Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ )
79 - 144
ثانیا; اجر ت مقرر نہیں ہوئی کیا دیاجائے گا اور جو اجارے شرعا جائز ہیں  ان میں بھی اجرت مجہول رکھی جانا اسے حرام کردیتاہے نہ کہ جو سرے سے حرام ہے کہ حرام درحرام ہوا، اوریہ حکم جس طرح گشتی صاحبوں کو شامل ہے مقامی حضرات بھی  اس سے محفوظ نہیں جبکہ اس نیت سے زیارت کراتے ہوں اور ان کا یہ طریقہ معلوم ومعروف ہو، ہاں اگر بندہ خدا کے پاس کچھ آثار شریفہ ہوں اور وہ انھیں بہ تعظیم اپنے مکان میں رکھے اور جو مسلمان اس کی درخواست کرے محض لوجہ اللہ اسے زیارت کرادیا کرے کبھی کسی معاوضہ نذرانہ کی تمنا نہ رکھے، پھر اگر وہ آسودہ حال نہیں اور مسلمان بطور خود قلیل یا کثیر بنظر اعانت اسے کچھ دے تو اس کے لے لینے میں اس کو کچھ حرج نہیں باقی گشتی صاحبوں کو عموما اور مقامی صاحبوں میں خاص ان کو جو ا س امر پر اخذ نذور کے ساتھ معروف ومشہور ہیں شرعا جوا ز کی کوئی صورت نہیں ہوسکتی مگر ایک وہ یہ کہ خدائے تعالٰی ان کو توفیق دے نیت اپنی درست کریں اور اس شر ط عرفی کے رد کے لئے صراحۃ اعلان کے ساتھ ہر جلسے میں کہہ دیا کریں کہ مسلمانو! یہ آثار شریفہ تمھارے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم یا فلاں ولی معزز ومکرم کے ہیں کہ محض خالصا لوجہ اللہ تعالٰی تمھیں ان کی زیارت کرائی جاتی ہے ہر گز ہر گز کوئی بدلہ یا معاوضہ مطلوب نہیں، اس کے بعد اگر مسلمان کچھ نذر کریں تو اسے قبول کرنے میں کچھ حرج نہ ہوگا،
فتاوی قاضی خاں وغیرہا میں ہے:
ان الصریح یفوق الدلالۃ ۲؎
 (کہ صراحت کودلالت پر فوقیت ہے۔ ت)
 (۲؎ ردالمحتار     کتاب النکاح     ۲/ ۳۵۷ وکتاب الدعوٰی     ۴/ ۴۳۷)
اور اس کی صحت نیت پر دلیل یہ ہوگی کہ کم پر ناراض نہ ہو بلکہ اگر جلسے گزرجائیں لوگ فو ج فوج زیارتیں کرکے یوں ہی چلے جائیں اور کوئی پیسہ نہ دے جب بھی اصلا دل تنگ نہ ہو اور اسی خوشی وشادمانی کے ساتھ مسلمانوں کو زیارت کرایا کرے، اس صورت میں یہ لینا دینا دونوں جائز وحلال ہوں گے اور زائرین و مزوّر  دونوں اعانت مسلمین کا ثواب پائیں گے اس نے سعادت وبرکت دے کر ان کی مدد کی انھوں نے دنیا کی متاع قلیل سے فائدہ پہنچایا، اوررسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من استطاع منکم ان ینفع اخاہ فلینفعہ رواہ مسلم فی صحیحہ عن جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔
تم میں سے جس سے ہوسکے کہ اپنے مسلمان بھائی کو نفع پہنچائے، پہنچائے (اسے مسلم نے اپنی صحیح میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ ت)
 (۱؎ صحیح مسلم     باب استحباب الرقیۃ من العین الخ     نورمحمد اصح المطابع کراچی    ۲/ ۲۲۴)
اور فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم:
اﷲ فی عون العبد مادام العبد فی عون اخیہ۔ رواہ الشیخان ۲؎۔
اللہ اپنے بندہ کی مدد میں ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں ہے (اسے امام بخاری ومسلم نے روایت کیا۔ ت)
 (۲؎صحیح مسلم     کتاب الذکر والدعا باب فضل الاجتماع علی تلاوۃ القرآن نورمحمد اصح المطابع کراچی     ۲/ ۳۴۵)
علی الخصوص جب یہ تبرکات والے حضرات سادات کرام ہوں تو اب کی خدمت اعلٰی درجہ کی برکت وسعادت ہے۔ 

حدیث میں ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں ''جو شخص اولاد عبدالمطلب میں سے کسی کے ساتھ اچھا سلوک کرے اور اس کا صلہ دنیا میں نہ پائے میں بہ نفس نفیس رو ز قیامت اس کا صلہ عطا فرماؤں گا'' اوراگر زیارت کرانے والے کو اس کی توفیق نہ ہو تو زیارت کرنے والے کو چاہئے خود ان سے صاف صراحۃ کہہ دے کہ نذر کچھ نہیں دی جائے گی خالصا لوجہ اللہ اگر آپ زیارت کراتے ہیں کرائے اس پر اگر وہ صاحب نہ مانیں ہر گز زیارت نہ کرے کہ زیارت ایک مستحب ہے اوریہ لین دین حرام، کسی مستحب شے کے حاصل کرنے کے واسطے حرام کو اختیار نہیں کرسکتے، اشباہ والنظائر وغیرہا میں ہے:
ماحرم اخذہ حرم اعطاؤہ ۳؎۔
جس چیز کا لینا حرام اس کا دینا بھی حرام ہے۔ (ت)
(۳؎ الاشباہ والنظائر     الفن الاول ۱/ ۱۸۹  و ردالمحتار کتاب الزکوٰۃ        ۲/ ۵۶)
درمختار میں ہے:
الاٰخذ والمعطی اٰثمان ۱؎
 (لینے اور دینے والے دونوں گنہ گار ہوں گے۔ ت)
 (۱؎ ردالمحتار     کتاب الحظروالاباحۃ     فصل فی البیع         داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۲۷۳)
اسی درمختار میں تصریح ہے کہ جو تندرست ہو اور کسب پر قادر ہو اسے دینا حرام ہے کہ دینے والے اس سوال حرام پر اس کی اعانت کرتے ہیں اگرنہ دیں خواہی نخواہی عاجز ہو اور کسب کرے اور اگر اس کی غرض زیارت کرنے والے صاحب نے قبول کرلی تو اب سوال واجرت کاقدم درمیان سے اٹھ گیا بے تکلف زیارت کرے دونوں کے لئے اجر ہے اس کے بعد حسب استطاعت ان کی نذر کردے، یہ لینا دینا دونوں کے لئے حلال او ر دونوں کے لئے اجرہے۔ بحمداللہ فقیر کا یہی معمول ہے اور توفیق خیر اللہ تعالٰی سے مسئول ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۷۱: بتاریخ ۹/ جمادی الاولٰی ۱۳۱۸ھ

جناب من! ایک نئی بات سنی گئی ہے اس کی بابت عرض کرتاہوں اطمینان فرمائے۔

سوال: نقل روضۃ منورہ حضور سرور کائنات صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اور نقل روضہ امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ اور تعزیہ میں کیا فرق ہے شرعا کس کی تعظیم کم وبیش کرنا چاہئے، اعنی کون افضل ہے۔ اور زیارت کرنا روضہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی درست ہے یانہیں، یعنی نقل روضہ منورہ کو جو مقبول حسین کے یہاں ہے بعض لوگ یوں کہتے ہیں کہ کاریگر کی کاریگری دیکھ لو۔ لفظ زیارت کا کہنا اور وقت زیارت درود شریف پڑھنا اور مثل اصل کے تعظیم کرنادرست ہے ہر گز نہیں چاہئے، اتنا کہنا تومثل؛ نسبت در ست کہتے ہیں الا بالکل تعظیم کرنا محض برا بتاتے ہیں اور ایسا کرنے والے کو مثل ہنود کے جانتے ہیں اس کا کیا جواب ہے؟
الجواب : روضہ منورہ حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی نقل صحیح بلا شبہہ معظمات دینیہ سے ہے اس کی تعظیم وتکریم بروجہ شرعی ہر مسلمان صحیح الایمان کا مقتضاء ایمان ہے۔ ع
اے گل بتو خرسندم تو بوئے کسے داری
 (اے پھول میں تجھے اس لئے سونگھتاہوں کہ تجھ میں کسی کی خوشبو ہے۔ ت)

اس کی زیارت بآداب شریعت اور اس وقت درود شریف کی کثرت ہر مومن کی شہادت قلب وبداہت عقل مستحب ومطلوب ہے۔
علامہ تاج فاکہانی فجر منیر میں فرماتے ہیں:
من فوائد ذلک ان من لم یمکنہ زیارۃ الروضۃ فلیبرز مثالہا ولیلثمہ مشتاقا لانہ ناب مناب الاصل کما قد بان مثال نعلہ الشریفۃ مناب عینھا فی المنافع والخواص بشہادۃ التجربۃ الصحیحۃ ولذا جعلوالہ من الاکرام والاحترام مایجعلون للمنوب عنہ ۱؎۔
یعنی روضہ مبارک سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی نقل میں ایک فائدہ یہ ہے کہ جسے اصل روضہ اقدس کی زیارت نہ ملے وہ اس کی زیارت کرے اور شوق دل کے ساتھ اسے بوسہ دے کہ یہ نقل اسی اصل کے قائم مقام ہے جیسے نعل مبارک کا نقشہ منافع وخواص میں یقینا خود اس کا قائم مقام  ہے جس پر صحیح تجربہ گواہ ہے ولہذا علمائے دین نے اس کی نقل کا اعزاز واکرام وہی رکھا جو اصل کا رکھتے ہیں۔
 (۱؎ فجر منیر)
اسی طرح دلائل الخیرات ومطالع المسرات وغیرہما معتبرات میں ہے اس بحث کی تفصیل جمیل فقیر کے رسالہ
شفاء الوالہ فی صور الحبیب ومزارہ ونعالہ (۱۳۱۵ھ)
میں ہے یہاں لفظ زیارت کی ممانعت محض جہالت ہے اور معاذاللہ درود شریف کی ممانعت اور سخت حماقت اور صراحۃشریعت مطہرہ پر  افتراء ہے۔
Flag Counter