Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ )
93 - 144
واحیانا آں شیخ او را در باطن امر فرماید روا بود کہ نزد صوفیہ حکم ارواح جائز ست۔اقول: وح یرجع الی الاویسیۃکما ان سید اباالحسن الخرقانی خلیفۃ سیدی ابی یزید البسطامی قدس اﷲ تعالٰی اسرارہما ولکن لایسلم ہذا لکل مدع مالم نعلم ثقتہ وعدالتہ اویشھد لہ اھل الباطن) الی اٰخر ماافادہ واجاد قدس اﷲ تعالٰی سرہ العزیز۔
اوراحیانا کسی وقت وہ شیخ اس کو باطن میں حکم فرمائیں تو جائز ہے اس لئے کہ صوفیہ کے نزدیک ارواح کاحکم جائز ہے۔اقول: (میں کہتاہوں) اس وقت حضرات اویسیہ کی طرف رجوع کیا جائے گا جیسا کہ حضرت سیدی ابوالحسن الخرقانی حضرت سیدی ابویزید البسطامی قدس سرہما کے خلیفہ تھے لیکن یہ امر ہر مدعی سے تسلیم نہیں کیا جائیگا۔ تاوقتیکہ ہم کو اس کی عدالت اور ثقہ ہونے کا علم نہ ہو یا اہل باطن حضرات اس کے متعلق شہادت نہ دیں یہاں سے آخر تک جو کہ حضرت مارہری قدس سرہ العزیز نے افادہ فرمایا اور اچھی باتیں فرمائیں۔ (ت)
ہاں بعد صحت خلافت عامہ تعامل (یعنی خلیفہ جیسا معاملہ کرنا) اور اجماع معتبر کافی ہے۔
لان المعہود عرفا کالمشروط لفظا ۱؎ وما راٰہ المسلمون حسنا فہو عنداﷲ حسن ۲؎۔
اس لئے کہ جو شے عرف میں معروف (مقرر ) ہو وہ گویا لفظاً مشروط ہے۔ (لفظوں میں شرط قرار دی گئی ہے) جو چیز کہ مسلمان اس کو اچھی دیکھیں تو وہ اللہ تعالٰی کے نزدیک بھی اچھی ہے۔ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار     کتا ب البیوع     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴/ ۳۹)

(۲؎ المستدرک للحاکم     کتاب معرفۃ الصحابہ     دارالفکر بیروت    ۳/ ۷۸)
ایسی جگہ عرف غالب یہی ہے کہ اکبر اولاد کو استحقاق ہوتا ہے اور اس کے ہوتے دوسرانہیں ہوسکتا، مگر جبکہ وہ اہلیت سے عاری ہویا مستخلف (شیخ) صرف دوسرے کے نام یا دوسرے کو اس کا شریک وسہیم بنا کر) وصیت معتبرہ کرجائے تو البتہ اس پر عمل سے چارہ نہیں اور جس طرح مستخلف کا کسی مصلحت شرعیہ کی بنا پر قرابت دار قریبہ کو بالکلیہ محروم کردینا رواہے یونہی دوسرے کو بربنائے مصلحت ا س کا شریک وسہیم کرنا، اور وجوہ مصلحت سے ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ جب اس منصب شریف کا ایک رخ جانب دنیا اور دوسرا جانب دین ٹھہرا تو جو تنہا ایک امر میں رشد کافی رکھتا ہے اس سے تمام انتظامات کا تکفل غیر مظنون (کفیل بننا غیر یقینی) لہذا اگر مستخلف (شیخ) عارف بالصالح (مصلحتوں کا عارف ہو) اپنے اقارب سے ایک کارشد ادھر اوردوسرے کا ادھر، زائد دیکھے تو کون مانع ہے کہ وہ عارف صاحب بصیرت
وعالم (عہ۱) بعواقب الامور الارشد فی الدین
کو خلیفہ وبنظر جہت اخری ارشد فی الدنیا کو اس کا شریک وبازوکردے تاکہ باتفاق آراء ایک ہیئت اجتماعیہ حاصل ہو کہ اس منصب عظیم کے تمام احباء کا تحمل بروجہ احسن ظہور میں آئے
عہ۱:  معاملات کے نتائج کاجاننے والا ، دین میں سب سے زیادہ ہدایت والا، سیدھے راستے چلنے والا اور دوسری جہت کے لحاظ سے دنیوی معاملات میں سب سے بہتر جاننے والا ہو۔
اور امامت کبرٰی میں جو تعدد ناجائز ہو اس کی وجہ ظاہر ہے کہ وہاں اثنینیت (عہ۲) مظنہ فتن عظیمہ ومعارک ہائلہ ہے کما لایخفی (جیسا کہ پوشید ہ نہیں۔ ت)
عہ۲: دو کا ہونا بہت بڑے فتنوں کے پیدا ہونے اور تباہ کرنے والے معرکوں کی جائے گاہ ہے۔ ۱۲
مثل مشہور دو بادشاہ دراقلیمے نگنجد
 ( دو بادشاہ ایک ولایت میں نہیں سماتے) اور یہ خلافت ہر چند امامت کبرٰی سے بغایت مشابہ ولہذا وہ کثرت وتعدد جو خلافت اولٰی میں واقع یہاں متصورنہیں لیکن تمام احکام میں اس سے اتحاد نہیں رکھتی اسی لئے قرشیت مشروط نہ ہوئی اور جس مصلحت پر تمثیلا فقیر نے تقریر کی مثلا اگر اثنینیت واقع ہو کوئی دلیل اس کے بطلان پر ظاہر نہیں
ومن ادعی فعلیہ البیان
 (او ر جو دعوٰی کرے اس پر بیان لازم ۔ ت) اور صرف تولیت اوقاف میں تو اپنے محل پر تعدد نظاربدیہی الجواز ( اس کی متعدد نظیریں واضح جو از کی دلیل ہے) ہاں اس میں شک نہیں کہ رسم سجادہ نشینی میں عام متوارث وحدت ہے۔ ( جو عام جاری رسم چلی آرہی ہے وہ وحدت ہے) اور بلاوجہ وجیہ (معقول وجہ کے بغیر) اس کی مخالفت نہ چاہئے مگر کلام اس میں ہے کہ جب مرشد مربی کہ اعرف بالمصالح واعلم بالشان ہے دو کو جانشین فرماچکا تو اس کے رد کی طر ف کوئی سبیل نہیں، ہاں صورت مذکورہ میں یوں سمجھ سکتے ہیں کہ ارشد فی الدین اصل جانشین اور دوسرا ناظرہ ومشرف (دیکھ بھال کرنے والا) ہے،
کما اشرنا الیہ واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم بالصواب وعندہ ام الکتاب وصلی اﷲ تعالٰی علی سیدنا محمد والہ والاصحاب والخلفاء والنواب والاتباع والاحباب اٰمین۔
جیسا کہ ہم نے اس کی طرف اشارہ کیا اور اللہ بے عیب اور برتر صواب کو بہتر جاننے والا ہے اور اس کے پاس ہے اصل لکھا ہوا، اور درود بھیجے اللہ تعالٰی ہمارے سردار محمد اور آل اور اصحاب اور خلفاء اور نائبین اورتابعین اور دوستوں پر۔ آمین (ت)
مسئلہ ۱۷۹: مع رسالہ ''زیب غرفہ'' بغرض تصدیق دربارہ منع تعدد بیعت مرسلہ جنا ب مولوی محمد عبدالسمیع صاحب مرحوم ومغفور مصنف رسالہ ''انوار ساطعہ'' از میرٹھ ۲۳/ شوال ۱۳۰۹ھ
الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمدﷲ الواحد الاحد المنزہ من کل شرک وعدد والصلوٰۃ والسلام علی النبی الاوحد واٰلہ وصحبہ وتابعیھم فی الرشد من الازل الی ابدالابد۔
سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جو کہ واحد احد ہے ہر شرک اور متعدد ہونے سے پاک ہے اور رحمت کاملہ اور سلامتی ہو نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر جویکتا ہیں مخلوق ہیں اور ان کی آل اور اصحاب اور ہدایت میں ان کی اتباع کرنے والوں پر ہوازل سے لے ابد تک۔ (ت)
فی الواقع بے ضرورت صحیحہ صادقہ ملجئہ (مجبور کرنے والا) باوجود پیر غیر کے ہاتھ پر بیعت ارادت سے احتراز تام لازم سمجھے
وہوالمختار وفیہ الخیر وفی غیرہ ضیر ایما ضیر
 (یہی مختار ہے اس میں بہتری اس کے غیر میں نقصان ہے کامل نقصان ۔ ت) پریشان نظری وآوارہ گردی باعث محرومی ہے
والعیاذ باللہ رب العالمین۔
یاھذا قرآن عظیم صاف صاف فرما رہاہے کہ
رجلا سلما لرجل ۱؎
 (ایک غلام صرف ایک مولا کا۔ ت) ہی ہونا بھلا ہے۔
 (۱؎ القرآن الکریم                    ۳۹/ ۲۹)
ھل یستوین مثلا الحمدﷲ بل اکثرہم لایعلمون ۲؎۔
کیا ان دونوں کا حال ایک سا ہے۔ سب تعریفیں اللہ تعالٰی کے لئے ہیں، بلکہ اکثر ان کے نہیں جانتے۔ (ت)
 (۲؎القرآن الکریم                  ۳۹/ ۲۹)
یا ھذا پیر صادق قبلہ توجہ ہے اور قبلہ سے انحراف نماز کو جواب صاف
باآنکہ اینما تولوا فثم وجہ اﷲ ۳؎
 (تو تم جدھر منہ کرو ادھر وجہ اﷲ یعنی خدا کی رحمت تمھاری طرف متوجہ ہے۔ ت) فرماتے ہیں پھر طالبان وجہ اللہ کوحکم یہی سناتے ہیں کہ:
حیثما کنتم فولوا وجوھکم شطرہ ۴؎۔
تم جہاں کہیں ہو پس اپنے چہروں کو مسجد حرام کی طرف پھیرلو۔ (ت)
 (۳؎القرآن الکریم                  ۲/ ۱۱۵)

(۴؎القرآن الکریم                   ۲/ ۱۴۴ و ۱۵۰)
یہ محل محل تحری ہے اور صاحب تحری کا قبلہ قبلہ تحری۔

یا ھذا ارباب وفا آقایان دنیا کا دروازہ چھوڑ کر دوسرے در پر جانا کورنمکی جانتے ہیں ع
سراینجا سجدہ اینجا بندگی اینجا قرار اینجا
 (سراس جگہ ہے سجدہ اس جگہ بندگی اس جگہ قرار واطمینان اس جگہ ہے۔ ت)

پھر احسانات دنیا کو احسانات حضرت شیخ سے کیا نسبت عجب اس سے کہ محبت واخلاص پیر کا دعوٰی کرے اور اس کے ہوتے این وآن کا دم بھرے ؎
چودل بادلبری آرام گیرد         زوصل دیگرے کَے کام گیرد

نہی صد دستہ ریحاں پیش بلبل     نخواہد خاطرش جزء نگہت گل
 (جب دل ساتھ ایک محبوب کے آرام پکڑے دوسرے کے ملنے سے کب مقصود پکڑے گا، بلبل کے سامنے نیاز بو 

کے سودستے رکھے تو لیکن پھول کی نگہت یعنی خوشبو کے سوا اس کا دل نہیں چاہے گا۔ ت)
یاھذا فیض پیر من وسلوٰی ہے اور
لن نصبر علی طعام واحد ۱؎
 (ہم ہر گز ایک طعام پر صبر نہیں کرسکتے۔ ت) کہنے کا نتیجہ برا۔
 (۱؎ القرآن الکریم                    ۲/ ۶۱)
Flag Counter