(۱۳) علامہ محمد بن احمد بن علی فاسی قصری مطالع میں فرماتے ہیں:
اعقب المؤلف رحمہ اﷲ تعالٰی ورضی عنہ، ترجمۃ الاسماء بترجمۃ صفۃ الروضۃ المبارکۃ موافقا وتابعاللشیخ تاج الدین الفاکہانی فانہ عقد فی کتاب الفجر المنیر بابا فی صفۃ القبور المقدسۃ ومن فوائد ذٰلک ان یزور المثال من لم یتمکن من زیارۃ الروضۃ ویشاہدہ مشتاق ویلثمہ ویزداد فیہ حباوشوقا ۲؎۔
مؤلف رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے فصل اسماء طیبہ حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے بعد صفت روضہ مبارکہ کی فصل بہ تبعیت وموافقت امام تاج الدین فاکہانی ذکر فرمائی کہ انھوں نے بھی اپنی کتاب فجر منیر میں خاص ایک باب ذکر کیا اور اس میں بہت فائدے ہیں از انجملہ یہ کہ جسے روضہ مبارکہ کی زیارت میسرنہ ہوئی وہ اس نقشہ پاک کی زیارت کرے مشتاق اسے دیکھے اور بوسہ دے اور نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی محبت اور حضور کا شوق اس کے دل میں بڑھے اللھم ارزقنا اٰمین (اے اللہ! ہمیں بھی یہ نصیب فرما اور ہماری یہ درخواست قبول فرما۔ ت)
(۲؎ مطالع المسرات المکتبۃ النوریۃ الرضویۃ فیصل آباد ص۱۴۴)
(۱۴) اسی میں ہے:
قد کنت رأیت تالیفا لبعض المشارقۃ یقول فیما انہ ینبغی لذاکر (اسم) الجلالۃ من المریدین ان یکتبہ بالذہب فی ورقۃ ویجعلہ نصب عینیہ فاذا صور قاری ہذا الکتاب الروضۃ صورۃ حسنۃ بالوان حسنۃ و خصوصا بالذہب فہو من معنی ذٰلک ۳؎۔
میں نے بعض علماء مشرق کی تالیف میں دیکھا کہ جو مرید اسم پاک اللہ کا ذکر کرے اسے چاہئے کہ نام پاک اللہ ایک ورق میں سونے سے لکھ کر اپنے پیش نظر رکھے تو جب اس کتاب کو پڑھنے والا روضہ مقدسہ کی خوبصورت تصویر خوشنما رنگوں سے رنگین خصوصا آب زر سے بنائے تو وہ اسی قبیل سے ہے۔
(۳؎مطالع المسرات المکتبۃ النوریۃ الرضویۃ فیصل آباد ص ۱۴۵)
(۱۵) اسی میں ہے:
وقد ذکر بعض من تکلم علی الاذکار و کیفیتۃ التربیۃ بہا انہ اذا کمل لا الہ الا اﷲ بمحمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فلیشخص بین عینیہ ذاتہ الکریمۃ بشریۃ من نور فی ثیاب من نور یعنی لتنطبع صورتہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی روحانیتہ و یتألف معہا تألفا یتمکن بہ من الاستفادۃ من اسرارہ والا قتباس من انوارہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال فان لم یزرق تشخص صورتہ فیری کانہ جالس عند قبرہ المبارک یشیر الیہ متی ماذکرہ فان القلب متی ماشغلہ شیئ امتنع من قبول غیرہ فی الوقت الی اٰخر کلامہ فیحتاج الی تصویر الروضۃ المشرفۃ والقبور المقدسۃ لیعرف صورتہا و یشخصھا بین عینیہ من لم یعرف من المصلین علیہ فی ہذا الکتاب وہم عامۃ الناس وجمہور ہم ۱؎۔
بعض اولیاء کرام جنھوں نے ذکر وشغل سے تربیت مریدین کی کیفیت ارشاد کی بیان فرماتے ہیں کہ جب ذکر لا الہ الا اﷲ کو محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے کامل کرلے توچاہئے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا تصور اپنے پش نظر جمائے بشری صورت نور کی طلعت نورکے لباس میں تاکہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی صورت کریمہ ا س کے آئینہ دل میں جم جائے اور اس سے وہ الفت پیدا ہو جس کے سبب حضور کے اسرار سے فائدہ لے حضور کے انوار کے پھول چنے اور جسے یہ تصور میسر نہ ہو وہ یہی خیال جمائے کہ گویا مزار مبارک کے سامنے حاضر ہے اور ہر بار جب ذکر میں نام پاک آئے تصور میں مزار اقدس کی طرف اشارہ کرتا جائے کہ دل جب ایک چیز سے مشغول ہوجاتاہے پھر اس وقت دوسری چیز قبول نہیں کرتا، تو اب روضہ مطہرہ وقبور مطہرہ کی تصویر بنانے کی حاجت ہوئی کہ جن دلائل الخیرات پڑھنے والوں نے ان کی زیارت نہ کی اور اکثر ایسے ہی ہیں وہ انھیں پہچان لیں اور ذکر کے وقت ان کا تصور ذہن میں جمائیں۔
(۱؎مطالع المسرات المکتبہ النوریۃ رضویۃ فیصل آباد ص۱۴۴، ۱۴۵)
(۱۶) اسی میں ہے:
وقد استنابوامثال النعل عن النعل وجعلوہ لہ من الاکرام والاحترام ماللمنوب عنہ وذکروالہ خواصا وبرکات وقد جربت وقال فیہ اشعارا کثیرۃ والفوا فی صورتہ ورووہ بالاسانید وقد قال القائل: ؎
اذا ماالشوق اقلقنی الیہا
ولم اظفر بمطلوبی لدیھا
نقشت مثالہا فی الکف نقشا
وقلت لنا ظری قصرا علیہا ۱؎
علمائے کرام نے نعل مقدس کے نقشے کو نعل مقدس کا قائم مقام بنایا اور اس کے لئے وہی اکرام واحترام جو اصل کے لئے تھا ثابت ٹھہرایا اور اس نقشہ مبارک کےلئے خواص وبرکات ذکر فرمائے اور بلاشبہہ وہ تجربے میں آئے اور اس میں بکثرت اشعار کہے اور اس کی تصویر میں رسالے تصنیف کئے اور اسے سندوں کے ساتھ روایت کیا اور کہنے والے نے کہا :
جب اس کی آتش شوق میرے سینے میں بھڑکتی ہے اور اس کا دیدار میسر نہیں ہوتا اس کی تصویر ہاتھ پر کھینچ کر آنکھ سے کہتاہوں اسی پر بس کر۔
(۱؎ مطالع المسرات المکتبہ النوریۃ الرضویۃ فیصل آباد ص۱۴۴)
(۱۷) علامہ تاج فاکہانی فجر منیر میں فرماتے ہیں:
من فوائد ذلک ان من لم یمکنہ زیارۃ الروضۃ فلیبرز مثالہا ولیلثمہ مشتاقا لانہ ناب مناب الاصل کما قد ناب مثال نعلہ الشریفۃ مناب عینہا فی المنافع والخواص شہادۃ التجربۃ الصحیحۃ و لذا جعلوا لہ من الاکرام والاحترام مایجعلون للمنوب عنہ ۲؎ الخ۔
نقشہ روضہ مبارک کے لکھنے میں ایک فائدہ یہ ہے کہ جسے اصل روضہ اقدس کی زیارت نہ ملی وہ اس کی زیارت کرے اور شوق دل کے ساتھ اسے بوسہ دے کہ یہ مثال اسی اصل کے قائم مقام ہے جیسے نقشہ نعل مقدس منافع وخواص میں بالیقین اس کا قائم مقام ہے جس پر صحیح تجربہ شاہد عدل ہے ولہذا علمائے دین نے نقشے کا اعزاز واعظام وہی رکھا جو اصل کا رکھتے ہیں۔
(۲؎ فجر منیر)
(۱۸) حضر ت مصنف دلائل قدس سرہ العزیز اس کی شرح کبیر میں اسے نقل فرماتے اور علامہ ممدوح کی متابعت ظاہر کرتے ہیں:
حیث قال انما ذکرتہا تابعا للشیخ تاج الدین الفاکہانی فانہ عقد فی کتابہ الفجر المنیر بابا فی صفۃ القبور المقدسۃ و قال ومن فوائد ذٰلک ۱؎ الخ۔
چنانچہ مصنف دلائل الخیرات نے فرمایا میں نے علامہ تاج الدین فاکہانی کے اتباع میں اس کا ذکر کیا ہے اس لئے کہ موصوف نے اپنی کتاب الفجر المنیر میں قبور مقدسہ کی صورت وضع میں ایک باب باندھا اور فرمایا ان فوائد میں سے ایک فائدہ یہ ہے الخ۔ (ت)
(۱؎ مطالع المسرات المکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ص۱۴۴)
(۱۹) امام ابواسحاق ابراہیم بن محمد بن خلف السلمی الشہیر بابن الحاج المترلی الاندلسی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے نقشہ نعل مقدس کے بیان میں مستقل کتاب تالیف فرمائی۔
(۲۰) اسی طرح ان کے تلمیذ شیخ عزیز ابوالیمن ابن عساکر نے نفیس وجلیل کتاب مسمٰی بہ خدمت النعل للقدم المحمدی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم لکھی جس کے ساتھ اکابر ائمہ نے مثل کتب حدیث روایۃً وسماعا وقرائۃً اعتنائے تام کیا۔
(۲۱) امام احمد بن محمد خطیب قسطلانی صاحب ارشاد الساری شرح صحیح بخاری مواہب لدنیہ و منح محمد یہ میں فرماتے ہیں:
قدذکر ابوالیمن ابن عساکر تمثال نعلہ الکریمۃ علیہ افضل الصلوٰۃ والتسلیم فی جزء مفرد رویتہ قرائۃ وسماعا وکذا افردہ بالتالیف ابواسحٰق ابراہیم بن محمد بن خلف السلمی المشہور بابن الحاج من اہل المریۃ بالاندلس وکذا غیر ہما واﷲ درابی الیمن بن عساکر حیث قال: ؎
یا منشدا فی رسم ربع خال ومناشدًا لدوارس الاطلال دع ندب آثار وذکر مآثر
لاحبۃ بانواوعصر خال والثم ثری الاثر الکریم فحبذا ان فزت منہ بلثم ذا التمثال
صافح بہا خدا اوعفر وجنۃ فی تربھا وجد اوفرط تغال، یاشبہ نعل المصطفٰی روحی الفدا
لمحلک الاسمی الشریف العال ہملت لمرآک العیون وقد نأی مرمی العیان بغیرما اہمال،
وتذکرت عہد العقیق فتاثرت شرقا عقیق المدمع الہطال اذکر تنی قد مالہا قدم العلاء
والجودوالمعروف والافضال لوان خدی یحتذی نعلا لہا لبلغت من نیل المنی آمال
اوان اجفانی لوطء نعالھا ارض سمت عزابذا الاذلال اھ بالالتقاط ۲؎
خلاصہ یہ کہ ابوالیمن ابن عساکر نے نقشہ نعل اقدس کے باب میں ایک مستقل جز تالیف کیا جسے میں نے استاد پر پڑھ کر اور استاد سے سن کر روایت کیا اور اسی طرح ابن الحاج اندلسی وغیرہما علماء نے اس بارہ میں مستقل تصنیفیں کیں اور اللہ عزوجل کے لئے ہے خوبی ابوالیمن ابن عساکر کی کیا خوب قصیدہ مدح شبیہ شریف میں لکھا ہے جس میں فرماتے ہیں اے فانی کی یاد کرنے والے ان چیزوں کی یاد چھوڑ اور تبرکات شریفہ مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی خاکبوسی کر، زہے نصیب اگرتجھے اس تصویر نعل مبارک کا بوسہ ملے اپنا رخسارہ اس پر رکھ اور اس کی خاک پر اپنا چہرہ مل، اے نعل مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی تصویر! تیری عزت وشرف بلند پرمیری جان قربان تجھے دیکھ کر آنکھیں ایسی بہ نکلیں کہ اب تھمنا بہت دور ہے تجھے دیکھ کر انھیں مدینے کی وادی عقیق میں مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی رفتار یاد آگئی لہذا اب اپنے اشک رواں کے سرخ سرخ عقیق نچھاور کررہے ہیں، اے تصویر نعل مبارک! تو نے مجھے وہ قدم پاک یاد دلادیا جس کے بلندی وجود واحسان وفضل قدیم سے ہیں، اگرمیرا رخسارہ تراش کر اس قدم پاک کے لئے کفش بناتے تو دل کی تمنا بر آتی یا میری آنکھ ان کی کفش مبارک کے لئے زمین ہوتی تو اس زمین ہونے سے عزت کا آسمان بن جاتی ع
جزاک اﷲ خیرا یا اباالیمن
(اے ابوالیمن! اللہ تعالٰی تمھیں بہترین صلہ عطا فرمائے۔ ت)
(۲؎ اللمواہب اللدینہ المقصد الثالث الفصل الثالث لبس النعل المکتب الاسلامی بیروت ۲/ ۴۶۶ تا ۴۶۸)