حدیث دوم : اور سنیے، اسی حدیث جلیل میں ہے کہ حضرت صالح یہ روایت فرماچکے تو حضرت سید عمر بزار قدس سرہ، نے فرمایا:
وانا ایضا کنت جالسا بین یدیہ فی خلوتہ فضرب بیدہ فی صدری فاشرق فی قبلہ نورعلی قدر دائرۃ الشمس ووجدت الحق من وقتی وانا الی الاٰن فی زیادۃ من ذٰلک النور ۱؎۔
یعنی یونہی میں بھی ایک روز حضور پر نور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے سامنے خلوت میں حاضر تھا حضو رنے اپنے دست مبارک کو میرے سینے پر مارا، فورا ایک نور قرص آفتاب کے برابرمیرے دل میں چمک اٹھا، اور اس وقت سے میں نے حق کو پایا، اور آج تک وہ نور ترقی کررہاہے۔
(۱؎ بہجۃ الاسرار ذکر فصول من کلامہ مرصعابشیئ الخ مصطفی البابی مصر ص۵۳)
حدیث سوم: او ر سنیے، امام ممدوح اسی بہجۃ الاسرار شریف میں بایں سند راوی :
حدثنا الشیخ ابوالفتوح محمد ابن الشیخ ابی المحاسن یوسف بن اسمٰعیل التیمی البکری البغدادی قال اخبرنا الشیخ الشریف ابوجعفر محمد بن ابی القاسم العلوی قال الخبرنا الشیخ العارف ابوالخیر بشربن محفوظ ببغداد بمنزلہ الحدیث۔
یعنی ہم سے شیخ ابو الفتوح محمد صدیق بغدادی نے حدیث بیان کی کہ ہم کو سید ابوجعفرمحمد علوی نے خبر دی کہ ہم سے شیخ عارف باللہ ابوالخیر بشر بن محفوظ بغدادی نے اپنے دولت خانے پر بیان فرمایا کہ ایک روزمیں اور بارہ صاحب اور) جن کے نام حدیث میں مفصل مذکور ہیں) خدمت اقدس حضور پرنور سید نا غوث الاعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ میں حاضر تھے کہ حضور نے فرمایا:
لیَطْلُبْ کُلَّ مِنْکُمْ حَاجَۃً اَعْطِیْہَا لَہ،
تم میں سے ہر ایک ایک ایک مراد مانگے کہ ہم عطا فرمائیں (اس پر دس صاحبوں نے دینی حاجتیں متعلق علم ومعرفت اور تین شخصوں نے دنیوی عہدہ ومنصب کی مردیں مانگیں جو بتفصیل مذکور ہیں)
حضور پرنور رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا :
کلا نمد ھؤلاء وہؤلاء من عطاء ربک وما کان عطاء ربک محظورا ۔
ہم ان اہل دین اور اہل دنیا سب کی مدد کرتے ہیں تیرے رب کی عطا سے، اور تیرے رب کی عطا پر روک نہیں۔
خدا کی قسم! جس نے جو مانگا تھا پایا، میں نے یہ مراد چاہی تھی کہ ایسی معرفت مل جائے کہ واردات قلبی میں مجھے تمیز ہوجائے کہ یہ وارداللہ تعالٰی کی طرف سے ہے۔ اوریہ نہیں (اوروں کو ان کی مرادیں ملنے کی تفصیل بیان کرکے فرماتے ہیں) :
واما انا فان الشیخ رضی اﷲ تعالٰی عنہ وضع یدہ علی صدری وانا جالس بین یدیہ فی مجلسہ ذٰلک فوجدت فی الوقت العاجل نورا فی صدری وانا الی الاٰن افرق بہ بین مواردا الحق والباطل وامیز بہ بین احوال الہدٰی والضلال وکنت قبل ذٰلک شدید القلق لالتباسہا علق ۱؎۔
اور میری یہ کیفیت ہوئی کہ میں حضو رکے سامنے حاضرتھا، حضور نے اسی مجلس میں اپنا دست مبارک میرے سینے پر رکھا کہ فورا ایک نور میرے سینے میں چمکا کہ آج تک میں اسی نور سے تمیزکرلیتاہوں کہ یہ وارد حق ہے اوریہ باطل، یہ حال ہدایت ہے اور یہ گمراہی اور اس سے پہلے مجھے تمیز نہ ہوسکنے کے باعث سخت قلق رہا کرتا تھا۔
(۱؎ بہجۃ الاسرار ذکر فضول من کلامہ مرصعابشیئ الخ مصطفی البابی مصر ص۳۰ و ۳۱)
حدیث چہارم: اور سنیے،امام ممدوح اسی کتاب جلیل میں اس سند عالی سے راوی کہ:
اخبرنا ابو محمدن الحسن ابن ابی عمران القرشی وابومحمد سالم بن علیا الدمیاطی قال اخبرنا الشیخ العالم الربانی شہاب الدین عمر السہروردی الحدیث
یعنی ہمیں ابو محمد قرشی وابومحمد میاطی نے خبردی، دونوں نے فرمایا کہ ہمیں شیخ الشیوخ شہاب الحق والدین عمر سہروردی رضی اللہ تعالٰی عنہ سردار سلسلہ سہروردیہ نے خبردی کہ مجھ علم کلام کا بہت شوق تھا، میں نے اس کی کتابیں از بر حفظ کرلی تھیں اور اس میں خوب ماہر ہوگیا تھا میرے عم مکرم پیر معظم حضر ت سیدی نجیب الدین عبدالقاہر سہروردی رضی اللہ تعالٰی عنہ مجھ کو منع فرماتے تھے اور میں بازنہ آتاتھاایک روز مجھے ساتھ لے کر بارگا غوثیت پناہ میں حاضرہوئے، راہ میں مجھ سے فرمایا: اے عمر! ہم اس وقت اس کے حضور حاضر ہونے کو ہیں جس کا دل اللہ تعالٰی کی طرف سےخبر دیتاہے دیکھو ان کے سامنے باحیتاط حاضرہونا کہ ان کے دیدار سے برکت پاؤ۔
جب ہم حاضربارگاہ ہوئے میرے پیر نے حضرت سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے عرض کی : اے میرے آقا! یہ میرا بھتیجا علم کلام میں آلودہ ہے میں منع کرتاہوں، نہیں مانتا، حضور نے مجھ سے فرمایا : اے عمر! تم نے علم کلام میں کون سی کتاب حفظ کی ہے؟ میں نے عرض کی: فلاں فلاں کتابیں۔
فامریدہ علی صدری فواللہ مانزعہا وانا احفظ من تلک الکتب لفظۃ وانسائی اﷲ جمیع مسائلہا ولکن وفراﷲ فی صدری العلم اللدنی فی الوقت العاجل فقمت من بین یدیہ و انا انطق بالحکمۃ وقال لی یاعمر انت اخر المشہورین بالعراق، قال وکان الشیخ عبدالقادر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سلطان الطریق والتصرف فی الوجود علی التحقیق۔
حضو رنے دست مبارک میرے سینے پر پھیرا، خدا تعالٰی کی قسم! ہاتھ ہٹانے نہ پائے تھے کہ مجھے ان کتابوں سے ایک لفظ بھی یاد نہ رہا، اور ان کے تمام مطالب اللہ تعالٰی نے مجھے بھلادےے، ہاں! اللہ تعالٰی نے میرے سینے میں فورا علم لدنی بھردیا، تو میں حضور کے پاس سے علم الٰہی کا گویا ہوکر اٹھا، اور حضور نے مجھ سے فرمایا ملک عراق میں سب سے پہلے نامور تم ہوگئے یعنی تمھارے بعد عراق بھر میں کوئی اس درجہ شہرت کو نہ پہنچے گا، اس کے بعد امام شیخ الشیوخ سہروردی فرماتے ہیں حضرت شیخ عبدالقادری رضی اللہ تعالٰی عنہ بادشاہ طریق ہیں اور تمام عالم میں یقینا تصرف فرمانے والے رضی اللہ تعالٰی عنہ۔
پھر امام مذکور بسند خود حضرت شیخ نجم الدین تفلیسی رحمہ اللہ تعالٰی سے روایت فرماتے ہیں میرے شیخ حضرت شیخ الشیوخ نے مجھے بغدادمقدس میں چلے میں بٹھایا تھا، چالیسویں روز میں واقعہ میں کیا دیکھتاہوں کہ حضرت شیخ الشیوخ ایک بلند پہاڑ پر تشریف فرماہیں اور ان کے پاس بکثرت جواہر ہیں او رپہاڑ کے نیچے انبوہ کثیر جمع ہے حضرت شیخ پیمانے بھر بھرکر وہ جواہ رخلق پر پھینکتے ہیں اور لوگ ٹوٹ رہے ہیں جب جواہر کمی پر آتے ہیں خود بخود بڑھ جاتے ہیں گویا چشمے سے ابل رہے ہیں، دن ختم کرکے میں خلوت سے باہر نکلا اور حضرت شیخ الشیوخ کی خدمت میں حاضر ہوا کہ جو دیکھا تھا عرض کرو۔ میں کہنے نہ پایا تھا کہ حضرت شیخ نے فرمایا : جو تم نے دیکھا وہ حق ہے۔ اور اس جیسے کتنے ہی، یعنی صرف اپنے ہی جواہر نہیں جو تم نے دیکھے، بلکہ اتنے اتنے اور بہت سے ہیں، یہ وہ جواہر ہیں کہ حضرت شیخ عبدالقادر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے علم کلام کے بدلے میرے سینے میں بھر دئے ہیں۱؎، رضی اللہ تعالٰی عنہم۔
(۱؎ بہجۃ الاسرار ذکر فصول من کلامہ مرصعابشیئ الخ مصطفی البابی مصر ص۳۲ و ۳۳)
اس سے بڑھ کر دلوں پر قابو اور کیا ہوگاکہ ایک ہاتھ مار کر تمام حفظ کی ہوئی کتابیں یکسر محو فرمادیں کہ نہ ان کا ایک لفظ یاد رہے اورنہ اس علم کا کوئی مسئلہ اور ساتھ ہی علم لدنی سے سینہ بھردیں۔
حدیث پنجم : اور سنیے، امام محمدوح اسی کتاب جلیل الفتوح میں اس سند عالی سے راوی:
حدثنا الشیخ الصالح ابوعبداﷲ محمد بن کامل بن ابوالمعالی الحسینی قال سمعت الشیخ العارف ابا محمد مفرج بن بنہان بن رکاف الشیبانی
یعنی ہم سے شیخ صالح ابوعبداللہ محمد حسینی نے حدیث بیان کی کہ میں بے شیخ عارف ابومحمد مفرج کو فرماتے سنا کہ جب حضور پر نور رضی اللہ تعالٰی عنہ کا شہرہ ہوا فقہائے بغداد سے سو فقیہ کوفقاہت میں سب سے اعلٰی اورذہین تھے، اس بات پر متفق ہوئے کہ انواع علوم سے سو مختلف مسئلے حضور سے پوچھیں، ہر فقیہ اپنا جدا مسئلہ پیش کرے تاکہ انھیں جواب سے بند کردیں، یہ مشوہ گانٹھ کر سومسئلے الگ الگ چھانٹ کر حضور اقدس کی مجلس وعظ میں آئے، حضرت شیخ مفرج فرماتے ہیں میں اس وقت مجلس وعظ میں حاضر تھا جب وہ فقہاء آکر بیٹھ لئے حضور پر نور رضی اللہ تعالٰی عنہ نے سرمبارک جھکا یا اورسینہ انور کی ایک بجلی چمکی جو کسی کو نظر نہ آئی مگر جسے خدا نے چاہا اس بجلی نے ان سب فقیہوں کے سینیوں پر دورہ کیا۔ جس جس کے سینے پر گزرتی ہے وہ حٰرت زدہ ہوکر تڑپنے لگتاہے۔ پھر وہ سب فقہاء ایک ساتھ سب چلانے لگے اور اپنے کپڑے پھاڑ ڈالے اور سرننگے ہو کر مبنر اقدس پر گئے اور اپنے سرحضور پر نور کے قدموں پر رکھے، تمام مجلس سے ایک شور اٹھا جس سے میں نے سمجھا کہ بغداد پھر ہل گیا، حضور پر نور ان فقیہوں کو ایک ایک کرکے اپنے سینہ مبارک سے لگاتے اور فرماتے تیرا سوال یہ ہے اور اس کا جواب یہ ہے ، یونہی ان سب کے مسائل اور ان کے جواب ارشاد فرمادئے۔
جب مجلس مبارک ختم ہوئی تو میں ان فقیہوں کے پاس گیا اور ان سے کہا : یہ تمھارا حال کیا ہوا تھا؟ بولے :
لما جلسنا فقدنا جمیع مانعرفہ من العلم حتی کانہ نسخ منا فلم یمربنا قط فلما ضمنا الی صدرہٖ رجع الی کل منا مانزع عنہ من العلم ولقد ذکرنا مسائلناالتی ھیأنا حالہ وذکر فیہا اجوبتہ ۱؎۔
جب ہم وہاں بیٹھے جتنا آتا تھا دفعۃ سب ہم سے گم ہوگیا ایسا مٹ گیا کہ کبھی ہمارے پاس ہوکر نہ گزرا تھا، جب حضور نے ہمیں اپنے سینہ مبارک سے لگایا ہر ایک کے پاس اس کا چھینا ہوا علم پلٹ آیا، ہمیں وہ اپنے مسئلے بھی یاد نہ رہے تھےجو حضور کےلئے تیار کرکے لے گئے تھے۔ حضور نے وہ مسائل بھی ہمیں یاد دلائے اور ان کے وہ جواب ارشاد فرمائے جو ہمارے خیال میں بھی نہ تھے
(۱؎ بہجۃ الاسرار ذکر وعظہ رضی اللہ تعالٰی عنہ مصطفی البابی مصر ص۹۶)
اس سے یہ زیادہ قلو ب پر اور کیاقبضہ درکارہے کہ ایک آن میں اکابر علماء کو تمام عمر کا پڑھا لکھا سب بھلادیں اور پھر ایک آن میں عطا فرمادیں۔