تصوف وطریقت وبیعت وسجادہ نشینی وغیرہ
تصور شیخ، مراقبہ، پیری مریدی کے آداب نیز سچے اور جھوٹے پیر کا بیان
مسئلہ ۱۷۶: از شہر کہنہ ۱۷/ شعبان ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید ستار بجاتاہے وصف اس میں یہ ہیں حافظ قرآن ہے۔ خاندان چشتیہ میں بیعت ہے۔ بے دینوں سے نفرت رکھتاہے، خدا وند تعالٰی کے فضل وکرم سے اس کے مکان پر سب خوردوکلاں نمازی ہیں یعنی بالغ اور نابالغ کو خدا تعالٰی نے اپنے فضل وکرم سے یہ وصف دیا ہے اور حکم خدا ورسول سے اس کو کسی وقت میں انکار نہیں اگرچہ اس کا ظاہر نقصان ہو، جب کوئی اس کو ستار بجانے سے منع کرتاہے تو جواب منع کرنے والے کو یوں دیتاہے کہ بیشک میں خطا وار خدا تعالٰی کا بلکہ از حد گنہگارہوں کہ فی زمانہ مسلمانوں میں کوئی خطاوار مجھ سے بڑھ کر نہ ہوگا مگر ستار میں نے خدا تعالٰی کے ذکر یا د کرنے کے واسطے سیکھا ہے وہ یاد کرنا یہ ہے کہ اکثر جانوروں کی بولیاں اس سے سمجھ میں آتی ہیں جو شخص عاقل او رذی فہم ہیں اس وقت خوب جان لیتے ہیں اس بات کو کہ ادنٰی درجہ کی اشیاء خدا کے ذکر میں مشغول ہوں اورہم اشرف المخلوقات ہو کر خدا کی یاد سے غافل ہوں پھر بہت ساافسوس کرکے خدا تعالٰی کے ذکر میں مشغول ہوجاتے ہیں اس کو علم معرفت کہتے ہیں اور درجے چار ہیں: شریعت، طریقت، معرفت، حقیقت، علمائے دین سے ہر ایک کے معنی دریافت کرلو یعنی شریعت کے معنی لغت میں کیا ہے۔ او ر اصطلاح میں کیا۔ اسی طرح پر طریقت ، معرفت حقیقت کے معنی بتاکر حکم فرمائیں کہ اس طرح پر خدا تعالٰی سے محبت کا سلسلہ پیدا کرنا چاروں طریقوں میں منع ہے ان شاء اللہ تعالٰی فورا چھوڑ دوں گا، بینوا توجروا (بیان فرماؤ تاکہ اجر وثواب پاؤ۔ت )
الجواب
شریعت ، طریقت، حقیقت، معرفت میں باہم اصلا کوئی تخالف نہیں اس کا مدعی اگر بے سمجھے کہے تونرا جاہل ہے اور سمجھ کر کہے تو گمراہ بددین، شریعت حضور اقدس سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے اقوال ہیں، اور طریقت حضور کے افعال، اور حقیقت حضور کے احوال، اور معرفت حضور کے علوم بے مثال،
صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہ واصحابہ الی مالایزال
(ان پر (یعنی آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر) ان کی آل پر اور اصحابہ کرام پر اللہ تعالٰی رحمت برسائے جب تک مولٰی تعالٰی فرمائے۔ ت)
رسالہ
نَقَاءُ السَّلَافَہْ فِیْ اَحْکَامِ الْبیْعَۃِ وَالْخِلَافِہْ (۱۳۱۹ھ)
(بیعت وخلافت کے احکام میں خوبصورت نچوڑ)
مسئلہ ۱۷۷: ۲۵/ جمادی الاولٰی ۱۳۱۸ھ
زید کہتا ہے کہ میں مسلمان اور مسلمان کے یہاں پیدا ہوا، رو زپیدائش سے طریقہ اسلام پر اہلسنت وجماعت کا پیرو ، غیر طریقے کی بے جابات جو خلاف سنت ہے حجت کو تیار ،ا ور جو باتیں پیر بتاتاہے وہ قرآن وحدیث سے بتاتاہے وہ باتیں مجھ کو معلوم ہیں۔ پہلے سے عمل کرتاہوں اور نہیں بھی، پھر روز قیامت کو گروہ امتیان حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں اٹھیں گے پھر کیا ضرورت ہے بیعت کرنے کی اور سلسلے میں آنے کی؟ ایک فقرہ جواب اس خیال جاہلانہ کا لکھ دیجئے تاکہ وسوسہ شیطانی دل سے دور ہوجائے آئندہ توبہ واستغفار کریں، بینوا توجروا (بیان فرماؤ تاکہ اجرپاؤ۔ت)
الجواب
قرآن وحدیث میں شریعت، طریقت، حقیقت سب کچھ ہے اور ان میں سب سے زیادہ ظاہر وآسان مسائل شریعت ہیں ان کی تویہ حالت ہے کہ اگر ائمہ مجتہدین انکی شرح نہ فرماتے تو علماء کچھ نہ سمجھتے اور علماء کرام اقوال ائمہ مجتہدین کی تشریح وتوضیح نہ کرتے تو ہم لوگ ارشادات ائمہ کے سمجھنے سے بھی عاجز
رہتے اورا ب اگر اہل علم عوام کے سامنے مطالب کتب کی تفصیل اور صورت خاصہ پرحکم کی تطبیق نہ کریں، تو عام لوگ ہر گز ہر گز کتابوں سے احکام نکال لینے پر قادر نہیں، ہزار جگہ غلطی کریں گے اور کچھ کا کچھ سمجھیں گے اس لئے یہ سلسلہ مقرر ہے کہ عوام آج کل کے اہل علم ودین کا دامن تھامیں اور وہ تصانیف علمائے ماہرین کا اور وہ مشائخ فتوٰی کا اور وہ ائمہ ہدٰی کا اور وہ قرآن وحدیث کا ، جس شخص نے اس سلسلے کو توڑا وہ اندھا ہے۔ جس نے دامن ہادی ہاتھ سے چھوڑا عنقریب کسی عمیق، (گہرے) کنویں میں گرا چاہتا ہے۔
امام اجل عارف باللہ سیدی عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ الربانی میزان الشریعۃ الکبرٰی میں فرماتے ہیں:
لو قدان اھل دور تعدوا من فوقہم الی الدور الذی قبلہ لا انقطعت وصلتہم بالشارع ولم یھتدوا لایضاح مشکل ولا تفصیل مجمل وتامل یااخی لولا ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فصل بشریعتہ مااجمل فی القراٰن لبقی علی اجمالہ کما ان الائمۃ المجتہدین لو لم یفصلوا مااجمل فی السنۃ ابقیت السنۃ علی اجمالہا وہکذا الی عصرنا ہذا ۱؎ الخ۔
اگر بالفرض اہل زمانہ تجاوز کرجائیں اپنے اوپر والوں سے طرف اس زمانہ کے کہ وہ ان سے پہلے ہو تو ان کا شار ع علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ملنا منقطع ہوجائے گا، اور وہ مشکل کو واضح کرنے اور مجمل کی تفصیل کی راہ نہ پائیں، غور کراے بھائی، اگر رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم قرآن کے اجمال کی اپنی شریعت سے تفصیل نہ فرماتے تو قرآن اپنے اجمال پر باقی رہتا جیسا کہ تحقیق اگر ائمہ مجتہدین حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی سنت کے اجمال کی تفصیل نہ کرتے تو سنت اپنے اجمال پر باقی رہتی اور ایسے ہی ہمارے اس زمانہ تک الخ (ت)
(۱؎ المیزان الکبری فصل ومما یدلک علی صحۃ ارتباط جمیع اقوال علماء الشریعۃ الخ مصطفی البابی مصر ۱/ ۳۷)
اسی میں ہے:
کما ان اشارع بین لنا بسنتہ ما اجمل فی القراٰن وکذلک الائمۃ المجتہدین بینوا لنا ما اجمل فی احادیث الشریعۃ ولو لابیانہم لنا ذٰلک لبقیت الشریعۃ علی اجمالہا وہکذا القول فی اہل کل دور بالنسبۃ للدور الذین قبلہم الی یوم القیمۃ فان الاجمال لم یزل ساریا فی کلام علماء الامۃ الی یوم القیمۃ ولو لا ذٰلک ماشرحت الکتب ولاعمل علی الشروح حواش کما مر ۱؎۔
جیساکہ شارع علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی سنت کے ساتھ قرآن مجید کے اجمال کی تفصیل کی ہے، اور ایسے ائمہ مجتہدین نے ہمارے لئے احادیث شریعت کے اجمال کا بیان فرمایا ہے اور بالفرض ان کا بیان نہ ہوتا تو شریعت اپنے اجمال پر باقی رہتی، اور یہی بات ہر اہل دور کی بنسبت اپنے پہلے دور والوں کی ہے قیامت تک، اس لئے کہ اجمال علماء امت کے کلام میں قیامت تک جاری رہتا، اگر ایسا نہ ہوتا تو کتابوں کی شرحیں اور شرحوں پر حواشی نہ لکھے جاتے۔ جیسا کہ گزرچکا۔ (ت)
(۱؎ المیزان الکبرٰی فصل فی بیان استحالہ خروج شیئ الخ مصطفی البابی مصر ۱/ ۴۶)
غیر مقلدین اس سلسلے کو توڑکر گمراہ ہوئے اور نہ جانا کہ: ع
ہمہ شیران جہاں بستہ ایں سلسلہ اند روبہ از حیلہ چساں بگسلدایں سلسلہ را
(دنیا کے تمام شیراس سلسلہ میں بندھے ہوئے ہیں لومڑی اپنے حیلہ سے اس سلسلہ کو کیسے کمزور بناسکتی
ہے۔ ت)
جب احکام شریعت میں یہ حال ہے تو صاف روشن کہ دقائق سلوک اور حقائق معرفت بے مرشد کامل خود بخود قرآن وحدیث سے نکال لینا کس قدر محال ہے۔ یہ راہ سخت باریک اور بے شمع مرشد نہایت تاریک ہے، بڑے بڑوں کو شیطان لعین نے اس راہ میں ایسا مارا کہ تحت الثرٰی تک پہنچادیا ، تیری کیا حقیقت کہ بے رہبر کامل اس میں چلے اور سلامت نکل جانے کا ادعا کرے، ائمہ کرام فرماتے ہیں: آدمی اگر چہ کتنا ہی بڑا عالم زاہد کامل ہو اس پر واجب ہے کہ ولی عارف کو اپنا مرشد بنائے بغیر اس کے ہرگز چارہ نہیں،
میزن الشریعۃ میں ارشاد فرمایا:
فعلم من جمیع ماقررناہ وجوب اتخاذ الشیخ لکل عالم طلب الوصول الی شہود عین الشریعۃ الکبرٰی ولواجمع جمیع اقرانہ علی علمہ وعملہ وزہدہ و ورعہ ولقبوہ بالقطبیۃ الکبرٰی فان لطریق القوم شروطا لایعرفہا الا المحققون منہم دون الدخیل فیہم بالدعاوی والاوہام وربما کان من لقبوہ بالقطبیۃ لایصلح ان یکون مریدا لقطب ۱؎ الخ۔
پس معلوم ہوا اس تمام سے جو کہ ہم نے ثابت کیاہے شیخ کے پکڑنے کا وجوب ہرعالم کے لئے جو طلب کرے عین شریعت الکبرٰی کے مشاہدہ تک پہنچنے کو اگر چہ اس کے تمام ہم عصر اس کے علم وعمل او زہد و ورع پر جمع ہو جائیں، اور اس کو قطبیت کبرٰی کا لقب دیں اس لئے کہ اس قوم (یعنی صوفیہ) کے طریق کی کچھ شرطیں ہیں جن کو کہ سوائے ان کے محققین کےکوئی نہیں پہچان سکتا نہ کہ وہ لوگ جو صرف اپنے دعاوی او ر اوہام کے ساتھ ان میں داخل ہوتے ہیں اور بسا اوقات جن کو انھوں نے قطب ہونے کا لقب دیا ہے وہ اس لائق نہیں ہے کہ کسی حقیقی قطب کا مریدہو۔ (ت)
(۱؎ المیزان الکبرٰی فصل ان القائل کیف الوصول الخ مصطفی البابی مصر ۱/ ۲۲)