Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ )
92 - 144
یہ خلافت خلافت وامامت کبرٰی سے بہت مشابہ ولہذا حیات مستخلف سے مجتمع نہیں ہوتی اسی کو سجادہ نشینی کہتے ہیں یہاں مرجع اول مستخلف ہے کہ جس شخص کو وہ ولیعہد کرے یا اس کے لئے قریب وصال وصیت کر جائے بشرطیکہ وہ وصیت شرعا معتبرا ور وصی مذکور اہل ولائق اور متعلق درگارہ کچھ اوقاف ہوں تو ان کی تولیت کی بھی صلاحت رکھتاہو وہی سجادہ نشین قر ارپائے گا اور باوجود اس کے نص مقبول ومعتبر شرعی کے کام کو ناتمام جان کر بحث ارباب شورٰی واہل حل وعقد کے سامنے پیش نہ کریں گے
کما فی الامامۃ الکبرٰی والخلافۃ العظمٰی
 (جیسا کہ امامت کبرٰی اوربڑی خلافت ہے) اور مجرد تقریر وعدم انکا ر نص صریح کے مقابل خصوصا جبکہ نص متاخر ہو ہر گز رنگ قبول نہیں پاسکتی مثلا اگر کوئی شخص اس مرشد مربی کے حضور کہے کہ بعد حضور زید سجادہ نشین ہے یا کسی شخص کی تحریر، اس مضمون پر مشتمل اس مرشد مربی کے سامنے پڑھی جائے اور وہ اس قول یا تحریر کو سن کر سکوت فرمائے بعدہ وصیت سجادہ نشینی بنام عمرو یا باشتراک زید وعمرو کرے تویہ وصیت ہی معتبر ہوگی اور وہ سکوت پایہ اعتبا سے ساقط رہا۔
والدلیل علی ذٰلک قاعدتان من الفقۃ الاولٰی لاینسب الی ساکت قول ۲؎ والاخری ان الصریح یفوق الدلائل ۳؎۔
اور دلیل اس پر دو قانون فقہ کے ہیں پہلا خاموش کی طرف کوئی قول منسوب نہیں ہوتا، دوسرا تحقیق صریح دلالت پر راجح ہوتاہے۔ (ت)
 (۲؎ الاشباہ والنظائر الفن الاول         القاعدۃ الثانیہ عشر     ادارۃ القرآن کراچی    ۱/ ۱۸۴)

(۳؎ ردالمحتار     کتاب النکاح باب المہر             داراحیا ء التراث العربی بیروت    ۲/ ۳۵۷)
اوراگر نص صریح دو پائے جائیں ایک میں تصریح وصیت زید کے لئے ہو اور دوسرے میں عمرو خواہ دونوں کے لئے، اور ان میں ایک کی تاریخ دوسرے سے متاخر ہو، تاہم دنوں نص معمول بہ (عمل کیا جائے گا) رہیں گے اور زید وعمرو دونوں وصی قرار پائیں گے، ہاں اگر نص متاخرمیں نص اول سے رجوع اور وصی پیشین  کو معزول کیاہے تو بیشک متاخر متقدم کا نا سخ ہوجائے گا۔
وہذا کما فی ردالمحتار عن ادب الاوصیاء عن التتارخانیۃ اوصی الی رجل ومکث زمانا فاوصی الی اٰخر فہما وصیان فی کل وصایاہ سواء تذکر ایصاہ الی الاول او نسی لان الوصی عندنا لاینعزل مالم یعزل الموصی حتی لو کان بین وصیتہ مدۃ سنۃ اواکثر لاینعزل الاول عن الوصایہ ۱؎۔
اور یہ جیساکہ ردالمحتار میں ادب الاوصیاء سے وہ تاتارخانیہ سے کسی نے کسی مردکو اپنا وصی (نائب) بنایا اور کچھ زمانہ ٹھہرا تو دوسرے مرد کو وصی (نائب) بنادیا تو وہ دونوں اس کے تمام وصایا میں نائب ہوں گے، برابرہے کہ پہلے شخص کو نائب بنانا ایسے یا دہو یا بھول گیا ہو کیونکہ وصی (نائب) ہمارے مذہب میں جب تک وصیت کرنے والا معزول نہ کرے معزول نہیں ہوتا حتی کہ دونوں وصیتوں کے درمیان مدت ایک برس یازیادہ ہو پھر بھی پہلا وصی (نائب) ہونے سے معزول نہ ہوگا۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار     کتاب الوقف     فصل یراعی شرط الواقف فی اجازتہ الخ     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۳/ ۴۱۰)
اوراگر اس کا نص نہیں تو اس درگاہ وخانقاہ میں جو دستور قدیم سے چلا آیا ہے اس پر کاربندی ہوگی یا اہل حل وعقدجس پراتفاق کریں مگر ان دونوں صورتوں میں یہ ضرور ہے کہ شخص مذکور اس مرشد مربی سے خلافت عامہ بطور مقبول رکھتا ہو ورنہ بسبب تعامل یا ہمارے بلادمیں بوجہ عدم قضاۃ اتفاق ناس سے تولیت اوقاف اگر چہ صحیح ہوجائے مگر سجادہ نشینی ہر گز درست نہ ہوگی کہ وہ خلافت خاصہ ہے اور کوئی خاص بے عام کے متحقق نہیں ہوسکتا اورخلافت عامہ بے اجازت صحیحہ زنہار حاصل نہیں ہوتی،
حضرت اسدالعارفین سیدنا ومولانا حضرت سید شاہ حمزہ عینی مارہری قد س اللہ تعالٰی سرہ الزکی اپنی بیاض شریف میں ارشاد فرماتے ہیں:
معلوم بادکہ خلافت مشائخ کہ دریں ولایت مروج ست بر ہفت نوع ست، بعضے ازاں مقبول بعضے ازاں مجہول، اول اصالۃ دوم اجازۃ۔ سوم اجماعا۔ چہارم وراثۃ، پنجم حکما، ششم تکلیفا، ہفتم اویسیا، اما اصالۃ آنکہ بزرگے بامر الٰہی شخصے راخلیفہ خود گیرد وجانشین خود گرداند اقول : وذٰلک کما فی الحدیث عنہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ماقدمت ابابکر وعمر ولکن اﷲ قدمہما ۱؎ وعنہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سألت اﷲ ثلثا ان یقدمک یا علی فابی علی الاتقدیم ابی بکر ۲؎ وقال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یابی اﷲ والمؤمنون الا ابی بکر ۳؎ الی غیر ذٰلک من الاحادیث،
معلوم ہو کہ مشائخ کی خلافت کہ اس ولایت ہندو پاک میں مروج ہے سات قسموں پر ہے۔ بعض مقبول ہیں اور بعض مجہول، پہلی قسم اصالۃً ہے۔ اور دوسری اجازۃً، تیسری اجماعا، چوتھی وراثۃً، پانچویں حکما، چھٹی تکلیفا، ساتویں اویسیا، اصالۃً یہ کوئی بزرگ اللہ تعالٰی کے حکم سے کسی شخص کو اپنا خلیفہ اور جانشین بنالے۔ اقول: (میں کہتاہوں) یہ اس طرح ہے کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی حدیث میں ہے میں نے ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ اور عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے آگے نہیں کیا بلکہ اللہ تعالٰی نے ان کو مقدم کیا ہے۔ اور حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے منقول ہے کہ میں نے اے علی رضی اللہ تعالٰی عنہ! تمھارے بارے میں اللہ تعالٰی سے تین مرتبہ سوال کیا کہ وہ آپ کو مقدم کرے لیکن اللہ تعالٰی نے ابوبکر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے سوا دوسرے کو مقدم کرنے سے انکار فرما یا ہے اور فرمایا حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے سوا اور کو امام بنائے جانے پر اللہ تعالٰی اور مومن انکار کرینگے ان کے علاوہ دیگر احادیث مبارک میں بھی یونہی آیا ہے۔
 (۱؎ کنز العمال     ابن النجار عن انس     حدیث ۳۲۷۰۶     موسسۃ الرسالہ بیروت    ۱۱/ ۵۷۲)

(۲؎ کنز العمال     حدیث ۳۲۶۳۷ و ۳۲۶۳۸ و ۳۵۶۸۰         موسسۃ الرسالہ بیروت    ۱۱/ ۵۹ ۔ ۵۵۸و ۱۲/ ۵۱۵)

(۳؎ الطبقات الکبرٰی لابن سعد ذکر الصلوٰۃ التی امر بہا رسول اللہ ابابکر عندوفاتہ     دارصادربیروت ۳/ ۱۸۰)
رجعنا الی کلام سیدنا حمزہ قدس سرہ العزیز واجازۃ آنکہ شیخے مریدے راخواہ وارث خواہ بیگانہ قابل کاردیدہ برضا ورغبت خود خلیفہ کرد۔اقول کاستخلاف امیر المومنین حسن بن علی رضی اﷲ تعالٰی عنھما)۔
ہم سیدنا حمزہ قدس سرہ کے کلام کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اجازۃ یہ کہ کوئی شیخ کسی مرید کو خواہ وہ وارث ہو یا بیگانہ کام کے لائق دیکھ کر اپنی رضا ورغبت سے اپنا خلیفہ کرے۔ اقول: (میں کہتاہوں) جس طرح امیر المومنین علی المرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے حضرت امیرالمومنین حسن بن علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو خلیفہ بنایا،
واجماعا آنکہ شیخے ازیں عالم نقل کرد کسے راخلیفہ نگرفت قوم و قبیلہ وارثے یا مریدے رابخلافت وے تجویز نمایند۔ اقول: کا ستخلاف اھل الحل والعقد امیر المومنین علی کرم اﷲ وجہہ بعد شہادۃ امیر المومنین عثمان رضی اﷲ تعالٰی عنہ) اما ایں خلافت نزدیک مشائخ روانیست وایں نوع خلافت راخلافت اخترائی گویند۔ اقول: یعنی لانعدام  الخلافۃ العامۃ المشروطۃ لصحۃ الخلافۃ الخاصۃ فی باب  الطریقہ اما علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ فقد کان من اجل خلفاء رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم )
اور اجماعا یہ کہ شیخ اس عالم سے انتقال کر جائے اور کسی کو خلیفہ نہ بنائے قوم اور قبیلہ شیخ کے وارث یا کسی مرید کو شیخ کا خلیفہ یعنی جانشین تجویز کرلیں اقول: (میں کہتاہوں) جس طرح اہل حل وعقد یعنی اصحاب الرائے نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی شہادت کے بعد حضرت امیر المومنین علی کرم اللہ وجہہ کو خلیفہ بنایا) لیکن یہ خلافت مشائخ کے نزدیک روا نہیں، اور اس قسم کی خلافت کو اخترائی خلافت کہتے ہیں۔ اقول: (میں کہتاہوں) یعنی بوجہ معدوم ہونے اس خلافت عامہ کے جو کہ خلافت خاصہ کے صحیح ہونے کےلئے شرط ہے لیکن علی کرم اللہ وجہہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے جلیل القدر خلفاء سے تھے)
و وراثۃ آنکہ مشایخے ازیں جہاں واگزاشت وخلیفہ رابجائے خود نگزاشت وراثے کہ شایان ایں امر بود بر جادہ او نشست وخود راخلیفہ گرفت اقول: کخلافت الامیر معاویۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ بعدا بن عمہ امیر المومنین الغنی قبل تفویض الامام المجتبٰی ایاہ وہذا ان ثبت انہ کان یدعی قبلہ انہ خلیفۃ والا فقد صح انہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کان ینکردعوی الخلافۃ ویقول انی لاعلم انہ یعنی علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ افضل منی واحق بالامر ولکن الستم تعلمون ان عثمان قتل مظلوما وانا ابن عمہ وولیہ اطلب بدمہ، رواہ یحیٰی بن سلیمٰن الجعفی شیخ البخاری فی کتاب الصفین ۱؎ بسند جید عن ابی مسلم الخولانی واما بعد تفویض الامام المجتبٰی ایاہ فلا شک انہ امام حق وامیر صدق کما بینہ العلامۃ ابن حجر فی الصواعق ۲؎ ایں نوع رامشائخ منظور ندا شتہ اند۔
اور وراثۃ یہ کہ کوئی شیخ اس جہاں سے انتقال کرجائے اور اپنی جگہ خلیفہ نہ چھوڑے کوئی اس بزرگ کا وارث جو کہ اس امر خلافت کا اہل ہو وہ اس کی جگہ بیٹھ جائے اور اپنے آپ کو خلیفہ بنائے۔

اقول: (میں کہتا ہوں) جیسے کہ امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی خلافت ان کے چچا کے بیٹے امیر المومنین عثمان الغنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے بعد حضرت امام مجتبٰی حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ کے سپرد کرنے سے پہلے، اوریہ تب ہے جبکہ ثابت ہوجائے کہ وہ خلافت کا دعوٰی اس سے قبل کرتے اور تحقیق یہ صحیح ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ دعوٰی خلافت کاانکارفرماتے تھے اور فرماتے بیشک میں جانتاہوں کہ علی کرم اللہ وجہہ مجھ سے افضل ہیں  اورخلافت کے زیادہ حقدار ہیں لیکن کیا تم جانتے ہو کہ تحقیق عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ ظلما قتل کئے گئے ہیں اور میں ان کے چچا کا بیٹا ان کا بھائی اور ان کا ولی ہوں میں ان کے خون کا بدلہ طلب کرتاہوں، اس کو یحیٰی بن سلیمان الجعفی شیخ البخاری نے کتاب الصفین میں سندجید کے ساتھ ابومسلم الخولانی سے روایت کیا۔ لیکن امام مجتبٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے جب امر خلافت ان کو تفویض یعنی سپرد کردیا تو بیشک وہ امام حق اور امیر صادق تھے جیسا کہ اس کو علامہ ابن حجر مکی نے صواعق میں بیان فرمایا ہے۔ اس قسم کو مشائخ نے منظور نہیں رکھا ۔
 (۱؎ کتاب الصفین     لیحیٰی بن سلیمان الجعفی)

(۲؎ الصواعق المحرقۃ     الخاتمۃ فی بیان اعتقاد اہل السنۃ الخ     مکتبۃ مجیدیہ ملتان    ص۲۱۸)
Flag Counter