Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ )
86 - 144
 (وروی ابوبکر الاجری) الحافظ الامام توفی فی محرم سنۃ ست وثلثمائۃ (فی کتاب صفۃ قبر النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عن عثیم بن نسطاس المدنی) تابعی مقبول کما فی التقریب (قال رأیت قبر النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی امارۃ عمر بن عبدالعزیز فرأیتہ مرتفعا نحوا من اربع اصابع و رأیت قبر ابی بکر وراء قبرہ ورأیت قبر ابی بکر اسفل منہ) ورواہ ابونعیم بزیادۃ وصورہ لنا۔
امام حافظ ابوبکر آجری (متوفی محرم ۳۰۶ھ) نے حضوراقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی قبر اطہر کے بیان میں ارشاد فرمایا: عثیم بن نسطاس مدنی تابعی ( جومقبول رواۃ میں سے ہیں جیسا کہ التقریب میں ہے) سے روایت ہے فرمایا میں نے حضرت عمر بن عبدالعزیز کے زمانہ خلافت میں آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی قبر اقدس کی زیارت کی، قبر اطہر زمین  سے چار انگشت کے بقدر بلند تھی اور میں نے دیکھا کہ جناب صدیق اکبر کی قبر مبارک اس کے پیچھے اور اس سے نیچے تھی، محدث ابونعیم نے کچھ اضافہ کرتے ہوئے راویت کیا ہے اور ہمارے لئے اس کی یہ تصویر ی صورت بیان فرمائی: (ت)
21_2.jpg
(وقد اختلف اہل السیر وغیرہم فی صفۃ القبور المقدسۃ علی سبع روایات اوردھا) ابوالیمن (ابن عساکر فی) کتابہ (تحفۃ الزائر) والصحیح منھا روایتان احدہما ماتقدم عن القاسم والاخری وبہا جزم رزین وغیرہ وعلیہا الاکثر کما قال المصنف فی الفصل الثانی و قال النووی انھا المشہورۃ والمسمہودی انہا اشہر الروایات ان قبرہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الی القبلۃ مقدما بجدارہا ثم قبر ابی بکر حذاء منکبی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وقبر عمر حذامنکبی ابی بکر رضی اﷲ تعالٰی عنہما وہذا صفتہا:
سیرت نگاروں نے قبور مقدسہ کی وضع یا ساخت میں جواختلاف کیا ہے اس سلسلے میں سات روایات پائی جاتی ہیں، ابوالیمن ابن عساکر نے وہ روایات اپنی کتاب ''تحفہ الزائر'' میں بیان کی ہیں ان میں سے صرف دوروایات صحیح ہیں ایک ان میں سے وہ ہے جو ابوالقاسم کے حوالے سے بیان ہوچکی ہے۔ اور دوسری روایت وہ جس پر محدث رزین وغیرہ نے اعتماد کیا ہے اور اسی پر اکثر اہل علم قائم ہیں جیسا کہ مصنف نے دوسری فصل میں فرمایا امام نووی کہتے ہیں کہ یہی مشہور ہے اور علامہ سمہودی نے فرمایا: زیادہ مشہور روایت یہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی قبر اطہر دیوار قبلہ سے متصل سب سے آگے ہے اور حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے شانوں کے بالمقابل حضرت ابوبکر صدیق ضی اللہ تعالٰی عنہ کی قبر ہے پھر صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے شانوں (کندھوں) کے بالمقابل حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ کی قبر ہے۔ یہ ان قبور کی صورت ساخت ہے: (ت)
21_3.jpg
ومرت واحدۃ من الضعیفۃ ولاحاجۃ لذکر باقیھا ۱؎ اھ مافی المواہب و شرحہا ملتقطا قلت وقد ذکر السبع جمیعا الامام البدر محمود العینی فی عمدۃ القاری فراجعہا ان ھویت۔
ایک ضعیف روایت گزر چکی ہے اور بقیہ کے ذکر کی چنداں ضرورت نہیں جو کچھ موہب لدنیہ اور اس کی شرح میں منتخب کردہ عبارت تھی وہ مکمل ہوگئی، میں کہتاہوں کہ پوری سات روایتوں کو امام بدرالدین محمود عینی نے اپنی شہر آفاق تصنیف عمدۃ القاری (شرح صحیح بخاری) میں ذکر فرمایا ہے اگر خواہش مطالعہ ہو تو اس سے رجوع کیاجائے۔ ت)
(۱؎ شرح الزرقانی علی المواہب اللدینۃ     المقصد العاشر الفصل الثانی     دارالمعرفۃ بیروت    ۸/ ۹۶۔ ۲۹۵)
مطالع المسرات میں ہے:
وضع المولف صفۃ الروضۃ ھکذا
مؤلف نے روضۃ کی ساخت بیان کی جو کہ نقشہ ذیل کے مطابق کچھ اس طرح ہے۔ (ت)
21_4.jpg
ابوبکر مؤخر قلیلا عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم خلفہ وعمر خلف رجل ابی بکر وروی ابوداؤد والحاکم وصحح اسنادہ عن القاسم بن محمد الحدیث قال السمہودی وہذا ارجح ماروی عن القاسم ثم صورھا عن ابن عساکر ہکذا۔
حضرت ابوبکر رصدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے کچھ تھوڑا پیچھے ہیں اور حضرت عمر فاروق حضرت ابو بکر صدیق کے پاؤں والی حد سے قدرے پیچھے ہیں، امام ابوداؤد اورحاکم نے صحیح سند کے ساتھ حضرت قاسم بن محمد سے روایت کی ہے۔ (الحدیث) علامہ سمہودی نے فرمایاکہ یہ زیادہ راجح ہے جو کچھ حضرت قاسم سے روایت کیا گیا ہے پھر انھوں نے ابن عساکر کے حوالے سے اس کی تصویر (نقشہ) کچھ اس طرح بیان فرمائی: (ت)
21_5.jpg
وصدر ابوالفتح ابن الجوزی بوضعہا ہکذا ونسب ابن حجر ہذہ الصفۃ الی الاکثر ۱؎ اھ مختصرا، قلت ووقع ھہنا فی الکتاب تخلیط واضطراب نبھت علیہ علی ہامشہ وزادہ سید المرتضی فی النقل عنہ فی شرح الاحیاء لم اجدہ فی نسختی شرح الدلائل ولا ہو صحیح فی نفسہ وذٰلک انہ لم یذکر فی المطالع عن ابن الجوزی صورۃ جدیدۃ فکان قولہ ہکذا اشارۃ الی مامر و ہو الذی نسبہ ابن حجر الی الجمہور والاکثر کما ستمسع فیما یذکر اما المرتضی فنقل تصویرہ عن المطالع عن ابن الجوزی بعد قولہ ہکذا ہکذا۔
حافظ ابوالفرج بن جوزی نے ان کی وضع (یعنی قبور مقدسہ کی ساخت) کچھ اس طرح بیان فرمائی اور علامہ ابن حجر نے اس صورت وضع کو اکثر اہل علم سے منسوب کیا ہے (مختصر عبارت مکمل ہوئی) میں کہتاہوں کہ اس کے باوجود یہاں کتاب میں کچھ خلط ملط اور اشتباہ پایا جاتاہے میں نے اس پر اس کے حاشیہ میں تنبیہ کی ہے سید مرتضی نے شرح احیاء العلوم میں اپنے حاشیہ میں تنبیہ فرماتے ہوئے ان سے نقل کرنے میں کچھ اضافہ فرمایا لیکن میں نے اسے شرح دلائل الخیرات کے اپنے نسخہ میں نہیں پایا اور فی ذاتہٖ وہ صحیح بھی نہیں اس لئے کہ مطالع المسرات میں ابن جوزی کے حوالے سے کوئی نئی صورت نہیں ذکر کی گئی لہذا ابن جوزی کا قول ہکذا اسی گزشتہ قول کی طرف اشارہ ہے۔ اور یہ وہی ہے جس کو علامہ ابن حجر نے جمہور اور اکثر کی طرف سے منسو ب کیا ہے جیسا کہ آئندہ ذکر کیا جاتاہے آپ سنیں گے لیکن سید مرتضی نے اس کی تصویر مطالع المسرات سے ابن جوزی کے قول ہکذا کہنے کے بعد کچھ اس طرح نقل فرمائی ہے جو نقشہ ذیل سے ظاہر ہے: (ت)
21_6.jpg
(۱؎ مطالع المسرات     المکتبہ النوریۃ الرضویۃ فیصل آباد     ص ۴۹۔ ۱۴۸)
ثم عقبہ بقولہ ونسب ابن حجر ہذاہ الصفۃ الی الاکثر ۱؎ الخ فلا ادری  لعل ہذا الغلط فی التصویر من النساخ واﷲ تعالٰی اعلم۔
پھر اسے اپنے اس قول کے بعد لائے ہیں کہ علامہ ابن حجر نے اس صفت کو اکثر کی طرف منسوب کیا ہے الخ میں نہیں جانتا کہ شاید تصویر میں یہ لفظ غلطی کرنے والوں کی طرف سے اضافہ ہوگیا ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
جو ہر منظم امام ابن حجر میں ہے:
یسن لہ بل یتاکد علیہ اذا فرغ من السلام علی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ان یتاخر الی صوب یمینہ قدر ذراع للسلام علی ابی بکر الصدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہ وکرم وجہہ لان راسہ عند منکب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ثم یتاخر الی یمینہ ایضا قدر ذراع للسلام علی سیدنا عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ لان راسہ عند منکب ابی بکر وہذہ صورۃ القبور الثلثۃ الکریمۃ علی الاصح المذکور وعلیہ الجمہور، ثم قال بعد التصویر اخترت وضعہا علی ہذہ الکیفیۃ لانہا لمطابقۃ للواقع عند توجہ الزائر الیہم ۱؎ الخ۔
تاکیدی سنت ہے کہ جب زائر حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی ذات اقدس پرسلام پیش کرنے سے فارغ ہو تو حضرت ابوبکر صدیق کو سلام پیش کرنے کے لئے بقدر ایک ہاتھ اپنی دائیں جنوبی سمت پیچھے ہٹ جائے (اللہ تعالٰی ان سے راضی ہو اور ان کے چہرے کو رونق بخشے) کیونکہ ان کا سر مبارک حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے شانوں کے بالمقابل ہے پھر دائیں جانب ایک ہاتھ کے بقدر مزید پیچھے ہو جائے تاکہ سید نا فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کی خدمت میں سلام پیش کرسکے کیونکہ ان کا سر مبارک حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے کندھوں کے بالمقابل ہے۔ زیادہ صحیح قول مذکور کے مطابق قبور ثلاثہ کی یہی صورت واقع ہے اور اسی پر جمہور کا اتفاق ہے پھر تصویر کے بعد فرمایامیں نے اس کیفیت کے مطابق صورت وضع قبر اختیار کی ہے اس لئے کہ یہی واقع کے مطابق ہے جب زائر ان کی طرف منہ کرے الخ (ت)
 (۱؎ اتحاف السادۃ المتقین     الجملۃ العاشرۃ     صفۃ الروضۃ المشرفۃ الخ     دارالفکر بیروت    ۴/ ۲۱۔۴۲۰)

 (۱؎ الجوہر المنظم         الفصل السابع فیما ینبغی للزائر فعلہ الخ     المکتبۃ القادریہ جامع نظامیہ لاہور    ص۵۰)
اگر معاذاللہ دلائل الخیرات شریف سے نقشہ مقدسہ نکالا جائے تو نہ صرف دلائل بلکہ ان سب کتب احادیث وسیر وغیرہما کے اوراق چاک کئے جائیں اور ان ائمہ محدثین کے بنائے ہوئے نقشوں کا کیا علاج ہوجو زمانہ تابعین وتبع تابعین سے قرنا فقرنا روایت حدیث میں نقشے بناتے آئے اللہ عزوجل افراط وتفریط کی آفت سے بچائے دلا ئل الخیرات شریف کو تالیف ہوئے پونے پانسوبرس گزرے جب سے یہ کتاب مستطاب شرقا غربا عربا عجما تمام جہاں کے علماء واولیاء وصلحاء میں حرزجان ووظیفہ ودین وایمان ہورہی ہے، یہ حسن قبول خدا ور سول جل جلالہ وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم زید وعمر کے مٹائے نہیں مٹ سکتا ؎
ہمہ شیران جہاں بستہ ایں سلسلہ اند     روبہ از حیلہ چساں بگسلد ایں سلسلہ را
 ( دنیا کے سارے شیر اسی سلسلے میں بندھے ہوئے ہیں لہذا کسی حیلہ سے لومڑی اس سلسلہ کو کیسے کاٹ 

سکتی ہے۔ ت)

ہاں اب نئے زمانے  فتنہ کے گھرانے میں وہ گمراہ بھی پیدا ہوئے جو عیاذا باللہ دلائل الخیرات کو معدن شرک و بدعات کہتے ہیں مگر ان کے بکنے سے امت مرحومہ کا اتفاق واطباق نہیں ٹوٹ سکتا ؎
مہ فشاند نور وسگ عو عوکند     ہر کسے برخلقت خود می تند
 (چاند نور بکھیرتا ہے مگر کتے اسے بھونکتے ہیں، درحقیقت ہر ایک اپنی اپنی تخلیق میں تنا ہوا اورکسا ہوا ہے۔ ت)
کشف الظنون میں ہے:
دلائل الخیرات آیۃ من اٰیات اﷲ یواظب بقراء تہ فی المشارق والمغارب وللدلائل اختلاف فی النسخ لکثرۃ روایتہا عن المؤلف رحمہ اﷲ تعالٰی لکن المعتبر نسخۃ ابی عبداﷲ محمد السہیلی کان المؤلف صححہا قبل وفاتہ بثمان سنین سادس ربیع الاول ۸۶۲ھ ۱؎ ملخصا۔
یعنی کتاب دلائل الخیرات اللہ تعالٰی کی آیتوں میں سے ایک آیت ہے کہ مشارق ومغارب میں ہمیشہ پڑھی جاتی ہے اس کے نسخے مختلف ہیں کہ مولف رحمہ اللہ تعالٰی سے اس کی روایت بکثرت ہوئی مگر معتبر ابو عبداللہ محمد سہیلی کانسخہ ہے کہ مؤلف قدس سرہ نے وصال شریف سے آٹھ برس پہلے ششم ربیع الاول ۸۶۲ھ کو اس کی تصحیح فرمائی تھی۔
 (۱؎ کشف الظنون     باب الدال المہلۃ دلائل الخیرات     منشورات مکتبہ المثنی بغداد    ۱/ ۷۵۹)
Flag Counter