Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ )
74 - 144
صحیح بخاری وصحیح مسلم میں انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے:
ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم دعا بالحلاق وناول الحالق شقہ الایمن فحلقہ ثم دعا اباطلحۃ الانصاری فاعطاہ ایاہ ثم ناول الشق الایسر فقال احلق فحلقہ فاعطاہ اباطلحۃ فقال اقسمہ بین الناس ۲؎۔
یعنی نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے حجام کو بلا کر سرمبارک کے داہنی جانب کے بال مونڈنے کا حکم فرمایا پھر ابو طلحہ انصاری رضی اللہ تعالٰی عنہ کو بلاکر وہ سب بال انھیں عطا فرمادئے پھر بائیں جانب کے بالوں کوحکم فرمایا اور وہ ابوطلحہ کو دئے کہ انھیں لوگوں میں تقسیم کردو۔
 (۲؎ صحیح مسلم     کتاب الحج باب بیان ان السنۃ یوم        قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/ ۴۲۱)
صحیح بخاری شریف کتاب اللباس میں عیسٰی بن طہمان سے ہے:
قال اخرج الینا انس بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ نعلین لہما قبالان فقال ثابت البنانی ہذا نعل النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ۳؎۔
انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ دو نعل مبارک ہمارے پاس لائے کہ ہر ایک میں بندش کے دو تسمے تھے ان کے شاگرد رشید ثابت بنانی نے کہا یہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی نعل مقدس ہے۔
 (۳؎ صحیح البخاری    کتاب الجہاد               قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱/ ۴۳۸)

(صحیح البخاری   کتاب اللباس           قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲/ ۸۷۱)
صحیحین میں ابوبردہ  سے ہے:
قال اخرجت الینا عائشۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہا کساء ملبدا وازارا غلیظا فقالت قبض روح رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی ھٰذین ۱؎۔
ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے ایک رضائی یا کمبل اور ایک موٹا تہبند نکال کر ہمیں دکھایا اور فرمایا کہ وقت وصال اقدس حضور پرنور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے یہ دو کپڑے تھے ۔
 (۱؎ صحیح بخاری   کتاب الجہاد ۱/ ۴۳۸     و کتاب اللباس باب الاکسیہ والخماص    ۲/ ۸۶۵     قدیمی کتب خانہ کراچی)

(صحیح مسلم     کتاب اللباس     باب التواضع فی اللباس         قدیمی کتب خانہ کراچی        ۲/ ۹۴۔ ۱۹۳)
صحیح مسلم شریف میں حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہا سے ہے:
انہا اخرجت جبۃ طیالسیۃ کسروانیۃ لہا لبنۃ دیباج وفرجیہا مکفوفین بالدیباج وقالت ہذہ جبۃ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کانت عند عائشۃ فلما قبضت قبضتہا وکان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یلبسہا فنحن نغسلہا للمرضی نستشفی بہا ۲؎۔
یعنی انھوں نے ایک اُونی جبہ کسروانی ساخت نکالا، اس کی پلیٹ ریشمین تھی اور دونوں چاکوں پر ریشم کا کام تھا اور کہایہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا جبہ ہے ام المومنین صدیقہ کے پاس تھا ان کے انتقال کے بعد میں نے لے لیا نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اسے پہنا کرتے تھے تو ہم اسے دھو دھو کر مریضوں کو پلاتے اور اس سے شفا چاہتے ہیں۔
(۲؎ صحیح مسلم  کتاب اللباس   باب تحریم استعمال اناء الذہب والفضۃ الخ   قدیمی کتب خانہ کراچی  ۲/ ۱۹۰)
صحیح بخاری میں عثمن بن عبداللہ بن موہب سے ہے:
قالت دخلت علی ام سلمۃ فاخرجت الینا شعرا من شعر النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مخضوبا ۳؎۔
میں حضرت ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے خدمت میں حاضر ہوا انھوں نے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے موئے مبارک کی ہمیں زیارت کرائی اس پر خضاب کا اثر تھا۔
 (۳؎ صحیح البخاری         باب یذکر فی الشیب        قدیمی کتب خانہ کراچی           ۲/ ۸۷۵)
یہ چند احادیث خاص صحیحین سے لکھ دیں اور یہاں احادیث میں کثرت اوراقوال ائمہ کا تواتر بشدت اور مسئلہ خود واضح، اور اس کا انکار جہل فاضح ہے لہذا صرف ایک عبارت شفاء شریف پر اقتصار کریں،
فرماتے ہیں:
ومن اعظامہ واکبارہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اعظام جمیع اسبابہ ومالمسہ اوعرف بہ وکانت فی قلنسوۃ خالد بن الولید رضی اﷲ تعالٰی عنہ شعرات من شعرہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فسقطت قلنسوتہ فی بعض حروبہ فشد علیہا شدۃ انکر علیہ اصحاب النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کثرۃ من قتل فیہا فقال لم افعلہا بسبب القلنسوۃ بل لما تضمنتہ من شعرہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لئلا اسلب برکتہا وتقع فی ایدی المشرکین ورأی ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما واضعایدہ علی مقعد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من المبنر ثم وضعہا علی وجہہ ۱؎ (ملخصا)
یعنی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی تعظیم کا ایک جزیہ بھی ہے کہ جس چیز کو حضور سے کچھ علاقہ ہو حضور کی طرف منسوب ہو حضور نے اسے چھوا ہو یا حضور کے نام پاک سے پہچانی جاتی ہو اس سب کی تعظیم کی جائے خالد بن ولید رضی اللہ تعالٰی عنہ کی ٹوپی میں چند موئے مبارک تھے کسی لڑائی میں وہ ٹوپی گر گئی خالد رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اس کے لئے ایسا شدید حملہ فرمایا جس پر اور صحابہ کرام نے انکار کیا اس لئے کہ اس شدید وسخت حملہ میں بہت مسلمان کام آئے خالد رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا میرا یہ حملہ ٹوپی کے لئے نہ تھا بلکہ موئے مبارک کے لئے تھا کہ مبادا اس کی برکت میرے پاس نہ رہے اور وہ کافروں کے ہاتھ لگیں اور ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو دیکھا گیا کہ منبرا طہر سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں جو جگہ جلوس اقدس کی تھی اسے ہاتھ سے مس کرکے وہ ہاتھ اپنے منہ پر پھیر لیا۔ (ملخصا)
 (۱؎ الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی     فصل ومن اعظامہ واکبارہ الخ     عبدالتواب اکیڈمی بوہڑ گیٹ ملتان    ۲/ ۴۴)
اللھم ارزقنا حب حبیبک وحسن الادب معہ ومع اولیائہ اٰمین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وبارک وسلم وعلیہم اجمعین۔
اے اللہ! ہمیں اپنے حبیب علیہ الصلوٰۃ والسلام اور اولیائے کرام کی محبت اور حسن ادب نصیب فرما۔ آمین!(ت) خالد بن ولید کی حدیث ابویعلی اور عبداللہ بن عمر کی حدیث ابن سعد نے طبقات میں روایت کی۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
فصل دوم
مسئلہ ۱۶۸: از بستی مرسلہ مولوی مفتی عزیز الحسن صاحب رجسٹرار ۹/ شوال ۱۳۱۰ھ

جناب مولانا سراپا فیض مجسم علم وحلم، معظم ومکرم دام مجدہم، پس از سلام مسنون باعث تکلیف آنجناب یہ ہے کہ ایک شخص برکت آثار بزرگان سے منکر ہیں اور کہتے ہیں کہ بزرگوں کے خرقہ وجبہ وغیرہما سے کوئی برکت حاصل نہیں ہوتی، چونکہ وہ پڑھے لکھے ہیں یہ امر قرار پایا ہے کہ اگر سو برس سے قبل کے کسی عالم نے اپنی کتاب میں اس برکت کو تحریر کیا ہو تو میں مان لوں گا، آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے جبہ وغیرہ میں گفتگو نہیں ہے۔ والسلام۔
الجواب : برکت آثار بزرگان سے انکار آفتاب روشن کا انکار ہے معہذا جب برکت آثار شریفہ حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اور پر ظاہر کہ اولیاء وعلماء حضور کے ورثاء ہیں تو ان کے آثار میں برکت کیوں نہ ہوگی کہ آخر وارث برکات ووارث ایراث برکات ہیں، فقیر غفراللہ تعالٰی کہ اتمام حجت کے لئے چند عبارات ائمہ وعلماء کہ وہ سب آج سے سوبرس پہلے اور بعض پانسو چھ سو برس پہلے کے تھے حاضر کرتا ہے۔ کتب مطبوعہ کا نشان جلد وصفحہ بھی ظاہر کردیا جائے گا، کہ مراجعت میں آسانی ہو،
 (۱) امام اجل زکریا نووی  جن کی ولادت باسعادت ۶۳۱ھ اور وفات شریف ۶۷۷ھ میں ہوئی شرح صحیح مسلم شریف میں زیر حدیث عتبان بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ :
انی احب ان تاتینی وتصلی فی منزلہ فاتخذہ المصلی
 (میری تمنا ہے کہ آپ میرے گھر تشریف لاکر کسی جگہ نماز پڑھ لیں تاکہ میں اس جگہ کو نماز پڑھنے کے لئے متعین کرلوں۔ ت) فرماتے ہیں:
فی ہذا الحدیث انواع من العلم وفیہ التبرک باٰثار الصالحین وفیہ زیارۃ العلماء والصلحاء،  والکبار و اتباعہم وتبریکھم ایاھم ۱؎۔
اس حدیث میں کئی قسم کے علوم ومعارف ہیں اور اس میں بزرگان دین کے آثار سے تبرک اور علماء صلحاء، اوربزرگوں اور ان کے متبعین کی زیارت اور ان سے برکات کا حصول ثابت ہے۔(ت)
 (۱؎ المنہاج لشرح صحیح مسلم  بن الحجاج     کتاب الایمان باب الدلیل علی ان من رضی باللہ الخ     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/ ۴۷)
Flag Counter