Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ )
76 - 144
(۱۲) شاہ ولی اللہ دہلی متوفی ۱۱۷۴ھ فیوض الحرمین صفحہ ۰ ۲ میں لکھتے ہیں:
من اراد ان یحصل لہ ماللملاء السافل من الملئکۃ فلا سبیل الے ذٰلک الا الاعتصام بالطہارۃ و الحلول بالمساجد القدیمۃ التی صلی فیہا جماعات من الاولیاء ۲؎ الخ۔
جو شخص ملاء سافل کے فرشتوں کا مقام چاہتاہے اس کی صرف یہی صورت ہے کہ وہ طہارت اور قدیم مساجد جہاں اولیائے کرام نے نماز پڑھی ہو، میں داخل ہونے کا التزام کرے الخ۔ (ت)
(۲؎ فیوض الحرمین (مترجم اردو)     مشہد ۵     محمد سعید اینڈ سنز کراچی    ص۶۲)
 (۱۳) اسی میں ہے ص۴۹:
ان الانسان اذا صار محبوبا فکان منظورا للحق وللملاء الا علی عروساجمیلا فکل مکان حل فیہ انعقدت و تعلقت بہ ہمم الملاء الا علی وان ساق الیہ افواج الملئکۃ وامواج النور لاسیما اذا کانت ہمتہ تعلقت بہذا المکان والعارف الکامل معرفۃ وحالا لہ ہمۃ یحل فیھا نظر الحق یتعلق باہلہ ومالہ وبیتہ ونسلہ ونسبہ وقرابتہ واصحابہ یشمل المال والجاہ وغیرہا ویصلحہا فمن ذٰلک تمیزت ماٰثر الکمل من ماثر الکمل من ماثر غیرہم۳؎۔
تحقیق جب انسان محبوب بن جاتا ہے تو وہ حق تعالٰی کا منظور اور ملاء اعلٰی کا خوب صورت دولھا بن جاتاہے تو وہ جس مکان میں ہوتا ہے وہاں ملاء اعلی، کی ہمتیں مرکوز ہوجاتی ہیں اور فرشتوں کی فوج اور نور کی امواج اس جگہ واردہوتی ہیں خصوصا وہ مکان جہاں اس کی ہمت مرکوز ہوتی ہے او رمعروف میں کامل عارف کی ہمت میں حق تعالٰی کی نظر رحمت مرکوز ہوتی ہے جس کا عارف کے اہل مال، گھر ، نسل ونسب، قرابت اور اس کے اصحاب سے یوں تعلق ہوتاہے کہ اس سے متعلق ہر چیز کو وہ تعلق شامل ہوجاتاہے اسی بناء پر لوگوں کے آثار کامل اور غیر کامل حضرات کے آثار سے ممتاز ہوتے ہیں (ت)
(۳؎فیوض الحرمین (مترجم اردو) مشہد ۲۰      محمد سعید اینڈ سنز کراچی    ص۳۹۔ ۱۳۸)
 (۱۴) اسی میں ہے ص ۵۷:
ان تام المعرفۃ لروحہ تحدیق و غایۃ بکل شیئ من طریقتہ ومذہبہ وسلسلتہ ونسبہ وقرابتہ وکل مایلیہ وینسب الیہ وعنایتہ ہذہ یختلف بہا عنایۃ الحق ۱؎۔
بیشک تمام معرفت والے کی روح کو اپنے متعلق ہر چیز طریقہ، مذہب، سلسلہ، نسب وقرابت بلکہ اس کی طرف ہر منسوب پر نظر واہتمام ہوتاہے جس کی وجہ سے حق تعالٰی کی عنایت اس کو شامل ہوجاتی ہے۔ (ت)
(۱؎ فیوض الحرمین (مترجم اردو)     مشہد ۲۶     محمد سعید اینڈ سنز کراچی    ص۱۶۱، ۱۶۲)
 (۱۵) یہی شاہ صاحب ہمعات میں لکھتے ہیں:
از ینجاست حفظ اعراس مشایخ ومواظبت زیارت قبور ایشاں والتزام فاتحہ خواندن وصدقہ دادن برائے ایشاں واعتنائے تمام کردن بہ تعظیم آثار واولاد ومنتبان ایشاں ۲؎۔
اسی وجہ سے مشایخ کے عرس ان کے قبروں کی زیارت، ان کے لئے فاتحہ خوانی اور صدقات کا اہتمام والتزام ضروری ہوجاتاہے اور ان کے آثار واولاد اور جو چیز ان کی طرف منسوب ہو ان کی تعظیم کا مکمل اہتمام لازم قرار پاتاہے۔ (ت)
 (۲؎ ہمعات ہمہ ۱۱            اکادیمہ الشاہ ولی اللہ الدہلوی حیدرآباد    ص۵۸)
(۱۶) انھیں شاہ صاحب کی انفاس العارفین میں ہے:
درحرمین شخصے از بزرگان خود کلاہ حضرت غوث الثقلین تبرک یافتہ بود شبے در واقعہ حضرت غوث الاعظم رادید کہ می فرمایند ایں کلاہ بہ ابوالقاسم اکبر آبادی برساں آں شخص برائے امتحان یک جبہ قیمتی ہمراہ آں کلاہ کردہ گرفت کہ ایں ہر دو تبرک حضرت غوث الاعظم ہستند حکم شد کہ بشمار سانم حضرت شاں بسیار خوش شد گرفتند آن شخص گفت کہ برائے شکر حصول ایں تبرک اہل شہر را دعوت کنید فرمودند کہ وقت صبح بیائید مردمان بسیار بوقت صبح آمد ند طعامہائے خوب خوردند وفاتحہ خواند ند بعد آں پرسید ند کہ شمار مرد فقیر ہستید ایں قدر طعام از کجا آمد فرمود کہ جبہ رافروختم وتبرک را نگاہدا شتم ہمہ گفتند کہ للہ الحمد کہ تبرک بمستحق رسید ۱؎۔
حرمین شریفین میں ایک ایسا شخص مقیم تھا جسے حضرت غو ث الاعظم کی کلاہ مبارک تبرکا سلسلہ وار اپنے آباء واجداد سے ملی ہوئی تھی جس کی برکت سے وہ شخص حرمین شریفین کے نواح میں عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اور شہرت کی بلندیوں پر فائز تھا ایک رات حضرت غوث الاعظم کو (کشف میں) اپنے سامنے موجود پایا جو فرمارہے تھے کہ یہ کلاہ ابوالقاسم اکبرآبادی تک پہنچادو، حضرت غوث اعظم کا یہ فرمان سن کر اس شخص کے دل میں آیا کہ اس بزرگ کی تخصیص لازما کوئی سبب رکھتی ہے، چنانچہ امتحان کی نیت سے کلاہ مبارک کے ساتھ ایک قیمتی جبہ بھی شامل کرلیا اور پوچھ گچھ کرتے حضرت خلیفہ کی خدمت میں جاپہنچا اور ان سے کہا کہ یہ دونوں تبرک حضرت غوث اعظم کے ہیں اور انھوں نے مجھے خواب میں حکم دیا ہے کہ یہ تبرکات ابوالقاسم اکبر آبادی کو دے دو، یہ کہہ کر تبرکات ان کے سامنے رکھ دئے، خلیفہ ابوالقاسم نے تبرکات  قبول فرماکر انتہائی مسرت کا اظہار کیا، اس شخص نے کہا یہ تبرک ایک بہت بڑے بزرگ کی طرف سے عطا ہوئے ہیں لہذا اس شکریے میں ایک بڑی دعوت کا انتظام کرکے رؤسائے شہر کو مدعو کیجئے، حضرت خلیفہ نے فرمایا کل تشریف لانا ہم کافی سارا طعام تیار کرائیں گے آپ جس جس کو چاہیں بلالیجئے، دوسرے روز علی الصباح وہ درویش روسائے شہر کے ساتھ آیا دعوت تناول کی اور فاتحہ پڑھی فراغت کے بعد لوگوں نے پوچھا کہ آپ تو متوکل ہیں ظاہری سامان کچھ بھی نہیں رکھتے، اس قدر طعام کہاں سے مہیا فرمایا؟ فرمایا کہ اس قیمتی جبے کو بیچ کر ضروری اشیاء خریدی ہیں، یہ سن کر وہ شخص چیخ اٹھا کہ میں نے اس فقیر کو اہل اللہ سمجھا تھا مگر یہ تو مکار ثابت ہوا، ایسے تبرکات کی قدر اس نے نہ پہچانی، آپ نے فرمایا چپ رہو جو چیز تبرک  تھی وہ میں نے محفوظ کرلی ہے اور جو سامان امتحان تھا ہم نے اسے بیچ کر دعوت شکرانہ کاانتظام کر ڈالا، یہ سن کر وہ شخص متنبہ ہوگیا اور اس نے تمام اہل مجلس پر ساری حقیقت حال کھول دی جس پر سب نے کہا کہ الحمدللہ تبرک اپنے مستحق تک پہنچ گیا۔ (ت)
 (۱؎ انفاس العارفین (مترجم اردو)     قلندہر چہ گوید دیدہ گوید     اسلامک بک فاؤنڈیشن لاہور    ص۷۷)
اسی طرح صدہا عبارات ہیں جس کے حصر واستقصاء  میں محل طمع نہیں، یہ سب ایک طرف فقیر غفراللہ تعالی لہ حدیث صحیح سے ثابت کرے کہ خود حضور پر نور سید یوم النشور افضل صلوات اللہ تعالٰی واجل تسلیمات علیہ وعلی آلہ وذریاتہ آثار مسلمین سے تبرک فرماتے ۔
وللہ الحجۃ البالغۃ۔
طبرانی معجم اوسط اور ابونعیم حلیہ میں حضرت سیدنا وابن سیدنا عبداللہ بن عمر فاروق اعظم رضی للہ تعالٰی عنہما سے راوی:
قال کان  النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یبعث للمطاہر فیوتی بالماء فیشربہ یرجوبہ برکۃ ایدی المسلمین ۱؎۔
یعنی حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم مسلمانوں کی طہارت گاہوں مثل حوض وغیرہ سے جہاں اہل اسلام وضو کیا کرتے پانی منگا کر نوش فرماتے اور اس سے مسلمانوں کے ہاتھوں کی برکت لینا چاہتے، صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وعلی آلہ وصحبہ وبارک وکرم۔
 (۱؎ المعجم الاوسط         حدیث ۷۹۸     مکتبہ المعارف ریاض    ۱/ ۴۴۳)
علامہ عبدالرؤف مناوی تیسیرج ۲ ص ۲۶۹،  پھر علامہ علی بن احمد عزیزی سراج المنیر ج ۳ ص ۱۴۷ شروح جامع صغیر میں اس حدیث کی نسبت فرماتے ہیں:
باسناد صحیح ۲؎
 (صحیح اسناد کے ساتھ ہے۔ ت)
 (۲؎ التیسیر لشرح الجامع الصغیر     تحت حدیث مذکور     مکتبۃ الامام الشافعی ریاض    ۲/ ۲۶۹)

(السراج المنیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث مذکور    المطبعۃ الازہریۃ المصریۃ مصر ۳/ ۱۵۱)
علامہ محمد حفنی اپنی تعلیقات علی الجامع میں فرماتے ہیں:
یرجو بہ برکۃ الخ لانہم محبوبون ﷲ تعالٰی بدلیل ان اﷲ یحب التوابین ویحب المتطہرین ۳؎۔
یعنی حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بقیہ آب وضو ئے مسلمین میں اس وجہ سے امید برکت رکھتے کہ وہ محبوبان خدا ہیں۔ قرآن عظیم میں فرمایا بیشک اللہ دوست رکھتا ہے توبہ کرنے والوں کو اور دوست رکھتاہے طہارت والوں کو۔
 (۳؎ تعلیقات للحفنی علی ہامش السراج المنیر    المطبعۃ الازہریۃ المصریۃ مصر   ۳/ ۱۵۱)
اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اعلی واجل واکبر،
یہ حضور پر نور سید المبارکین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ہیں جن کی خاک نعلین پاک تمام جہانوں کے لئے تبرک دل وجان وسرمہ چشم دین وایمان ہے وہ اس پانی کو جس میں مسلمانوں کے ہاتھ دھلے تبرک ٹھہرائیں اور اسے منگا کر بغرض حصول برکت نوش فرمائیں حالانکہ واللہ مسلمانوں کے دست وزبان ودل وجان میں جو برکتیں ہیں سب انھیں نے عطا فرمائیں، انھیں کی نعلین پاک کے صدقے میں ہاتھ آئیں، یہ سب تعلیم امت وتنبیہ مشغولان خواب غفلت کے لئے تھا کہ یوں نہ سمجھیں تو اپنے مولٰی وآقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا فعل سن کر بیدار اور برکت آثار اولیاء وعلماء کے طلبگار ہوں، پھر کیسا جاہل ومحروم ونافہم ملوم کہ  محبوبان خدا کے آثار کو تبرک نہ جانے اوراس  سے حصول برکت نہ مانے
ولا حول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم وصلی اﷲ تعالٰی علی سیدا لمرسلین محمد واٰلہ  وصحبہ واولیائہ وعلمائہ وامتہ وحزبہ اجمعین اٰمین۔ واﷲ وتعالٰی اعلم۔
Flag Counter