من اعظامہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اعظامہ جمیع اسبابہ ومالمسہ او عرف بہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔۱؎۔
یعنی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی تعظیم میں سے ہے ان تمام اشیاء کی تعظیم جسکو نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے کچھ علاقہ ہو اور جسے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے چھوا ہو یا جو حضور کے نام پاک سے مشہور ہو۔
(۱؎ کتاب الشفاء للقاضی فصل ومن اعظامہ الخ المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ ۲/ ۴۸۔ ۴۷)
یہاں تک کہ برابر ائمہ دین وعلمائے معتمدین نعل اقدس کی شبیہ ومثال کی تعظیم فرماتے رہے اور اس سے صدہا عجیب مددیں پائیں اور اس کے باب میں مستقل کتابیں تصنیف فرمائیں، جب نقشے کی یہ برکت وعظمت ہے تو خود نعل اقدس کی عظمت وبرکت کو خیال کیجئے پھر ردائے اقدس جبہ مقدسہ وعمامہ مکرمہ پر نظر کیجئے پھر ان تمام آثار وتبرکات شریفہ سے ہزاروں درجے اعظم واعلٰی واکرم واولٰی حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے ناخن پاک کا تراشہ ہے کہ یہ سب ملبوسات تھے اور وہ جزء بدن والا ہے اور اس سے اجل واعظم وارفع واکرم حضور پر نور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی ریش مبارک کا موئے مطہر ہے مسلمانوں کا ایمان گواہ ہے کہ ہفت آسمان وزمین ہر گز اس ایک موئے مبارک کی عظمت کونہیں پہنچتے اور ابھی تصریحات ائمہ سے معلوم ہولیا کہ تعظیم کے لئے نہ یقین درکارہے ہے نہ کوئی خاص سند بلکہ صرف نام پاک سے اس شے کا اشتہار کافی ہے ایسی جگہ بے ادراک سند تعظیم سے باز نہ رہے گا مگر بیمار دل پر ازار دل جس میں نہ عظمت شان محمد رسول اللہ صلی االلہ تعالٰی علیہ وسلم بروجہ کافی نہ ایمان کامل اللہ عزوجل فرماتاہے :
ان یک کاذبا فعلیہ کذبہ وان یک صادقا یصبکم بعض الذی یعدکم ۲؎۔
اگریہ جھوٹا ہے تو اس کے جھوٹ کا وبال اس پر، اور اگر سچا ہے تو تمھیں پہنچ جائیں گے بعض وہ عذاب جن کا وہ تمھیں وعدہ فرماتاہے۔
(۲؎ القرآن الکریم ۴۰/ ۲۸)
اور خصوصا جہاں سند بھی موجود ہو پھر تو تعظیم واعزاز وتکریم سے باز نہیں رہ سکتا مگر کوئی کھلا کافر یا چھپا منافق ۔ والعیاذ باللہ تعالٰی۔
اور یہ کہنا کہ آج کل اکثر لوگ مصنوعی تبرکات لئے پھرتےہیں مگر یوہیں مجمل بلاتعین شخص ہو یعنی کسی شخص معین پر اس کی وجہ سے الزام یا بدگمانی مقصود نہ ہو تو اس میں کچھ گناہ نہیں، اور بلا ثبوت شرعی کسی خاص شخص کی نسبت حکم لگادینا کہ یہ انھیں میں سے ہے جو مصنوعی تبرکا ت لئے پھرتے ہیں ضرورتاً ناجائز وگناہ وحرام ہے کہ اس کا منشا صرف بدگمانی ہے اور بدگمانی سے بڑھ کر کوئی جھوٹی بات نہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث ۱؎۔
بدگمانی سے بچو کہ بدگمانی سب سے بڑھ کر جھوٹی بات ہے۔
(۱؎ صحیح البخاری کتاب الوصایا ۱/ ۳۸۴ وکتاب الفرائض ۲/ ۹۹۵ صحیح مسلم کتاب البروالصلۃ ۲/ ۳۱۶)
(جامع الترمذی ابواب البر ۲/ ۲۰ مؤطا امام مالک باب ماجاء فی المہاجرۃ ص۷۰۲)
ائمہ دین فرماتے ہیں:
انما ینشوء الظن الخبیث من القلب الخبیث ۲؎۔
خبیث گمان خبیث ہی دل سے پیدا ہوتاہے۔
(۲؎ فیض القدیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث ۲۹۰۱ ایاکم والظن الخ دارالمعرفۃ بیروت ۳/ ۱۲۲)
تبرکاات شریفہ جس کے پاس ہوں ان کی زیارت کرنے پر لوگوں سے اس کا کچھ مانگنا سخت شنیع ہے۔ جو تندرست ہو اعضاء صحیح رکھتا ہو نوکری خواہ مزدوری اگر چہ ڈلیا ڈھونے کے ذریعہ سے روٹی کما سکتاہوا سے سوال کرناحرام ہے۔ رسول اللہ صلی للہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لاتحل الصدقۃ لغنی ولا لذی مرۃ سوی ۳؎.
غنی یا سکت والے تندرست کے لئے صدقہ حلال نہیں۔
(۳؎ مسند امام احمد بن حنبل عن عبداللہ بن عمر و رضی اللہ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۲/ ۱۹۲)
علماء فرماتے ہیں:
ماجمع السائل بالتکدی فہو الخبیث ۴؎۔
سائل جو کچھ مانگ کر جمع کرتاہے وہ خبیث ہے۔
(۴؎ ردالمحتار کتاب الکراہیۃ ۵/ ۲۴۷ وفتاوٰی ہندیۃ کتا ب الکراہیۃ ۵/ ۳۴۹)
اس پر ایک تو شناعت یہ ہوئی،
دوسری شناعت سخت تویہ ہے کہ دین کے نام سے دنیا کماتاہے اور
یشترون بایتی ثمنا قلیلا ۱؎
(میری آیات کے ذریعہ قلیل رقم حاصل کرتے ہیں۔ ت) کے قبیل میں داخل ہوتاہے۔
(۱؎ القرآن الکریم ۳/ ۴۱ و ۵/ ۴۳)
تبرکات شریفہ بھی اللہ عزوجل کی نشانیوں سے عمدہ نشانیاں ہیں ان کے ذریعہ سے دنیا کی ذلیل قلیل پونجی حاصل کرنے والاد نیا کے بدلے دین بیچنے والا ہے شناعت سخت تر یہ ہے کہ اپنے اس مقصد فاسد کے لئے تبرکات شریفہ کو شہر بشہر دربدر لئے پھرتے ہیں اور کس و نا کس کے پاس لے جاتے ہیں یہ آثار شریفہ کی سخت توہین ہے۔ خلیفہ ہارون رشید رحمۃاللہ تعالٰی علیہ نے عالم دار الہجرۃ سیدنا امام مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے درخواست کی تھی کہ ان کے یہاں جاکر خلیفہ زادوں کو پڑھا دیا کریں، فرمایا: میں علم کو ذلیل نہ کروں گا انھیں پڑھنا ہے تو خود حاضر ہوا کریں، عرض کی: وہی حاضر ہونگے مگر اور طلباء پر ان کو تقدیم دی جائے، فرمایا: یہ بھی نہ ہوگا سب یکساں رکھے جائیں گے آخر خلیفہ کو یہی منظور کرناپڑا____ یونہی امام شریک نخعی سے خلیفہ وقت نے چاہا تھا کہ ان کے گھر جاکر شہزادوں کو پڑھا دیا کریں، انکار کیا ۔ کہا: آپ امیر المومنین کا حکم ماننا نہیں چاہتے۔ فرمایا: یہ نہیں بلکہ علم کو ذلیل نہیں کرنا چاہتا۔
رہا یہ کہ بے اس کے مانگے زائرین کچھ اسے دیں اوریہ لے۔ اس میں تفصیل ہے شرع مطہر کا قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ
المعہود عرفا کالمشروط لفظا
(عرفا مقررہ چیز لفظا مشروط کی طرح ہے۔ ت) یہ لوگ تبرکات شریفہ شہر بشہر لئے پھرتے ہیں ان کی نیت وعادت قطعا معلوم کہ اس کے عوض تحصیل زر وجمع مال چاہتےہیں یہ قصدنہ ہوتو کیوں دور دراز سفر کی مشقت اٹھائیں، ریلوں کے کرائے دیں، اگر کوئی ان میں زبانی کہے بھی کہ ہماری نیت فقط مسلمانوں کو زیارت سے بہرہ مند کرنا ہے تو ان کا حال ان کے قال کی صریح تکذیب کررہاہے ان میں علی العموم وہ لوگ ہیں جو ضروری ضروری طہارت وصلوٰۃ سے بھی آگاہ نہیں اس فرض قطعی کے حال کرنے کو کبھی دس پانچ کو س یا شہرہی کے کسی عالم کے پاس گھر سے آدھ میل جانا پسند نہ کیا مسلمانوں کو زیارت کرانے کے لئے ہزاروں کوس سفر کرتے ہیں پھر جہاں زیارتیں ہوں اور لوگ کچھ نہ دیں وہاں ان صاحبوں کے غصے دیکھئے پہلا حکم یہ لگایا جاتاہے کہ تم لوگوں کو حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے کچھ محبت نہیں گویا ان کے نزدیک محبت نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ا ور ایمان اسی میں منحصر ہے کہ حرام طور پر کچھ ان کی نذر کردیا جائے، پھرجہاں کہیں سے ملے بھی مگر ان کے خیال سے تھوڑا ہو ان کی سخت شکایتیں اور مذمتیں ان سے سن لیجئے اگر چہ وہ دینے والے صلحاء وعلماء ہوں اور مال حلال سے دیا ہو اور جہاں پیٹ بھر کے مل گیا وہاں کی لمبی چوڑی تعریفیں لے لیجئے اگر چہ وہ دینے والے فساق فجار بلکہ بد مذہب ہوں اور مال حرام سے دیا ہو قطعا معلوم ہے کہ وہ زیارت نہیں کراتے بلکہ لینے کے لئے اور زیارت کرنے والے بھی جانتے ہیں کہ ضرو رکچھ دینا پڑے گا تو اب یہ صرف سوال ہی نہ ہوا بلکہ بحسب عرف زیارت شریفہ پر اجارہ ہوگیا اور وہ بچند وجہ حرام ہے ۔
اولا زیارت آثار شریفہ کی کوئی ایسی چیز نہیں جو زیر اجارہ داخل ہوسکے۔
کما صرح بہ فی ردالمحتار وغیرہ ان مایؤخذ من النصاری علی زیارۃ بیت المقدس حرام ۱؎۔ وہذا اذا کان حراما اخذہ من کفار دور الحرب کالروس وغیرہم فکیف من المسلمین ان ہو الا ضلال مبین۔
جس طرح اس کی تصریح ردالمحتار وغیرہ میں ہے کہ بیت المقدس کی زیارت کے عوض عیسائیوں سے وصولی حرام ہے یہ حربی کافروں اور سرداروں وغیرہ سے وصولی حرام ہے تو مسلمانوں سے وصولی کیسے حرام نہ ہوگی یہ نہیں مگر کھلی گمراہی۔ (ت)