| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ ) |
علامہ طاہر فتنی مجمع البحار میں اپنے استاد امام ابن حجر مکی رحمہ اللہ تعالٰی سے نقل فرماتے ہیں:
من استقیظ عنداٰخذ الطیب وشمہ الی ماکان علیہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من محبتہ للطیب فصلی علیہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لما وقر فی قلبہ من جلالتہ واستحقاقہ علی کل امۃ ان یلحظوا بعین نہایۃ الاجلال عند رؤیۃ شیئ من اٰثارہ او مایدل علیہا فہو اٰت بمالہ فیہ اکمل الثواب الجزیل وقد استحبہ العلماء لمن رأی شیئا من اٰثارہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ولا شک ان من استحضر ماذکرتہ عند شمہ للطیب یکون کالرائی شیئ من اٰثارہ الشریفۃ فی المعنی فلیس بہ الااکثار من الصلوٰۃ والسلام علیہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم حینئذٍ ۱؎ اھ مختصرا۔
خوشبو والے کے پاس خوشبو دیکھ کر متوجہ ہوا اور اسے سونگھا کہ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام خوشبو کو پسند فرماتے تھے تو اس وقت درود شریف پڑھا اس لئے کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی جلالت شان کا دل میں وقار پایا اور تمام امت پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا یہ استحقاق جانتے ہوئے کہ آپ کے آثار مبارکہ کو دیکھتے ہوئے ان کی تعظیم واہتمام کو ملحوظ رکھیں تو خوشبو سونگھنے پر درود شریف پڑھنے والے نے اس پر کامل اور بھاری ثواب پایا جبکہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے آثار کو دیکھنے والے کے لئے علماء کرام نے اس کو مستحب قرار دیا ہے اور کوئی شک نہیں کہ خوشبو سونگھنےپر مذکورہ امور کو مستحضر کرنے والے نے گویا حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے آثار شریفہ کو معنی دیکھا تو اس وقت صرف درود شریف کی کثرت ہی اس کو مناسب ہے اھ مختصرا (ت)
(۱؎ مجمع بحارالانوار فصل فی تعیین بعض الاحادیث المشتہرۃ علی الالسن مکتبہ الایمان المدینۃ المنورۃ ۵/ ۲۳۷)
اسی ارشاد جمیل میں صاف تصریح جلیل ہے کہ تمام امت پررسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا حق ہے کہ جب حضور پر نور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے آثار شریفہ سے کوئی چیز دیکھیں یا وہ شے دیکھیں جو حضو رکے آثار شریفہ سے کسی چیز پر دلالت کرتی ہو تواس وقت کمال ادب وتعظیم کے ساتھ حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا تصور لائیں اور درود وسلام کی کثرت کریں ولہذا جو خوشبو لیتے یا سونگھتے وقت یاد کرے کہ مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اسے دوست رکھتے تھے وہ بھی گویا معنی آثار شریفہ کی زیارت کررہا ہے اسے اس وقت درود پڑھنے کی کثرت مسنون ہونی چاہئے تو نقل روضہ مبارک کہ صاف صاف مایدل علیہا میں داخل ہے اس کی زیارت کے وقت حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی تعطیم وتکریم اور حضور پردرود وتسلیم کیوں نہ مستحب ہوگی ایسی تعظیم کرنے والے کو معاذاللہ کفار ومشرکین کے مثل بتانا سخت ناپاک کلمہ بیباک ہے قائل جاہل پر توبہ فرض ہے بلکہ از سر نو کلمہ اسلام کی تجدید کرکے اپنی عورت سے نکاح دوبارہ کرے کہ اس نے بلاوجہ مسلمانوں کو مثل کفار بتایا، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من دعا رجلا بالکفر ا وقال عدواﷲ ولیس کذٰلک الا حار علیہ رواہ الشیخان ۲؎۔ عن ابی ذر رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
جس نے کسی کو کفر کے ساتھ پکارا یا اس کو عدواللہ کہا حالانکہ وہ شخص ایسا نہ تھا تو وہ کلمہ کہنے والے کی طرف لوٹے گا۔ اس کو شیخین (بخاری ومسلم) نے حضرت ابوذر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ (ت)
(۲ ؎ صحیح مسلم کتاب الایمان باب بیان حال ایمان من قال لاخیہ یاکافر قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۷)
یونہی اگر روضہ مبارک حضرت شہزادہ گلگوں قباحسین شہید ظلم وجفا صلوات اللہ تعالٰی وسلامہ علی جدہ الکریم وعلیہ کی صحیح نقل بناکر محض بہ نیت تبرک بے آمیزش منکرات شرعیہ مکان میں رکھتے تو شرعا کوئی حرج نہ تھا، مگرحاشا تعزیہ ہر گز اس کی نقل نہیں، نقل ہونا درکنار بنانے والوں کو نقل کا قصد بھی نہیں، ہر جگہ نئی تراش نئی گھڑت جسے اس اصل سے نہ کچھ علاقہ نہ نسبت پھر کسی میں پریاں کسی میں براق کسی میں اور بیہودہ طمطراق پھر کوچہ بکوچہ ودشت بدشت اشاعت غم کے لئے ان کا گشت، اور اس کے گرد سینہ زنی ماتم سازشی کی شور افگنی، حرام مرثیوں سے نوحہ کنی، عقل ونقل سے کٹی چھنی، کوئی ان کھپچیوں کو جھک جھک کر سلام کررہا ہے کوئی مشغول طواف کوئی سجدہ میں گرا ہے کوئی اس مایہ بدعات کو معاذاللہ جلوہ گاہ حضرت امام عالی مقام سمجھ کر اس ابرک پنی سے مرادیں مانگتا منتیں مانتاہے۔ عرضیاں باندھتا حاجت رواجانتا۔ پھر باقی تماشے باجے تاشے مردوں عورتوں کا راتوں کو میل اور طرح طرح کے بیہودہ کھیل ان سب پر طُرہ ہیں، غرض عشرہ محرام الحرام کہ اگلی شریعتوں سے اس شریعت پاک تک نہایت بابرکت ومحل عبادت ٹھہرا ہوا تھا، ان بیہودہ رسموں نے جاہلانہ اور فاسقانہ میلوں کا زمانہ کردیا، پھر وبال ابتداع کا وہ جوش ہوا کہ خیرات کو بھی بطور خیرات نہ رکھا، ریا، وتفاخر علانیہ ہوتا ہے پھر وہ بھی یہ نہیں کہ سیدھی طرح محتاجوں کودیں بلکہ چھتوں پر بیٹھ کر پھینکیں گے، روٹیاں زمین پر گررہی ہیں، رزق الٰہی کی بے ادبی ہوتی ہے ۔ پیسے ریتے میں گر کر غائب ہوتے ہیں، مالک کی اضافت ہو رہی ہے مگر نام تو ہوگیا کہ فلاں صاحب لنگر لٹارہے ہیں اب بہار عشرہ کے پھو ل کھلے، تاشے باجے، بجتے چلے۔ رنگ رنگ کے کھیلوں کی دھوم، بازاری عورتوں کا ہر طرف ہجوم، شہوانی میلوں کی پوری رسوم، جشن فاسقانہ، یہ کچھ اور اس کے ساتھ خیال وہ کچھ کہ گویا یہ ساختہ ڈھانچ بعینہاحضرات شہدائے کرام علیہم الرضوان کے پاک جنازے ہیں :
ع اے مومنو! اٹھاؤ جنازہ حسین کا گاتے ہوئے مصنوعی کر بلا پہنچے، وہاں کچھ نوچ اتار باقی توڑتاڑ دفن کردئے، یہ ہر سال اضاعت مال کے جرم ووبال جدا گانہ رہے اللہ تعالٰی صدقہ حضرات شہدائے کرام کربلا علیہم الرضوان والثناء کا مسلمانوں کو نیک تو فیق بخشے اور بدعات سے توبہ دے اٰمین اٰمین!
تعزیہ داری کہ اس طریقہ نا مرضیہ کانام ہے قطعا بدعت وناجائز وحرام ہے۔ ان خرافات کے شیوع نے اس اصل مشروع کو بھی اب مخدور ومحظور کردیاکہ اس میں اہل بدعت سے مشابہت اور تعزیہ داری کی تہمت کا خدشہ اور آئندہ اپنی اولاد یا اہل اعتقاد کے لئے ابتلائے بدعات کا اندیشہ ہے
وما یؤدی الی محظور محظور
(جو چیزیں ممنوع تک پہنچائے وہ ممنوع ہے۔ ت) ۔
حدیث میں ہے
اتقوا مواضع التہم ۱؎
(تہمت کے مواقع سے بچو۔ ت)
(۱؎ کشف الخفاء حدیث ۸۸ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱/ ۳۷) (اتحاف السادۃ المتقین کتاب عجائب القلب دارالفکر بیروت ۷/ ۲۸۳)
اور وار دہوا:
من کان یومن باﷲ والیوم الاٰخر فلا یقفن مواقف التہم ۲؎۔
جو شخص اللہ تعالٰی اوریوم آخرت پر ایمان رکھتاہے وہ تہمت کے مواقع میں ہر گز نہ کھڑا ہو۔ (ت)
(۲؎ مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی کتاب الصلوٰۃ باب ادراک الفریضۃ نورمحمد کارخانہ تجارت کراچی ص۲۴۹)
لہذا دربارہ کربلا ئے معلی اب صرف کاغذ پرصحیح نقشہ لکھا ہوا محض بقصد تبرک بے آمیزش منہیات پاس رکھنے کی اجازت ہوسکتی ہے
والسلام علی من اتبع الہدٰی ، واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔ (ختم شد رسالہ بدر الانوار فی اٰداب الاثار)