| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ ) |
انہ قال دخل النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم البیت فوجد فیہ صورۃ ابراہیم وصورۃ مریم علیہما الصلوٰۃ والسلام فقال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم امالہم فقد سمعوا ان الملئکۃ لا تدخل بیتا فیہ صورۃ الحدیث ۲؎ ہذا لفظہ فی الانبیاء وفیہ ایضا ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لما رأی الصور فی البیت لم یدخل حتی امر بھا فمحیت الحدیث ۱؎ وفی المغازی فاخرج صورۃ ابراہیم واسمعیل علیہما الصلوٰۃ والسلام ۲؎ الحدیث ہذہ کلہا روایات البخاری وذکر ابن ہشام فی سیرتہ قال وحدثنی بعض اہل العلم ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم دخل البیت یوم الفتح فرأی فیہ صور الملئکۃ وغیرھم فراٰی ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام مصورا فذکر الحدیث الی ان قال ثم امر بتلک الصور کلہا فطمست ۳؎۔
حضرت ابن عباس نے فرمایا: جب حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کعبہ شریف کے اندر تشریف لے گئے تو وہاں آپ نے حضرت ابراہیم اور سیدہ مریم علیہما الصلوٰۃ والسلام کی تصاویر پائیں حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ آگاہ ہوجاؤ کہ آگاہ ہوجاؤ کہ تصویریں بنانے والوں نے بھی یہ بات سن رکھی تھی (یعنی ان کے کانوں تک بھی یہ بات پہنچی ہوئی تھی کہ )بیشک جس گھر میں تصویر ہو وہاں فرشتے نہیں آتے (الحدیث) یہ الفاظ حدیث کتاب الانبیاء میں آئے ہیں، اور اسی میں ہے ____ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے کعبہ شریف میں تصویریں دیکھیں تو اندر داخل نہ ہوئے یہاں تک کہ ان کے متعلق حکم فرمایا تو وہ مٹادی گئیں الحدیث، اور مغازی میں ہے کہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسمعیل علیہما الصلوٰۃ والسلام کی تصاویر باہر نکال دی گئیں الحدیث، یہ سب بخاری شریف کی روایات ہیں اور ابن ہشام نے اپنی سیرت میں بیان فرمایا کہ مجھ سے بعض اہل علم نے بیان کیا کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فتح کے روز بیت اللہ شریف میں داخل ہوئے تو وہاں فرشتوں وغیرہ کی تصاویر دیکھیں اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کا مجسمہ دیکھا، پھربقیہ حدیث ذکر فرمائی، یہاں تک کہ فرمایاپھر تمام تصاویر کے بارے میں حکم فرمایا کہ مٹادی جائیں تو وہ مٹادی گئیں (ت)
(۲؎صحیح البخاری کتا ب الانبیاء باب قول اللہ عزوجل واتخذ اللہ ابراہیم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۷۳) (۱؎ صحیح البخاری کتاب الانبیاء قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۷۳) (۲؎ صحیح البخاری کتاب المغازی قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۶۱۴) (۳؎ سیرۃ النبی لابن ہشام امر الرسول بطمس مابالبیت من صور دار ابن کثیر ۴/ ۳۲)
ان احادیث کا حاصل یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم روز فتح مکہ کعبہ معظمہ کے اندر تشریف فرما ہوئے اس میں حضرت ابراہیم وحضرت اسمعیل وحضرت مریم وملائکہ کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام وغیرہم کی تصویریں نظر پڑیں کچھ پیکر دار کچھ نقش دیوار، حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ویسے ہی پلٹ آئے اور فرمایا خبردار رہو بیشک ان بنانے والوں کے کان تک بھی یہ بات پہنچی ہوئی تھی کہ جس گھر میں کوئی تصویر ہو اس میں ملائکہ رحمت نہیں جاتے، پھر حکم فرمایا کہ جتنی تصویریں منقوش تھیں سب مٹادی گئیں اور جتنی مجسم تھیں سب باہر نکال دی گئیں انھیں بھی حضرت سیدنا ابراہیم خلیل اللہ وحضرت سیدنا اسمعیل ذبیح اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وعلی ابنیہما الاکرم وعلیہما وبارک وسلم کی تصویریں بھی باہر لائی گئیں جب تک کعبہ معظمہ سب تصاویر سے پاک نہ ہوگیا حضور پر نور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اپنے قدم اکرم سے اسے شرف نہ بخشا۔
حدیث ۲۳: مسند امام احمد میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہما سے ہے:
قال کان فی الکعبۃ صور فامر النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عمر بن الخطاب ان یمحوھا فبل عمررضی اﷲ تعالٰی عنہ ثوبا ومحاھا بہ فد خلہا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وما فیہا منھا شیئ ۱؎۔ وفی حدیثہ عند الامام الواقدی وکان عمر قد ترک صورۃ ابراہیم فلما دخل صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم راھا فقال یاعمر الم آمرک ان لاتدع فیہا صورۃ ثم رای صورۃ مریم فقال امحواما فیہا من الصور قاتل اﷲ قوما یصورون ما لایخلقون ۲؎۔ ھذا مختصرا۔
حضرت جابر نے فرمایا ایام جاہلیت میں کعبہ شریفہ کے اندر تصویریں تھیں، حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو حکم فرمایا کہ تصویری نقوش مٹادو، تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے گیلے کپڑے کے ساتھ ان نقوش کو مٹادیا اس کے بعد حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کعبہ شریف میں داخل ہوئے تو وہاں کوئی تصویر ی نقش موجود نہ تھا، اس سند میں امام واقدی کایہ اضافہ بھی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے وہاں حضرت ابراہیم علیہم السلام کی تصویر چھوڑ دی تھی یعنی اسے نہیں مٹایا تھا۔ پھر جب اندر تشریف لے جاکر حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ سلم نے اسے دیکھا تو ارشاد فرمایا اے عمر! کیا میں نے تمھیں حکم نہ دیا تھا کہ یہاں کوئی تصویر باقی نہ رہنے دو، پھر آپ نے سیدہ مریم کی تصویر دیکھی تو فرمایا یہاں جتنی بھی تصویریں ہیں ان سب کو مٹا دیا جائے اللہ تعالٰی ایسے لوگوں کو برباد کرے جو ایسی چیزوں کی تصویریں بناتے ہیں جنھیں وہ پیدا نہیں کرسکتے۔
(۱؎ مسند احمد بن حنبل از مسندجابر رضی اللہ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۳/ ۳۹۶) (۲؎ کتاب المغازی للواقدی شان غزوۃ الفتح موسسۃ الاعلمی بیروت ۲/ ۸۳۴)
حدیث ۲۴: عمر بن شبہ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی:
ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم دخل الکعبۃ فامرنی فاتیتہ بماء فی دلو فجعل یبل الثوب ویضرب بہ علی الصور و یقول قاتل اﷲ قوما یصورون ما لایخلقون ۳؎۔
حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کعبہ شریف میں داخل ہوئے تو مجھے حکم فرمایا تو میں پانی کا ڈول بھر کر لایا آپ خود بنفس نفیس اس پانی سے کپڑا ترکرنے لگے پھر ان تصویروں پر وہ بھیگا ہو اکپڑا رگڑتے ہوئے فرمانے لگے اللہ تعالٰی ایسے لوگوں کو ہلاک کرے جو ایسی چیزوں کی تصویر کشی کرتے ہیں جنھیں وہ پیدا نہیں کرسکتے۔ (ت)
(۳؎ فتح الباری بحوالہ عمر بن شبہ کتاب المغازی مصطفی البابی مصر ۹/ ۷۸) (المصنف لابن ابی شیبۃ کتاب العقیقہ حدیث ۵۲۶۵ وکتاب المغازی حدیث ۱۸۷۵۶ ۸/ ۲۹۶ و۱۴/ ۴۹۰)
حدیث ۲۵: ابوبکر بن ابی شیبہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی:
ان المسلمین تجردوا فی الازرواخذ وا الدلاء وارتجزوا علی زمزم یغسلون الکعبۃ ظہرھا وبطنہا فلم یدعوا اثر امن المشرکین الا محوہ اوغسلوہ ۱؎۔
( اس وقت) مسلمانوں نے اپنی اپنی چادریں اتاریں اور ڈول میں آب زمزم بھر بھرکر کعبہ شریف کو اندرون وبیرون سے خوب دھونے لگے چنانچہ مشرکین کے تمام نشانات شرک دھو ڈالے اور مٹادئے۔ (ت)
(۱؎ المصنف لابن ا بی شیبہ کتاب المغازی حدیث ۱۸۷۶۵ ادارۃ القرآن کراچی ۱۴/ ۴۹۴)
حاصل ان احادیث کا یہ ہے کہ کعبہ میں جو تصویریں تھیں حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے امیر المومنین عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کوحکم فرمایا کہ انھیں مٹادو۔ عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ اور دیگر صحابہ کرام چادریں اتار اتارکر امتثال حکم اقدس میں سرگرم ہوئے زمزم شریف سے ڈول کے ڈول بھر کر آتے اور کعبہ کو اندر باہر سے دھویا جاتا، کپڑے بھگو بھگو کر تصویریں مٹائی جاتیں، یہاں تک کہ وہ مشرکوں کے آثار سب دھوکر مٹادئے، جب حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے خبر پائی کہ اب کوئی نشان باقی نہ رہا اس وقت اندر رونق افروزہوئے، اتفاق سے بعض تصاویر مثل تصویر ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کا نشان رہ گیا تھا، پھر نظر فرمائی توحضرت مریم کی تصویر بھی صاف نہ دھلی تھی حضور پر نور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اسامہ بن زید رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ایک ڈول پانی منگا کر بنفس نفیس کپڑا تر کرکے ان کے مٹانے میں شرکت فرمائی اور ارشاد فرمایا: اللہ کی ماران تصویر بنانے والوں پر۔
فتح الباری شرح صحیح بخاری میں ہے:
فی حدیث اسامۃ انہ صلی اﷲ تعالٰی علہ وسلم دخل الکعبۃ فرأی صورۃ ابراھیم فدعا بماء فجعل یمحوھا وھو محمول علی انہ بقیۃ تخفی علی من محاھا اولا ۲؎
حضرت اسامہ کی حدیث میں ہے کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کعبہ شریف کے اندر تشریف لے گئے توکچھ تصاویر انمٹی دیکھ کر پانی منگوایا اور انھیں اپنے دست اقدس سے خود مٹانے لگے، یہ حدیث اس پر محمول ہے کہ بعض تصویروں کے کچھ نشانات باقی رہ گئے تھے جنھیں پہلی دفعہ مٹانے والا نہ دیکھ سکا،(تو حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے دوبارہ انھیں مٹادیا) (ت)
(۲؎ فتح الباری کتاب المغازی باب این رکز النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم الرایۃ یوم الفتح مصطفی البابی مصر ۹/ ۷۷، ۷۸)