Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ )
82 - 144
حدیث ۶: مسند احمد وجامع ترمذی میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
یخرج عنق من النار یوم القیمۃ لہ عینان تبصران واذ نان تسمعان ولسان ینطق یقول انی وکلت بثلثۃ بکل جبار عنید وبکل من دعا مع اﷲ الھا اٰخروبالمصورین ۳؎۔
قیامت کے دن جہنم سے ایک گردن نکلے گی جس کے د وآنکھیں ہوں گی دیکھنے والی اور دو کان سننے والے اور ایک زبان کلام کرتی وہ کہے گی میں تین فرقوں پر مسلط کی گئی ہوں جو اللہ تعالٰی کا شریک بتائے اور ہر ظالم ہٹ دھرم اور تصویر بنانے والے ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
 (۳؎ جامع الترمذی     ابواب صفۃ جہنم    باب ماجاء فی صفۃ النار     امین کمپنی دہلی    ۲/ ۸۱)

(مسند احمد بن حنبل     از مسند ابی ہریرہ     المکتب الاسلامی بیروت        ۲/ ۳۳۶)
حدیث ۷: امام احمد مسند اور طبرانی معجم کبیر اور ابونعیم حلیۃ الاولیاء میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان اشد اھل  النار عذابا یوم القیمۃ من قتل نبیا او قتلہ نبی اوامام جائر وہولاء المصورون ولفظ احمد اشد الناس عذابا یوم القیمۃ رجل قتل نبیا اوقتلہ نبی او رجل یضل الناس بغیر علم او مصور یصور التماثیل ۱؎۔
بیشک روز قیامت سب دوزخیوں میں زیادہ سخت عذاب اس پر ہے جس نے کسی نبی کو شہید کیا یا کسی نبی نے جہاد میں اسے قتل کیا یا بادشاہ ظالم یا جو شخص بے علم حاصل کئے لوگوں کو بہکانے لگے اور ان تصویر بنانے والوں پر۔
 (۱؎ المعجم الکبیر         حدیث ۱۰۴۹۷     المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت    ۱۰/ ۲۶۰)

(حلیۃ الاولیاء      ترجمہ ۲۵۳ خثیمہ بن عبدالرحمن     دارالکتب العربی بیروت    ۴/ ۱۲۲)

(مسند امام احمد بن حنبل     از مسند عبداللہ بن مسعود     المکتبہ الاسلامی بیروت    ۱/ ۴۰۷)
حدیث ۸: بیہقی شعب الایمان میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے راوی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان اشد الناس عذابا یوم القیمۃ من قتل نبیا اوقتلہ نبی اوقتل احد والدیہ والمصورون وعالم لم ینتفع بعلمہ ۲؎۔
بیشک روز قیامت سب سے زیادہ سخت عذاب میں وہ ہے جو کسی نبی کو شہید کرے یا کوئی نبی اسے جہاد میں قتل فرمائے یا جو اپنے ماں باپ کو قتل کرے اور تصویر بنانے والے اور وہ عالم جو علم پڑھ کر گمراہ ہو۔
 (۲؎ شعب الایمان     حدیث ۷۸۸۸     دارالکتب العلمیۃ بیروت    ۶/ ۱۹۷)
حدیث ۹: امام مالک وامام احمد وامام بخاری وامام مسلم ونسائی وابن ماجہ حضرت ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے راوی:
قدم رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من سفر وقد سترت سہوۃ لی بقرام فیہ تمأثیل فلما راٰہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم تلون وجہہ وقال یا عائشۃ اشد الناس عذابا عنداﷲ یوم القیمۃ الذین یضاھؤن بخلق اﷲ ۱؎ وفی روایۃ للشیخین قام علی الباب فلم یدخل فعرفت فی وجہ الکراھیۃ فقلت یا رسول اﷲ اتوب الی اﷲ والی رسولہ فماذا اذنبت فقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ان اصحاب ہذہ الصور یعذبون یوم القیمۃ فیقال لھم احیوا ما خلقتم وقال ان البیت الذی فیہ الصور لا تدخلہ الملئکۃ۲؎ وفی اخری لہما تنا ول الستر فھتکہ وقال من اشد الناس عذابا یوم القیمۃ الذین یشبھون بخلق اﷲ ۳؎۔
یعنی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سفر سے تشریف فرما ہوئے تھے میں نے ایک کھڑکی پر تصویر دار پردہ لٹکایا ہوا تھا جب حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم واپس تشریف لائے اسے ملاحظہ فرماکر رنگ چہرہ انور کا بدل گیا اندر تشریف نہ لائے، ام المومنین فرماتی ہیں میں نے عرض کی یا رسول اللہ ! میں اللہ کی طرف اور اس کے رسول کی طرف توبہ کرتی ہوں مجھ سے کیا خطا ہوئی ؟ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے وہ پردہ اتارکر پھینک دیا اور فرمایا اے عائشہ! اللہ تعالٰی کے یہاں سخت تر عذاب روز قیامت ان مصوروں پرہے جو خدا کے بنائے ہوئے کی نقل کرتے ہیں ان پر روزقیامت عذاب ہوگا ان سے کہاجائے گا یہ جو تم نے بنایا ہے اس میں جان ڈالو جس گھر میں یہ تصویریں ہوتی ہیں اس میں رحمت کے فرشتے نہیں آتے۔
 (۱؎ صحیح البخاری     ۲/ ۸۸۰     وصحیح مسلم     ۲/ ۲۰۱ وسنن النسائی ۲/ ۳۰۰ ومسند احمد بن حنبل    ۶/ ۸۳ و ۲۱۹)

(۲؎صحیح البخاری      ۲/ ۸۸۱       وصحیح مسلم    ۲/ ۲۰۱)

(۳؎ صحیح مسلم     ۲/ ۲۰۰         وصحیح البخاری         ۲/ ۸۸۰)
حدیث ۱۰: ابوداؤد وترمذی ونسائی وابن حبان حضرت ابویرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روای رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اتانی جبریل علیہ الصلٰوۃ والسلام فقال لی مربرأس التماثیل یقطع فتصیر کہیأۃ الشجرۃ و امر بالستر فلیقطع فلیجعل وسادتین منبوذتین توطأان ۴؎ ہذا مختصرا ۔
میرے پاس جبریل امین علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حاضر ہوکر عرض کی حضور ! مورتوں کے لئے حکم دیں کہ ان کے سر کاٹ دئے جائیں کہ پیڑ کی طرح رہ جائیں اورتصویر دار پردے کے لئے حکم فرمائیں کہ کاٹ کر دو مسندیں بنالی جائیں کہ زمین پرڈال کر پاؤں سے روندی جائیں۔ ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
 (۴؎ سنن ابی داؤد     کتاب اللباس باب فی الصور     آفتاب عالم پریس لاہور    ۲/ ۲۱۷)

(جامع الترمذی ابواب الادب باب ماجاء فی الملئکۃ لاتدخل بیتا الخ     امین کمپنی کراچی    ۲/ ۱۰۴)
حدیث ۱۱ تا ۱۴: صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عمر اور صحیح مسلم میں حضرت ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا اورنیز اسی میں حضرت ام المومنین میمونہ اور مسند امام احمد میں بسند صحیح حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالٰی عنہم سے ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں جبریل امین علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے عرض کی:
انا لاندخل بیتا فیہ کلب وصورۃ ۱؎۔
ہم ملائکہ رحمت اس گھر میں نہیں جاتے جس میں کتا یا تصویر ہو۔
 (۱؎ صحیح البخاری     کتاب اللباس ۲/ ۸۸۱     وصحیح مسلم کتاب اللباس     ۲/ ۱۹۹ و ۲۰۰)
حدیث ۱۵: احمد ونسائی وابن اماجہ وابن خزیمہ وسعید بن منصور حضرت امیر المومنین علی مرتضی کرم اللہ تعالٰی وجہہ سے راوی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: جبریل امین نے عرض کی:
انہا ثلث لم یلج ملک مادام فیہا واحد منہا کلب اوجنابۃ اوصورۃ روح ۲؎۔
تین چیزیں ہیں کہ جب تک ان میں سے ایک بھی گھرمیں ہوگی کوئی فرشتہ رحمت وبرکت کا اس گھر میں داخل نہ ہوگا کتا یا جنب یاجاندار کی تصویر۔
 (۲؎ مسند احمد بن حنبل از مسند علی رضی اللہ تعالٰی عنہ   المکتب الاسلامی بیروت    ۱/ ۸۵)
Flag Counter