| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ ) |
(۴۱) ح امام اجل ابن العربی ممدوح کے دوسرے شاگرد ابوالقاسم خلف بن بشکوال۔ (۴۲) ان کے تلمیذ ابوجعفر احمد بن علی اوسی جن کے شاگرد ابوالقاسم بن محمد اور ان کے تلمیذ ابواسحق ابراہیم بن الحاج ان کے شاگرد ابوالیمن ابن عساکر مذکورین ہیں جن کے اقوال طیبہ اوپر مرقوم ہوئے۔ (۴۳) ح امام اسمعیل بن ابی اویس مدنی ممدوح کے دوسرے تلمیذ ابواسحق ابراہیم ابن الحسین۔ (۴۴) ان کے شاگرد محمد بن احمد خزاری اصبہانی ۔ (۴۵) ان کے تلمیذ ابوعثمن سعید بن حسن تستری۔ (۴۶) ان کے شاگرد ابو بکر محمد بن علی منقری۔ (۴۷) ان کے تلمیذ ابوطالب عبداللہ بن حسن بن احمد عنبری۔ (۴۸) ان کے شاگرد ابو محمد عبدالعزیز بن احمد کنانی۔ (۴۹) ان کے تلمیذ ابو محمد ہبۃ اللہ بن احمد بن محمد اکفانی دمشقی۔ (۵۰) ان کے شاگرد حافظ ابو طاہر احمد بن محمد بن احمد اسکندرانی۔ (۵۱) ان کے تلمیذ ابوعبداللہ محمد بن عبدالرحمن تجیبی۔
(۵۲) ان کے شاگرد ابوعبداللہ محمد بن عبداللہ سبتی ان کے تلمیذ ابواسحق ابراہیم بن الحاج سلمٰی ممدوح ان کے شاگرد ابن عساکر۔ (۵۳) ان کے تلمیذ بدر فارقی، یہ تین سلسلے مثل سلاسل حدیث تھے ان کے علاوہ (۵۴) امام ابو حفص عمر فاکہانی اسکندرانی۔ (۵۵) شیخ یوسف تتائی مالکی۔ (۵۶) فقیہ ابوعبداللہ بن سلامہ۔ (۵۷) فقیہ محدث ابویعقوب۔ (۵۸) ان کے شاگرد ابوعبداللہ محمد بن رشید فہری۔ (۵۹) حافظ شہیر ابوالربیع بن سالم کلاعی۔ (۶۰) ان کے تلمیذ حافظ ابوعبداللہ بن الابار قضاعی۔
(۶۱) ابو عبداللہ محمد بن جابر دادی۔ (۶۲) خطیب ابو عبداللہ بن مرزوق تلمسانی۔ (۶۳) ابن عبدالملک مراکش۔ (۶۴) شیخ ابوالخصال۔ (۶۵) ابوعبداللہ محمد بن عبداللہ بن عبدالحق انصاری معروف بابن القصاب ۔ (۶۶) شیخ فتح اللہ حلبی بیلونی۔ (۶۷) قاضی شمس الدین ضعیف اللہ ترابی رشیدی۔ (۶۸) شیخ عبدالمنعم سیوطی۔ (۶۹) محمد بن فرج سبتی۔ (۷۰) شیخ ابن حبیب النبی جن سے علامہ تلمسانی نے نقشہ مقدسہ کی عجیب برکت شفاہا روایت کی۔
(۷۱) سید محمد موسٰی حسینی مالکی معاصرعلامہ ممدوح۔ (۷۲) سید جمال الدین محدث صاحب روضۃ الاحباب۔ (۷۳) علامہ شہاب الدین خفاجی جنھوں نے فتح المتعال کی تعریف کی اور ہو مصنف حسن فرمایا یعنی وہ خوب کتاب ہے۔ (۷۴) فاضل کاتب چلپی صاحب کشف الظنون۔ (۷۵) فاضل علامہ محمد بن عبدالباقی زرقانی شارح مواہب ومؤطا امام مالک۔ اب اور پانچ ائمہ کرام اکے اسماء طیبہ عالیہ پر اختتام کیجئے جن کی امامت کبری پر اجماع اور ان کی جلالت شان وعظمت مکان مشہور ومعروف بلاد وبقاع: (۷۶) امام اجل حافظ الحدیث زین الدین عراقی استاذ امام الشان ابن حجر عسقلانی صاحب الفیہ سیرت وغیرہا۔ (۷۷) ان کے ابن کریم علامہ عظیم سیدی ابوزرعہ عراقی۔ (۷۸) امام اجل سراج الفقہ والحدیث والملۃ والدین بلقینی۔ (۷۹) امام جلیل محدث نبیل حافظ شمس الدین سخاوی۔
(۸۰) امام اجل واکرم علامہ عالم خاتم الحفاظ والمحدثین جلال الملۃ والشرع والدین عبدالرحمن بن ابی بکر سیوطی رضی اللہ تعالٰی عنہم وعنابہم یوم الدین آمین یا رب العالمین۔
بالجملہ مزار اقدس کا نقشہ تابعین کرام اور نعل مبارک کی تصویر تبع تابعین اعلام سے ثابت اور جب سے آج تک ہر قرن وطبقہ کے علماء وصلحا میں معمول اور رائج ہمیشہ اکابر دین ان سے تبرک کرتے اور ان کی تکریم وتعظیم رکھتے آئے ہیں تو اب انھیں بدعت شنیعہ اور شرک وحرام نہ کہے گامگر جاہل ببیاک یا گمراہ بددین مریض القلب ناپاک
والعیاذباﷲ من مہاوی الہلاک
( اللہ تعالٰی کی پناہ ہلاکت وبربادی کے ٹھکانوں سے۔ ت) آج کل کے کسی نو آموز قاصر ناقص فاتر کی بات ان اکابر ائمہ دین واعاظم علماء معتمدین کے ارشادات عالیہ کے حضور کسی ذی عقل دیندار کے نزدیک کیا وقعت رکھتی ہے، عاقل منصف کے لئے اسی قدر کافی ہے
واﷲ الھادی وولی الایادی بہ ثقتی وعلیہ اعتمادی
(اللہ تعالٰی ہی راہ ہدایت دکھانے والا ہے اورجملہ احسانات وانعامات کا مالک ووالی ہے پس اسی پر بھروسا واعتماد ہے۔ ت) الحمدللہ کہ یہ مجمل جواب موضع صواب اواخر ذی الحجہ مبارک ۱۳۱۵ھ کے چند جلسوں میں تمام اور بلحاظ تاریخ شفاء (عہ) الوالہ فی صور الحبیب ومزارہ ونعالہ (۱۳۱۵ھ) (حیرت زدہ (عاشق) کی شفا (صحت یابی) صور حبیب ان کے مزار اور ان کے جوتوں کے دیدار میں ہے۔ ت) نام ہو،
الحمدﷲ رب العالمین وصلی اﷲ تعالٰی علی سیدنا ومولانا محمد والہ وصحبہ اجمعین اٰمین، واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
(سب خوبیان خدا کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کاپروردگار (مربی) ہے اللہ تعالٰی ہمارے آقا ومولٰی حضرت محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر اور ان کی آل پر اور ساتھیوں پر رحمت نازل فرمائے، اللہ تعالی سب سے بڑا عالم ہے۔ اور اس جلیل القدر ذات کا علم بہت کامل واکمل اور نہایت درجہ پختہ ومحکم ہے۔ ت)
عہ: ہمزہ بے مرکز ملحوظ العددست ۱۲۔
اس تحریر کے چند ماہ بعد آج کل کے بعض ہندی (عہ) صاحبوں نے اس کے مخالف تحریریں پیش کیں جن میں کسی امام معتمد یا عالم مستند سے اس کے خلاف پر اصلا سند نہ دی گئی، ہم ابھی گزارش کرچکے ہیں کہ ارشادات ائمہ دین وعلماء معتمدین کے مقابل ایں وآن کے بے سند اقوال کیا قابل استدلال، قرون ثلاثہ میں باوصف تحقق ضرورت اس کی طرف قولا وفعلا اصلا توجہ نہ پائے جانے کا جواب بھی واضح ہوچکا کہ زمانہ تابعین وتبع تابعین سے متوارث ہے، اور ضروت شرعیہ بمعنی افتراض ووجوب نہ ہونا، تو بدیہی یوہیں بایں معنی کہ کوئی امر مامور بہ فی الشرع عیناً اس پر موقوف ہو واضح المنع نہ سہی مسلم کہ مقتضی عین موجود مذکر حاصل موانع مقصود جس سے باوصف تحقق خطور بالبال وخصوص احتیاج بالقصد امتناع پر اطباق واجماع مفہوم ہو اور جہاں ایسا نہیں وہاں عدم وقوع ہر گز مفید کف قصدی نہیں کہ وہی مقدور ہے اور اس میں اتباع
وقد حققنا ھذہ المباحث فی کتابنا المبارک ان شاء اﷲ تعالٰی البارقۃ الشارقۃ علی مارقۃ المشارقۃ
(ان مباحث کی تحقیق ہم نے اپنی بابرکت کتاب میں کرد ی ہے کتاب کا نام ہے البارقۃ الشارقۃ علی مارقۃ المشارقۃ (چمکدار تیز تلواریں دین سے نکلنے والے مشرقی خوارج پر)۔ ت) اس قضیہ کو اگر یوہیں مرسل رکھیں تو صدہا مسائل شرعیہ خود صاحب تحریر مذکور کے تحریرات کثیرہ اس کے ناقض ومناقض موجود ہیں جن میں بعض ہمارے رسالہ
سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلاۃ العید
(عید مبارک کی خوشیاں نماز عید کے بعد دعا کے جواز میں۔ ت) بحوالہ جلد وصفحہ مذکور ہوئیں، رہا یہ کہ نقشہ کعبہ معظمہ وروضہ منورہ کو ان کا عین یا تمام احکام میں مساوی سمجھنا کہ نقشہ کعبہ کے طواف سے حج ادا ہوجائے اور حج کے بعد نقشہ روضہ کے پاس حاضر زیارت مقدسہ کی حاضری سے مغنی ہوجائے یہ کسی جاہل کا بھی زعم نہیں، ایسے اوہام باطلہ البتہ مشرکین وروافض کو پیدا ہوتے ہیں، رسالہ اسلمی میں قطع نظر اس سے کہ وہ کیا اور کیسا رسالہ اور کہاں تک محل استناد میں پیش ہونے کی لیاقت رکھتاہے اسی وہم پر اعتراض ہے وہ اس طریقہ انیقہ پر جوا ئمہ کرام وعلمائے اعلام میں معمول ومقبول رہا اصلا واردنہیں،
وباﷲ التوفیق واﷲ سبحنہ وتعالٰی اعلم۔
(اللہ تعالٰی کے فضل ہی سے توفیق حاصل ہے اور اللہ پاک اور برتر سب سے بڑا عالم ہے۔ ت) (رسالہ شفاء الوالہ فی صور الحبیب ومزارہ ونعالہ ختم شد)
عہ: یعنی فتوٰی عبدالحی لکھنوی ۱۲۔