Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ )
73 - 144
آثار مقدسہ اور ان سے تبرک وتوسل

رسالہ

بدرالانوار فی اٰداب الاٰثار

(آثار مقدسہ کے آداب کے بارے میں روشنیوں کا ماہِ کامل)

فصل اول
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مسئلہ ۱۶۷: اجمیر شریف درگاہ معلی مرسلہ سید حبیب اللہ قادری دمشقی طرابلسی شامی ۲۸/ جمادی الآخرہ ۱۳۲۳ھ
ماقولکم دام فضلکم
 (اللہ تعالٰی کا ہمیشہ آپ پر فضل ہو آپ کا کیا ارشاد مبارک ہے۔ت) ایک شخص اپنے وعظ میں صاف انکار کرتاہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا کوئی تبرک اور حضور کے آثار شریفہ سے کوئی چیز اصلا باقی نہیں، نہ صحابہ کے پاس تبرکات شریفہ سے کچھ تھا نہ کبھی کسی نبی کے آثار سے کچھ تھا، امید کہ اس کا جوب بحوالہ احادیث وکتاب ارشاد ہو۔بینو توجروا۔
الجواب

بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم، الحمد ﷲ حمدا یکافئنی فضلہ وانعامہ ویحلنا برضاہ دارالمقامۃ دارا ذات برکۃ وسلامۃ لامخافۃ فیہا والاسامۃ والصلوٰۃ والسلام علی نبی التہامۃ خیر من لبس الجبۃ والنعل والعمامۃ وعلی الہ وصحبہ ذوی الکرامۃ الناصحین لامتہ المبلغین احکامہ، المعظمین اٰثارہ بعدہ وامامہ صلوٰۃ تنمی وتنمی الی یوم القیمۃ۔
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان اورنہایت رحم والا ہے۔ اللہ تعالٰی کے لئے تمام حمدیں جو مجھے اپنے فضل وانعام میں کفایت دے اور ہمیں اپنی رضا سے برکت اور سلامتی والے گھر (جنت) میں داخل کرے جہاں خوف ہے نہ تکلیف اور صلوٰۃ و سلام تہامہ کے نبی پر جو جبہ وچپل اور عمامہ پہننے والوں میں سب سے افضل ہیں اور آپ کی آل واصحاب کرامت والوں پر جو امت کے مخلص اور ان کو احکام پہنچانے والے ہیں اور آپ کے آثار مبارکہ کی آپ کے بعد اور سامنے بھی تعظیم کرنے والے ہیں، بڑھنے والی صلوٰۃ قیامت تک بڑھتی رہے۔ (ت)
اما بعد، یہ فتاوٰی ہیں متعلق تبرکات شریفہ وآثار لطیفہ کہ ان کا ادب کیسا ہے اور ان کے ثبوت میں کیا دیکھا ہے اور بے سند ہوں تو کیا چاہئے اور زیارت پر نذرانہ لینے دینے مانگنے کے مسئلے جن کا فقیر سے سوال ہوااور مجموع کا
بدر الانوار فی اٰداب الآثار نام ٹھہرا، والحمدﷲ رب العٰلمین والصلوٰۃ علی المولٰی والہٖ اجمعین۔
ایسا شخص آیات واحادیث کا منکر اور سخت جاہل خاسر یا کمال گمراہ فاجر ہے اس پر توبہ فرض ہے اور بعد اطلاع بھی تائب نہ ہو تو ضرور گمراہ بے دین ہے۔
اللہ عزوجل فرماتاہے:
ان اول بیت وضع للناس للذی ببکۃ مبٰرکا وہدیً للعلمین فیہ اٰیت بینت مقام ابراہیم ۱؎۔
بیشک سب میں پہلا گھر کہ لوگوں کے لئے مقرر فرمایا گیا وہ ہے جو مکہ میں ہے برکت والا اور سارے جہان کو راہ دکھاتا اس میں کھلی نشانیاں ہیں ابراہیم کے کھڑے ہونے کاپتھر۔
 (۱؎ القرآن الکریم       ۳/ ۹۶)
جس پر کھڑے ہوکر انھوں نے کعبہ معظمہ بنایاان کے قدم پاک کا نشان اس میں بن گیا، اجلہ محدثین عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وارزقی نے امام اجل مجاہد تلمیذ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہم سے اس آیہ کریمہ کی تفسیر میں روایت کی:
قال اثر قدمیہ فی المقام اٰیۃ بینۃ ۲؎۔
فرمایا کہ سیدنا ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دونوں قدم پاک کا اس پتھر میں نشان ہوجانا یہ کھلی نشانی ہے جسے اللہ عزوجل اٰیات بینات فرمارہاہے۔
 (۲؎ جامع البیان (تفسیر ابن جریر)     تحت آیۃ ۳/ ۹۶     المطبعۃ المیمنیہ مصر    ۴/ ۸)

(تفسیر القرآن العظیم لابن ابی حاتم    تحت آیۃ ۳/ ۹۶    مکتبہ نزار مکۃ المکرمۃ    ۳/ ۷۱۱)
تفسیر کبیر میں ہے :
الفضیلۃ الثانیۃ لہذا البیت مقام ابراہیم وہو الحجر الذی وضع ابراہیم قدمہ علیہ فجعل اﷲ ماتحت قدم ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام من ذٰلک الحجر دون سائر اجزائہ کالطین حتی غاص فیہ قدم ابراہم علیہ الصلوٰۃ والسلام وہذا مما لایقدر علیہ الا اﷲ تعالٰی،۔ ولا یظہرہ الا علی انبیاء، ثم لما رفع ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام قدمہ عنہ خلق فیہ الصلوٰبۃ الحجریۃ مرۃ اخری، ثم انہ تعالٰی ابقی ذٰلک الحجر علی سبیل الاستمرار والدوام فہذہ انواع من الاٰیات العجبیۃ والمعجزات الباہرۃ اظہرہا اﷲ تعالٰی فی ذٰلک الحجر ۱؎۔
یعنی کعبہ معظمہ کی ایک فضیلت مقام ابراہم ہے یہ وہ پتھر ہے جس پر ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنا قدم مبارک رکھا تو جتنا ٹکڑا ان کے زیر قدم آیا تر مٹی کی طرح نرم ہوگیا یہاں تک کہ ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کا قدم مبارک اس میں پیر گیا اور یہ خاص قدرت الہیہ ومعجزہ انبیاء ہے پھر جب ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے قدم اٹھایا اللہ تعالٰی نے دوبارہ اس ٹکڑے میں پتھر کی سختی پیدا کردی کہ وہ نشان قدم محفوظ رہ گیا پھر اسے حق سبحنہ نے مدتہا مدت باقی رکھا تو یہ اقسام اقسام کے عجیب وغریب معجزے ہیں کہ اللہ تعالٰی نے اس پتھر میں ظاہر فرمائے۔
 (۱؎ مفاتیح الغیب (التفیسر الکبیر)     تحت آیۃ ۳/ ۹۶     المطبعۃ البہیۃ المصریۃ مصر    ۸/ ۱۵۵)
ارشاد العقل السلیم میں ہے:
ان کل واحد من اثرقدمیہ فی صخرۃ صماء و غوصہ فیہا الی الکعبین والانۃ بعض الصخور دون بعض وابقائہ دون سائر اٰیات الانبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام وحفظہ مع کثرۃ الاعداء طوف سنۃ اٰیۃ مستقلۃ ۲؎۔
یعنی اس ایک پتھر کو مولٰی تعالٰی نے متعد د آیات فرمایا اس لئے کہ اس میں ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کا نشان قدم ہوجانا ایک اور ان کے قدموں کا گٹوں تک اس میں پیر جانا دو اور پتھرکا ایک ٹکڑا نرم ہوجانا باقی کا اپنے حال پر رہنا تین او ر معجزات انبیاء سابقین علیہم الصلوٰۃ والتسلیم میں اس معجزے کا باقی رکھنا چار اور باوصف کثرت اعداء ہزاروں برس اس کا محفوظ رہنا پانچ، یہ ہر ایک بجائے خود ایک آیت معجزہ ہے۔
 (۲؎ ارشاد العقل السلیم        تحت آیۃ    ۲/ ۹۶۳     داراحیاء التراث العربی بیروت    الجزء الثانی ۶۱)
مولٰی سبحانہ تعالٰی فرماتاہے :
قال لھم نبیھم ان ایۃ ملکہ ان یاتیکم التابوت فیہ سکینۃ من ربکم وبقیۃ مما ترک الی موسٰی وال ہٰرون تحملہ الملئکۃ ان فی ذٰلک لاٰیۃ لکم ان کنتم مؤمنین ۱؎۔
بنی اسرائیل کے نبی شمویل علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ان سے فرمایا کہ سلطنت طالوت کی نشانی یہ ہے کہ آئے تمھارے پاس تابوت جس میں تمھارے رب کی طرف سے سکینہ ہے اور موسٰی وہارون کے چھوڑے ہوئے تبرکات ہیں، فرشتے اسے اٹھا کر لائیں، بے شک اس میں تمھارے لئے عظیم نشانی ہے اگر تم ایمان رکھتے ہو۔
 (۱؎ القرآن الکریم       ۲/ ۲۴۸)
وہ تبرکات کیا تھے، موسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام کا عصا اور ان کی نعلین مبارک اور ہارون علیہ الصلوٰۃ والسلام کا عمامہ مقدسہ وغیرہا، ان کی برکات تھیں کہ بنی اسرائیل اس تابوت کو جس لڑائی میں آگے کرتے فتح پاتے اور جس مراد میں اس سے توسل کرتے اجابت دیکھتے، ابن جریر وابن ابی حاتم حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی،
قال: وبقیۃ مما ترک اٰل موسٰی عصاہ ورضاض الالواح ۲؎۔
تابوت سکینہ میں تبرکات موسویہ سے ان کا عصا تھااور تختیوں کی کرچیں۔
 (۲؎ جامع البیان (تفسیر ابن جریر)     تحت آیۃ ۲/ ۲۴۸     المطبعۃ الیمنیۃ مصر    ۲/ ۳۶۶)
وکیع بن الجراح وسعید بن منصور وعبد بن حمید وابن ابی حاتم وابوصالح تلمیذ عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی،
قال: کان فی التابوت عصا موسٰی وعصا ھٰرون وثیا ب موسٰی وثیاب ہرون ولوحان من التوراۃ والمن وکلمۃ الفرح لا الہ الا اﷲ الحلیم الکریم و سبحن اﷲ رب السموت السبح ورب العرش العظیم والحمدﷲ رب العالمین ۳؎۔
تابوت میں موسٰی وہارون علیہما الصلوٰۃ والسلام کے عصاء اور  دونوں حضرات کے ملبوس اور توریت کی دو تختیاں اور قدرے من کہ بنی اسرایل پر اترا اور یہ دعائے کشائش
لا الہ الا اللہ الحلیم الکریم الخ۔
 (۳؎ تفسیر القرآن العظیم لابن ابی حاتم     حدیث ۲۴۸۵، ۲۴۸۶    مکتبۃ نزار مکۃ المکرمہ    ۲/۴۷۰)
کان فیہ عصاموسٰی ونعلاہ وعمامۃ ھرون وعصاہ الخ ۱؎۔
تابوت میں موسٰی علیہ الصلوۃ والسلام کا عصا اور ان کی نعلین اور ہارون علیہ الصلوٰۃ والسلام کا عمامہ وعصا الخ (ت)
(۱؎ معالم النتزیل علی ہامش تفسیر الخازن     تحت آیۃ ۲/۲۴۸  مصطفی البابی مصر    ۱/ ۲۵۷)
Flag Counter