Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ )
85 - 144
حدیث ۲۶: صحیحین میں ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے ہے:
لما اشتکی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ذکر بعض نسائہ کنیسۃ یقال لہا ماریۃ وکانت ام سلمۃ وام حبیبۃ اتتاارض الحبشۃ فذکرتا من حسنہا وتصاویر فیہا فرفع رأسہ فقال اولئک اذا مات فیہم الرجل الصالح بنوا علی قبرہ مسجدا ثم صوروافیہ تلک الصور اولئک شرار خلق اﷲ ۱؎۔
حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے مرض میں بعض ازواج مطہرات نے ایک گرجا کا ذکر کیا جس کا نام ماریہ تھا اور حضرت ام المومنین ام سلمہ وام المومنین ام حبیبہ ملک حبشہ میں ہو آئی تھیں ان دونوں بیبیوں نے ماریہ کی خوبصورتی اور اس کی تصویروں کا ذکر کیا، حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے سر اٹھا کر فرمایا یہ لوگ جب ان میں کوئی نیک بندہ نبی یا ولی انتقال کرتاہے اس کی قبر پر مسجد بناکر اس میں تبرکا اس کی تصویر لگاتے ہیں یہ لوگ بدترین خلق ہیں۔ (ت)
 (۱؎ صحیح البخاری         کتاب الصلوٰۃ باب الصلوٰہ فی البیعۃ     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/ ۶۲)

(صحیح البخاری    کتاب الجنائز باب المسجد علی القبر    قدیمی کتب خانہ کراچی   ۱/ ۱۷۹)

(صحیح مسلم         کتاب المساجد باب النہی عن بناء المسجد علی القبر   قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱/ ۲۰۱)
فی المرقاۃ الرجل الصالح ای من نبی او ولی تلک الصور ای صور الصلحاء تذکیرا بہم وترغیبا فی العبادۃ لاجلہم ۲؎ الخ۔
مرقاۃ (ا زمحدث علی قاری) میں ہے مردصالح یعنی وہ نبی یا ولی فوت ہوجا تا اس کی تصاویر بناتے اور لٹکایا کرتے تھے ان کی یادگار اور ان کی وجہ سے عبادت میں رغبت دلانے کے لئے الخ (ت)
(۲؎ مرقاۃ المفاتیح     کتاب اللباس باب التصاویر الفصل الثالث مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ    ۸/ ۲۸۲)
حدیث ۲۷: امام بخاری کتاب الصلوٰۃ جامع صحیح میں تعلیقا بلاقصہ اور عبدالرزاق وابوبکر بن ابی شیبہ اپنے اپنے مصنف اور بیہقی سنن میں اسلم مولی امیر المومنین عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے موصولا مع القصہ راوی جب امیر المومنین ملک شام کو تشریف لے گئے ایک زمیندار نے آکر عرض کی میں نے حضور کے لئے کھانا تیار کرایا ہے میں چاہتاہوں حضور قدم رنجہ فرمائیں کہ ہمچشموں میں میری عزت ہو امیر المومنین نے فرمایا:
انا لاندخل کنائسکم من اجل الصورالتی فیہا ۳؎۔
ہم ان کنیسوں میں نہیں جاتے جن میں یہ تصویریں ہوتی ہیں۔
 (۳؎ المصنف لعبد الرزاق     باب التماثیل وماجاء فیہ حدیث ۱۹۴۸۶ المکتب الاسلامی بیروت    ۱۰/ ۳۹۷)

(صحیح البخاری         کتاب الصلوٰۃ باب الصلوٰہ فی البیعۃ     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/ ۶۲)
بالجملہ حکم واضح ہے اور مسئلہ مستبین اور حرکات مذکورہ حرام بالیقین اور ان میں اعتقاد ثواب ضلال مبین اس شخص پرفرض  ہے کہ اس حرکت سے باز آئے اور حرام میں ثواب کی امید سے نہ خود گمراہ ہونہ جاہل مسلمانوں کو گمراہ بنائے ان تصویروں کو ناآباد جنگل میں راہ سے دور نظر عوام سے بچا کر اس طرح دفن کردیں کہ جہال کو ان پر اصلا اطلاع نہ ہو یا کسی ایسے دریا میں کہ کبھی پایاب نہ ہوتا ہو نگاہ جاہلان سے خفیہ عمیق کنڈے میں یوں سپرد کریں کہ پانی کی موجوں سے کبھی ظاہر ہونے کا احتمال نہ ہو،
واﷲ یھدی من یشاء الی صراط مستقیم ۱؎
 (اور اللہ تعالٰی جسے چاہتاہے سیدھا راستہ دکھاتاہے۔ ت)
(۱؎ القرآن الکریم                ۲/ ۲۱۳)
یہ سب متعلق بتصاویرذی روح تھا۔ رہا نقشہ روضۃ مبارکہ اس کے جواز میں اصلا مجال سخن وجائے دم زدن نہیں، جس طرح ان تصویروں کی حرمت یقینی ہے یوں ہی اس کاجواز اجماعی ہے۔ ہر شرع مطہر میں ذی روح کی تصویر حرام فرمائی ، حدیث پانزدہم میں اس قید کی تصریح کردی، حدیث اول میں ہے کہ ایک مصور نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کی خدمت والا میں حاضر ہو کر عرض کی، میں تصویریں بنایا کرتاہوں اس کا فتوٰی دیجئے، فرمایا: پاس آیا، وہ پاس آیا، فرمایا: پا س آ۔ وہ اور پاس آیا یہاں تک کہ حضرت نے اپنا دست مبارک اس کے سر پر رکھ کر فرمایا کیا میں تجھے نہ بتادوں وہ حدیث جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے سنی، پھر حدیث مذکور مصوروں کے جہنمی ہونے کی ارشاد فرمائی، اس نے نہایت ٹھنڈی سانس لی، حضرت نے فرمایا:
ویحک ان ابیت الا ان تصنع فعلیک بہذا الشجر وکل شیئ لیس فیہ روح ۲؎
افسوس تجھ پر اگر بے بنائے نہ بن آئے تو پیڑ اور غیر ذی روح چیزوں کی تصویریں بنایا کر۔
 (۲؎ مسند احمد بن حنبل     ازمسند عبداللہ بن عباس     المکتب الاسلامی بیروت    ۱/ ۳۰۸)

(صحیح مسلم     کتاب اللباس باب تحریم تصویر صورۃ الحیوان     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲/ ۲۰۲)

(صحیح البخاری     کتاب البیوع باب بیع التصاویر        قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/ ۲۹۶)
ائمہ مذاہب اربعہ وغیرہم نے اس کے جواز کی تصریحیں فرمائیں تمام کتب مذاہب اس سے مملو ومشحون ہیں ہر چند مسئلہ واضح اور حق لائح ہے مگر تسکین اوہام وتثبیت عوام کے لئے ائمہ کرام علماء اعلام کی بعض سندیں اسباب میں پیش کروں کہ کن کن اکابردین واعاظم معتمدین نے مزار مقد س اور اس کے مثل نعل اقدس کے نقشے بنائے اور ان کی تعطیم اور ان سے تبرک کرتے آئے اور اسباب میں کیا کیا کلمات روح افزائے مومنین وجانگزائے منافقین ارشاد فرمائے:
 (۱) امام عثیم بن نسطاس تابعی مدنی۔

(۲) امام محدث جلیل القدر ابونعیم صاحب حلیۃ الاولیاء

(۳) امام محدث علامہ ابوالفرج عبدالرحمن ابن الجوزی حنبلی

(۴) امام ابوالیمن ابن عساکر

(۵) امام تاج الدین فاکہانی صاحب فجر منیر۔

(۶) علامہ سید نور الدین علی بن احمد سمہودی مدنی شافعی صاحب کتاب الوفاء و وفاء الوفاء۔

(۷) سیدی عارف باللہ محمد بن سلیمن جزولی صاحب الدلائل۔

(۸) امام محدث فقیہ احمد بن حجر مکی شافعی صاحب جوہر منظم۔

(۹) علامہ حسین بن محمد بن حسن دیار بکری صاحب الخمیس فی احوال النفس نفیس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔

(۱۰) علامہ سیدی محمد بن عبدالباقی زرقانی مالکی شارح مواہب لدنیہ ومنح محمدیہ۔

(۱۱) شیخ محقق مولانا عبدالحق محدث دہلوی صاحب جذب القلوب۔

(۱۲) محمد العاشق بن عمر الحافظ الرومی حنفی صاحب خلاصۃ الاخبار ترجمہ خلاصۃ الوفاء وغیرہم ائمہ و علماء 

نے مزار اقدس واکرم سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وقبور مقدسہ حضرات صدیق وفاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہما کے نقشے بنائے۔
مواہب اور اس کی شرح میں ہے:
(قدروی ابوداؤد والحاکم من طریق القاسم بن محمد بن ابی بکر) الصدیق (قال دخلت علی عائشۃ فقلت یا امہ اکشفی لی عن قبر النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ) و صاحبیہ الحدیث (زاد الحاکم فرأیت رسول اﷲ) ای قبرہ (صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ) مقدما وابابکر راسہ بین کتفی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وعمر راسہ عند رجلی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم) قال ابو الیمن بن عساکر وہذہٖ صفتہ۔
امام ابوداؤد اور حاکم نے حضرت قاسم بن محمد بن ابی بکر صدیق کی سند سے روایت کیا۔ فرمایا: میں سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے ان سے عرض کیا :اما ں جان! حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اور ان کے دو ساتھیوں کی قبور سے پردہ اٹھادیجئے، (الحدیث) امام حاکم نے یہ اضافہ کیا (جب مائی صاحبہ نے قبور سے پردہ اٹھایا) تو میں نے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی قبر اطہر سب سے آگے دیکھی اوردوسری دو قبروں کی صورت یہ تھی کہ ابوبکر صدیق کاسر مبارک حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے دو کندھوں کے پاس تھا جبکہ فاروق اعظم کا سرمبارک حضور کے مبارک پاؤں کے متوازی ومتصل تھا،
 (۱؎ شرح الزرقانی علی المواہب اللدینۃ     المقصد العاشر     الفصل الثانی         دارالمعرفۃبیروت    ۸ /۲۹۴)
امام ابوالیمن بن عساکر نے فرمایا صورت نقشہ سامنے ہے:
21_1.jpg
Flag Counter