حدیث ۱۶ و ۱۷: مسند احمد وصحیح بخاری وصحیح مسلم وجامع الترمذی وسنن نسائی وابن ماجہ میں حضرت ابوطلحہ اور سنن ابی داؤد ونسائی وصحیح ابن حبان میں حضرت امیر المؤمنین مولی علی رضی اللہ تعالٰی عنہما سے ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:ـ
لاتدخل الملئکۃ بیتا فیہ کلب ولاصورۃ ۳؎۔
رحمت کے فرشتے اس گھر میں نہیں جاتے جس میں کتا یا تصویر ہو۔
(۳؎ صحیح البخاری کتاب بدء الخلق قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۵۸)
(صحیح مسلم کتاب اللباس باب تحریم تصویر صورۃ الحیوان قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۰۰)
(سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب فی الصور آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۱۶)
(جامع الترمذی ابواب الادب باب ماجاء ان الملائکۃ لا تدخل بیتا امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۰۳)
(سنن النسائی کتاب الزینۃ التصاویر ۲/ ۲۹۹ و کتاب الطہارۃ ۱/ ۵۱)
حدیث ۱۸: نسائی وابن ماجہ وشاشی وابویعلی اور ابونعیم حلیہ اور ضیاء صحیح مختارہ میں امیرالمومنین علی کرم اللہ وجہہ سے راوی:
صنعت طعاما فد عوت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فجاء فرأی تصاویر فرجع (زاد الاربعۃ الاخیرون) فقلت یا رسول اﷲ مارجعک بابی وامی قال ان فی البیت سترا فیہ تصاویر وان الملئکۃ لا تدخل بیتا فیہ تصاویر ۱؎۔
میں نے حضور پر نور صلوات اللہ تعالٰی وسلامہ علیہ کی دعوت کی حضور تشریف فرما ہوئے پردے پر کچھ تصویریں بنی دیکھیں، واپس تشریف لے گئے(آخر ی چار میں یہ اضافہ ہے) میں نے عرض کی یار سول اللہ میرے ماں باپ حضور پر نثار کس سبب سے حضور واپس ہوئے، فرمایا گھر میں ا یک پردے پر تصویریں تھیں اور ملائکہ رحمت اس گھر میں نہیں جاتے جس میں تصویریں ہوں۔
(۱؎ سنن النسائی کتاب الزینۃ التصاویر نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۲/ ۳۰۰)
(کنز العمال بحوالہ الشاشی ع حل ص حدیث ۹۸۸۳ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۴/ ۱۳۱ و ۱۳۲)
حدیث ۱۹: صحیح بخاری وسنن ابی داؤد میں حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے ہے:
ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لم یکن یترک فی بیتہ شیئا فیہ تصالیب الا نقضہ ۲؎۔
نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم جس چیز میں تصویر ملاحظہ فرماتے اسے بے توڑے نہ چھوڑتے۔
(۲؎ صحیح البخاری کتاب اللباس ۲/ ۸۸۰ وسنن ابی داؤد کتاب اللباس ۲/ ۲۱۶)
حدیث ۲۰: مسلم وابوداؤد وترمذی حبان بن حصین سے راوی:
قال لی علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ الا ابعثک علی مابعثنی علیہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ان لاتدع صورۃ الاطمستہا و لاقبرا مشرفا الا سویتہ ۳؎۔ ورواہ ابویعلی ۴؎ و ابن جریر فلم یسمیا حبان انما قالا عن علی انہ دعا صاحب شرطتہ فقال لہ فذکرا بمعناہ۔
مجھ سے امیرالمومنین مولا علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا کہ میں تمھیں اس کا م پرنہ بھیجوں جس پر مجھے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے مامورفرما کر بھیجا کہ جو تصویر دیکھو اسے مٹاد و اور جو قبر حد شرع سے زیادہ اونچی پاؤ اسے حد شرع کے برابر کردو (بلندی قبر میں حد شرع ایک بالشت ہے) (اس کو ابویعلٰی اور ابن جریر دونوں نے روایت کیا مگر ان دونوں نے حبان بن حصین کانام نہیں بلکہ یوں فرمایا کہ حضرت علی (کرم اللہ وجہہ) سے روایت ہے کہ انھوں نے اپنے کو توال کو بلایا اور اس سے ارشاد فرمایا۔ آگے دونوں نے حدیث کا مفہوم ذکر فرمایا۔ (ت)
(۳؎ صحیح مسلم کتاب الجنائز ۱/ ۳۱۲ وسنن ابی داؤد کتاب الجنائز باب تسویۃ القبر ۲/ ۱۰۳)
(جامع الترمذی ابواب الجنائز باب ماجاء فی تسویۃ القبر امین کمپنی دہلی ۱/ ۱۲۵)
(۴؎ مسند ابی یعلی حدیث ۳۳۸ مؤسسۃ الرسالہ علوم القرآن بیروت ۱/ ۱۹۹)
حدیث ۲۱: امام بسند جید امیر المومنین علی کرم اللہ وجہہ سے راوی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ایک جنازے میں تھے حضور نے ارشاد فرمایا:
ایکم ینطلق الی المدینۃ فلا یدع بہا وثنا الاکسرہ ولا قبرا الاسواہ ولا صورۃ الا لطخہا۔
تم میں کون ایساہے مدینے جاکر ہر بت کو توڑ دے اور ہر قبر برابر کردے اور ہر تصویر مٹادے۔
ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ۔ فرمایا: تو جاؤ۔ وہ جاکر واپس آئے اور عرض کی: یا رسول اللہ! میں نے سب بت توڑ دئے اورسب قبریں برابر کردیں اور سب تصویریں مٹا دیں، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
من عاد لصنعۃ شیئ من ہذا فقد کفر بما انزل علی محمد ۱؎۔
اب جو یہ سب چیزیں بنائے گا وہ کفروانکار کریگا اس چیز کے ساتھ جو محمد (صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم) پر نازل ہوئی۔
والعیاذ باللہ رب العالمین
(اللہ تعالٰی کی پناہ جو پروردگار ہے تمام جہانوں کا۔ ت)
(۱؎ مسند احمد بن حنبل از مسند علی رضی اﷲ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۱/ ۸۷)
مسلمان بنظر ایمان دیکھے کہ صحیح وصریح حدیثوں میں اس پر کیسی سخت سخت وعیدیں فرمائی گئیں اوریہ تمام احادیث عام شامل محیط کامل ہیں جن میں اصلاً کسی تصویر کسی طریقے کی تخصیص نہیں تو معظمین دین کی تصویروں کو ان احکام خدا اوررسول سے خارج کرنا محض باطل و وہم عاطل ہے بلکہ شرع مطہر میں زیادہ شدت عذاب تصاویر کی تعظیم ہی پر ہے۔ اور خود ابتدائے بت پرستی انھیں تصویرات معظمین سے ہوئی، قرآن عظیم میں جو پانچ بتوں کا ذکر سورہ نوح علیہ الصلوٰۃ والسلام میں فرمایا
ود، سواع، یغوث۔یعوق، نسر ۲؎
یہ پانچ بندگان صالحین تھے کہ لوگوں نے ان کے انتقال کے بعد باغوائے ابلیس لعین ان کی تصویریں بناکر ان کی مجلسوں میں قائم کیں، پھر بعد کی آنے والی نسلوں نے انھیں معبود سمجھ لیا۔
(۲؎ القرآن الکریم ۷۱/ ۲۳)
صحیح بخاری شریف میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے ہے:
ود و سواع ویغوث ویعوق ونسراسماء رجال صالحین من قوم نوح فلما ہلکوا اوحی الشیطن الی قومہم ان انصبوا الی مجالسہم التی کانوا یجلسون انصابا وسموہا باسماھم ففعلوا فلم تعبد حتی اذا ھلک اولئک وتنسخ العلم عبدت ۱؎ ہذا مختصرا۔
ود، سواع، یغوث، یعوق اور نسر حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے نیک لوگوں کے نام ہیں جب وہ فوت ہوگئے تو شیطان نے ان کے دلوں میں یہ وسوسہ ڈالا کہ جہاں وہ بیٹھتے تھے وہاں ان کی مجالس میں ان کے بت نصب کرواور ان کے نام لیا کرو، تو وہ ایسا ہی کرنے لگے، پھر اس دور میں تو ان کی عبادت نہیں ہوئی مگر جب وہ لوگ ہلاک ہوگئے اور علم مٹ گیا سابق لوگوں کے بارے میں جہالت کا پردہ چھا گیا تو رفتہ رفتہ ان مجسموں کی عبادت وپرستش شروع ہوگئی، یہ حدیث کے مختصر الفاظ ہیں۔ (ت)
(۱؎ صحیح البخاری کتاب التفسیر باب ودّا و سواعا الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۷۳۲)
باایں ہمہ اگر وساوس و ہوا جس سے تسکین نہ پائیں تو احادیث صحیحہ صریحہ سے خاص تصاویر معظمین کاجزئیہ لیجئے۔