| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ ) |
(۲۲) ابوالحکم بن عبدالرحمن الشہیر بابن المرحل کہ فضلائے مغاربہ سے ہیں امام بقیۃ الحفاظ ابن حجر عسقلانی نے تبصیر میں ان کا ذکر لکھا وصف نقش مبارک میں ان کا قصیدہ غرا شیخ ابن الحاج نے اپنی کتاب مذکورمیں ذکر کیا امام قسطلانی نے اسے مااحسنہا کہا یعنی کیا خوب فرمایا، اس کے بعض ابیات کریمہ مواہب میں یہ ہیں: ؎
مثال لنعلی من احب ھویتہ فہا انا فی یومی ولیلی لاثمہ اُجر علی راسی ووجہی ادیمہ والثمہ طوراوطورا الازمہ امثلہ فی رجل اکرم من مشی فتبصرہ عینی وماانا حالمہ احرک خدی ثم احسب وقعہ علی وجنتی خطواھناک یداومہ ومن لی بوقع النعل فی حر وجنتی لما ش علت فوق النجوم براجمہ ساجعلہ فوق الترائب عوذۃ لقلبی لعل القلب یبرد حاجمہ واربطہ فوق الشوؤن تمیمۃ لجفنی لعل الجفن یرقاء ساجمہ الابابی تمثال نعل محمد لطاب لحاذیہ وقدس خادمہ یودھلال الافق لوانہ ھوی ینرا حمنا فی لثمہ ونزاحمہ سلام علیہ کلما ھبت الصبا وغنت باغصان الاراک حمائمہ ۱؎
اپنے محبوب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی تصویر نعل پاک کومیں دوست رکھتا اور رات دن اسے بوسہ دیتاہوں اپنے سر اور منہ پر رکھتااور کبھی چومتا کبھی سینے سے لگاتاہوں، میں اپنے دھیان میں اسے محبوب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے پائے اقدس میں تصور کرتا ہوں تو شدت صدق تصور سے گویا اپنی آنکھوں سے جاگتے میں دیکھ لیتاہوں اس نقش پاک کو اپنے رخسارے پر رکھ کر جنبش دیتااور یہ خیال کرتا ہوں کہ گویا وہ اسے پہنے ہوئے میرے رخسارے پر چل رہے ہیں آہ کون ایسی صورت کردے کہ وہ پائے مبارک جو ستارگان آسمان ہشتم کے سروں پر بلند ہوئے ان کی کفش مبارک چلنے میں میرے رخسارے پر پڑے میں نقشہ نعل پاک کو اپنے سینے پر دل کا تعویز بنا کر رکھوں گا شاید دل کی آنکھ ٹھنڈی ہو، میں اسے سرپر آنکھوں کا تعویذ بنا کر باندھوں گا شاید بہتی پلکیں رکیں، سن لو تصویر کفش مقدس پر میرا باپ نثار، کیااچھا ہے اس کا بنانے والا اور جو اس کی خدمت کرے پاک ہوجائے، ماہ نور کی تمنا ہے کاش آسمان سے اتر کر اس نقشہ مبارک کے بوسے میں ہم اور وہ باہم مزاحمت کرتے، اللہ عزوجل کا سلام اترے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر جب تک بادصبا چلے اور جب تک درخت اراک کی ڈالیوں پر کبوترگونجیں،
اللھم صل وسلم وبارک علیہ وعلی الہ وامتہ ابدا آمین
(یا اﷲ! ان پر درود وسلام اور برکت نازل فرما اور ان کی آل اور امت پر ہمیشہ ہمیشہ اپنی رحمت فرما، یہی میری دعا ہے اسے قبول فرما۔ ت)
(۱؎ المواہب اللدنیہ المقصد الثالث الفصل الثالث لبس النعل المکتب الاسلامی بیروت ۲/ ۴۶۹)
(۲۳) نیز مواہب لدنیہ میں ہے:
من بعض ماذ کر من فضلہا وجرب من نفعہا وبرکتہا ماذکرہ ابوجعفر احمد بن عبدالمجید وکان شیخا صالحا ورعاقال حذوت ہذا المثال لبض الطلبۃ فجاء نی یوم فقال رأیت البارحۃ من برکۃ ہذا النعل عجبا اصاب زوجی وجع شدید کادیھلکہا فجعلت النعل علی موضع الوجع و قلت اللہم ارنی برکۃ صاحب ہذا النعل فشفاہا اﷲ للحین ۔
اس مثال مبارک کے فضائل جو ذکر کئے گئے ہیں اور اس کے منافع وبرکات جو تجربے میں آئے ان میں سے وہ ہیں جو شیخ صالح صاحب ورع وتقوٰی ابوجعفر احمد بن عبدالمجید نے بیان فرمائے کہ میں نے نعل مقدس کی مثال اپنے بعض تلامذہ کو بنادی تھی ایک روز انھوں نے آکر کہا رات میں نے اسے اس مثال مبارک کی عجیب برکت دیکھی میری زوجہ کو ایک سخت درد لاحق ہوا کہ مرنے کے قریب ہوگئی میں نے مثال مبارک موضع درد پر رکھ کر دعا کی کہ الٰہی! اس کی برکت سے شفا ء دے اللہ عزوجل نے فورا شفابخشی۔
(۲؎المواہب اللدنیہ المقصد الثالث الفصل الثالث لبس النعل المکتب الاسلامی بیروت ۲/ ۴۶۹)
(۲۴) نیز امام قسطلانی فرماتے ہں کہ ابواسحاق ابراہیم بن الحاج فرماتے ہیں کہ ان کے شیخ الشیخ ابوالقاسم بن محمد فرماتے ہیں:
ومما جرب من برکتہ ان من امسکہ عندہ متبرکابہ کان لہ امانا من بغی البغاۃ وغلبۃ العداۃ وحر زا من کل شیطان مارد وعین کل حاسد وان امسکت المرأۃ الحامل بیمینہا وقد اشتد علیہا الطلق تیسرامرھا بحول اﷲ تعالٰی وقوتہٖ ۱؎۔
نقشہ نعل مبارک کی آزمائی ہوئی برکات سے یہ ہے کہ جو شخص بہ نیت تبرک اسے اپنے پاس رکھے ظالموں کے ظلم اور دشمنوں کے غلبے سے امان پائے، اور وہ نقشہ مبارک ہر شیطان سرکش اور حاسد کے چشم زخم سے اس کی پناہ ہوجائے اور زن حاملہ میں شدت درد زہ میں اگر اسے اپنے داہنے ہاتھ میں لے بعنایت الٰہی اس کا کام آسان ہو۔
(۱؎ المواہب اللدنیہ المقصد الثالث الفصل الثالث لبس النعل المکتب الاسلامی بیروت ۲/ ۴۶۷)
(۲۵) علامہ ابن حجر مقری تلمسانی نے اس باب میں دو مستقل کتابیں تصنیف فرمائی ایک
النفخات العنبریۃ فی وصف نعل خیرا لبریۃ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم
کہ وجیز ونافع ہے۔ دوسری فتح المتعال فی مدح خیر النعال کہ بسیط وجامع ہے ان کتب مبارک میں عجب عجب فضائل وبرکات ودفع بلیات وقضائے حاجات کے جو اس نقشہ مبارکہ سے مشاہدہ کئے اور سلف صالح ومعاصرین صالحین نے دیکھے بکثرت بیان فرمائے ان کاذکر باعث تطویل ہے جو چاہے فتح المتعال مطالعہ کرے اب ہم بنظر اختصار ان باقی ائمہ واعلام کے بعض گرامی نام شمار کرنے پر اقتصار کریں جنھوں نے نقشہ مبارکہ بنوایا، بناکر اپنے تلامذہ کو عطافرمایا۔ ا س سے تبرک کیا، اس کی مدحیں لکھیں، اس سے فیض وبرکت حاصل کرنے ، اسے سر آنکھوں پر رکھنے، بوسہ دینے کی ترغیبیں کیں، احادیث کی طرح باہتمام تام اس کی روایتیں فرمائیں، جسے تفصیل دیکھنی ہو فتح المتعال وغیرہ کی طرف رجوع لائے، وباللہ التوفیق۔
(۲۶) امام اجل ابواویس عبداللہ بن عبداللہ بن اویس ابوالفضل بن مالک بن ابی عامر اصبحی مدنی کہ اکابر علماء مدینہ طیبہ وائمہ محدثین ورجال صحیح مسلم وسنن ابی داؤد وترمذی ونسائی وبن ماجہ اور تبع تابعین کے طبقہ اعلٰی سے ہیں، امام مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ کے بہنوئی اور بھتیجے یعنی ان کے حقیقی چچازاد بھائی کے بیٹے ہیں، ۱۶۷ھ میں انتقال فرمایا: انھوں نے خود اپنے واسطے امام مالک و غیرہ اکابر تابعین وتبع تابعین کے زمانے میں نعل اقدس نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی مثال بنواکر اپنے پاس رکھی اور قرنا فقرنا اس مثال کے نقشے ہر طبقے کے علماء لیتے رہے۔
(۲۷) ان کے صاحبزادے امام مالک کے بھانجے اسمعیل بن ابی اویس کہ امام بخاری وامام مسلم کے استاذ اور رجال صحیحین اور اتباع تبع تابعین کے طبقہ اعلی سے ہیں اور امام شافعی وامام احمد رضی اللہ تعالٰی عنہما کے معاصر، ۲۲۶ ہجری میں وفات پائی۔
(۲۸) ان کے شاگرد ابویحیٰی بن ابی میسرہ۔ (۲۹) ان کے تلمیذ ابو محمد ابراہیم بن سہل سبتی۔ (۳۰) ان کے شاگرد ابو سعید عبدالرحمن بن محمد بن عبداللہ مکی۔ (۳۱) ان کے تلمیذ محمد بن جعفر تمیمی۔ (۳۲) ان کے تلمیذ محمد بن الحسین الفارسی۔ (۳۳) ان کے شاگرد شیخ ابو زکریا عبدالرحیم بن احمد بن نصر بن اسحاق بخاری۔ (۳۴) ان کے تلمیذ شیخ فقیہ ابوالقاسم حلی ابن عبدالسلام بن حسن رمیلی۔ (۳۵) ان کے شاگرد شیخ عیاض۔ (۳۶) دوسرے تلمیذ اجل امام اکمل حافظ الحدیث قاضی ابوبکر بن العربی اشبیلی اندلسی۔ (۳۷) ان دونوں کے شاگرد امام ابن العربی کے صاحبزادے فقیہ ابو زید عبدالرحمن بن محمد بن عبداللہ۔ (۳۸) ان کے تلمیذ ابن الحیہ۔ (۳۹) ان کے شاگرد شیخ ابن البر تونسی۔ (۴۰) ان کے تلمیذ شیخ ابن فہد مکی۔