حضرت عتبان رضی اللہ تعالٰی عنہ کی اس حدیث میں بہت فوائد ہیں ان میں سے صالحین اور ان کے آثار سے تبرک اور ان کی جائے نماز پر نماز اور ان سے تبرکات حاصل کرنا ثابت ہے۔ (ت)
(۲؎المنہاج لشرح صحیح مسلم بن الحجاج کتاب المساجد باب الرخصۃ فی التخلف عن الجماعۃ لعذر قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۳۳)
(۳) اسی میں زیر حدیث ابو جحیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ
فخرج بلال بوضوئہ فمن نائل و ناضح
(حضرت بلال رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے وضو کابچا ہوا پانی لے کر باہر نکلے لوگوں نے اس پانی کو مل لیا، کسی کو پانی مل گا اور کسی نے اس پانی کو چھڑک لیا۔ ت) فرمایا:
اس حدیث سے بزرگان دین کے آثار سے تبرک حاصل کرنا ثابت ہوتا ہے اور اس کے وضو سے بچے ہوئے پانی طعام مشروب اور لباس کے استعمال سے برکت حاصل ہونا ثابت ہے۔ (ت)
(۱؎ المنہاج لشرح صحیح مسلم بن الحجاج کتاب الصلوٰۃ باب سترۃ المصلی الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۹۶)
(۴) اسی میں زیر حدیث انس رضی اللہ تعالٰی
مایوتی باناء الا غمس یدہ فیہ
(مدینہ کے خدام پانی سے بھرے ہوئے اپنے اپنے برتن لے کر آتے حضور ہر برتن میں اپنا ہاتھ ڈبودیتے۔ ت)
فرمایا:
فیہ التبرک باثارالصالحین ۲؎۔
اس میں صالحین کے آثار سے تبرک ثابت ہے۔ (ت)
(۲؎المنہاج لشرح صحیح مسلم بن الحجاج کتاب الفضائل باب قربہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من الناس قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۵۶)
(۵) اسی میں زیر حدیث ابوایوب رضی اللہ تعالٰی عنہ
اکل منہ وبعث بفضلۃ الی
(طعام سے کھایا اور بقیہ میری طرف بھیج دیا۔ ت) فرمایا:
قال العلماء فی ہذہ انہ یستحب للاٰکل والشارب ان یفضل مما یاکل ویشرب فضلۃ لبواسی بہا من بعدہ لاسیما ان کان ممن یتبرک بفضلتہ ۳؎۔
علماء کرام نے فرمایا اس میں فائدہ ہے کہ کھانے اور پینے والے کو مستحب ہے کہ اپنے کھانے پینے سے کچھ بچارکھے تاکہ دوسرے حصہ پائیں خصوصا ایسے لوگوں جن کے بچے ہوئے سے تبرک حاصل کیا جاتاہو۔ (ت)
(۳؎المنہاج لشرح صحیح مسلم بن الحجاج کتاب الاشربہ باب اباحۃ اکل الثوم الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۸۳)
(۶) اسی میں زیر حدیث
سأل عن موضع اصابعہ فیتتبع موضع اصابعہ
(آپ کی انگشت مبارک کے مقام سے متعلق پوچھتے تو آپ کی انگشت مبارک کی جگہ تلاش کرتے۔ ت)
فرمایا:
فیہ التبرک باثار الخیر فی الطعام وغیرہ ۴؎۔
اس میں آثار صالحین سے تبرک طعام وغیرہ میں ثابت ہے۔ (ت)
(۴؎المنہاج لشرح صحیح مسلم بن الحجاج کتاب الاشربہ باب اباحۃ اکل الثوم الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۸۳)
(۷) امام احمد بن محمد قسطلانی متوفی ۹۲۳ھ ارشادالساری شرح صحیح البخاری میں زیر حدیث ابوجحیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فجعل الناس یتمسحون بوضوئہ فرماتے ہیں:
استنبط منہ التبرک بما یلامس اجساد الصالحین ۱؎۔
اس میں صالحین کے اجسام سے مس کرنیوالی چیز سے تبرک کا ثبوت ہے۔ (ت)
(۱؎ ارشاد الساری شرح صحیح البخاری ابواب سترۃ المصلی باب السترۃ بمکۃ دارالکتاب العربی بیروت ۱/ ۴۶۷)
(۸) اسی میں زیر حدیث انی واﷲ ماسألتہ لالبسہا انما سألتہ لتکون کفنی فرمایا:
فیہ التبرک باٰثارالصالحین قال اصحابنا لایندب ان یعد نفسہ کفنا الا ان یکون من اثرذی صلاح فحسن اعمادہ کما ھنا ۲؎ انتھی ملخصا۔
اس میں آثار صالحین سے تبرک کا ثبوت ہے۔ ہمارے اصحاب نے فرمایا کہ کسی صالح کے اثر والا کفن اپنے لئے تیار کرنا بہترین کفن جیسے یہاں حدیث میں ہے انتہی ملخصا۔ (ت)
(۲؎ارشاد الساری شرح صحیح البخاری ابواب الجنائز باب من استعدالکفن فی زمن نبی دارالکتاب العربی بیروت ۲/ ۳۹۶)
(۹) مولنا علی قاری مکی متوفی ۱۰۱۴ھ نے مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں اس حدیث سنن نسائی کے نیچے کہ طلق بن علی رضی اللہ تعالٰی عنہ بقیہ آب وضو ئے حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم حضور سے مانگ کر اپنے ملک کو لے گئے یہ فائدہ لکھ کر کہ:
فیہ التبرک بفضلہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ونقلہ الی البلاد نظیرہ ماء زمزم۔
اس میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے استعمال سے بچی ہوئی چیز سے تبرک حاصل کرنا اور اسے دوسرے شہروں میں لے جانا آب زمزم کی نظیر ہے۔ (ت)
فرمایا:
ویوخذ من ذٰلک ان فضلۃ وارثیہ من العلماء والصلحاء کذٰلک ۳؎۔
اور اس سے اخذ ہوتاہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ ولسلام کے وارثوں علماء وصلحاء کا بچا ہوا بھی اسی طرح متبرک ہے۔ (ت)
(۳؎ مرقاۃ المفاتیح باب المساجد مواضع الصلٰوۃ افضل الثانی مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۲/ ۴۲۰)
(۱۰) مولٰنا شیخ محقق عبالحق محدث دہلوی متوفی ۱۰۲۵ھ نے اشعۃ اللمعات میں فرمایا:
دریں حدیث استحباب است بہ بقیہ آب وضو ے وپس ماندہ آنحضرت ونقل آں ببلاد و مواضع بعیدہ مانندآب زمزم وآنحضرت چوں در مدینہ مے بودآب زمزم رااز حاکم مکہ مے طلبید وتبرک مے ساخت وفضلہ وارثان او کہ علماء وصلحاء اند وتبرک بآثار وانوار ایشاں ہم بریں قیاس ست ۱؎۔
اس حدیث میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے وضو سے بچا ہوا پانی اور دیگر پسماندہ اشیاء کا متبرک ہونا اور ان کو دوسرے بعید شہروں میں منتقل کرنے کی نظیر آب زمزم شریف ہے۔ جب آپ مدینہ منورہ میں تھے تو آپ حاکم مکہ سے اب زمزم طلب فرماتے اور متبرک بناتے اور آپ کے وارث علماء وصلحاء کی بچی ہوئی چیز اور ان کے آثار وانوار کا اسی پر قیاس ہے۔ (ت)
(۱؎ اشعۃ اللمعات با ب المساجد مواضع الصلوٰۃ الفصل الثانی مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۳۳۱)
(۱۱) امام علامہ احمد بن محمد مصری مالکی معاصر شیخ محقق دہلوی نے
کتاب مستطاب فتح المتعال فی مدح خیر النعال میں ا مام اجل خاتمۃ المجتہدین ابوالحسن علی بن عبدالکافی سبکی شافعی متوفی ۷۵۶ء
کا ایک کلام نفیس تبرک بہ آثارامام شیخ الاسلام ابو زکریا نووی قدست اسرار ہم میں نقل فرمایا:
وہذا لفظ حکی جماعۃ من الشافعیۃ ان الشیخ العلامۃ تقی الدین ابا الحسن علیا السبکی الشافعی لما تولی تدریس دارالحدیث بالاشرافیۃ بالشام بعد وفاۃ الامام النووی احد من یفتخر بہ المسلمون خصوصا الشافعیۃ انشد لنفسہ۔
اس بات کو شوافع کی ایک جماعت نے حکایت کیا ہے کہ علامہ شیخ تقی الدین ابوالحسن علی سبکی شافعی جب شام میں امام نووی کی وفات کے بعد مدرسہ اشرفیہ کے شیخ الحدیث کے منصب پرت فائز ہوئے تو انھوں نے اپنے متعلق یہ پڑھا:
وفی دارالحدیث لطیف معنی
الی بسط لہا اصبو و اٰوی
لعلی ان امس بحر وجھی
مکانامسہ قدم النواوی
واذ ا کان ہذا فی اٰثار من ذکر
فما بالک باٰثار من شرف الجمیع بہ ۱؎۔
دارالحدیث میں ایک لطیف معنی سے بسط کی طرف اشارہ ہے جس کی طرف میں مائل اور راجع ہوں یہ کہ ہوسکتاہے کہ محبت کی شدت میں اس جگہ کو اپنے چہرے سے مس کروں جس کو امام نووی کے قدموں نے مس کیا ہے جب یہ مذکور حضرات کے آثار کا معاملہ ہے تو اس ذات کے آثار کے متعلق تیرا حال کیا ہوگا جس ذات سے سب نے شرف پایا۔ (ت)