Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ )
91 - 144
یہ اس لئے جو اس راہ کا چلنا چاہے اور ہمت پست کوتاہ دست لوگ اگر سلوک نہ بھی چاہیں تو انھیں توسل کے لئے شیخ کی حاجت ہے یوں اللہ عزوجل اپنے بندوں کو بس تھا۔
قال اللہ تعالٰی
(اللہ تعالٰی نے فرمایا):
الیس اﷲ بکاف عبدہ ۲؎۔
کیاخدا اپنے بندوں کو کافی نہیں ۔
(۲؎ القرآن الکریم        ۳۹/ ۳۶)
مگر قرآن عظیم نے حکم فرمایا:
وابتغوا الیہ الوسیلۃ ۳؎۔
اللہ کی طرف وسیلہ ڈھونڈو۔
 (۳؎القرآن الکریم     ۵/ ۳۵)
اللہ کی طرف وسیلہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف وسیلہ مشائخ کرام، سلسلہ بہ سلسلہ جس طرح اللہ عزوجل تک بے وسیلہ رسائی محال قطعی ہے یونہی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم تک رسائی بے وسیلہ دشوار عادی ہے۔ احادیث سے ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم صاحب شفاعت ہیں اللہ عزوجل کے حضور وہ  شفیع ہونگے اور ان کے حضور علماء واولیاء اپنے متوسلوں کی شفاعت کریں گے، مشائخ کرام دنیا ودین و نزع وقبر و حشر سب حالتوں میں اپنے مریدین کی امداد فرماتے ہیں،
میزان الشریعہ میں ارشاد فرمایا:
قد ذکرنا فی کتاب الاجوبۃ عن ائمۃ الفقہاء والصوفیۃ ان ائمۃ الفقہاء والصوفیۃ کلہم یشفعون فی مقلدیہم ویلا حظون احدہم عندطلوع روحہ وعند سوال منکر ونکیر لہ وعند النشر والحشر والحساب والمیزان والصراط ولا یغفلون عنہم فی موقف من المواقف ۱؎ الخ۔
تحقیق ہم نے ذکر کیا ہے کتاب الاجوبہ عن ائمۃ الفقہاء والصوفیہ میں کہ فقہاء اور صوفیہ سب کے سب اپنے متبعین کی شفاعت کریں گے او ر وہ اپنے متبعین اور مریدین کے نزع کی حالت میں روح کے نکلنے اور منکر نکیر کے سوالات نشر وحشر اورحساب اور میزان عدل پر اعمال تلنے اور پل صراط گزرنے کے وقت ملاحظہ فرماتے ہیں اور تمام مواقف میں سے کسی ٹھہرنے کی جگہ سے غافل نہیں ہوتے الخ (ت)
(۱؎ المیزان الکبرٰی     فصل فی بیان جملۃ من الامثلۃ المحسوسۃ     مصطفی البابی مصر    ۱/ ۵۳)
اس محتا ج وبےدست وپا سے بڑھ کر کون احمق اپنی عافیت کادشمن کون جو اپنی سختیوں کے وقت اپنے مددگار نہ بنائے ۔

حدیث میں ہےرسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
استکثروامن الاخوان فان لکل مؤمن شفاعۃ یوم القیمۃ رواہ ابن النجار ۲؎ فی تاریخہ عن انس بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
اللہ کے بکثرت نیک بندوں سے رشتہ وعلاقہ محبت پیدا کرو کہ قیامت میں ہر مسلمان کامل کو شفاعت دی جائے گی کہ اپنے علاقہ والوں کی سفارش کرے،(اس کو ابن النجار نے اپنی تاریخ میں انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ ت)
 (۲؎ کنز العمال         بحوالہ ابن نجار عن انس حدیث ۲۴۶۴۲     مؤسسۃ الرسالہ بیروت    ۹/ ۴)
اور بالفرض معاذاللہ اور کچھ نہ ہوتا تو نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم تک اتصال سلسلہ کی برکت کیا تھوڑی تھی جس کے لئے علماء کرام آج تک حدیث کی سندیں لیتے ہیں یہاں کہ رتن ہندی وغیرہ کی اسانید سے طلب برکت کرتے ہیں۔
امام ابن حجر عسقلانی اصابہ فی تمیز الصحابہ میں فرماتے ہیں:
انتقیت عن المحدث للرحال جمال الدین محمد بن احمد بن امین الاقشھری نزیل المدینۃ النبویۃ فی فوائد رحلتہ اخبرنا ابوالفضل وابوالقاسم بن ابی عبداﷲ بن علی بن ابراہیم بن عتیق اللواتی المعروف بابن الخباز المھدوی (فذکر بسندہ حدیثا عن خواجہ رتن) قال وذکر خواجہ رتن بن عبداﷲ انہ شہد مع رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الخندق وسمع منہ ہذاالحدیث ورجع الی بلاد الہند ومات بہا وعاش سبع مائۃ سنۃ ومات لسنۃ ست وتسعین وخمسمائۃ وقال الاقشھری وہذا السند یتبرک بہ وان لم یوثق بصحتہ ۱؎۔
کوچ کرنے والے محدث جمال الدین محمد بن احمد بن اقشہری مدینہ منورہ میں رہائش پذیر سے خبر دیا گیا، میں اپنی فوائد رحلت میں بیان کیا ہم سے ابوالفضل اور ابوالقاسم ابن عبداللہ بن ابراہیم بن عتیق اللواتی المعروف بہ بن خباز مہمدوی کہ انھوں نے اپنی سند سے حدیث ذکر کی حضرت خواجہ رتن سے فرمایا اور ذکر کیا کہ خواجہ رتن بن عبداللہ نے کہ تحقیق رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی معیت میں غزوہ خندق میں حاضر ہوئے اور آپ سے اس حدیث کو سنا اور ہندوستان کے شہروں میں واپس آئے اور وہاں فوت ہوئے اور سات سو سال زندہ رہے اور ۵۹۶ھ میں وفات پائی، اور اقشہری نے فرمایا اس سند سے برکت حاصل کی جاتی ہے اگر چہ اس کی صحت کا وثوق (اعتماد) نہیں ہے۔ (ت)
 (۱؎ الاصابۃ فی تمیز الصحابۃ     ترجمہ انس بن عبداللہ ۲۷۵۹     دارصادر بیروت    ۱/ ۵۳۷)
تو سلاسل واسانید اولیائے کرام کا کیا کہنا خصوصا سلسلہ عالیہ علیہ حضور پر نور سیدنا غوث اعظم قطب عالم صلی اللہ تعالٰی علی جدہ الکریم وابائہ الکرام وعلیہ وسلم جو ارشاد فرماتے ہیں کہ:
''میرا ہاتھ میرے مرید پر ایسا ہے جیسے زمین پر آسمان ''۲؎
 (۲؎ بہجۃ الاسرار         ذکر فضل اصحابہ وبشراہم        مصطفی البابی مصر    ص۱۰۰)
اور فرماتے ہیں: ''اگر میرے مرید کا پاؤں پھسلے گا میں ہاتھ پکڑلوں گا''۳؎

اسی لئے حضور کو پیردستگیر (ہاتھ پکڑنے والے) کہتے ہیں_____ اور فرماتے ہیں:

''اگر میرا مرید مشرق میں ہو اور میں مغرب میں ہوں اوراس کا پردہ کھلے میں ڈھانک دوں گا''۴؎
 (۳؎بہجۃ الاسرار         ذکر فضل اصحابہ وبشراہم        مصطفی البابی مصر    ص ۱۰۲)

(۴؎بہجۃ الاسرار         ذکر فضل اصحابہ وبشراہم        مصطفی البابی مصر    ص ۹۹)
اور فرماتے ہیں: مجھے ایک دفتر دیاگیا حد نگاہ تک کہ اس میں میرے مریدوں کے نام تھے قیامت تک اور مجھ سے فرمایا گیا
وھبتھم لک ۵؎
یہ سب ہم نے تمھیں دے ڈالے''
رواھا عنہ الائمۃ الثقات رضی اﷲ تعالٰی عنہم ، وعنابہم ، اٰمین۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اس ارشاد کو معتمد ائمہ رضی اللہ تعالٰی عنہم نےآپ سے روایت کیا ہے۔ آمین! واللہ تعالٰی اعلم۔
(۵؎بہجۃ الاسرار         ذکر فضل اصحابہ وبشراہم        مصطفی البابی مصر    ص  ۱۰۰)
مسئلہ ۱۷۸: مرسلہ حضور پر نور مولٰنا حضرت سیدنا شاہ ابوالحسین احمد نوری میاں صاحب مارہری دامت برکاتہم     ۱۲۹۸ھ

یہ سوال چند امور متعلقہ خلافت وسجادہ نشینی حضرات اولیائے کرام سے استفسار تھا جس کے مقاصد تقریر وجواب سے واضح ہیں۔
الجواب

الحمدﷲ والصلٰوۃ والسلام علی حبیبہ المصطفی والہ الکرام السادات الشرفا وصحابۃ العظام والاولیاء العرفاء وعلینا معہم دائماابدا۔
اما بعد ، خلافت حضرات اولیائے کرام
نفعنا اﷲ ببرکاتہم فی الدنیا والاخرۃ
 (نفع دے ہم کو اللہ تعالٰی ان کی برکات سے دنیااورآخرت میں) دو طرح ہے: عامہ اور خاصہ۔
عامہ یہ کہ مرشد مربی (تربیت دینے والا) اپنے مریدین اقارب او ر اجانب سے جس جس کو صالح ارشاد ولائق تربیت سمجھے اپنا خلیفہ ونائب کرے اور اسے اخذ بیعت وتلقین اذکارواشغال واوراد واعمال وتربیت طالبین وہدایت مسترشدین کےلئے مثال خلافت کرامت فرمائے، یہ معنی صرف منصب دینی ہے اور اس میں تعدد خلفاء بیحد وانتہا جائزوواقع حضور سید العالمین مرشد الکل محمد مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے سب صحابہ کرام بایں معنی حضور کے خلفاء تھے اور اسی خلافت کو وراثت انبیاء سے تعبیر کیا گیا ہے اور بایں معنی علمائے دین ومشائخ کاملین اہل شریعت وطریقت تابقیام قیامت سب حضرت رسالت علیہ افضل الصلوٰۃ والتحیۃ کے نواب خلفاء ہیں اور یہ خلافت حیات مستخلف ( جس کا خلیفہ ہو) اسے مجتمع ہوتی ہے کمالایخفی (جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ت) 

اورخاصہ یہ ہے کہ اس مرشد مربی کے بعد وصال یہ شخص اس کی مسند خاص پر جس پر اس کی زندگی میں سوااس کے دوسرانہ بیٹھ سکتا جلوس کرے اور تمام نظم ونسق ورتق وفتق وجمع وتقسیم وعزل ونصب خدام وتقدیم وتاخیر مصالح وتولیت اوقاف درگاہی وقوامت مصارف خانقاہی میں اس کی جگہ قائم ہو ، یہ معنی بھی ہر چند باطن ان کا دین ہے مگر روئے بظاہر بسوئے دنیا رکھتے ہیں
کما قال سیدنا علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ فی خلافۃ سیدنا الصدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہ رضیہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لدیننا افلا نرضاہ لدنیانا ۱؎۔
جیسے حضرت سیدنا علی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا حضرت سیدنا صدیق اکبر( رضی اللہ تعالٰی عنہ) کی خلافت کے بارے میں، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے آپ کو ہمارے دین کے لئے پسند فرمایا تو بس ہم اس کو اپنی دنیا کے لئے کیوں پسند نہ کریں۔ (ت)
(۱؎الطبقات الکبرٰی لابن سعد         ذکر بیعۃ ابی بکر     دارصادر بیروت    ۳/ ۱۸۳)
Flag Counter