واحد یعول علیہ فی امورہ ویحذر من تقضٰی اوقاتہ لغیرہ فائدۃ ۳؎۔
مرید کے لئے وسعت اس میں ہے کہ اپنے زمانہ کے تمام مشائخ کے ساتھ گمان نیک رکھے اور ایک شیخ کے دامن سے وابستہ ہورہے اور اپنے تمام کاموں میں اس پر اعتماد کرے اور بے فائدہ تضیع اوقات سے بچے۔ (ت)
 (۳؎المدخل لابن الحاج     فصل فی دخول المرید الخلوۃ               دارالکتب العربی بیروت   ۳/ ۱۶۰)
فائدہ : یہ حدیث کہ امام ممدوح نے معضلا ذکر کی حدیث حسن ہے۔
اخرجہ البیہقی فی شعب الایمان ۴؎ بسند حسن عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ وہو عند ابن ماجۃ من حدیثہ ومن حدیث ام المومنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہما عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ ولسم بلفظ من بورک لہ فی شیئ فلیزمہ ۱؎۔
اخراج کیا اس کو بیہقی نے شعب الایمان میں سند حسن کے ساتھ حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے اور یہی روایت ابن ماجہ کے نزدیک آپ کی حدیث اور حضرت ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہما کی حدیث نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ان الفاظ کے ساتھ مروی ہے کہ جس کو کسی شے میں برکت دی گئی ہو تو چاہے اسے لازم پکڑے۔ (ت)
 (۴؎ شعب الایمان     حدیث ۱۲۴۱                دارالکتب العلمیۃ بیروت    ۲ /۸۹)

(۱؎ الاسرار المرفوعۃ     بحوالہ سنن ابن ماجۃ     حدیث ۸۸۷     دارالکتب العلمیہ بیروت    ص۲۲۵)
اور اس سے یہ استنباط عجب نفیس واحسن۔
والحمدﷲ علی مارزق ومن والصلوٰۃ والسلام علی رسولہ الامن والہ وصحبہ وکل من اٰمن واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم وحکمہ عزشانہ احکم۔
اور سب خوبیاں اللہ کے لئے ہیں اس کے عطا فرمانے اور احسان کرنے پر اور صلوٰۃ وسلام ہو اس کے ایسے رسول پر جو سب سے زیادہ احسان کرنے والے ہیں اور ان کی آل واصحاب پر جو ایمان لائیں، اور اللہ تعالٰی خوب جانتاہے اور اس کا علم پوراہے اور اس کاحکم مضبوط ہے۔ (ت)
Flag Counter