حدیث ششم: اور سنیے، امام ممدوح اسی کتاب مبارک میں اس سند جلیل سے راوی کہ :
اخبر نا الشیخ ابوالحسن علی بن عبداﷲ الابہری وابومحمد سالم الدمیاطی اصوفی قالا سمعنا الشیخ شہاب الدین السہروردی الحدیث۔
یعنی ہمیں ابوالحسن ابہری و ابومحمد اسالم الدمیاطی الصوفی نے خبر دی، دونوں نے فرمایا کہ ہم نے حضرت شیخ الشیوخ شہاب الدین سہروردی کو فرماتے سنا کہ میں ۶۰ھ میں اپنے شیخ معظم وعم مکرم سیدی نجیب الدین عبدالقادر سہروردی کے ہمرا حضرت سید نا غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے حضور حاضرہوا، میرے شیخ نے حضور کے ساتھ عظیم ادب برتا، اور حضور کے ساتھ ہمہ تن گوش بے زبان ہوکر بیٹھے جب ہم مدرسہ نظامیہ کو واپس آئے میں نے اس ادب کا حال پوچھا۔ فرمایا :
کیف لا اتادب مع من صرفہ مالکی فی قلبی وحالی وقلوب الاولیاء واحوالہم ان شاء امسکہا وان شاء ارسلہا ۱؎۔
میں کیونکر ان کا ادب نہ کروں جن کومیرے مالک نے دل اور میرے حال اور تمام اولیاء کے قلوب و احوال پر تصرف بخشاہے۔ چاہیں روک لیں چاہیں چھوڑدیں۔کہئے قلوب پر کیسا عظیم قبضہ ہے۔
حدیث ہفتم: اور سنیے، اور سب سے اجل واعلٰی سنیے، امام ممدوح قدس سرہ، اسی کتاب عالی نصاب میں اسی سند صحیح سے روایت فرماتے ہیں کہ :
حدثنا الشیخ ابومحمد القاسم بن احمد الہاشمی الحرمی، الحنبلی قال اخبرنا الشیخ ابوالحسن علی الخباز قال اخبرنا الشیخ ابوالقاسم عمر بن مسعود البزار، الحدیث۔
یعنی شیخ ابو محمد ہاشمی ساکن حرم محترم نے ہم سے حدیث بیان کی کہ انھیں عارف حضرت ابوالحسن علی خباز نے خبردی کہ انھیں امام اجل عارف اکمل سیدی عمر بزار نے خبر دی کہ میں ۱۵ / جمادی الآخرہ ۵۵۶ھ روزہ جمعہ کو حضورپر نور سید نا غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ہمرا جامع مسجد کو جاتا تھا، راہ میں کسی شخص نے حضور کو سلام نہ کیا، میں نے اپنے جی میں کہا سخت تعجب ہے، ہر جمعہ کو تو خلائق کا حضور پر وہ اژدحام ہوتاتھا کہ ہم مسجد تک بمشکل پہنچ پائے تھے آج کیا واقعہ ہےکہ کوئی سلام تک نہیں کرتا، یہ بات ابھی میرے دل میں پوری آنے بھی نہ پائی تھی کہ حضو رپر نور رضی اللہ تعالی عنہم نے تبسم فرماتے ہوئے میری طرف دیکھااور معا لوگ تسلیم ومجرا کے لئے چاروں طرف سے دوڑ پڑے، یہاں تک کہ میرے اور حضور کے بیچ میں حائل ہوگئے، میں اس ہجوم میں حضور سے دور رہ گیا، میں نے اپنے جی میں کہا کہ اس حالت میں تو وہی پہلا حال اچھا تھا یعنی دولت قرب تو نصیب تھی، یہ خطرہ میرے دل میں آتے ہی معا حضور نے میرے طرف پھرکر دیکھا اور تبسم فرمایا: اور ارشاد کیا: اے عمر! تم ہی نے اس کی خواہش کی تھی،
اوما علمت ان قلوب الناس بیدی ان شئت صرفتہا عنی وان شئت اقبلت بہا الی ۱؎
یعنی کیا تمھیں معلوم نہیں کہ لوگوں کے دل میرے ہاتھ میں ہیں چاہوں تو اپنی طرف سے پھیردوں اورچاہوں تو اپنی طرف متوجہ کرلوں،
(۱؎بہجۃ الاسرار فصول من کلامہ مرصعابشیئ من عجائب احوالہ مصطفی البابی مصر ص۷۶)
یہ حدیث کریم (مذکورہ بالا) بعینہٖ انھیں الفاظ سے مولانا علی قاری علیہ رحمۃ الباری نے نزہۃ الخاطر الفاتر شریف میں ذکر کی، عارب باللہ سیدی نورا لملۃ والدین جامی قدس سرہ السامی نفحات الانس شریف میں اس حدیث کو لاکر ارشاد اقدس کا ترجمہ یوں تحریر فرماتے ہیں :
نادانستی کہ دلہائے مردماں بدست من است اگر خواہم دلہائے ایشاں راز خود بگردانم واگر خواہم روئے درخود کنم ۲؎۔
تو نہیں جانتا کہ لوگوں کے دل میرے ہاتھ میں ہے اگر چاہوں تو ان لوگوں کے قلوب از خود پھیردوں اور اگر چاہوں تو اپنی طرف متوجہ کرلو ۱۲م۔
(۲؎ نفحات الانس من حضرات القدس ترجمہ شیخ ابوعمرو یفینی ازانتشارات کتاب فروشی محمودی ص۵۲۱)
یہی تو اس سگ کوئے قادری غفرلہ بمولاہ نے عرض کیا تھا، ع
بندہ مجبور ہے خاطر پہ ہے قبضہ تیرا
اور دو شعر بعد میں عرض کیا تھا: ؎
کنجیاں دل کی خدا نے تجھے دیں ایسی کر کہ یہ سینہ ہو محبت کا خزینہ تیرا
اس قصیدہ مبارک کے وصل چہارم میں ان اشقیاء کا رد تھا جو حضو رپر نور رضی اللہ تعالٰی عنہ کی تنقیص شان کرتے ہیں، ظاہر ہےکہ ان کے ناپاک کلموں سے غلامان بارگاہ کےقلب پر کیا کچھ صدمہ نہیں پہنچتا اپنے اور اپنے خواجہ تاشوں کی تسکین کو وہ مصرع تھاجس طرح دوسری جگہ عرض کیا ہے ؎
رنج اعدا کا رضا چارہ ہی کیا ہے جب انھیں آپ گستاخ رکھے حلم وشکیبائی دوست
اوریہ اس آیہ کریمی کا اتباع ہے کہ:
لوشاء اﷲ لجمعہم علی الہدی فلاتکونن من الجھلین ۱؎۔
اللہ چاہتاتو سبھی کو ہدایت پر جمع فرمادیتا تو نادان نہ بن۔
(۱؎ القرآن الکریم ۶ /۳۵)
اب اس کلام کو ایک حدیث مقید مسلمین ومحافظ ایمان ودین پر ختم کریں، امام ممدوح قد سرہ، فرماتے ہیں :
حدثنا الشیخ الفقیہ ابوالحسن علی بن الشیخ ابوالعباس احمد بن المبارک البغدادی الحریمی قال اخبرناا الفقیہ الشیخ محمد بن عبدالطیف الترمسی البغدادی الصوفی قال کان شیخنا الشیخ محی الدین عبدالقادر رضی اﷲ تعالٰی عنہ اذا تکلم بالکلام العظیم یقول عقیبہ باﷲ قولوا صدقت وانما اتکلم عن یقین لاشک فیہ انما انطق فانطق واعطی فافرق واومرفافعل والعہدۃ علی من امرنی ولدیۃ علی العاقلۃ تکذیبکم لی سم ساعۃ لادیانکم وسبب لاذھاب دنیاکم واخرکم اناسیاف اناقتال ویحذرکم اﷲ نفسہ لو لالجام الشریعۃ علی لسانی لاخبرتکم بما تاکلون وماتدخرون فی بیوتکم انتم بین یدیّ کالقواریر یری مافی بطونکم وظواھر کم لولالجام الحکم علی لسانی لنطق صاع یوسف بما فیہ لکن العلم مستجیر بذیل العالم کیلا یبدئ مکنونۃ ۱؎۔ صدقت یاسیدی واﷲ انت الصادق المصدوق من عند اﷲ وجلی لسان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وعلیک وبارک وسلم وشرف ومجدوعظم وکرم۔
یعنی حضور پر نور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ جب کوئی عظیم بات فرماتے اس کے بعد ارشاد فرماتے تم پر اللہ عزوجل کا عہد ہے کہ کہو حضو رنے سچ کہا میں اس یقین سےکلام فرماتا ہوں جس میں اصلاکوئی شک نہیں میں کہلوایا جاتاہوں تو کہتاہوں اور مجھے عطا کرتے ہیں تو تقسیم فرماتاہوں اور مجھے حکم ہوتاہے تو میں کام کرتاہوں، اور ذمہ داری اس پر ہے جس نے مجھے حکم دیا، اور خون بہا مددگاروں پر، تمھارا میری بات کو جھٹلانا تمھارے دین کے حق میں زہرہلاہل ہے جو اسی ساعت ہلاک کردے اور اس میں تمھاری دنیا وآخرت کی بربادی ہے۔ میں تیغ زن ہوں، میں سخت کش ہوں، اور اللہ تعالٰی کی روک میری غضب سے ڈراتاہے۔ اگر شریعت کی روک میری زبان پرنہ ہوتی تو میں تمھیں بتا دیتا جو تم کھاتے ہو اور جواپنے گھروں میں جمع رکھتےہو، تم سب میرے سامنے شیشے کی طرح ہو، تمھارے فقط ظاہرہی نہیں بلکہ جو کچھ تمھارے دلوں کے اندر ہے وہ سب ہمارے پیش نظر ہے اگر حکم الٰہی کی روک میر ی زبان پر نہ ہوتی تو یوسف کا پیمانہ خود بول اٹھتا کہ اس میں کیا ہے، مگر ہے یہ کہ عالم عالم کے دامن سے لپٹا ہوا پناہ مانگ رہاہے کہ راز کی باتیں فاش نہ فرمائے۔ اے میرے آقا !آپ نے سچ فرمایا۔ قسم خدا کی اللہ عزوجل کے نزدیک اور رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق آپ بڑے سچے ہیں، آپ پربھی اللہ کی رحمت وبرکت اور سلام ۔ ۱۲م۔
(۱؎ بہجۃ الاسرار کلمات اخیر بہا عن نفسہ مصطفی البابی مصر ص۲۴)
یہ مختصر عجالہ بصورت رسالہ ظاہر ہوا، اور اس میں دو مسئلوں پر کلام تھا، ایک لفظ''شہنشاہ'' دوسرے یہ کہ قلوب پر سید اکرم مولائے افخم حضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کا قبضہ وتصرف ہے۔ لہذامناسب کہ اس کا تاریخی نام